📖 سنن ابن ماجه (Sunan Ibn Majah) • تمام کتب ↗

كتاب إقامة الصلاة والسنة

کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل

کتاب #9 • کل احادیث: 646
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : افْتِتَاحِ الصَّلاَةِ
باب: نماز شروع کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہوتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر «الله أكبر» کہتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 803]
💡 وضاحت:
۱؎: اس تکبیر کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں، جو متفقہ طور پر نماز میں فرض ہے، علماء اہل حدیث کے نزدیک جلسہ اولیٰ اور جلسۂ استراحت کے سوا، نماز کے تمام ارکان جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، فرض ہیں، اور تکبیر تحریمہ اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور تشہد اخیر اور سلام کے علاوہ اذکار نماز میں سے کوئی ذکر واجب نہیں ہے، اس کے علاوہ اور ادعیہ و اذکار سنت ہیں، اب تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانا کانوں تک یا مونڈھوں تک دونوں طرح وارد ہے، اور یہ سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 45 (828)، سنن ابی داود/الصلاة 117 (964، 965)، سنن الترمذی/الصلاة 78 (304، 305)، سنن النسائی/التطبیق 6 (1040)، (تحفة الأشراف: 11897)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/424) سنن الدارمی/الصلاة 32 (1273) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ صَلَاتَهُ يَقُولُ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے : «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ” اے اللہ ! تو پاک ہے اور سب تعریف تیرے لیے ہے ، تیرا نام بابرکت ہے ، تیری شان بلند ہے ، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 804]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 122 (775)، سنن الترمذی/الصلاة 65 (242)، سنن النسائی/الافتتاح 18 (900، 901)، (تحفة الأشراف: 4252)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/40، 69)، سنن الدارمی/الصلاة 33 (1275) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، قَالَ: فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ فَأَخْبِرْنِي مَا تَقُولُ، قَالَ: " أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے تو تکبیر اور قرات کے درمیان تھوڑی دیر خاموش رہتے ، میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، مجھے بتائیے آپ تکبیر و قرات کے درمیان جو خاموش رہتے ہیں تو اس میں کیا پڑھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں یہ دعا پڑھتا ہوں : «اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من خطاياي كالثوب الأبيض من الدنس اللهم اغسلني من خطاياي بالماء والثلج والبرد» ” اے اللہ ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان ایسی دوری کر دے جیسی دوری تو نے مشرق و مغرب کے درمیان رکھی ہے ، اے اللہ ! مجھے گناہوں سے ویسے ہی صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل و کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ، اے اللہ ! میرے گناہوں کو پانی ، برف اور اولے سے دھو دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 805]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 89 (744)، صحیح مسلم/المساجد 27 (598)، سنن ابی داود/الصلاة 123 (781)، سنن النسائی/الافتتاح 14 (895) 15 (896)، تحفة الأشراف: 14896)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/231، 448، 494)، سنن الدارمی/الصلاة 37 (1280) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَارِثَةُ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے : «سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ” اے اللہ ! تو پاک ہے اور ساری تعریفیں تیرے لیے ہیں ، تیرا نام بابرکت ہے ، تیری شان بلند ہے ، اور تیرے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 806]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الموا قیت 65 (243)، (تحفة الأشراف: 17885)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 122 (775) (صحیح)
2: بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں اعوذ باللہ پڑھنے (یعنی شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثَلَاثًا، الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثًا، سُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثَ مَرَّاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ"، قَالَ عَمْرٌو: هَمْزُهُ الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جس وقت آپ نماز میں داخل ہوئے تو آپ نے «الله أكبر كبيرا» تین مرتبہ ، «الحمد لله كثيرا» تین مرتبہ ، «سبحان الله بكرة وأصيلا» تین مرتبہ کہا ، اور پھر «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» پڑھا ” اے اللہ ! میں مردود شیطان کے جنون ، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں “ ۱؎ ۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ شیطان کا «ہمز» اس کا جنون ، «نفث» اس کا شعر ہے ، اور «نفخ» اس کا کبر ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 807]
💡 وضاحت:
۱؎: جو شخص متبع سنت ہو اس کو چاہئے کہ کبھی «سبحانك اللهم» پڑھے، کبھی  «اللهم باعد بيني..»  ، کبھی  «إني وجهت» ‏‏‏‏، اور کبھی حدیث میں مذکور یہ دعا اور ہر وہ دعا جو اس موقع پر صحیح اور ثابت ہے، تاکہ ہر ایک سنت کا ثواب ہاتھ آئے، یہ ایسی نعمت غیر مترقبہ ہے جس سے دوسرے لوگ ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 121 (764)، (تحفة الأشراف: 3199)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/403، 404، 3/50، 4/80، 81، 83، 85، 6/156) (ضعیف) (سند میں عاصم عنزی کی صرف ابن حبان نے توثیق کی ہے، یعنی وہ مجہول ہیں، نیز عاصم کے نام میں بھی اختلاف ہے، لیکن آخری ٹکڑا: اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء 2/54)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَهَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ"، قَالَ: هَمْزُهُ الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم وهمزه ونفخه ونفثه» ” اے اللہ ! میں مردود شیطان کے جنون ، وسوسے اور کبر و غرور سے تیری پناہ چاہتا ہوں “ ۔ راوی کہتے ہیں : «ہمز» سے مراد اس کا جنون ہے ، «نفث» سے مراد شعر ہے اور «نفخ» سے مراد کبر و غرور ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 808]
💡 وضاحت:
۱؎: طیبی کہتے ہیں کہ اگر یہ تفسیر حدیث میں داخل ہے تو اس کے سوا دوسری تفسیر نہیں ہو سکتی، اور جو راوی نے یہ تفسیر کی ہے تو  «نفث»  سے «سحر» بھی مراد ہو سکتا ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: «ومن شر النفاثات في العقد» سورة الفلق: 4، اور «ہمز» سے شیطان کا وسوسہ بھی مراد ہو سکتا ہے، جیسے قرآن میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9332، ومصباح الزجاجة: 302)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 122 (775)، سنن الترمذی/المواقیت 65 (242)، مسند احمد (1/403) (صحیح) (سند میں عطاء بن السائب اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہیں، اور محمد بن فضیل نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کی ہے، نیز ابو عبدالرحمن السلمی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے، لیکن طرق و شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 472، و الإرواء: 2/54)۔
3: بَابُ : وَضْعِ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ".
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے پکڑے رہتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 809]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الموا قیت 73 (252)، (تحفة الأشراف: 11735) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمَفَضَّلِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فَأَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ آپ نے اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ سے پکڑا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 810]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11787)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 116 (726)، سنن النسائی/الافتتاح 11 (890)، مسند احمد (4/316، 318)، سنن الدارمی/الصلاة 35 (1277)، 92 (1397) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْهَرَوِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَاتِمٍ ، أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي زَيْنَبَ السُّلَمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا وَاضِعٌ يَدِي الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى، فَأَخَذَ بِيَدِي الْيُمْنَى فَوَضَعَهَا عَلَى الْيُسْرَى".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے اور میں اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر بائیں ہاتھ پر رکھ دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 811]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 120 (755)، سنن النسائی/الافتتاح 10 (889)، (تحفة الأشراف: 9378)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/347) (صحیح)
4: بَابُ : افْتِتَاحِ الْقِرَاءَةِ
باب: نماز میں قرات شروع کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 812]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 46 (498)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (783)، (تحفة الأشراف: 16040)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 110، 171، 194، 281)، سنن الدارمی/الصلاة 31 (1272) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ" يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 813]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 89 (743)، صحیح مسلم/الصلاة 13 (399)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (782)، سنن الترمذی/الصلاة 68 (246)، سنن النسائی/الافتتاح 20 (903، 904)، (تحفة الأشراف: 1142، 1435)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 6 (30)، مسند احمد (3/101، 111، 114، 183)، سنن الدارمی/الصلاة 34 (1276) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَبَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَفْتَتِحُ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «الحمد لله رب العالمين» سے قراءت شروع فرماتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 814]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15445، ومصباح الزجاجة: 303) (صحیح) (سند میں أبو عبد اللہ مجہول الحال ہیں، اور بشر بن رافع متکلم فیہ، لیکن اصل حدیث کثرت طرق و شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: وَقَلَّمَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ حَدَثًا مِنْهُ، فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقْرَأُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1، فَقَالَ: " أَيْ بُنَيَّ إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ، فَإِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَمَعَ عُمَرَ، وَمَعَ عُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ رَجُلًا مِنْهُمْ يَقُولُهُ، فَإِذَا قَرَأْتَ فَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2".
ابن عبداللہ بن مغفل اپنے والد عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے ایسا آدمی بہت کم دیکھا جس کو اسلام میں نئی بات نکالنا ان سے زیادہ ناگوار ہوتا ہو ، انہوں نے مجھے «بسم الله الرحمن الرحيم» ( بآواز ) بلند پڑھتے ہوئے سنا تو کہا : بیٹے ! تم اپنے آپ کو بدعات سے بچاؤ ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی ، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی «بسم الله الرحمن الرحيم» بآواز بلند پڑھتے ہوئے نہیں سنا ، لہٰذا جب تم قراءت کرو تو «الحمد لله رب العالمين» سے کرو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 815]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (244) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 66 (244)، سنن النسائی/الافتتاح 22 (909)، (تحفة الأشراف: 9667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/85، 5/54، 55) (ضعیف) (سند میں یزید بن عبد اللہ بن مغفل مجہول الحال ہے)
5: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ
باب: فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ: وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ سورة ق آية 10".
قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں آیت کریمہ : «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھتے ہوئے سنا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 816]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ آیت سورۃ ق (۱۰) میں ہے، مطلب یہ ہے کہ سورۃ (ق) اور اس کے برابر سورتیں فجر میں پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 35 (457)، سنن الترمذی/الصلاة 112 (306)، سنن النسائی/الافتتاح 43 (951)، (تحفة الأشراف: 11087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/322) سنن الدارمی/الصلاة 66 (1235) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَصْبَغَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: " صَلَّيْنا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ" يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ فكَأَنِّي أَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ: فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ، الْجَوَارِ الْكُنَّسِ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ فجر میں : «فلا أقسم بالخنس الجوار الكنس» ۱؎ کی قراءت فرما رہے تھے ، گویا کہ میں یہ قراءت اب بھی سن رہا ہوں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 817]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سورۃ تکویر کی قراءت فرما رہے تھے یہاں بھی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 135 (817)، (تحفة الأشراف: 10715)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة 35 (456)، سنن النسائی/ الافتتاح 44 (952)، مسند احمد (4/306، 307)، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1337) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ . ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَهُ، أَبُو الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ" يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ ( ۶۰ ) آیات سے سو ( ۱۰۰ ) آیات تک پڑھا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 818]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سورۃ (ق) پڑھی جس میں یہ آیت ہے، یہاں بھی جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 35 (647)، سنن النسائی/المواقیت 2 (496)، 16 (526)، 20 (531)، الافتتاح 42 (949)، (تحفة الأشراف: 11607)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 11 (541)، 13 (547)، 23 (568)، 38 (599)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (398)، مسند احمد (4/420، 421، 423، 424، 425)، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1338) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا، فَيُطِيلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ، وَيُقْصِرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَذَلِكَ فِي الصُّبْحِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے تو ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے ، اور دوسری رکعت چھوٹی کرتے ، اور اسی طرح فجر کی نماز میں بھی کرتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 819]
💡 وضاحت:
۱؎: پہلی رکعت میں قراءت کو طول دینا بہ نسبت دوسری رکعت کے مستحب ہے، اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کو جماعت مل جائے، اور پہلی رکعت نہ چھوٹے، اور بعضوں نے کہا یہ نماز فجر کے لیے خاص ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12116، 12140)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 96 (759)، 97 (762)، 107 (776)، 109 (778)، 110 (779)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (451)، سنن ابی داود/الصلاة 129 (799)، سنن النسائی/الافتتاح 56 (975)، مسند احمد (4/383، 5/295، 300، 305، 307، 30، 310، 311)، سنن الدارمی/الصلاة 63 (1330) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: " قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بِالْمُؤْمِنُونَ فَلَمَّا أَتَى عَلَى ذِكْرِ عِيسَى أَصَابَتْهُ شَرْقَةٌ، فَرَكَعَ"، يَعْنِي: سَعْلَةً.
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز میں «سورۃ مومنون» کی تلاوت فرمائی ، جب اس آیت پہ پہنچے جس میں عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر ہے ، تو آپ کو کھانسی آ گئی ، اور آپ رکوع میں چلے گئے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 820]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدار قراءت مختلف بتائی گئی ہے، جس سے حسب موقعہ پڑھنے پر استدلال کیا جا سکتا ہے، آخری حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ پوری سورۃ کا پڑھنا ضروری نہیں، پہلی رکعت میں قراءت طویل کرنا، اور دوسری میں ہلکی کرنا بھی سنت رسول ہے، اور ظاہری فائدہ اس کا یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت رکعت فوت ہونے سے بچ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 106 (774 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، سنن ابی داود/الصلاة 89 (649)، سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، (تحفة الأشراف: 5313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/411) (صحیح)
6: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُخَوَّلٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الم تَنْزِيلُ وَ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل السجدة» ( سورۃ سجدۃ ) ، اور «هل أتى على الإنسان» ( سورۃ الدہر ) پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 821]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کو نماز فجر میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے «كان يقرأ» کے صیغے سے اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مواظبت کا پتہ چلتا ہے، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں جس کی تخریج طبرانی نے کی ہے، اس پر آپ کی مداومت کی تصریح آئی ہے، اس میں شاید یہ حکمت ہو گی کہ ان دونوں سورتوں میں انسان کی پیدائش، خاتمہ، آدم، جنت اور جہنم کا ذکر ہے، اور قیامت کا حال ہے، اور یہ سب باتیں جمعہ کے دن ہونے والی ہیں، اور کچھ ہو چکی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 10 (879)، سنن ابی داود/الصلاة 218 (1074، 1075)، سنن الترمذی/الصلاة 258 (520)، سنن النسائی/الافتتاح 47 (957)، الجمعة 38 (1422)، (تحفة الأشراف: 5613)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/226، 307، 328، 334) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الم تَنْزِيلُ وَ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 822]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3945، ومصباح الزجاجة: 304) (صحیح) (سند میں حارث بن نبہان ضعیف ہیں، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث پہلے گزری)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ" يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: الم تَنْزِيلُ وَ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 823]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 10 (891)، سجود القرآن 2 (1028)، صحیح مسلم/الجمعة 17 (880)، سنن النسائی/الافتتاح 47 (956)، (تحفة الأشراف: 13647)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/472)، سنن الدارمی/الصلاة 192 (1583) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ" يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ وَ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ"، قَالَ إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ: هَكَذَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ لَا أَشُكُّ فِيهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم تنزيل» اور «هل أتى على الإنسان» پڑھا کرتے تھے ۔ اسحاق بن سلیمان کہتے ہیں کہ عمرو بن ابی قیس نے ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی روایت کی ہے مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 824]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9501، ومصباح الزجاجة: 304/أ) (صحیح)
7: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
باب: ظہر اور عصر کی قرات کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَال: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ فِي ذَلِكَ خَيْرٌ، قُلْتُ: بَيِّنْ رَحِمَكَ اللَّهُ، قَالَ: " كَانَتِ الصَّلَاةُ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَيَخْرُجُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ، فَيَقْضِي حَاجَتَهُ، وَيَجِيءُ فَيَتَوَضَّأُ، فَيَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ".
قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : تمہارے لیے اس میں کوئی خیر نہیں ۱؎ ، میں نے اصرار کیا کہ آپ بیان تو کیجئیے ، اللہ آپ پہ رحم کرے ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز ظہر کی اقامت کہی جاتی اس وقت ہم میں سے کوئی بقیع جاتا ، اور قضائے حاجت ( پیشاب پاخانہ ) سے فارغ ہو کر واپس آتا ، پھر وضو کرتا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی پہلی رکعت میں پاتا ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 825]
💡 وضاحت:
۱؎: کیوں کہ علم عمل کے لئے ہے، اگر تم اس پر عمل نہ کر سکے تو وہ تمہارے خلاف قیامت کے دن حجت ہو گا۔ ۲؎: مسجد نبوی سے مشرقی سمت میں بقیع غرقد نامی علاقہ ہے، جس جگہ مقبرہ ہے، یہاں مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ آدمی قضاء حاجت کے لئے اتنا دور جاتا اور نماز نبوی اتنی لمبی ہوتی کہ واپس آ کر پہلی رکعت پا جاتا، شاید رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی لمبی قراءت کرتے تھے، ورنہ آپ نے نماز ہلکی پڑھانے کا حکم دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 34 (454)، سنن النسائی/ الافتتاح 56 (974)، (تحفة الأشراف: 4282) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: قُلْنَا لِخَبَّابٍ : " بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ".
ابومعمر کہتے ہیں کہ میں نے خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ لوگ ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کو کیسے پہچانتے تھے ؟ انہوں نے کہا : آپ کی داڑھی مبارک ( کے بال ) کے ہلنے سے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 826]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 91 (746)، 96 (760)، 97 (761)، 108 (777)، سنن ابی داود/الصلاة 129 (801)، (تحفة الأشراف: 3517)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/109، 112، 6/395) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ، قَالَ: وَكَانَ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے فلاں یعنی عمرو بن سلمہ سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کی نماز نہیں دیکھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتے ، اور آخری دونوں ہلکی کرتے ، اور عصر کی نماز بھی ہلکی کرتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 827]
💡 وضاحت:
۱؎: اس خیال سے کہ وہ کام کاج اور بازار کا وقت ہوتا ہے، لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الافتتاح 61 (983)، (تحفة الأشراف: 13484)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/300، 329، 330، 532) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ بَدْرِيًّا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: تَعَالَوْا حَتَّى نَقِيسَ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا لَمْ يَجْهَرْ فِيهِ مِنَ الصَّلَاةِ، فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمْ رَجُلَانِ، فَقَاسُوا قِرَاءَتَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ بِقَدْرِ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَقَاسُوا ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ النِّصْفِ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تیس بدری صحابہ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ آؤ ہم سری نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ کریں ، تو ان لوگوں نے ظہر کی پہلی رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ تیس آیت کے بہ قدر کیا ، اور دوسری رکعت میں اس کے آدھا ، اور عصر کی نماز میں ظہر کی پچھلی دونوں رکعتوں کے نصف کے بہ قدر ، اس اندازے میں ان میں سے دو شخصوں کا بھی اختلاف نہیں ہوا ا؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 828]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ کبھی کبھی ایک آدھ آیت کو اس طرح پڑھنا کہ پیچھے والے سن لیں درست ہے، سری و جہری میں فرق یہی ہے کہ سری میں اتنا آہستہ پڑھنا کہ خود سنے اور پاس والا بھی، اور جہری کہتے ہیں کہ خود بھی سنے اور دوسرے بھی سنیں، سنت کی پیروی میں کبھی کبھی ایک آدھ آیت سنانا درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن المرفوع منه له طريق آخر عند م دون لفظة القياس
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ زيد العمي: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4324، ومصباح الزجاجة: 305)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 34 (452)، سنن ابی داود/الصلاة 130 (804)، سنن النسائی/الصلاة 16 (476)، مسند احمد (3/2)، سنن الدارمی/الصلاة 62 (1325) (ضعیف) (سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں، اور ابوداود اور طیالسی نے مسعودی سے جو مختلط روای ہیں بعد اختلاط روایت کی ہے، لیکن مرفوع حدیث دوسری سند سے صحیح مسلم میں ہے، لفظ قیاس کے بغیر جیسا کہ اوپر کی تخریج میں مذکور ہے)۔
8: بَابُ : الْجَهْرِ بِالآيَةِ أَحْيَانًا فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ
باب: ظہر و عصر میں کبھی کوئی آیت آواز سے پڑھ دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِير ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دونوں رکعتوں میں ( سری ) قراءت فرماتے تھے ، اور کبھی کبھی ہمیں کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے ا؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 829]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگرچہ رکعتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سری قراءت کرتے لیکن پڑھتے پڑھتے کبھی ایک آدھ آیت آواز سے بھی پڑھ دیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 96 (759)، 97 (762)، 107 (776)، 109 (778)، 110 (779)، صحیح مسلم/الصلاة 34 (451)، سنن ابی داود/الصلاة 129 (798، 799، 800)، سنن النسائی/الافتتاح 56 (975)، (تحفة الأشراف: 12108)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/383، 5/295، 300، 305، 307، 308، 310، 311) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا الظُّهْرَ، فَنَسْمَعُ مِنْهُ الْآيَةَ بَعْدَ الْآيَاتِ مِنْ سُورَةِ لُقْمَانَ، وَالذَّارِيَاتِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے تو ہم سورۃ «لقمان» اور سورۃ «ذاريات» کی کئی آیتوں کے بعد کوئی آیت سن لیا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 830]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (972) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الافتتاح 55 (972)، (تحفة الأشراف: 1891) (ضعیف) (سند میں ابواسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4120)
9: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ هِيَ: لُبَابَةُ: أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں ( ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ ان کی والدہ کا نام ” لبابہ “ ہے ) : انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں «والمرسلات عرفا» پڑھتے سنا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 831]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 98 (763)، المغازي 83 (4429)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (462)، سنن ابی داود/الصلاة 132 (810)، سنن الترمذی/الصلاة 114 (308)، سنن النسائی/الافتتاح 64 (987)، (تحفة الأشراف: 18052)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 5 (24)، حم: 6/338، 340، سنن الدارمی/الصلاة 64 (1331) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ ب الطُّورِ"، قَالَ جُبَيْرٌ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ: فَلَمَّا سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ إِلَى قَوْلِهِ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ سورة الطور آية 35 ـ 38 كَادَ قَلْبِي يَطِيرُ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں «والطور» پڑھتے سنا ۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری حدیث میں کہا کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ الطور میں سے یہ آیت کریمہ «أم خلقوا من غير شيء أم هم الخالقون» سے «فليأت مستمعهم بسلطان مبين» ، یعنی : ” کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خودبخود پیدا ہو گئے ہیں ؟ کیا انہوں نے ہی آسمانوں و زمینوں کو پیدا کیا ہے ؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں ، یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں ؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغہ ہیں ، یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں ؟ ( اگر ایسا ہے ) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے “ ، ( سورۃ الطور : ۳۵ -۳۸ ) تک پڑھتے ہوئے سنا تو قریب تھا کہ میرا دل اڑ جائے گا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 832]
💡 وضاحت:
۱؎: ان آیتوں کے عمدہ مضمون کا اثر دل پر ایسا ہوا کہ دل ہی ہاتھ سے جانے کو تھا، سبحان اللہ ایک تو قرآن کا اثر کیا کم ہے، دوسرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے آیتوں کی تلاوت، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شفق کے ختم ہونے تک مغرب کا وقت پھیلا ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 199 (765)، الجہاد 172 (3050)، المغازي 12 (4023)، تفسیر الطور 1 (4854)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (463)، سنن ابی داود/الصلاة 132 (811)، سنن النسائی/الافتتاح 65 (988)، (تحفة الأشراف: 3189)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 5 (23)، مسند احمد (4/83، 84، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 64 (1332) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 833]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث شاذ یعنی ضعیف ہے، اوپر گزرا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ «والمرسلات» اور سورۃ «والطور» جیسی درمیانی سورتیں پڑھی ہیں، مغرب میں ہمیشہ چھوٹی سورتوں کو ہی پڑھنا درست نہیں، بقول علامہ ابن القیم یہ مروان اور اس کے متبعین کی سنت ہے، ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أنه كان يقرأ بهما في سنة المغرب
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال ابن عدي: ”أحمد بن بديل يروي عن حفص بن غياث وغيره مناكير … و ھو ممن يكتب حديثه مع ضعفه‘‘ ¤ (الكامل 189/1،190) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2722)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 192 (417)، سنن النسائی/الافتتاح 68 (993)، مسند احمد (2/94، 95، 99) (شاذ) (یہ حدیث شاذ ہے، اس لئے کہ محفوظ اور ثابت حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ ا ن دونوں سورتوں کو ”مغرب کی سنت“ میں پڑھتے تھے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 850)
10: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ
باب: عشاء میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ" يَقْرَأُ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی ، کہتے ہیں : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والتين والزيتون» پڑھتے ہوئے سنا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 834]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 100 (767)، 102 (769)، تفسیر التین 1 (4956)، التوحید 52 (7546)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (464)، سنن ابی داود/الصلاة 275 (1221)، سنن الترمذی/الصلاة 115 (310)، سنن النسائی/الافتتاح 72 (1001)، (تحفة الأشراف: 1791)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 286، 302) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ جَمِيعًا، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، مِثْلَهُ قَالَ: فَمَا سَمِعْتُ إِنْسَانًا أَحْسَنَ صَوْتًا أَوْ قِرَاءَةً مِنْهُ.
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے ، اس میں ہے کہ براء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کسی بھی انسان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اچھی آواز یا قراءت والا نہیں سنا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 835]
💡 وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام کمالات اور صفات انسانی اور جمال ظاہری اور باطنی کے مجموعہ تھے، حسن صورت اور حسن سیرت دونوں میں بے نظیر تھے، اور حسن خلق ان سب پر طرہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 102 (769)، التوحید 52 (7546)، صحیح مسلم/الصلاة 36 (464)، سنن ابی داود/الصلاة 275 (1221)، سنن الترمذی/الصلاة 115 (310)، سنن النسائی/الافتتاح 72 (1001)، (تحفة الأشراف: 1791)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 5 (7)، مسند احمد (4/298، 302) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَأْ ب: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” یہ سورتیں پڑھا کرو : «والشمس وضحاها» ، «سبح اسم ربك الأعلى» ، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ بسم ربك» “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 836]
💡 وضاحت:
۱؎: عشاء میں یہ سورتیں اور ان کے ہم مثل سورتیں پڑھنی چاہئے، جیسے سورۃ «بروج» ، سورۃ «انشقاق» ، سورۃ «طارق» ، سورۃ «غاشیہ» ، سورۃ «فجر» اور سورۃ «لم یکن» یہ سورتیں حدیث میں مذکور سورتوں کے قریب قریب ہیں، عشاء میں ایسی ہی سورتیں پڑھنا سنت ہے تاکہ مقتدیوں پر بوجھ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن النسائی/الإمامة 39 (832)، 41 (836)، الافتتاح 63 (985)، 70 (998)، (تحفة الأشراف: 2912)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 60 (701)، 63 (705)، الأدب 74 (6106)، سنن ابی داود/الصلاة 68 (600)، 127 (790)، مسند احمد (3/299، 308، 369) (صحیح)
11: بَابُ : الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ
باب: امام کے پیچھے قرات کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 837]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 95 (756)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (394)، سنن ابی داود/الصلاة 136 (822)، سنن الترمذی/الصلاة 69 (247)، 115 (311)، سنن النسائی/الافتتاح 24 (911)، (تحفة الأشراف: 5110)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/314، 322)، سنن الدارمی/الصلاة 36 (1278) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ"، فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَإِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الْإِمَامِ، فَغَمَزَ ذِرَاعِي وَقَالَ: " يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص و ناتمام ہے “ ، ابوالسائب کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے ابوہریرہ ! کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو کیا پھر بھی سورۃ فاتحہ پڑھوں ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے میرا بازو دبایا اور کہا : اے فارسی ! اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 838]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بہرحال ہر شخص کو ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنا چاہئے، امام ہو یا مقتدی، سری نماز ہو یا جہری، اہل حدیث کا یہی مذہب ہے، اور دلائل کی روشنی میں یہی قوی ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں  «القراءۃ خلف الإمام» نامی ایک رسالہ تحریر فرمایا ہے، اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے، ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مقتدی کسی نماز میں قراءت نہ کرے نہ سری نماز میں نہ جہری نماز میں اور دلیل ان کی یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا» جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو (سورة الأعراف: 204)، اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے سورۃ فاتحہ کا نہ پڑھنا ثابت نہیں ہوتا، اس لئے کہ مقتدی کو آہستہ سے سورۃ فاتحہ پڑھنا چاہئے جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اپنے دل میں پڑھ لے، اور یہ مثل خاموش رہنے کے ہے، خاموش رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آواز بلند نہ کرو، تاکہ امام کی قراءت میں حرج واقع نہ ہو، اور دوسری حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ جب تم امام کے پیچھے ہو تو سوائے سورۃ فاتحہ کے کچھ نہ پڑھو کیونکہ جو آدمی سورۃ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوتی، تنویر العینین میں ہے کہ جو بھی صورت ہو اور جس طرح بھی ہو بہر حال سورۃ فاتحہ کا پڑھ لینا ہی بہتر ہے، اور یہی مقتدی کے لئے مناسب ہے، اور بیہقی نے یزید بن شریک سے روایت کی کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے قراءت خلف الامام کے بارے پوچھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: سورۃ فاتحہ پڑھا کرو، یزید نے کہا: اگرچہ جہری نماز میں ہو؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ جہری نماز میں ہو، احناف کی دوسری دلیل یہ حدیث ہے جس میں آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:  «مالی انازع القرآن» ، اور اس کا جواب یہ ہے کہ منازعت (چھینا جھپٹی) اسی وقت ہو گی جب مقتدی بآواز بلند قراءت کرے، اور آہستہ سے صرف سورۃ فاتحہ پڑھ لینے میں کسی منازعت کا اندیشہ نہیں، اور اسی حدیث میں یہ وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۃ فاتحہ کے علاوہ اور کچھ نہ پڑھو، اور ممکن ہے کہ مقتدی امام کے سکتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھے، پس آیت اور حدیث دونوں کی تعمیل ہو گئی، اور کئی ایک حنفی علماء نے اس کو اعدل الاقوال کہا ہے، صحیح اور مختار مذہب یہ ہے کہ مقتدی ہر نماز میں جہری ہو یا سری سورۃ فاتحہ ضرور پڑھے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے جس کے بغیر نماز نہیں ہوتی، خلاصہ کلام یہ کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے، خواہ وہ فرض ہو یا نفل اور خواہ پڑھنے والا اکیلے پڑھ رہا ہو یا جماعت سے، امام ہو یا مقتدی ہر شخص کے لیے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی کیونکہ «لا» نفی جس پر آتا ہے اس سے ذات کی نفی مراد ہوتی ہے، اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے، یہ صفات کی نفی کے لیے اس وقت آتا ہے جب ذات کی نفی مشکل اور دشوار ہو، اور اس حدیث میں ذات کی نفی کوئی مشکل نہیں کیونکہ از روئے شرع نماز مخصوص اقوال و افعال کو مخصوص طریقے سے ادا کرنے کا نام ہے، لہذا بعض یا کل کی نفی سے ذات کی نفی ہو جائے گی، اور اگر بالفرض ذات کی نفی نہ ہو سکتی ہو تو وہ معنی مراد لیا جائے گا جو ذات سے قریب تر ہو، اور وہ صحت کی نفی ہے نہ کہ کمال کی، اس لیے کہ صحت اور کمال ان دونوں مجازوں میں سے صحت ذات سے اقرب اور کمال ذات سے ابعد ہے اس لیے یہاں صحت کی نفی مراد ہوگی جو ذات سے اقرب ہے نہ کہ کمال کی نفی کیونکہ وہ صحت کے مقابلے میں ذات سے ابعد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 11 (395)، سنن ابی داود/الصلاة 135 (821)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة (2953)، سنن النسائی/الافتتاح 23 (910)، (تحفة الأشراف: 14935)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 9 (39)، مسند احمد (2/241، 250، 285، 290، 457، 478، 487) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ . ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُورَةٍ فِي فَرِيضَةٍ أَوْ غَيْرِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کی نماز نہیں جو فرض و نفل کی ہر رکعت میں «الحمد لله» اور کوئی دوسری سورت نہ پڑھے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 839]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو سفيان السعدي طريف بن شهاب: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4359، ومصباح الزجاجة: 306) (ضعیف) (ابو سفیان طریف بن شہاب السعدی ضعیف ہیں، اصل حدیث صحیح مسلم میں ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابو داود: 777)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے ، ناقص ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 840]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16181، ومصباح الزجاجة: 307)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/142، 275) (حسن صحیح) (اس سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح اور ثابت ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السَّلْعِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر وہ نماز جس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے ، ناقص ہے ، ناقص “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 841]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ ایک رکن چھوٹ گیا پس معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8694، ومصباح الزجاجة: 309) (ط. الجامعة الإسلامیة)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/204، 215) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَقْرَأُ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ، فَقَالَ: " سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَ هَذَا".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا : جس وقت امام قراءت کر رہا ہو کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں ؟ تو انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا ہر نماز میں قراءت ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص بولا : اب تو قراءت واجب ہو گئی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 842]
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ معاوية بن يحيي الصدفي أبو روح: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10944، ومصباح الزجاجة: 308)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 31 (924)، مسند احمد (1/448) (ضعیف الإسناد) (اس حدیث کی سند میں معاویہ بن یحییٰ الصدفی ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا نَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ظہر و عصر میں امام کے پیچھے پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھتے تھے ، اور آخری دونوں رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 843]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3144، ومصباح الزجاجة: 309) (صحیح)
12: بَابٌ في سَكْتَتَيِ الإِمَامِ
باب: (قرات میں) امام کے دونوں سکتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ جَمِيلٍ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ: سَكْتَتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ، فَكَتَبْنَا إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ بِالْمَدِينَةِ، فَكَتَبَ أَنَّ سَمُرَةَ قَدْ حَفِظَ، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْنَا لِقَتَادَةَ: مَا هَاتَانِ السَّكْتَتَانِ؟ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ، وَإِذَا قَرَأَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، قَالَ: وَكَانَ يُعْجِبُهُمْ إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ أَنْ يَسْكُتَ حَتَّى يَتَرَادَّ إِلَيْهِ نَفَسُهُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو سکتے یاد رکھے ہیں ، عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا ، اس پر ہم نے مدینہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لکھا ، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے ٹھیک یاد رکھا ہے ۔ سعید نے کہا : ہم نے قتادہ سے پوچھا : وہ دو سکتے کون کون سے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ایک تو وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے اور دوسرا جب قراءت فاتحہ سے فارغ ہوتے ۔ پھر بعد میں قتادہ نے کہا : دوسرا سکتہ اس وقت ہوتا جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہہ لیتے ، قتادہ نے کہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ پسند تھا کہ جب امام قراءت سے فارغ ہو جائے تو تھوڑی دیر خاموش رہے ، تاکہ اس کا سانس ٹھکانے آ جائے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 844]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بھی جائز ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورت بھی پڑھے، پھر سورۃ فاتحہ کا پڑھنا کیونکر جائز نہ ہو گا، لیکن اولی یہ ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی صرف سورۃ فاتحہ پر قناعت کر لے، امام محمد نے موطا میں عبداللہ بن شداد سے مرسلاً روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں امامت کی، ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قراءت کی، تو اس کے پاس والے نے اس کی چٹکی لی، جب وہ نماز پڑھ چکا تو بولا: تم نے چٹکی کیوں لی، پاس والے نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا امام ہو تو امام کی قراءت مقتدی کے لئے بھی کافی ہے، اس سے یہی مراد ہے کہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ مقتدی اور دوسری سورۃ نہ پڑھے، اس باب کی تمام احادیث سے ثابت ہے کہ ہر نماز میں خواہ فرض ہو یا نفل، جہری ہو یا سری سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، بغیر فاتحہ پڑھے کوئی نماز درست نہیں ہوتی، یہ وہ مسئلہ ہے کہ امام المحدثین محمد بن اسماعیل البخاری نے اس پر مستقل کتاب لکھی ہے، اور امام بیہقی نے ان سے بھی کئی گنا ضخیم کتاب لکھی ہے، اور سورۃ فاتحہ کے نہ پڑھنے والوں کے تمام شہبات کا مسکت جو اب دیا ہے، نیز مولانا عبدالرحمن محدث مبارکپوری، اور مولانا ارشاد الحق نے اس موضوع پر مدلل کتابیں لکھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (251) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 123 (779، 780)، سنن الترمذی/الصلاة 72 (251)، (تحفة الأشراف: 4589)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/21) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں حسن بصری ہیں، ان کا سماع سمرہ رضی اللہ عنہ سے عقیقہ والی حدیث کے سوا کسی اور حدیث میں ثابت نہیں ہے، اس بناء پر یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 505)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِشْكَابَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ، قَالَ سَمُرَةُ : " حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ سَكْتَةً قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَسَكْتَةً عِنْدَ الرُّكُوعِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ، فَكَتَبُوا إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَصَدَّقَ سَمُرَةَ".
حسن بصری کہتے ہیں کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نماز میں دو سکتے یاد کئے ، ایک سکتہ قراءت سے پہلے اور ایک سکتہ رکوع کے وقت ، اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے ان کا انکار کیا تو لوگوں نے مدینہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لکھا تو انہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 845]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 124 (782)، (تحفة الأشراف: 4609)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/11، 21، 23) (ضعیف) (اس حدیث میں حسن بصری ہیں جن کا سماع سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث عقیقہ کے علاوہ کسی اور حدیث سے ثابت نہیں ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر844)
13: بَابُ : إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوا
باب: جہری نماز میں امام قرات کرے تو اس پر خاموش رہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا، وَإِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا: آمِينَ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” امام اس لیے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، لہٰذا جب وہ «ألله أكبر» کہے تو تم بھی «ألله أكبر» کہو ، اور جب قراءت کرے تو خاموشی سے اس کو سنو ۱؎ ، اور «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو آمین کہو ، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہے تو «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو ، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 846]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ -
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 69 (604)، سنن النسائی/الافتتاح 30 (922، 923)، (تحفة الأشراف: 12317)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 74 (722)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (144)، مسند احمد (2/376، 420)، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1350)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 960، 1239) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي غَلَّابٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَرَأَ الْإِمَامُ فَأَنْصِتُوا، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ ذِكْرِ أَحَدِكُمُ التَّشَهُّدُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام جہری قراءت کرے تو تم خاموش رہو ، اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تم میں سے ہر ایک پہلے «التحيات» پڑھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 847]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی زور سے قراءت نہ کرو، یہ مطلب نہیں کہ سورۃ فاتحہ نہ پڑھو، کیونکہ فاتحہ کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی، کیونکہ دوسری حدیثوں سے جو خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں یہ ثابت ہے کہ مقتدی کو سورۃ فاتحہ ہر ایک نماز میں پڑھنا چاہئے، ابھی اوپر گزرا کہ ابوالسائب نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ انہوں نے کہا: اے فارسی! اپنے دل میں پڑھ لو، بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امام کی قراءت کے وقت مقتدی زور سے قراءت نہ کرے، کیونکہ ایسا کرنے سے امام کو تکلیف ہوتی ہے، کبھی وہ بھول جاتا ہے۔ ۲؎: اگر امام کسی عذر کے سبب بیٹھ کر نماز پڑھائے، تو مقتدی کھڑے ہو کر نماز پڑھیں، اگر وہ معذور نہیں ہیں، اس حدیث کا یہ حکم کہ امام بیٹھ کر پڑھائے تو بیٹھ کر پڑھو منسوخ ہے، مرض الوفات کی حدیث سے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 16 (404)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (972، 604)، سنن النسائی/الإمامة 38 (831)، التطبیق 23 (1065)، السہو 44 (1281)، (تحفة الأشراف: 8987)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/401، 05 4، 409)، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1351) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ فَقَالَ: " هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ؟" قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کوئی نماز پڑھائی ، ( ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی ) نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کسی نے قراءت کی ہے ؟ “ ، ایک آدمی نے کہا : جی ہاں ، میں نے کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں سوچ رہا تھا کہ کیا بات ہے قرآن پڑھنے میں کوئی مجھ سے منازعت ( کھینچا تانی ) کر رہا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 848]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 137 (826، 827)، سنن الترمذی/الصلاة 117 (312)، سنن النسائی/الافتتاح 28 (920)، (تحفة الأشراف: 14264)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 10 (44)، مسند احمد (2/240، 284، 285، 302، 487) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: فَسَكَتُوا بَعْدُ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الْإِمَامُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، اس کے بعد پہلی جیسی روایت ذکر کی ، البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے : پھر لوگوں نے جہری نماز میں خاموشی اختیار کر لی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 849]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جہری نماز میں لوگوں نے آواز سے پڑھنا چھوڑ دیا، یا سورت کا پڑھنا ہی چھوڑ دیا، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ سورت فاتحہ کا پڑھنا بھی چھوڑ دیا جیسا حنفیہ نے سمجھا ہے کیونکہ اس کے بغیر تو نماز ہی نہیں ہوتی، واضح رہے کہ حدیث کا آخری ٹکڑا «فسكتوا» مدرج ہے، زہری کا کلام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14264) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ، فإِنَّ َقِرَاءَةَ الْإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے لیے امام ہو تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 850]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کے بارے میں علامہ ذہبی فرماتے ہیں: «له طرق أخرى كلها واهية» یعنی اس حدیث کے تمام کے تمام طرق واہی ہیں، علامہ ابن حجر فرماتے ہیں: «طرق كلها معلولة» یعنی اس کے تمام طرق معلول ہیں، امام بخاری «جزء قراءت» میں فرماتے ہیں: «هذا خبر لم يثبت عند أهل العلم من أهل الحجاز وأهل العراق وغيرهم لإرساله و انقطاعه» یعنی یہ حدیث حجاز و عراق وغیرہ کے اہل علم کے نزدیک بسبب مرسل اور منقطع ہونے کے ثابت نہیں، اور اگر ثابت مان بھی لیا جائے، تو اس کا معنی یہ ہے کہ صرف سورۃ فاتحہ پڑھے کچھ اور پڑھنے کی ضرورت نہیں، فاتحہ کافی ہے تاکہ اس کا معنی دوسری احادیث کے مطابق ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ قال البو صيري: ”ھذا إسناد ضعيف،جابر هو ابن يزيد الجعفي متھم“ جابر الجعفي ضعيف رافضي ¤ وأبو الزبير عنعن ¤ وللحديث شواهد كلھا ضعيفة۔ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2675، ومصباح الزجاجة: 310)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/339) (ضعیف) (سند میں جابر الجعفی ضعیف بلکہ متہم بالکذب راوی ہے، اس لئے علماء کی اکثریت نے اس حدیث کی تضعیف فرمائی ہے، شیخ البانی نے شواہد کی بناء پراس کی تحسین کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 850، نیز ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: و فتح الباری: 2/242 وسنن الترمذی بتحقیق احمد شاکر 2/121-126، و سنن الدار قطنی: 1/323- 333)
14: بَابُ : الْجَهْرِ بِآمِينَ
باب: آمین زور سے کہنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ، فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو ، اس لیے کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے ، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 851]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے امام نسائی نے امام کے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال کیا ہے کیونکہ اگر امام آہستہ آمین کہے گا تو مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم نہیں ہو سکے گا تو ان سے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا مطالبہ درست نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 111 (780)، 113 (782)، التفسیر 2 (4475)، الدعوات 63 (6402)، سنن النسائی/الافتتاح 33 (927، 928)، (تحفة الأشراف: 13136)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 18 (410)، سنن ابی داود/الصلاة 172 (936)، سنن الترمذی/الصلاة 71 (250)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (قبیل45)، مسند احمد (2/238، 469)، سنن الدارمی/الصلاة 38 (1282) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام ( آمین ) کہے تو تم بھی آمین کہو ۱؎ ، اس لیے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو گئی ، اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 852]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی پہلے امام بلند آواز سے آمین کہے، پھر مقتدی بھی آواز سے آمین کہیں، اور اس کی دلیل میں کئی حدیثیں ہیں، اور حنفیہ کہتے ہیں کہ آمین آہستہ سے کہنا چاہئے، اور دلیل دیتے ہیں وائل کی حدیث سے جس میں یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پر پہنچے تو آہستہ سے آمین کہی، (مسند امام احمد، مسند ابویعلی، طبرانی، دارقطنی، مستدرک الحاکم) ہم کہتے ہیں کہ خود اس حدیث سے زور سے آمین کہنا ثابت ہوتا ہے، ورنہ وائل نے کیوں کر سنا اور سفیان نے اس حدیث کو وائل سے روایت کیا، اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہی بلند آواز سے، اور صاحب ہدایہ نے آمین کو دھیرے سے کہنے پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول سے استدلال کیا ہے، اور وہ روایت ضعیف ہے، نیز صحابی کا قول مرفوع حدیثوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مراد اخفاء سے یہ ہو کہ زور سے کہنے میں مبالغہ نہ کرے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الافتتاح 33 (929)، (تحفة الأشراف: 13287)، وحدیث سلمة بن عبد الرحمن تفرد بہ ابن ماجہ 15302، (تحفة الأشراف: 15302) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: تَرَكَ النَّاسُ التَّأْمِينَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَالَ: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 قَالَ: آمِينَ حَتَّى يَسْمَعَهَا أَهْلُ الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَيَرْتَجُّ بِهَا الْمَسْجِدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے آمین کہنا چھوڑ دیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتے تو آمین کہتے ، یہاں تک کہ پہلی صف کے لوگ سن لیتے ، اور آمین سے مسجد گونج اٹھتی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 853]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (934) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15444، ومصباح الزجاجة: 311)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 172 (934) (ضعیف) (اس کی سند میں ابو عبداللہ مجہول ہیں، اور بشر بن رافع ضعیف ہیں، اس لئے ابن ماجہ کی یہ روایت جس میں فيرتج بها المسجد (جس سے مسجد گونج جائے) کا لفظ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 465)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَالَ: وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، سورة الفاتحة آية 7، قَالَ: آمِينَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «ولا الضالين» کہتے تو «آمین» کہتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 854]
💡 وضاحت:
۱؎: آمین کے معنی ہیں قبول فرما، اور بعضوں نے کہا کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، اور بہر حال زور سے آمین کہنا سنت نبوی اور باعث اجر ہے، اور جو کوئی اس کو برا سمجھے اس کو اپنی حدیث مخالف روش پر فکر مند ہونا چاہئے کہ وہ حدیث رسول کے اعراض سے کیوں کر اللہ کے یہاں سرخرو ہو سکے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10065، ومصباح الزجاجة: 312) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن بعد میں آنے والی صحیح سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 845، فواد عبد الباقی اور خلیل مامون شیحا کے نسخوں میں اور مصباح الزجاجہ کے دونوں نسخوں میں عثمان بن ابی شیبہ ہے، مشہور حسن نے ابوبکر بن ابی شیبہ ثبت کیا ہے، اور ایسے تحفة الأشراف میں ہے، اس لئے ہم نے ابو بکر کو ثبت کیا ہے، جو ابن ماجہ کے مشاہیر مشائخ میں ہیں، اس لئے کہ امام مزی نے تحفہ میں یہی لکھا ہے، اور تہذیب الکمال میں حمید بن عبدالرحمن کے ترجمہ میں تلامیذ میں ابوبکر بن ابی شیبہ کے نام کے آگے (م د ق) کا رمز ثبت فرمایا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ صحیح مسلم، ابوداود، اور ابن ماجہ میں ابو بکر کے شیخ حمید بن عبد الرحمن ہی ہیں، ملاحظہ ہو، تہذیب الکمال: (7/ 377)، اور عثمان بن ابی شیبہ کے سامنے (خ م) یعنی بخاری و مسلم کا رمز دیا ہے، یعنی ان دونوں کتابوں میں حمید سے روایت کرنے والے عثمان ہیں، ایسے ہی عثمان کے ترجمہ میں حمید بن عبد الرحمن کے آگے (خ م) کا رمز دیا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَلَمَّا قَالَ: وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7، سورة الفاتحة آية 7 قَالَ: آمِينَ، فَسَمِعْنَاهَا".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، جب آپ نے «ولا الضالين» کہا ، تو اس کے بعد آمین کہا ، یہاں تک کہ ہم نے اسے سنا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 855]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (933) وانظر الحديث الآتي طرفه (3802) ¤ و حديث أبي داود (932،933) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11766)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 172 (932)، سنن الترمذی/الصلاة 70 (248)، سنن النسائی/الافتتاح 4 (880)، مسند احمد (4/315، 317، سنن الدارمی/الصلاة 39 (1283) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا حَسَدَتْكُمْ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ، مَا حَسَدَتْكُمْ عَلَى السَّلَامِ وَالتَّأْمِينِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا سلام کرنے ، اور آمین کہنے پر حسد کیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 856]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16074، ومصباح الزجاجة: 313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/125) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْخَلَّالُ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو مُسْهِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ صُبَيْحٍ الْمُرِّيُّ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا حَسَدَتْكُمْ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ، مَا حَسَدَتْكُمْ عَلَى آمِينَ، فَأَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ آمِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہود نے تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کیا جتنا «آمین» کہنے پر کیا ، لہٰذا تم آمین کثرت سے کہا کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 857]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،لإتفاقھم علي ضعف طلحة بن عمرو“ طلحة: متروك (تقريب: 3030) ¤ و الحديث السابق (الأصل: 856) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5897، ومصباح الزجاجة: 314) (ضعیف جدا) (سند میں طلحہ بن عمرو متروک ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث بغیر آخری ٹکڑے فأكثروا من قول آمين کے ثابت ہے)
15: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع میں جاتے اور اس سے اٹھتے وقت رفع یدین کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَأَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ ان دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے مقابل لے جاتے ، اور جب رکوع میں جاتے ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے ، ( تو بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے رفع یدین کرتے ) اور دونوں سجدوں کے درمیان آپ ہاتھ نہ اٹھاتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 858]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا مسنون ہونا ثابت ہو گیا ہے، جو لوگ اسے منسوخ یا مکروہ کہتے ہیں ان کا قول درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 9 (721)، سنن ابی داود/الصلاة 116 (255)، سنن الترمذی/الصلاة 76 (875)، سنن النسائی/الافتتاح 1 (877)، التطبیق 19 (1058)، 21 (1060)، (تحفة الأشراف: 6816)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 83 (735)، 84 (736)، 85 (738)، 86 (739)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (16)، مسند احمد (2/8، 18، 44، 45، 47، 62، 100، 147)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1285)، 71 (1347) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ" إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے ، تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کانوں کے قریب تک اٹھاتے ، اور جب رکوع میں جاتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 859]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم ¤ -
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ الصلاة 9 (391)، سنن ابی داود/الصلاة 118 (745)، سنن النسائی/ الافتتاح 4 (882)، التطبیق 18 (1057)، 36 (1086، 1087)، 84 (1144)، (تحفة الأشراف: 11184)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 84 (737)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1286) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَحِينَ يَسْجُدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دونوں ہاتھ نماز میں مونڈھوں ( کندھوں ) کے بالمقابل اٹھاتے جس وقت نماز شروع کرتے ، جس وقت رکوع کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جس وقت سجدہ کرتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 860]
💡 وضاحت:
۱؎: سجدے کے وقت بھی رفع یدین کرنا اس روایت میں وارد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ صالح بن كيسان: حجازي ورواية إسماعيل عن الحجازين ضعيفة ¤ انظر ضعيف سنن الترمذي (131) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13655، ومصباح الزجاجة: 315)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 4 (19)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1285) (صحیح) (اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل حجاز سے ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق وشواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 724)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا رِفْدَةُ بْنُ قُضَاعَةَ الْغَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَيْرِ بْنِ حَبِيبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَعَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ".
عمیر بن حبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ ہر تکبیر کے ساتھ فرض نماز میں اٹھاتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 861]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري ما ملخصه: ”رفدة ضعيف و عبد اللّٰه لم يسمع من أبيه شيئًا“ رفدة بن قضاعة: ضعيف (تقريب: 1952) ¤ وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 269/6) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10896، ومصباح الزجاجة: 316) (صحیح) (اس سند میں رفدة بن قضاعہ ضعیف راوی ہیں، اور عبد اللہ بن عبید بن عمیر نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا ہے، کما فی التاریخ الأوسط والتاریخ الکبیر: 5/455، اور تاریخ کبیر میں عبد اللہ کے والد کے ترجمہ میں ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا ہے، بایں ہمہ طرق شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 724)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ، وَهُوَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ، قَالَ: " أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكَبْرُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، فَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَاعْتَدَلَ، فَإِذَا قَامَ مِنَ الثِّنْتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِما مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ".
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی کو کہتے سنا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس اصحاب کے بیچ میں تھے جن میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے ، ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو سب سے زیادہ جانتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، پھر «ألله أكبر» کہتے ، اور جب رکوع میں جانے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، اور جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور سیدھے کھڑے ہو جاتے ، اور جب دو رکعت کے بعد ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 862]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث صحیح ہے، اور اس میں دس صحابہ کی رفع یدین پر گواہی ہے، کیونکہ سب نے سکوت اختیار کیا، اور کسی نے ابوحمید رضی اللہ عنہ پر نکیر نہیں کی، ان دس میں حسن بن علی رضی اللہ عنہما بھی تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 85 (828)، سنن ابی داود/الصلاة 117 (964، 965)، سنن الترمذی/الصلاة 78 (304، 305)، سنن النسائی/التطبیق 6 (1040)، (تحفة الأشراف: 11897)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/424)، سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1061) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ ، قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: " أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ، فَكَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ حِينَ كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَاسْتَوَى حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ".
عباس بن سہل ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو حمید ساعدی ، ابواسید ساعدی ، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اکٹھے ہوئے ، اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا ، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں ، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے ، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے ، پھر جب رکوع کے لیے «ألله أكبر» کہتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے ، پھر جب رکوع سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور سیدھے کھڑے رہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 863]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت بھی رفع یدین کرتے تھے، اس طرح کل چار جگہیں ہوئیں جس میں آپ رفع یدین کرتے تھے، تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت، اور تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 117 (733، 734)، التشہد 181 (966، 967)، سنن الترمذی/الصلاة 78 (260)، 86 (270)، (تحفة الأشراف: 11892)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو أَيُّوبَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «ألله أكبر» کہتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے مقابل اٹھاتے ، اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اسی طرح کرتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ، اور جب دو سجدوں ( یعنی رکعتوں کے بعد ) اٹھتے تو اسی طرح کرتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 864]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة المسافرین 26 (771)، سنن الترمذی/الصلاة 82 (266)، الدعوات 32 (3421)، (تحفة الأشراف: 10228)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 118 (744)، سنن النسائی/الافتتاح 17 (898)، موطا امام مالک/الصلاة 4 (17)، مسند احمد (1/93، 102، 119)، سنن الدارمی/الصلاة 33 (1277) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رِيَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ كُلِّ تَكْبِيرَةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 865]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،فيه عمر بن رياح وقد اتفقوا علي تضعيفه‘‘ عمر بن رياح: متروك وكذّبه بعضھم (تقريب: 4896) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5727، ومصباح الزجاجة: 317) (صحیح) (سند میں عمر بن ریاح متروک ہے، لیکن کثرت شواہد کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابوداود: 724)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا رَكَعَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے ، اور جب رکوع کرتے ، تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے ( یعنی رفع یدین کرتے ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 866]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 723، ومصباح الزجاجة: 318) (صحیح) (اسناد صحیح ہے، لیکن دار قطنی نے موقوف کو صواب کہا ہے، اس لئے عبد الوہاب الثقفی کے علاوہ کسی نے اس حدیث کو مرفوعاَ حمید سے روایت نہیں کی ہے، جب کہ حدیث کی تصحیح ابن خزیمہ اور ابن حبان نے کی ہے، اور البانی صاحب نے بھی صحیح کہا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 724)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ: " َأَنْظُرَنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي؟ فَقَامَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں ضرور دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں ، ( چنانچہ ایک روز میں نے دیکھا ) کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، قبلے کی طرف رخ کیا ، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کانوں کے بالمقابل کیا ، پھر جب رکوع کیا تو ( بھی ) اسی طرح اٹھایا ( یعنی رفع یدین کیا ) ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، تو ( بھی ) اسی طرح اٹھایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 867]
💡 وضاحت:
۱؎: مالک بن حویرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہما دونوں ان صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اس لئے ان دونوں کا اسے روایت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 116 (726)، سنن النسائی/الافتتاح 4 (880)، (تحفة الأشراف: 11781)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/315، 318، 318، 319)، سنن الدارمی/الصلاة 41 (1287) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّه كَانَ" إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَيَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَرَفَعَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ يَدَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ".
ابوالزبیر سے روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ، اور جب رکوع کے لیے جاتے ، یا رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور کہتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ابراہیم بن طہمان ( راوی حدیث ) نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کانوں تک اٹھا کر بتایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 868]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2650، ومصباح الزجاجة: 319) (صحیح)
16: بَابُ : الرُّكُوعِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں رکوع کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ لَمْ يَشْخَصْ رَأْسَهُ، وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے ، اور نہ نیچا رکھتے بلکہ ان دونوں کے بیچ سیدھا رکھتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 869]
💡 وضاحت:
۱؎: اس طرح کہ پیٹھ اور گردن برابر رکھتے، اور اسی طرح سے بالاجماع رکوع کرنا سنت ہے، اور اہل حدیث کے نزدیک یہ تعدیل ارکان میں داخل ہے، اور نماز میں تعدیل ارکان فرض ہے، یہی قول ائمہ ثلاثہ اور ابویوسف کا بھی ہے، لیکن ابوحنیفہ اور محمد رحمہما اللہ نے اس کو واجب کہا ہے، اہل حدیث کا بھی یہی مذہب ہے، نماز کے آداب و شروط اور سنن کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ بہت ساری نماز پڑھی جائیں جن میں سنت کا اہتمام نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو نیک عمل کی توفیق دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16040، ومصباح الزجاجة: 320)، وقد أخرجہ: (مطولاً) صحیح مسلم/الصلاة 46 (498)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (783)، مسند احمد (6/31، 110، 171، 194، 281) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
ابومسعود ( عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ انصاری ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ نماز درست نہیں ہوتی ہے جس کے رکوع و سجود میں آدمی اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 870]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ بھی نکلتا ہے کہ تعدیل ارکان نماز میں فرض ہے، اور یہی قول ہے اہل حدیث کا اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نفی کمال پر محمول ہے، اور ان کا یہی قاعدہ ہے، وہ اکثر حدیثوں کو جو اس مضمون کی آئی ہیں نفی کمال پر ہی محمول کرتے ہیں، جیسے «لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب» وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 148 (855)، سنن الترمذی/الصلاة 81 (265)، سنن النسائی/الافتتاح 88 (1028)، التطبیق 54 (1112)، (تحفة الأشراف: 9995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/119، 122)، سنن الدارمی/الصلاة 78 (1366) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ قَالَ: خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، فَلَمَحَ بِمُؤْخِرِ عَيْنِهِ رَجُلًا لَا يُقِيمُ صَلَاتَهُ، يَعْنِي: صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی قوم کے نمائندہ بن کر آئے تھے ، وہ کہتے ہیں : ہم نکلے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی ، آپ نے کنکھیوں سے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کر رہا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” اے مسلمانوں کی جماعت ! اس شخص کی نماز نہیں ہو گی جو رکوع و سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 871]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10020، ومصباح الزجاجة: 321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/23) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رَاشِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَابِصَةَ بْنَ مَعْبَدٍ ، يَقُولُ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَكَانَ إِذَا رَكَعَ سَوَّى ظَهْرَهُ حَتَّى لَوْ صُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءُ لَاسْتَقَرَّ".
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی کمر برابر رکھتے یہاں تک کہ اگر آپ کی کمر پر پانی ڈال دیا جاتا تو وہ تھم جاتا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 872]
💡 وضاحت:
۱ ؎: سبحان اللہ، مکمل نماز اس کو کہتے ہیں، یہ تو ظاہری آداب ہیں اور دل کے خشوع و خضوع اور اطمینان اس کے علاوہ ہیں، بڑا ادب یہ ہے کہ نماز میں ادھر ادھر کے دنیاوی خیالات نہ آئیں، اور نمازی یہ سمجھے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، اگر یہ کیفیت نہ طاری ہو سکے تو یہی سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کی ہر ایک حرکت کو دیکھ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ طلحة بن زيد: متروك،قال أحمد وعلي وأبو داود: كان يضع (تقريب: 3020) ¤ راشد: مجھول ¤ وعبد اللّٰه بن عثمان بن عطاء لين الحديث (تقريب: 1858،3469) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11739، ومصباح الزجاجة: 322) (صحیح) (سند میں طلحہ بن زید، عثمان بن عطاء، اور ابراہیم بن محمد ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق اور شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجہ بتحقیق، د؍ عوض الشہری، و مجمع الزوائد: 2/ 123)
17: بَابُ : وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ
باب: رکوع میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: رَكَعْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، فَطَبَّقْتُ، فَضَرَبَ يَدِي وقَالَ: قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا ثُمَّ" أُمِرْنَا أَنْ نَرْفَعَ إِلَى الرُّكَبِ".
معصب بن سعد سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) کے قریب ( نماز پڑھتے ہوئے ) رکوع کیا تو تطبیق کی ۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا : ہم پہلے اس طرح کیا کرتے تھے ، پھر ہمیں حکم دیا کہ ( ہاتھ ) گھٹنوں کے اوپر رکھیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 873]
💡 وضاحت:
تطبیق کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ملا کر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر رانوں کے درمیان ہاتھ رکھے جائیں۔ رکوع کا یہ طریقہ منسوخ ہو چکا ہے۔ جو حکم منسوخ ہو چکا ہو، اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ رکوع کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ گھٹنوں پر اس طرح رکھے جائیں جس طرح گھٹنوں کو پکڑا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَرْكَعُ فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تھے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے تھے اور بازوؤں کو ( پہلوؤں سے ) دور رکھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 874]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: t
18: بَابُ : مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ
باب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا کہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہہ لیتے تو «ربنا ولك الحمد» کہتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 875]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اور کئی دوسری حدیثوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ امام «سمع الله لمن حمده» کہے اور اس کے بعد «ربنا ولك الحمد» کہے اور مقتدی امام کے «ربنا ولك الحمد» کہنے کے بعد یہ کلمات کہے، علماء کے درمیان امام اور مقتدی دونوں کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا دونوں ہی یہ دونوں کلمات کہیں یا صرف امام دونوں کلمات کہے اور مقتدی «ربنا ولك الحمد» پر اکتفاء کرے، یا امام «سمع الله لمن حمده» پڑھے اور مقتدی «ربنا ولك الحمد» ، شافعیہ اور بعض محدثین کا مذہب ہے کہ امام دونوں کلمات کہے اور مقتدی صرف «ربنا ولك الحمد» پڑھے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک امام صرف «سمع الله لمن حمده» کہے، اور مقتدی صرف «ربنا ولك الحمد» ، ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو، لیکن اس سے یہ کہاں نکلتا ہے کہ امام «ربنا ولك الحمد» نہ کہے، یا مقتدی «سمع الله لمن حمده» نہ کہے، دوسری متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کلمے کہتے تھے، اسی لئے امام طحاوی حنفی نے بھی اس مسئلہ میں ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو نہیں لیا، اور باتباع حدیث یہ حکم دیا ہے کہ امام دونوں کلمے کہے، اب رہ جاتا ہے کہ کیا مقتدی دونوں کلمے کہے یا صرف دوسرے کلمے پر اکتفاء کرے، جب کہ روایت ہے کہ «إن النبي صلی اللہ علیہ وسلم كان يقول: إنما جعل الإمام ليؤتم به... وإذا قال: سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا ولك الحمد يسمع الله لكم فإن الله تبارك وتعالى قال على لسان نبيه صلی اللہ علیہ وسلم : سمع الله لمن حمده» (صحیح مسلم، ابوعوانہ، مسند احمد، سنن ابی داود) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ امام تو صرف اسی لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو اللہ تمہاری سنے گا، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ بات کہی ہے کہ اللہ کی جس نے حمد کی اللہ نے اس کی حمد سن لی، محدث عصر امام البانی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مقتدی «سمع الله لمن حمده» کہنے میں امام کے ساتھ شرکت نہ کرے، جیسے اس میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ امام مقتدی کے قول «ربنا ولك الحمد» میں اس کا شریک نہیں ہے، اس لیے کہ اس رکن میں امام اور مقتدی کیا کہیں اس کے لیے یہ حدیث نہیں وارد ہوئی ہے بلکہ یہ واضح کرنے کے لیے یہ حدیث آئی ہے کہ مقتدی امام کے «سمع الله لمن حمده» کہنے کے بعد «ربنا ولك الحمد» کہے، ایسے ہی حدیث: «صلوا كما رأيتموني أصلي» کے عموم کا تقاضا ہے کہ مقتدی بھی امام کی طرح «سمع الله لمن حمده» وغیرہ کہے، (صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، والاختیارات الفقہیہ للإمام الالبانی ص ۱۲۵-۱۲۶)، خلاصہ یہ کہ امام اور مقتدی دونوں دونوں کلمات کہیں اور مقتدی امام کے «سمع الله لمن حمده» کہنے کے بعد «ربنا ولك الحمد» کہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: حدیث أبي سلمة أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 84 (1024)، التطبیق 94 (1157)، وحدیث سعید بن المسیب تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 13110)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الأذان 124 (795)، 125 (796)، صحیح مسلم/ الصلاة 10 (392)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (836)، سنن الترمذی/الصلاة 83 (267)، مسند احمد (2/236، 270، 300، 319، 452، 497، 502، 527، 533) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» کہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 876]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1492)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 18 (378)، الأذان 82 (732)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (411)، سنن ابی داود/الصلاة 147 (853)، سنن الترمذی/الصلاة 151 (361)، سنن النسائی/الإمامة 16 (795)، موطا امام مالک/الجماعة 5 (16)، مسند احمد (3/110)، سنن الدارمی/الصلاة 44 (1291) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب امام «سمع الله لمن حمده» کہے تو تم  «اللهم ربنا ولك الحمد» کہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 877]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 4047، ومصباح الزجاجة: 324)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 40 (477)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (847)، سنن النسائی/التطبیق 25 (1069)، مسند احمد (3/87)، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1352) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے : «سمع الله لمن حمده اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد» ، ” اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی ، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تیرے لیے آسمانوں اور زمین بھر کر حمد ہے ، اور اس کے بعد اس چیز بھر کر جو تو چاہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 878]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة40 (476)، سنن ابی داود/الصلاة 144 (846)، (تحفة الأشراف: 5173)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/353، 354، 356، 381) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، يَقُولُ: ذُكِرَتِ الْجُدُودُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: رَجُلٌ جَدُّ فُلَانٍ فِي الْخَيْلِ، وَقَالَ آخَرُ: جَدُّ فُلَانٍ فِي الْإِبِلِ، وَقَالَ آخَرُ: جَدُّ فُلَانٍ فِي الْغَنَمِ، وَقَالَ آخَرُ: جَدُّ فُلَانٍ فِي الرَّقِيقِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ وَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ قَالَ: " اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، وَطَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ بِالْجَدِّ لِيَعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ كَمَا يَقُولُونَ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال و دولت کا ذکر چھیڑا ، آپ نماز میں تھے ، ایک شخص نے کہا : فلاں کے پاس گھوڑوں کی دولت ہے ، دوسرے نے کہا : فلاں کے پاس اونٹوں کی دولت ہے ، تیسرے نے کہا : فلاں کے پاس بکریوں کی دولت ہے ، چوتھے نے کہا : فلاں کے پاس غلاموں کی دولت ہے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز سے فارغ ہوئے اور آخری رکعت کے رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم ربنا ولك الحمد ملئ السموات وملئ الأرض وملئ ما شئت من شيئ بعد اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ” اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تیرے لیے تعریف ہے ، آسمانوں بھر ، زمین بھر اور اس کے بعد اس چیز بھر جو تو چاہے ، اے اللہ ! نہیں روکنے والا کوئی اس چیز کو جو تو دے ، اور نہیں دینے والا ہے کوئی اس چیز کو جسے تو روک لے ، اور مالداروں کو ان کی مالداری تیرے مقابلہ میں نفع نہیں دے گی “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جَدّ» کہنے میں اپنی آواز کو کھینچا تاکہ لوگ جان لیں کہ بات ایسی نہیں جیسی وہ کہہ رہے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 879]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،أبو عمر لا يعرف حاله‘‘ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11820، ومصباح الزجاجة: 325) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو عمرو مجہول ہیں، اس بناء پر یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن حدیث میں مذکور دعاء اللهم ربنا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح مسلم عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، ومصباح الزجاجة)
19: بَابُ : السُّجُودِ
باب: نماز میں سجدے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " إِذَا سَجَدَ جَافَى يَدَيْهِ، فَلَوْ أَنَّ بَهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ لَمَرَّتْ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلو سے الگ رکھتے کہ اگر ہاتھ کے بیچ سے کوئی بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو گزر جاتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 880]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 46 (497)، سنن ابی داود/الصلاة 158 (898)، سنن النسائی/التطبیق 52 (1110)، (تحفة الأشراف: 18083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/331، 332)، سنن الدارمی/الصلاة 79 (1369) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَصَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
عبداللہ بن اقرم خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے والد کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گزرے ، انہوں نے راستے کی ایک جانب اپنی سواریوں کو بٹھایا ، مجھ سے میرے والد نے کہا : تم اپنے جانوروں میں رہو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے پوچھوں ( کہ کون لوگ ہیں ) ، وہ کہتے ہیں : میرے والد گئے ، اور میں بھی قریب پہنچا تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں ، میں نماز میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی ، جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے میں آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی کو دیکھتا تھا ۲؎ ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : لوگ «عبیداللہ بن عبداللہ» کہتے ہیں ، اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ لوگ «عبداللہ بن عبیداللہ» کہتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 881]
💡 وضاحت:
۱؎: نمرہ: عرفات سے متصل ایک جگہ کا نام ہے، جو عرفات سے پہلے پڑتا ہے۔ ۲؎: سجدے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں بازوؤں کو پسلی سے اس قدر دور رکھتے کہ بغل صاف نظر آتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَصَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 881M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے ، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 882]
💡 وضاحت:
۱؎: امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو عاصم سے شریک کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے، اور شریک تفرد کی صورت میں قوی نہیں ہیں، علامہ البانی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے متن کو عاصم بن کلیب سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کو شریک کی نسبت زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اس کے باوجود ان ثقہ راویوں نے سجدہ میں جانے اور اٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے، خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث میں شریک کو وہم ہوا ہے، اور یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے جو قطعاً قابل استدلال نہیں، اور صحیح حدیث ابوداود میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں ہے کہ دونوں ہاتھ کو دونوں گھٹنوں سے پہلے رکھے، علامہ ابن القیم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو «مقلوب» کہا ہے کہ اصل حدیث یوں ہے: «وليضع ركبتيه قبل يديه» یعنی نمازی دونوں ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے زمین پر رکھے، لیکن محدث عبدالرحمن مبارکپوری، علامہ احمد شاکر، شیخ ناصر الدین البانی نے ابن القیم کے اس رائے کی تردید کی ہے، اور ابن خزیمہ نے کہا ہے کہ گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھنے والی روایت کو منسوخ کہنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی یہ روایت: «كنا نضع اليدين قبل الركبتين فأمرنا بالركبتين قبل اليدين» یعنی: پہلے ہم گھٹنوں سے قبل ہاتھ رکھتے تھے، پھر ہمیں ہاتھوں سے قبل گھٹنے رکھنے کا حکم دیا گیا انتہائی ضعیف ہے، اور قطعاً قابل استدلال نہیں۔ مسئلے کی مزید تنقیح اور کے لیے ہم یہاں پر اہل علم کے اقوال نقل کرتے ہیں: اہل حدیث کا مذہب ہے کہ سجدے میں جانے کے لیے گھٹنے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھا جائے گا، یہی صحیح ہے اس لیے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل اور حکم دونوں سے ثابت ہے، رہا فعل تو ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو گھٹنے سے پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھتے اس حدیث کی تخریج ایک جماعت نے کی ہے جن میں حاکم بھی ہیں، حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، اور جیسا کہ ان دونوں نے کہا ایسا ہی ہے، اس کی تصحیح ابن خزیمہ (۶۲۷) نے بھی کی ہے (ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل ۲/۷۷-۷۸)، رہ گیا امر نبوی تو وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث سے ثابت ہے: «إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير و ليضع يديه قبل ركبتيه» یعنی: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کے بیٹھنے کی طرح زمین پر نہ بیٹھے، گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو زمین پر رکھے، اس حدیث کی تخریج ابوداود، نسائی اور جماعت نے کی ہے، اور اس کی سند نووی اور زرقانی کے بقول جید ہے، اور یہی حافظ ابن حجر کا قول ہے، اور ان دونوں حدیثوں کے معارض صرف وائل بن حجر کی حدیث ہے، اور یہ راوی حدیث شریک بن عبداللہ القاضی کی وجہ سے ضعیف ہے، اس لیے کہ وہ سیٔ الحفظ (کمزور حافظہ کے) ہیں، تو جب وہ تفرد کی حالت میں ناقابل حجت ہیں تو جب ثقات کی مخالفت کریں گے تو کیا حال ہو گا، اسی لیے حافظ ابن حجر بلوغ المرام میں فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ کی حدیث وائل کی حدیث سے زیادہ قوی ہے، اور اس کو عبدالحق اشبیلی نے ذکر کیا ہے۔ طحاوی شرح معانی الآثار (۱/۱۵۰) میں فرماتے ہیں کہ اونٹ کے گھٹنے اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، ایسی ہی دوسرے چوپایوں کے اور انسان کا معاملہ ایسے نہیں تو ارشاد نبوی ہوا کہ نمازی اپنے گھٹنوں پر نہ بیٹھے جو کہ اس کے پاؤں میں ہوتے ہیں، جیسا کہ اونٹ اپنے گھٹنوں پر (جو اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں) بیٹھتا ہے، لیکن بیٹھنے کی ابتداء ایسے کرے کہ پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھے جس میں اس کے گھٹنے نہیں ہیں پھر اپنے گھٹنوں کو رکھے تو اپنے اس فعل میں وہ اونٹ کے بیٹھنے کے خلاف کرے گا، البانی صاحب کہتے ہیں کہ اس سنت میں وارد حکم بظاہر واجب ہے، ابن حزم نے محلی میں اس کو واجب کہا ہے (۴/۱۲۸)، واجب کہنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کے الٹا ناجائز ہے، اور اس میں اس اتفاق کی تردید ہے جس کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فتاویٰ میں نقل کیا ہے کہ دونوں طرح جائز ہے، (فتاوی ابن تیمیہ ۱/۸۸)، البانی صاحب کہتے ہیں کہ اس متروک سنت پر تنبیہ ہونی چاہئے تاکہ اس پر عمل کرنے کا اہتمام ہو، اور یہی چیز ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی دس صحابہ رسول کے ساتھ حدیث میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمین کی طرف جاتے تھے اور آپ کے دونوں ہاتھ پہلو سے دور ہوتے تھے پھر سجدہ کرتے تھے، اور سبھی نے ابوحمید سے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی نماز پڑھتے تھے، اس کی روایت ابن خزیمہ (صحیح ابن خزیمہ ۱/۳۱۷-۳۱۸) وغیرہ نے صحیح سند سے کی ہے۔ جب آپ کو یہ معلوم ہو گیا اور آپ نے میرے ساتھ لفظ «هوى» کے معنی پر غور کیا جس کے معنی یہ ہیں کہ پہلو سے دونوں ہاتھ کو الگ کرتے ہوئے زمین پر جانا تو آپ پر بغیر کسی غموض کے یہ واضح ہو جائے گا کہ ایسا عادۃً اسی وقت ممکن ہے جب کہ دونوں ہاتھ کو آدمی زمین پر لے جائے نہ کہ گھٹنوں کو اور اس میں وائل رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ضعف پر ایک دوسری دلیل ہے، اور یہی مالک، اوزاعی، ابن حزم اور ایک روایت میں احمد کا ہے، (ملاحظہ ہو:الاختیارات الفقہیہ للإمام الالبانی، ۹۰-۹۱) البانی صاحب صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں دونوں ہاتھوں کو زمین پر سجدہ کے لیے آگے کرنے کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے وقت اپنے دونوں ہاتھ زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھتے تھے، اور اس کے کرنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے زمین پر رکھے۔ پہلی حدیث کی تخریج میں فرماتے ہیں کہ اس کی تخریج ابن خزیمہ، دارقطنی اور حاکم نے کی ہے، اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، اور اس کے خلاف وارد حدیث صحیح نہیں ہے، اس کے قائل مالک ہیں، اور احمد سے اسی طرح مروی ہے کمافی التحقیق لابن الجوزی، اور مروزی نے مسائل میں امام اوزاعی سے صحیح سند سے یہ روایت کی ہے کہ میں نے لوگوں کو اپنے ہاتھ زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھتے پایا ہے۔ اور دوسری حدیث جس میں دونوں ہاتھوں کو پہلے زمین پر رکھنے کا حکم ہے، اس کی تخریج میں لکھتے ہیں: ابوداود، تمام فی الفوائد، سنن النسائی صغریٰ و کبریٰ صحیح سند کے ساتھ، عبدالحق نے احکام کبریٰ میں اس کی تصحیح کی ہے اور کتاب التہجد میں کہا کہ یہ اس سے پہلی یعنی اس کی مخالف وائل والی حدیث کی سند سے زیادہ بہتر ہے، بلکہ وائل کی حدیث اس صحیح حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ سند کے اعتبار سے بھی ضعیف ہے، اور اس معنی کی جو حدیثیں ہیں، وہ بھی ضعیف ہیں جیسا کہ میں نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ (۹۲۹) اور ارواء الغلیل (۳۵۷) میں اس کی کی ہے، اس کے بعد فرماتے ہیں کہ جان لیں کہ اونٹ کی مخالفت کی صورت یہ ہے کہ سجدے میں جاتے وقت دونوں ہاتھوں کو زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھا جائے، کیونکہ سب سے پہلے اونٹ بیٹھتے وقت اپنے گھٹنے کو جو اس کے ہاتھوں (یعنی اس کے دونوں پیر) میں ہوتے ہیں، زمین پر رکھتا ہے، جیسا کہ لسان العرب وغیرہ میں آیا ہے، اور امام طحاوی نے مشکل الآثار اور شرح معانی الآثار میں ایسے ہی ذکر کیا ہے، اور ایسے ہی امام قاسم سرقسطی رحمہ اللہ کا قول ہے، چنانچہ انہوں نے غریب الحدیث میں صحیح سند کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ کوئی شخص نماز میں اڑیل اونٹ کی طرح قطعاً نہ بیٹھے، (امام سرقسطی کہتے ہیں کہ یہ سجدہ میں جانے کی صورت میں ہے) یعنی وہ اپنے آپ کو زمین پر اس طرح نہ پھینکے جس طرح اڑیل اونٹ بے اطمینانی سے بیٹھتا ہے، بلکہ اطمینان کے ساتھ نیچے جائے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھے، پھر اس کے بعد اپنے گھٹنوں کو، اس سلسلے میں ایک مرفوع حدیث مروی ہے جس میں یہ تفصیل موجود ہے، پھر قاسم سرقسطی نے اوپر والی حدیث ذکر کی، ابن القیم کا یہ کہنا عجیب ہے کہ یہ بات عقل سے دور ہے، اور اہل زبان کے یہاں غیر معروف بھی ہے۔ ہم نے جن مراجع کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کے علاوہ دوسرے بہت سارے مراجع میں ان کی تردید ہے، جس کی طرف رجوع کیا جانا چاہئے، ہم نے اس مسئلہ کو شیخ حمود تویجری پر اپنے رد میں تفصیل سے بیان کیا ہے (ملاحظہ ہو: صفۃ الصلاۃ، ۱۴۰-۱۴۱)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (838) ترمذي (268) نسائي (1090) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 141 (838)، سنن الترمذی/الصلاة 85 (268)، سنن النسائی/التطبیق 38 (1090)، (تحفة الأشراف: 11780)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/381)، سنن الدارمی/الصلاة 74 (1359) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، نیز: ملاحظہ ہو: الإرواء: 357، وضعیف أبی داود: 151)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 883]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 133 (809)، 134 (810)، 137 (115)، 138 (816)، صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (889، 890)، سنن الترمذی/الصلاة 88 (273)، سنن النسائی/التطبیق 40 (1094)، 43 (1097)، 45 (1099)، 56 (1114)، 58 (1116)، (تحفة الأشراف: 5734)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/221، 222، 255، 270، 279، 280، 285، 286، 290، 305، 324)، سنن الدارمی/الصلاة 73 (1357) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1040) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا"، قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: الْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، وَكَانَ يَعُدُّ الْجَبْهَةَ وَالْأَنْفَ وَاحِدًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ( اعضاء ) پر سجدہ کروں ، اور بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں “ ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ ( وہ سات اعضاء یہ ہیں ) : دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے ، دونوں قدم ، اور وہ پیشانی و ناک کو ایک شمار کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 884]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 134 (812)، صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن النسائی/التطبیق 43 (1097)، 45 (1099)، (تحفة الأشراف: 5708)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/222، 292، 305) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ: وَجْهُهُ، وَكَفَّاهُ، وَرُكْبَتَاهُ، وَقَدَمَاهُ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں : اس کا چہرہ ، اس کی دونوں ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 885]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (891)، سنن الترمذی/الصلاة 88 (272)، سنن النسائی/التطبیق 41 (1095)، 46 (1100)، (تحفة الأشراف: 5126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1 /206، 208، 1098) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَرُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ كُنَّا لَنَأْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُجَافِي بِيَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ إِذَا سَجَدَ".
صحابی رسول احمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں ( اور بازوؤں ) کو پہلووں سے اتنا دور کرتے کہ ہمیں ( اس مشقت کی کیفیت کو دیکھ کر ) ترس آتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 886]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ الگ رکھنے کی وجہ سے آپ کو کافی مشقت اٹھانی پڑتی تھی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 158 (900)، (تحفة الأشراف: 80)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/342، 5/31) (صحیح)
20: بَابُ : التَّسْبِيحِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: رکوع اور سجدہ میں پڑھی جانے والی دعا (تسبیح) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: " لَمَّا نَزَلَتْ: فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ سورة الواقعة آية 74، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ : «فسبح باسم ربك العظيم» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” اسے اپنے رکوع میں کہا کرو “ ، پھر جب «سبح اسم ربك الأعلى» نازل ہوئی تو ہم سے فرمایا : ” اسے اپنے سجدے میں کہا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 887]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی رکوع میں «سبحان ربي العظيمِ» اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» کہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 151 (875، 876)، (تحفة الأشراف: 9909)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/155)، سنن الدارمی/الصلاة 69 (1344) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن ایوب منکر الحدیث، اور ایاس بن عامر غیر قوی ہیں اس لئے یہ ضعیف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا رَكَعَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکوع میں «سبحان ربي العظيم» تین بار ، اور سجدہ میں «سبحان ربي الأعلى» تین بار کہتے سنا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 888]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ادنی درجہ ہے، کم سے کم تین بار کہنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن لھيعة ضعيف لإختلاطه يدلس ¤ وأبو الأزھر المصري: مستور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3391)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین27 (772)، سنن ابی داود/الصلاة 151 (874)، سنن الترمذی/الصلاة 79 (262)، سنن النسائی/الافتتاح 77 (1009)، التطبیق 74 (1134)، مسند احمد (5/382، 384، 394)، سنن الدارمی/الصلاة 69 (1345) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر کرتے ہوئے اکثر اپنے رکوع میں «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفر لي» ” اے اللہ ! تو پاک ہے ، اور سب تعریف تیرے لیے ہے ، اے اللہ ! تو مجھے بخش دے “ پڑھتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 889]
💡 وضاحت:
۱؎: قرآن شریف میں ہے «فسبح بحمد ربك واستغفره» ، اس کا مطلب یہی ہے کہ نماز میں یوں کہو: «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفرلي» ، اور جو لفظ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کا اہتمام بہتر ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رکوع اور سجدے میں دعا کرنا درست ہے، اور نماز میں جہاں تک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور دعا ہو سکے کرے، اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگے، اور جو دعائیں حدیث میں وارد ہیں ان کے سوا بھی جو دعا چاہے کرے کوئی ممانعت نہیں ہے۔
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 123 (794)، 139 (817)، المغازي 51 (4293)، تفسیر سورة النصر 1 (4968)، 2 (4968)، صحیح مسلم/الصلاة 42 (484)، سنن ابی داود/الصلاة 152 (877)، سنن النسائی/التطبیق10 (1048)، 64 (1123)، 65 (1124)، (تحفة الأشراف: 17635)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 49، 190) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثًا، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ، وَإِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے رکوع میں تین بار «سبحان ربي العظيم» کہے ، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کا رکوع مکمل ہو گیا ، اور جب کوئی شخص سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میں تین بار «سبحان ربي الأعلى» کہے ، جب اس نے ایسا کر لیا تو اس کا سجدہ مکمل ہو گیا ، اور یہ کم سے کم تعداد ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 890]
💡 وضاحت:
۱؎: امام ترمذی نے کہا:مستحب ہے کہ آدمی تین بار سے کم تسبیح نہ کرے، اور ابن المبارک نے کہا کہ امام کو پانچ بار کہنا مستحب ہے، تاکہ مقتدی تین بار کہہ سکیں، اور اس سے زیادہ جہاں تک چاہے کہہ سکتا ہے، بشرطیکہ اکیلا نماز پڑھتا ہو، کیونکہ جماعت میں ہلکی نماز پڑھنا سنت ہے، تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (886) ترمذي (261) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 154 (886)، سنن الترمذی/الصلاة 79 (261)، (تحفة الأشراف: 9530) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں اسحاق بن یزید الہذلی مجہول ہیں)
21: بَابُ : الاِعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ
باب: سجدے میں اعتدال اور میانہ روی۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ، وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں کا کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال سے کرے ۱؎ ، اور اپنے دونوں بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 891]
💡 وضاحت:
۱؎: سجدہ میں اعتدال یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے، اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھائے رکھے، اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، حافظ ابن حجر نے کہا: بازوؤں کو بچھانا مکروہ ہے کیونکہ خشوع اور آداب کے خلاف ہے، البتہ اگر کوئی دیر تک سجدے میں رہے تو وہ اپنے گھٹنے پر بازو ٹیک سکتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدے کی مشقت کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھٹنوں سے مدد لو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/المواقیت 89 (275)، (تحفة الأشراف: 2311)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/305، 315، 389) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَسْجُدْ أَحَدُكُمْ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سجدوں میں اعتدال کرو ، اور تم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح بچھا کر سجدہ نہ کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 892]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الافتتاح 89 (1029)، التطبیق 53 (1111)، (تحفة الأشراف: 1197)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 8 (532)، الأذان 141 (822)، صحیح مسلم/الصلاة 45 (493)، سنن ابی داود/الصلاة 158 (987)، سنن الترمذی/المواقیت 90 (276)، مسند احمد (3/115، 177، 179، 191، 214، 274، 291)، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1361) (صحیح)
22: بَابُ : الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، فَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے ، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے ، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے ، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 893]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 46 (498)، سنن ابی داود/الصلاة 124 (783)، (تحفة الأشراف: 16040)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 21، 194) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 894]
💡 وضاحت:
۱؎: اقعاء: دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے سرین اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر بیٹھنے کو اقعاء کہتے ہیں، اور دونوں قدم کھڑا کر کے اس پر بیٹھنے کو بھی اقعاء کہا جاتا ہے، ممانعت پہلی صورت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (282) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 93 (282)، (تحفة الأشراف: 10041)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82، 146) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں الحارث روای ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4787)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، وَأَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ: " لَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «يا علي لا تقع إقعاء الكلب» “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 895]
💡 وضاحت:
۱؎: اس طرح نماز میں بیٹھنا ہمیشہ مکروہ ہے، کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا ڈر ہوتا ہے، اگر یہ ڈر نہ ہو تو نماز کے باہر مکروہ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ أبو مالك النخعي: متروك (تقريب: 8337) والحارث الأعور: ضعيف ¤ وانظر الحديث السابق (894) وحديث مسلم (498) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
تخریج دارالدعوہ: حدیث أبي اسحاق عن الحارث تقدم فيحدیث (894)، وحدیث أبي موسیٰ عن الحارث، قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9028) (حسن) (شواہد کے بنا ء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں أبو مالک ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَلَا تُقْعِ كَمَا يُقْعِي الْكَلْبُ، ضَعْ أَلْيَتَيْكَ بَيْنَ قَدَمَيْكَ وَأَلْزِقْ ظَاهِرَ قَدَمَيْكَ بِالْأَرْضِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو کتے کی طرح نہ بیٹھو ، بلکہ اپنی سرین اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھو ، اور اپنے قدموں کے اوپری حصہ کو زمین سے ملا دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 896]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ العلاء بن زيد: متروك ورماه أبو الوليد بالكذب (تقريب: 5239) والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1121، ومصباح الزجاجة: 326) (موضوع) (علاء بن زید انس رضی اللہ عنہ سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2614)
23: بَابُ : مَا يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان کیا پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان ( جلسہ میں ) «رب اغفر لي رب اغفر لي» ” اے میرے رب ! مجھے بخش دے ، اے میرے رب ! مجھے بخش دے “ پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 897]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 27 (772)، سنن ابی داود/الصلاة 151 (874)، سنن الترمذی/الصلاة 79 (262، 263)، سنن النسائی/الافتتاح 77 (1009)، التطبیق 74 (1134)، (تحفة الأشراف: 3358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/400، 382، 384، 389، 394، 397)، سنن الدارمی/الصلاة 76 (1363) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ صَبِيحٍ ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ: رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْزُقْنِي، وَارْفَعْنِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں دونوں سجدوں کے درمیان «رب اغفر لي وارحمني واجبرني وارزقني وارفعني» ” اے میرے رب ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم کر ، مجھ کو ضائع شدہ چیزوں کا بدلہ دیدے ، مجھے رزق دے ، اور مجھے بلندی عطا فرما “ پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 898]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (850) ترمذي (284) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5475، ومصباح الزجاجة: 527)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 145 (850)، سنن الترمذی/الصلاة 95 (284، 285)، مسند احمد (1/315، 371) (فلم يقولا: ''في صلاة الليل'' وقالا: ''اهدني'' بدل ''وارفعني'') (صحیح ابی داود: 796) (صحیح)
24: بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، وَأَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمُ التَّشَهُّدَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے : «السلام على الله قبل عباده السلام على جبرائيل وميكائيل وعلى فلان وفلان» ” سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے ، اور سلام ہو جبرائیل و میکائیل اور فلاں فلاں پر “ ، اور وہ مراد لیتے تھے ( فلاں اور فلاں سے ) فرشتوں کو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کہتے سنا تو فرمایا : ” تم «السلام على الله» نہ کہو ، کیونکہ اللہ ہی سلام ہے ، لہٰذا جب تم تشہد کے لیے بیٹھو تو کہو «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين» ” عمدہ آداب و تسلیمات اللہ کے لیے ہیں اور نماز اور اچھی باتیں سب اسی کے لیے ہیں ، اے نبی ! آپ پر سلام ہو ، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ، ہم پر سلام ہو ، اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی “ جب بندہ یہ کہتا ہے تو یہ دعا ہر اس نیک بندے کو پہنچ جاتی ہے جو آسمان و زمین میں ہے ، «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 899]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، وَأَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمُ التَّشَهُّدَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 899M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، وَأَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمُ التَّشَهُّدَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تشہد سکھاتے تھے ، پھر آگے پہلی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 899M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَانَ يَقُولُ: " التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے ، آپ کہتے : «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” بابرکت دعائیں اور پاکیزہ نمازیں سب اللہ کے لیے ہیں ، اے نبی ! آپ پر سلام ، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں ، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 900]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 16 (403)، سنن ابی داود/الصلاة 182 (974)، سنن الترمذی/الصلاة 101 (290)، سنن النسائی/التطبیق 103 (1175)، السہو 42 (1279)، (تحفة الأشراف: 5750، 5607)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/292) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا، وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا، فَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ فَكَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ، فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، سَبْعُ كَلِمَاتٍ هُنَّ تَحِيَّةُ الصَّلَاةِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ، اس میں آپ نے ہمارے لیے طریقے بیان فرمائے ، اور ہمیں ہماری نماز سکھائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز ادا کرو اور تشہد میں بیٹھو تو بیٹھتے ہی سب سے پہلے یہ پڑھو : «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” آداب بندگیاں ، پاکیزہ خیرات ، اور نماز اللہ ہی کے لیے ہیں ، اے نبی ! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، اور سلام ہو ہم پر ، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں “ ، یہ سات کلمے نماز کا سلام ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 901]
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون قوله سبع
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ -
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8987 ومصباح الزجاجة: 328)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 16 (404)، دون قولہ: ''سبع کلمات''، سنن ابی داود/الصلاة 182 (72 9، 973)، دون طرفہ الآخر، سنن النسائی/الإمامة 38 (831)، التطبیق 23 (1065)، مسند احمد (4/409)، سنن الدارمی/الصلاة 84 (1379) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: " بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ، التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد ایسے سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے تھے : «التحيات لله والصلوات والطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أسأل الله الجنة وأعوذ بالله من النار» ” اللہ کے نام اور اس کی مدد سے ، آداب بندگیاں اللہ کے لیے ہیں ، اور نماز اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لیے ہیں ، اے نبی ! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت ، اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، اور سلام ہو ہم پر ، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے ، اور رسول ہیں ، میں اللہ سے جنت کا طلبگار ہوں ، اور جہنم سے پناہ چاہتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 902]
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (1176) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/التطبیق 104 (1176)، السہو 45 (1282)، (تحفة الأشراف: 2665، ومصباح الزجاجة: 329) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 372)
25: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) بھیجنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا ، لیکن درود کیسے بھیجیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کہو : «اللهم صل على محمد عبدك ورسولك كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم» ” اے اللہ ! اپنے بندے اور رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر رحمت نازل فرمائی ہے ، اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ برکت اتار جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر اتاری ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 903]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) کے حدیث میں کئی الفاظ وارد ہیں جو چاہے پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب 10 (4798)، الدعوات 32 (6358)، سنن النسائی/السہو 53 (1294)، (تحفة الأشراف: 4093)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/47) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَة ، فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے : کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا : آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا ، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ کہو : «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» ” اے اللہ ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اہل و عیال پہ رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر رحمتیں نازل فرمائی ہیں ، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے ، اے اللہ ! تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور آپ کے اہل و عیال پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر برکتیں نازل فرمائی ہیں ، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 904]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3370)، تفسیر الأحزاب 10 (4797)، الدعوات 32 (6357)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (406)، سنن ابی داود/الصلاة 183 (976، 977)، سنن الترمذی/الصلاة 234 (483)، سنن النسائی/السہو 51 (1288، 1289)، (تحفة الأشراف: 11113)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/241، 244)، سنن الدارمی/ الصلاة 85 (1381) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ طَالُوتَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُمِرْنَا بِالصَّلَاةِ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کہو : «اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته كما صليت على إبراهيم وبارك على محمد وأزواجه وذريته كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد» ” اے اللہ ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) پر نازل فرمائی ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) کی آل پر سارے جہاں میں برکت نازل فرمائی ہے ، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 905]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 10 (3369)، الدعوات 33 (6360)، صحیح مسلم/الصلاة 17 (407)، سنن ابی داود/الصلاة (979)، 183 (1293)، سنن النسائی/السہو 54 (1295)، (تحفة الأشراف: 11896)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصرالصلاة 22 (66)، مسند احمد (5/424) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ بَيَانٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسِنُوا الصَّلَاةَ عَلَيْهِ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّ ذَلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَالُوا لَهُ: فَعَلِّمْنَا، قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَاتَكَ، وَرَحْمَتَكَ، وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ، وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ، وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، إِمَامِ الْخَيْرِ، وَقَائِدِ الْخَيْرِ، وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود ( صلاۃ ) بھیجو تو اچھی طرح بھیجو ، تمہیں معلوم نہیں شاید وہ درود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جائے ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا : پھر تو آپ ہمیں درود سکھا دیجئیے ، انہوں نے کہا : کہو :  «اللهم اجعل صلاتك ورحمتك وبركاتك على سيد المرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدك ورسولك إمام الخير وقائد الخير ورسول الرحمة اللهم ابعثه مقاما محمودا يغبطه به الأولون والآخرون اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد» ” اے اللہ ! اپنی عنایتیں ، رحمتیں اور برکتیں رسولوں کے سردار ، متقیوں کے امام خاتم النبیین محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر نازل فرما ، جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں ، خیر کے امام و قائد اور رسول رحمت ہیں ، اے اللہ ! ان کو مقام محمود پر فائز فرما ، جس پہ اولین و آخرین رشک کریں گے ، اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) اور آل ابراہیم پہ اپنی رحمت نازل فرمائی ہے ، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے ، اے اللہ ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم ( علیہ السلام ) اور آل ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے ، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 906]
💡 وضاحت:
۱؎: بعضوں نے کہا بہتر درود وہی ہے جو صحیح روایت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، اور بعضوں نے کہا جس کے الفاظ زیادہ جامع اور زیادہ عمدہ ہوں، اور یہ جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمہارا درود پیش کیا جائے، حالانکہ دوسری حدیث میں ہے کہ تمہارا درود میرے اوپر پیش کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس درود میں اخلاص اور صدق نہ ہو وہ قبول نہیں ہوتا، اور جب قبول نہ ہو تو پیش بھی نہ کیا جائے گا، بلکہ درود بھیجنے والے پر واپس کیا جائے گا جیسے تحفہ جب قبول نہیں ہوتا تو واپس کر دیا جاتا ہے، شیخ البانی نے صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں صحیح سندوں سے ثابت درود (صلاۃ) کے سارے صیغوں اور الفاظ کو جمع کر دیا ہے، جس سے مکمل طور پر استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ المسعودي اختلط قبل موته (تقريب: 3919) ¤ وانظر ضعيف سنن الترمذي (2543) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9168 ومصباح الزجاجة: 329) (ضعیف) (مسعودی اختلاط کے شکار روای ہیں، اس لئے متروک الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا صَلَّى عَلَيَّ، فَلْيُقِلَّ الْعَبْدُ مِنْ ذَلِكَ، أَوْ لِيُكْثِرْ".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں ، اب بندہ چاہے تو مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 907]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عاصم بن عبيد اللّٰه: ضعيف وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 8/ 150) ¤ وقال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5039، ومصباح الزجاجة: 330) (حسن) (سند میں عاصم بن عبید اللہ منکر الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة و الترغیب والترھیب للمنذری 2/500)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ عَلَيَّ خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا ، وہ جنت کا راستہ بھول گیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 908]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جبارة بن مغلس: ضعيف جدًا و للحديث شواھد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410 ¤ -
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5391، ومصباح الزجاجة: 331) (حسن صحیح) (سند میں جبار بن مغلس ضعیف ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2337، وفضل الصلاة علی النبی ﷺ: ص 46)
26: بَابُ : مَا يُقَالُ فِي التَّشَهُّدِ وَالصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: تشہد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) کے بعد کیا دعا پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْأَخِيرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص آخری تشہد ( تحیات اور درود ) سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے : جہنم کے عذاب سے ، قبر کے عذاب سے ، موت و حیات کے فتنے سے ، اور مسیح دجال کے فتنے سے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 909]
💡 وضاحت:
۱؎: زندگی کا فتنہ یہ ہے کہ دنیا میں مشغول ہو کر اللہ سے غافل ہو جائے، یا گناہوں میں مبتلا ہو جائے، اور موت کا فتنہ یہ ہے کہ معاذ اللہ خاتمہ برا ہو، شیطان کے بہکاوے میں آ جائے، کلمہ توحید اخیر وقت نہ پڑھ سکے، اور دجال کا فتنہ تو مشہور ہے، اور اس کا ذکر قیامت کی نشانیوں میں آئے گا ان شاء اللہ تعالیٰ، غرض یہ ہے کہ تشہد اور درود کے بعد یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال» ، اور بعض روایتوں میں زیادہ ہے: «اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» ، اور بعض روایتوں میں یہ دعاء وارد ہے: «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» ، اور بعض روایتوں میں یہ دعا وارد ہے: اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أسرفت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» ، ان سب دعاؤں میں سے جو دعا چاہے پڑھے، اور جو چاہے دعا کرے اور اللہ سے مانگے، کچھ ممانعت نہیں ہے لیکن پہلے تشہد کی دعائیں پڑھے، پھر جو چاہے مانگے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، سنن ابی داود/الصلاة 184 (983)، سنن النسائی/السہو 64 (1311)، (تحفة الأشراف: 14587)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 87 (1277)، مسند احمد (2/ 237)، سنن الدارمی/الصلاة 86 (1383) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: " مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟"، قَالَ: أَتَشَهَّدُ، ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ: " حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا : ” تم نماز میں کیا کہتے ہو ؟ “ ، اس نے کہا : میں تشہد پڑھتا ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں ، لیکن اللہ کی قسم ! میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح نہیں سمجھتا ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم بھی اسی کے گرد گنگناتے ہیں “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 910]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور معاذ دھیمی آواز میں دعاء مانگا کرتے تھے۔ ۲؎: یعنی جنت کے سوال اور جہنم سے پناہ مانگنے جیسی دعائیں ہماری بھی ہوتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (792) وانظر الحديث الآتي (3847) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12363، ومصباح الزجاجة: 332)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 127 (792)، مسند احمد (3/474، 5/74) (صحیح) (حدیث مکرر ہے، ملاحظہ کریں: 3847)
27: بَابُ : الإِشَارَةِ فِي التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کے دوران انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِصَامِ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلَاةِ وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ".
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر نماز میں رکھے ہوئے تھے ، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 911]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اور اس باب میں وارد دوسری احادیث سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ شروع ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح انگلی کے اشارہ کی شکل پر بیٹھتے تھے، نہ یہ کہ جب «أشهد أن لا إله» کہتے تھے تو اٹھال یتے، اور «إلا الله» کہتے تو گرا دیتے، جو لوگ ایسا کہتے ہیں ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بما بعدہ
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 186 (991)، سنن النسائی/السہو36 (1272)، (تحفة الأشراف: 11710)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/471) (صحیح) (آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَال: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَلَّقَ الإِبْهَامِ وَالْوُسْطَى، وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهِمَا يَدْعُو بِهَا فِي التَّشَهُّدِ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے انگوٹھے اور بیچ والی انگلی کا حلقہ بنایا ، اور ان دونوں سے متصل ( شہادت کی ) انگلی کو اٹھایا ، اس سے تشہد میں دعا کر رہے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 912]
💡 وضاحت:
۱؎: احادیث میں تشہد کی حالت میں داہنے ہاتھ کے ران پر رکھنے کی مختلف ہیئتوں (کیفیتوں) کا ذکر ہے انہیں میں سے ایک ہیئت یہ بھی ہے کہ خنصر (چھوٹی انگلی) اور بنصر (اس کے بعد کی انگلی) کو بند کر لے اور شہادت کی انگلی کو کھلی چھوڑ دے، اور انگوٹھے اور بیچ والی انگلی سے حلقہ بنا لے، یہ کیفیت زیر نظر وائل بن حجر کی حدیث میں ہے، علامہ طیبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ فقہاء نے اس حلقے کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے، بعضوں نے کہا کہ (۵۳) کی شکل بنائے، وہ یہ ہے کہ خنصر اور بنصر اور وسطیٰ یعنی سب سے چھوٹی اور اس کے بعد والی اور درمیانی انگلی ان تینوں کو بند کر لے، اور شہادت کی انگلی کو چھوڑ دے، اور انگوٹھے کو شہادت کی انگلی کی جڑ سے لگائے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے کو بیچ کی انگلی سے ملائے، اور بیچ کی انگلی بھی بند رہے، (۴۳) کی شکل پر، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ایسا ہی منقول ہے، تیسرا طریقہ یہ ہے کہ خنصر اور بنصر کو بند کرے اور کلمے کی انگلی کو چھوڑ دے اور انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ بنا لے، جیسے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور یہ آخری طریقہ مختار ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11786، ومصباح الزجاجة: 333)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 116 (726)، 180 (957)، سنن النسائی/الافتتاح 11 (890)، السہو 34 (1269)، مسند احمد (4/316، 318) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّض النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ فَيَدْعُو بِهَا، وَالْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بَاسِطَهَا عَلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے ، اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے متصل انگلی کو اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے ، اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پہ پھیلا کر رکھتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 913]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 21 (580)، سنن الترمذی/الصلاة 105 (294)، سنن النسائی/السہو 35 (1270)، (تحفة الأشراف: 1828)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة12 (48)، سنن الدارمی/الصلاة 83 (1378) (صحیح)
28: بَابُ : التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگتی ، اور آپ کہتے : «السلام عليكم ورحمة الله» ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 914]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 189 (996)، سنن الترمذی/الصلاة 106 (295)، سنن النسائی/السہو70 (1323، 1324)، (تحفة الأشراف: 9504)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 22 (582)، مختصرا، مسند احمد (1/390، 406، 408، 409، 414، 444، 448، سنن الدارمی/ الصلاة 87 (1385) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 915]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد22 (582)، سنن النسائی/السہو 67 (1317، 1318)، (تحفة الأشراف: 3866)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/172، 181)، سنن الدارمی/الصلاة 87 (1385) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی ، اور کہتے : «السلام عليكم ورحمة الله. السلام عليكم ورحمة الله» ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 916]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10355، ومصباح الزجاجة: 334) (صحیح) (یہ سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، سند کی تحسین بوصیری نے کی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا عَلِيٌّ يَوْمَ الْجَمَلِ صَلَاةً ذَكَّرَنَا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَسِينَاهَا، وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ تَرَكْنَاهَا، فَسَلَّمَ عَلَى يَمِينِهِ وَعَلَى شِمَالِهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں جنگ جمل کے دن ایسی نماز پڑھائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی یاد تازہ ہو گئی ، جسے یا تو ہم بھول چکے تھے یا چھوڑ چکے تھے ، تو انہوں نے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 917]
💡 وضاحت:
۱؎: جنگ جمل: جمادی الآخرہ ۳۶ ھ میں علی رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں کے درمیان یہ جنگ بصرہ میں واقع ہوئی۔ ۲؎: اہل حدیث کے نزدیک نماز سے باہر آنے کے لئے سلام پھیرنا واجب ہے، اور دوسری حدیث میں ہے کہ نماز کی تحلیل (یعنی اس کے ختم کرنے اور اس سے باہر جانے کا راستہ) سلام ہے، اب صحیح اور مشہور یہی ہے کہ دائیں اور بائیں طرف دو سلام کرے، ابن القیم نے کہا کہ پندرہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دو سلام نقل کئے ہیں، ان میں سے ابن مسعود، سعد، جابر، ابوموسی، عمار بن یاسر، عبداللہ بن عمر، براء، وائل، ابو مالک، عدی، طلق، اوس اور ابورمثہ رضی اللہ عنہم ہیں، ان میں سے بعض روایتیں صحیح ہیں، بعض حسن ہیں، ان کی مخالف پانچ حدیثیں ہیں، جن میں ایک سلام مذکور ہے، اور ان کی صحت میں اختلاف ہے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں «وبرکاتہ» کا لفظ زیادہ ہے جس کو ابوداود نے وائل بن حجر کی روایت سے نقل کیا ہے، اور امام مالک رحمہ اللہ کا قول یہی ہے کہ ایک ہی سلام کرنا کافی ہے سلام کے سلسلے میں مختلف روایات ثابت ہیں، اس لئے سب صورتیں صحیح ہیں، اور ثابت شدہ تمام احادیث پر عمل کرنا مشروع و مسنون ہے، ہاں جس کیفیت پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب زیادہ رہا کرتے تھے اس کو زیادہ کرنا اولیٰ ہے، نیز ان کیفیات کے لئے، (ملاحظہ ہو: صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للألبانی، ص۱۸۷، ۱۸۸)۔
قال الشيخ الألباني: منكر وأما السلام يمينا ويسارا فصحيح بما قبله
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8982، ومصباح الزجاجة: 335) (منکر) (یہ حدیث ابوبکر بن عیاش اور ابو اسحاق کی وجہ سے منکر ہے، لیکن یہ ٹکڑا فسلم على يمينه وعلى شماله صحیح ہے، کیونکہ اس سے پہلے والی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے، صحیح ابن خزیمہ)
29: بَابُ : مَنْ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً
باب: ایک سلام پھیرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدِينِيُّ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَلَّمَ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ".
سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 918]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبدالمهيمن: ضعيف ¤ وللحديث شواهد ضعيفة كلها ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4798، ومصباح الزجاجة: 336) (صحیح) (اس کی سند میں عبد المہیمن ضعیف ہیں، دوسری صحیح سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة مع تعلیقات الشہری)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً تِلْقَاءَ وَجْهِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 919]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (296) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/المواقیت 106 (296)، (تحفة الأشراف: 16895)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/236) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى، فَسَلَّمَ مَرَّةً وَاحِدَةً".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز پڑھی تو ایک مرتبہ سلام پھیرا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 920]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،لضعف يحيي بن راشد“ يعني المازني البراء: ضعيف (تقريب: 7545) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4553، ومصباح الزجاجة: 337) (صحیح) (یہ حدیث پہلی والی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں یحییٰ بن راشد ضعیف ہیں)
30: بَابُ : رَدِّ السَّلاَمِ عَلَى الإِمَامِ
باب: امام کے سلام کا جواب دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ فَرُدُّوا عَلَيْهِ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام سلام پھیرے تو تم اس کے سلام کا جواب دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 921]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ أبو بكر الھذلي: أخباري متروك الحديث (تقريب: 8002) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 190 (1001)، (تحفة الأشراف: 4597) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابوبکر الہذلی متروک ہیں، نیز حسن بصری کا سماع سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث عقیقہ کے سوا ثابت نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَلِّمَ عَلَى أَئِمَّتِنَا، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کو اور باہم ایک دوسرے کو سلام کریں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 922]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1001) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411 ¤ -
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (ضعیف)
31: بَابُ : وَلاَ يَخُصُّ الإِمَامُ نَفْسَهُ بِالدُّعَاءِ
باب: امام صرف اپنے لیے دعا نہ کرے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَؤُمُّ عَبْدٌ فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص امامت کرے وہ مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کو خاص نہ کرے ، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 923]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ -
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة 43 (90)، سنن الترمذی/الصلاة 148 (357)، (تحفة الأشراف: 2089)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/250، 260، 261) (ضعیف) (بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
32: بَابُ : مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو ( اپنے مصلے پر قبلہ رو ) اس قدر بیٹھتے جتنے میں یہ دعا پڑھتے : «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ” اے اللہ ! تو ہی سلام ہے اور تیری جانب سے سلامتی ہے ، اے بزرگی و برتری والے ! تو بابرکت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 924]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سلام پھیرتے وقت جس ہیئت پر ہوتے اس ہیئت پر صرف اتنی ہی مقدار بیٹھتے جس میں یہ کلمات ادا کر لیں پھر قبلہ سے پلٹ کر چہرہ مبارک نمازیوں کی طرف کر لیتے کیونکہ نماز فجر کے سلسلہ میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد سورج نکلنے تک اپنی جگہ ہی میں بیٹھے رہتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 26 (592)، سنن ابی داود/الصلاة 360 (1512)، سنن الترمذی/الصلاة 109 (298)، سنن النسائی/السہو82 (1339)، (تحفة الأشراف: 16187)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/62، 184، 235)، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1387) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ يُسَلِّمُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا» ” اے اللہ ! میں تجھ سے نفع بخش علم ، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 925]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہو کہ «اللهم أنت السلام» کے بعد جہاں نماز پڑھی ہے اسی جگہ بیٹھے ہوئے دوسری دعا بھی پڑھ سکتے ہیں، اور پہلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا بھی کیا کہ «اللهم أنت السلام» کے بعد اٹھ گئے، دوسری حدیث میں نماز کے بعد آیۃ الکرسی اور تسبیحات کا پڑھنا وارد ہے، اور ممکن ہے کہ فرض کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چیزیں نہ پڑھتے ہوں بلکہ سنتوں کے بعد پڑھتے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ سنده ضعيف ¤ مولي أم سلمة مجھول و لم يثبت في رواية صحيحة بأنه عبد اللّٰه بن شداد (انظر مسند الحميدي بتحقيقي: 299) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 535
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18250، ومصباح الزجاجة: 338)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/294، 318، 322) (صحیح) (سند میں مولیٰ ام سلمہ مبہم ہے، لیکن ثوبان کی حدیث (جو أبوداود، و ترمذی میں ہے) سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَأَبُو يَحْيَى التَّيْمِي ، وَابْنُ الْأَجْلَحِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَصْلَتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا"، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، فَذَلِكَ خَمْسُونَ، وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ سَبَّحَ وَحَمِدَ وَكَبَّرَ مِائَةً، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ، قَالُوا: وَكَيْفَ لَا يُحْصِيهِمَا؟ قَالَ: يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى يَنْفَكَّ الْعَبْدُ لَا يَعْقِلُ، وَيَأْتِيهِ وَهُوَ فِي مَضْجَعِهِ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو خصلتوں پر اگر مسلمان بندہ مداومت کرے تو جنت میں داخل ہو گا ، وہ دونوں سہل آداب ہیں ، لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں ، ( ایک یہ کہ ) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله» ، دس بار «الله أكبر» اور دس بار «الحمد لله» کہے “ ، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی انگلیوں پر شمار کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ پڑھنے میں ایک سو پچاس ہیں اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو “ ۔ ( دوسرے یہ کہ ) جب وہ اپنی خواب گاہ پر جائے تو سو مرتبہ «سبحان الله ، الحمد لله ، الله أكبر» کہے ، یہ پڑھنے میں سو ہیں اور میزان میں ایک ہزار ہیں ، تم میں سے کون ایسا ہے جو ایک دن میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہو “ ، لوگوں نے عرض کیا : ایک مسلمان کیسے ان اعمال کی محافظت نہیں کرتا ؟ ( جبکہ وہ بہت ہی آسان ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “ جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے : فلاں فلاں بات یاد کرو یہاں تک کہ وہ نہیں سمجھ پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں ، اور جب وہ اپنی خواب گاہ پہ ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے ، اور اسے برابر تھپکیاں دیتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ سو جاتا ہے “ ( اور تسبیحات نہیں پڑھ پاتا ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 926]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأدب 109 (5065)، سنن الترمذی/الدعوات 25 (3410)، سنن النسائی/السہو 91 (1349)، (تحفة الأشراف: 8638)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/160، 205) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَال: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الْأَمْوَالِ وَالدُّثُورِ بِالْأَجْرِ، يَقُولُونَ كَمَا نَقُولُ، وَيُنْفِقُونَ وَلَا نُنْفِقُ، قَالَ لِي: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ أَدْرَكْتُمْ مَنْ قَبْلَكُمْ وَفُتُّمْ مَنْ بَعْدَكُمْ؟ تَحْمَدُونَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، وَتُسَبِّحُونَهُ، وَتُكَبِّرُونَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ"، قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ أَرْبَعٌ؟.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا یا میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مال و دولت والے اجر و ثواب میں آگے بڑھ گئے ، وہ بھی ذکرو اذکار کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں ، اور وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہیں اور ہم نہیں کر پاتے ہیں ، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو تو ان لوگوں ( کے مقام ) کو پا لو گے جو تم سے آگے نکل گئے ، بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ جاؤ گے ، تم ہر نماز کے بعد «الحمد لله» «سبحان الله» اور «الله أكبر» کہو ( ۳۳ ) بار ، ( ۳۳ ) بار اور ( ۳۴ ) بار “ ۔ سفیان نے کہا : مجھے یاد نہیں کہ ان تینوں کلموں میں سے کس کو ( ۳۴ ) بار کہا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 927]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11934)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 155 (843)، الدعوات 17 (6329) عن أبي ہریرة، صحیح مسلم/المساجد 26 (595)، سنن ابی داود/الصلاة 359 (1504)، موطا امام مالک/القرآن 7 (22)، مسند احمد (2/238، 5/167، 168)، سنن الدارمی/الصلاة 90 (1393) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قال: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار «استغفر الله» کہتے ، پھر «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» کہتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 928]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 26 (591)، سنن ابی داود/الصلاة 360 (1513)، سنن الترمذی/الصلاة 109 (300)، سنن النسائی/السہو 81 (1338)، (تحفة الأشراف: 2099)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/275، 279)، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1388) (صحیح)
33: بَابُ : الاِنْصِرَافِ مِنَ الصَّلاَةِ
باب: نماز کے بعد امام کے دائیں یا بائیں طرف پھرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أَمَّنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ جَانِبَيْهِ جَمِيعًا".
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے تو اپنے دائیں اور بائیں دونوں طرف سے مڑتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 929]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ نماز سے فارغ ہو کر جدھر جی چاہے ادھر مقتدیوں کی طرف مڑ جائے، یہ ضروری نہیں کہ دائیں طرف ہی مڑے، اگرچہ دائیں طرف مڑنا بہتر ہے، لیکن واجب نہیں ہے کہ ہمیشہ ایسا ہی کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 204 (1041)، سنن الترمذی/الصلاة 110 (301)، (تحفة الأشراف: 11733)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/226، 227) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَال، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " لَا يَجْعَلَنَّ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ فِي نَفْسِهِ جُزْءًا يَرَى أَنَّ حَقًّا لِلَّهِ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ انْصِرَافِهِ عَنْ يَسَارِهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی ذات میں شیطان کے لیے حصہ مقرر نہ کرے ، وہ یہ سمجھے کہ اس پر اللہ کا یہ حق ہے کہ نماز کے بعد وہ صرف اپنے دائیں جانب سے پھرے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اکثر بائیں جانب سے مڑتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 930]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے آپ کے مصلّے سے بائیں جانب پڑتے تھے، آپ اکثر بائیں جانب مڑتے، اور اٹھ کر اپنے حجروں میں تشریف لے جاتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم ¤ -
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 159 (852)، صحیح مسلم/المسافرین 7 (707)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1042)، سنن النسائی/السہو 100 (1361)، (تحفة الأشراف: 9177)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/383، 429، 464)، سنن الدارمی/الصلاة 89 (1390) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فِي الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز سے فراغت کے بعد ( کبھی ) دائیں اور ( کبھی ) بائیں جانب سے مڑتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 931]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8695، ومصباح الزجاجة: 339)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/174، 190، 215، 248) (حسن صحیح) (یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، ثُمَّ يَلْبَثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو عورتیں آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو جاتیں ، اور آپ کھڑے ہونے سے پہلے اپنی جگہ پر تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 932]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے چلی جائیں جیسا کہ اس کے بعد آنے والی حدیث میں اس کی صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 152 (837)، 164 (849)، سنن ابی داود/الصلاة 203 (1040)، سنن النسائی/السہو77 (1333، 1334)، (تحفة الأشراف: 18289)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/296) (صحیح)
34: بَابُ : إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَوُضِعَ الْعَشَاءُ
باب: جب نماز کی اقامت ہو جائے اور کھانا سامنے ہو تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب شام کا کھانا سامنے رکھ دیا جائے ، اور نماز بھی شروع ہو رہی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 933]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 16 (557)، سنن الترمذی/الصلاة 146 (353)، سنن النسائی/الإمامة 51 (854)، (تحفة الأشراف: 1486)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 42 (672)، الأطعمہ 58 (5463)، مسند احمد (3/100، 110، 161، 231، 238، 249)، سنن الدارمی/الصلاة 58 (1318) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ"، قَالَ: فَتَعَشَّى ابْنُ عُمَرَ لَيْلَةً وَهُوَ يَسْمَعُ الْإِقَامَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب شام کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھا لو “ ۔ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک رات کا کھانا کھایا ، اور وہ اقامت سن رہے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 934]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 42 (673)، الأطعمة 58 (5463)، صحیح مسلم/المساجد 16 (559)، (تحفة الأشراف: 7524)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأطعمة 10 (3757)، مسند احمد (2/103) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيَعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب شام کا کھانا سامنے ہو اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھاؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 935]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16940، 17264)، وحدیث علی بن محمد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 16 (558)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 42 (671)، سنن الدارمی/الصلاة 58 (1317) (صحیح)
35: بَابُ : الْجَمَاعَةِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ
باب: بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِي : مَنْ هَذَا؟، قَالَ: أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَصَابَتْنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
ابوملیح کہتے ہیں کہ میں بارش والی رات میں ( گھر سے ) نکلا ، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا ، میرے والد ( اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ ) نے اندر سے پوچھا : کون ؟ میں نے جواب دیا : ابوالملیح ، انہوں نے کہا : ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا : «صلوا في رحالكم» ” اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 936]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت میں حاضر ہونا معاف کر دیا تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 213 (1057، 1058)، سنن النسائی/الإمامة 51 (855)، (تحفة الأشراف: 133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/74، 75) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَال: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي مُنَادِيهِ فِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ، أَوِ اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ ذَاتِ الرِّيحِ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بارش والی رات ہوتی یا ہوا والی ٹھنڈی رات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منادی اعلان کرتا : «صلوا في رحالكم» ” اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 937]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 214 (1061، 1060)، (تحفة الأشراف: 7550)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 18 (632)، 40 (666)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (697)، سنن النسائی/الأذان 17 (655)، موطا امام مالک/الصلاة 2 (10)، مسند احمد (2/4)، سنن الدارمی/الصلاة 55 (1311) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ مَطَيرةٍ: " صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب کہ بارش ہو رہی تھی فرمایا : ” اپنے اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھ لو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 938]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5898)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 10 (616)، 41 (668)، الجمعة 14 (901)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (699)، سنن ابی داود/الصلاة 214 (1066)، مسند احمد (1/277) (صحیح) (گزری اور آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ " أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ أَنْ يُؤَذِّنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَطِيرٌ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: نَادِ فِي النَّاسِ فَلْيُصَلُّوا فِي بُيُوتِهِمْ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: قَدْ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي، تَأْمُرُنِي أَنْ أُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ بُيُوتِهِمْ فَيَأْتُونِي يَدُوسُونَ الطِّينَ إِلَى رُكَبِهِمْ".
عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مؤذن کو جمعہ کے دن اذان دینے کا حکم دیا ، اور یہ بارش کا دن تھا ، تو مؤذن نے کہا : «الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله» ، پھر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : «حي على الصلاة ، حي على الفلاح» کی جگہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کر لیں ، لوگوں نے یہ سنا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے آپ نے یہ کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : یہ کام اس شخصیت نے کیا ہے ، جو مجھ سے افضل تھی ، اور تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالوں کہ وہ میرے پاس جمعہ کے لیے اپنے گھٹنوں تک کیچڑ سے لت پت آئیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 939]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم ¤ -
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 10 (616)، صحیح مسلم/المسافرین 3 (699)، سنن ابی داود/الصلاة 214 (1066)، (تحفة الأشراف: 5783)، مسند احمد (1/277) (صحیح)
36: بَابُ : مَا يَسْتُرُ الْمُصَلِّي
باب: نمازی کے سترہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے اور چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے تھے ، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کجاوہ کی پچھلی لکڑی کے مثل اگر کوئی چیز تمہارے آگے ہو تو جو کوئی آگے سے گزرے نمازی کو کچھ بھی نقصان نہ ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 940]
💡 وضاحت:
۱؎: کجاوہ (پالان) کی پچھلی لکڑی کا اندازہ بقدر ایک ہاتھ کے کیا ہے، اور موٹا بقدر ایک انگلی کے کافی ہے، اور سترے کے نزدیک کھڑا ہونا نمازی کے لئے بہتر ہے، اسی طرح سترے کو دائیں یا بائیں ابرو کے مقابل کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 47 (499)، سنن ابی داود/الصلاة 102 (685)، سنن الترمذی/الصلاة 133 (335)، (تحفة الأشراف: 5011)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161، 162) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تُخْرَجُ لَهُ حَرْبَةٌ فِي السَّفَرِ فَيَنْصِبُهَا، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سفر میں نیزہ لے جایا جاتا اور اسے آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا ، آپ اس کی جانب نماز پڑھتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 941]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7929)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 92 (430)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (502)، سنن ابی داود/الصلاة 102 (686)، سنن النسائی/القبلة 4 (748)، مسند احمد (2/13، 18)، سنن الدارمی/الصلاة 126 (1452) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرٌ يُبْسَطُ بِالنَّهَارِ، وَيَحْتَجِرُهُ بِاللَّيْلِ يُصَلِّي إِلَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن میں بچھایا جاتا تھا ، اور رات میں آپ اس کو لپیٹ کر اس کی جانب نماز پڑھتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 942]
💡 وضاحت:
۱؎: بعضوں نے اعتکاف کا ذکر کیا ہے، بہر حال سترے کی طرف نماز پڑھنا اس حدیث سے بھی نکلتا ہے، اور اسی لئے مؤلف نے اس کو اس باب میں رکھا ہے، سترہ وہ آڑ جو نمازی اپنے سامنے کسی چیز سے کرلیتا ہے، اس کے آگے سے لوگ گزر سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم ¤ -
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 81 (770)، اللباس 43 (5861)، صحیح مسلم/المسافرین 30 (782)، سنن ابی داود/الصلاة 317 (1368)، سنن النسائی/القبلة 13 (763)، (تحفة الأشراف: 17720)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/40، 61، 241) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْث بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کچھ رکھ لے ، اگر کوئی چیز نہ پائے تو کوئی لاٹھی کھڑی کر لے ، اگر وہ بھی نہ پائے تو لکیر کھینچ لے ، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے نقصان نہیں پہنچائے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 943]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (689،690) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 103 (989، 690)، (تحفة الأشراف: 12240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 249، 254، 266، 3/249، 255، 266) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو عمرو اور ان کے دادا حریث مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 781)
37: بَابُ : الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي
باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَرْسَلُونِي إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَأَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَلَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ شَهْرًا، أَوْ صَبَاحًا، أَوْ سَاعَةً؟.
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے ( نمازی ) کے آگے سے گزرنے کے متعلق سوال کروں ، انہوں نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” چالیس ... تک ٹھہرے رہنا نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے “ ۔ سفیان بن عیینہ ( راوی حدیث ) کہتے ہیں : مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس دن یا چالیس گھنٹہ کہا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 944]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ -
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: 3749)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 101 (510)، صحیح مسلم/الصلاة 48 (507)، سنن ابی داود/الصلاة 109 (701)، سنن الترمذی/الصلاة 135 (336)، سنن النسائی/القبلة 8 (757)، مسند احمد (4/169) (صحیح) (آگے کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الْأَنْصَارِيِّ ، يَسْأَلُهُ، مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ وَهُوَ يُصَلِّي، كَانَ لَأَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ"، قَالَ: لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ عَامًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ ذَلِكَ".
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ابوجہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کیا سنا ہے ، جو نمازی کے آگے سے گزرے ؟ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت میں گزرنے میں کیا گناہ ہے ، تو اس کے لیے چالیس ... تک ٹھہرے رہنا آگے سے گزرنے سے بہتر ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال ، چالیس مہینے یا چالیس دن فرمایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 945]
💡 وضاحت:
۱؎: بہر حال نمازی کے سامنے سے گزرنا سخت گناہ ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب نمازی کے قریب سے گزرے، بعض نے کہا تین ہاتھ کے اندر، اور کسی نے کہا پانچ ہاتھ کے اندر، اور بعض لوگوں نے چالیس ہاتھ کی دوری کا ذکر کیا ہے، نیز بعض لوگوں نے کہا کہ سجدہ کے مقام پر دیکھے تو جہاں تک اس کی نظر جاتی ہو اس کے اندر سے گزرنا گناہ ہے، اس کے آگے گزرے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 101 (510)، صحیح مسلم/الصلاة 48 (507)، سنن ابی داود/الصلاة 109 (701)، سنن الترمذی/الصلاة 135 (336)، سنن النسائی/القبلة 8 (757)، (تحفة الأشراف: 11884)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 10 (34)، مسند احمد (4/169)، سنن الدارمی/الصلاة 130 (1457) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهِبٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا فِي الصَّلَاةِ، كَانَ لَأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْخَطْوَةِ الَّتِي خَطَاهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم میں سے کوئی اس گناہ کو جان لے جو اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت آڑے میں گزرنے سے ہے تو وہ ایک قدم اٹھانے سے سو سال کھڑے رہنا بہتر سمجھے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 946]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15489، ومصباح الزجاجة: 340)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/371) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن عبدالرحمن اور ان کے چچا عبید اللہ بن عبداللہ دونوں ضعیف ہیں)
38: بَابُ : مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ
باب: کس چیز کے نمازی کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ، فَجِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا، ثُمَّ دَخَلْنَا فِي الصَّفِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے ، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزرے ، پھر ہم سواری سے اترے اور گدھی کو چھوڑ دیا ، پھر ہم صف میں شامل ہو گئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 947]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 18 (76)، الصلاة 90 (493)، الأذان 161 (861)، جزاء الصید 25 (1857)، المغازي 77 (4412)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (504)، سنن ابی داود/الصلاة 113 (715)، سنن الترمذی/الصلاة 136 (337)، سنن النسائی/القبلة 7 (753)، (تحفة الأشراف: 18293)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 11 (38)، مسند احمد (1/219، 264، 337، 365)، سنن الدارمی/الصلاة 129 (1455) (صحیح) (صحیح بخاری میں بمنى بدل بعرفة ہے، اور وہی محفوظ ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 709)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ هُوَ قَاصُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَت: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ، أَوْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَرَجَعَ، فَمَرَّتْ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هُنَّ أَغْلَبُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے ، اتنے میں آپ کے سامنے سے عبداللہ یا عمر بن ابی سلمہ گزرے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ لوٹ گئے ، پھر زینب بنت ام سلمہ گزریں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا مگر وہ سامنے سے گزرتی چلی گئیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے ، تو فرمایا : ” یہ عورتیں نہیں مانتیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 948]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اپنی جہالت اور نافہمی کی وجہ سے مردوں پر غالب آ جاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أم محمد بن قيس: لم أجد من وثقها ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18293، ومصباح الزجاجة: 341)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/294) (ضعیف) (سند میں قیس والد محمد مجہول ہیں، اور بعض نسخوں میں عن أمہ آیا ہے، اور امام مزی نے عن امہ کو معتمد مانا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کالا کتا اور بالغ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 949]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب نمازی کے سامنے سے گزریں اور سترہ نہ ہو، یہ حدیث صحیح ہے، اس کا نسخ مخالفین جس حدیث سے بیان کرتے ہیں وہ ضعیف ہے، اور منسوخ ہونا قرین قیاس بھی نہیں ہے، اس لئے کہ یہ صحیح حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اور انہوں نے بہت آخر زمانہ میں کم سنی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں سنی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 110 (703)، سنن النسائی/القبلة 7 (752)، (تحفة الأشراف: 5379)، مسند احمد (1/347) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت ، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 950]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12929، ومصباح الزجاجة: 342)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/425، 299) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت ، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 951]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9654، ومصباح الزجاجة: 343)، مسند احمد (4/86، 5/57) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ"، قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ فقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ: " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نمازی کے آگے کجاوہ کی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز عورت ، گدھے اور کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے “ ۱؎ ۔ عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کالے کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے ؟ اگر لال کتا ہو تو ؟ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا : ” کالا کتا شیطان ہے “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 952]
💡 وضاحت:
۱؎: جمہور نے ان روایتوں کی تاویل کی ہے کہ نماز ٹوٹنے سے مراد توجہ بٹ جانے کی وجہ سے نماز میں نقص اور خلل کا پیدا ہونا ہے نہ کہ نماز کا فی الواقع ٹوٹ جانا ہے، اوپر کے حواشی میں اہل علم کی آرا ء کا ذکر آ گیا ہے، جن علماء نے ان تینوں کے گزرنے سے نماز کے باطل ہونے کی بات کہی ہے، ان میں شیخ الإسلام ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن قدامہ اور ظاہر یہ ہیں، ان کے یہاں وہ روایات جن میں نماز کے نہ دہرانے کی بات ہے، وہ عام احادیث ہیں، جن میں سے مذکورہ تین چیزوں کو استثناء حاصل ہے، تو اب سابقہ حدیث عام مخصوص ہو گی اور ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث پر عمل ہو گا۔ ۲؎: یعنی شیطان کتے کی صورت اختیار کر کے نماز توڑنے کے لئے آتا ہے، یا خود کالا کتا شیطان ہوتا ہے، یعنی شریر اور منحوس ہوتا ہے، غرض نماز کا اس سے ٹوٹ جانا حکم شرعی ہے اس میں قیاس کو دخل نہیں، اور تعجب ہے کہ حنفیہ ایک ضعیف حدیث سے قہقہہ کو ناقص وضو جانتے ہیں، اور قیاس کو ترک کرتے ہیں اور یہاں صحیح حدیث کو قیاس کے خلاف نہیں مانتے، بعض لوگوں نے اسے حقیقت پر محمول کیاہے اور کہا ہے کہ شیطان کالے کتے کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کالا کتا دوسرے کتوں کے مقابل زیادہ ضرر رساں ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کہا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 50 (510)، سنن ابی داود/الصلاة 110 (702)، سنن الترمذی/الصلاة 137 (338)، سنن النسائی/القبلة 7 (751)، (تحفة الأشراف: 11939)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/49 1، 151، 155، 160، 161)، سنن الدارمی/الصلاة 128 (1454) (صحیح)
39: بَابُ : ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ
باب: نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرنے لگے اس کو ممکن حد تک روکنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى أَبُو الْمُعَلَّى ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ فَذَكَرُوا: الْكَلْبَ، وَالْحِمَارَ، وَالْمَرْأَةَ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي الْجَدْيِ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُصَلِّي يَوْمًا، فَذَهَبَ جَدْيٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَبَادَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ".
حسن عرنی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں ، لوگوں نے کتے ، گدھے اور عورت کا ذکر کیا ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا : تم لوگ بکری کے بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے ، تو بکری کا ایک بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 953]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے تاکہ اسے گزرنے سے روک دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد صحيح،رجاله ثقات إلا أنه منقطع ¤ قال أحمد و ابن معين: لم يسمع الحسن (العرني) من ابن عباس“ فالسند منقطع ¤ وقال الحافظ في العرني: ثقة،أرسل عن ابن عباس (تقريب: 1252) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 411
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5398، ومصباح الزجاجة: 344)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 111 (709)، مسند احمد (1/247، 291، 308، 343) (صحیح) (حسن العرنی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مابین انقطاع کی وجہ سے سند ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، صحیح ابی داو د: 702، نیز مصباح الزجاجة، موطا امام مالک/ الجامعہ الاسلامیہ: 346)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا، وَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يَمُرُّ، فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی نماز پڑھے تو سترہ کی جانب پڑھے ، اور اس سے قریب کھڑا ہو ، اور کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے ، اگر کوئی گزرنا چاہے تو اس سے لڑے ۱؎ کیونکہ وہ شیطان ہے “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 954]
💡 وضاحت:
۱؎: «مقاتلہ» سے مراد دفع کرنا اور روکنا ہے، لیکن اسلحے کا استعمال کسی سے بھی منقول نہیں ہے۔ ۲؎: یعنی عزی نامی شیطان ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 48 (505)، سنن ابی داود/الصلاة 108 (697، 698)، سنن النسائی/القبلة 8 (758)، (تحفة الأشراف: 4117)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة 10 (33)، مسند احمد (3/34، 43، 44)، سنن الدارمی/الصلاة 125 (1451) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ"، وقَالَ الْمُنْكَدِرِيُّ: " فَإِنَّ مَعَهُ الْعُزَّى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے کسی کو گزرنے نہ دے ، اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے ، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی ( شیطان ) ہے “ ۔ حسن بن داود منکدری نے کہا کہ اس کے ساتھ عزّی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 955]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 48 (506)، (تحفة الأشراف: 7095)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/86، 89) (صحیح)
40: بَابُ : مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ
باب: نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز پڑھتے تھے ، اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح آڑے لیٹی ہوتی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 956]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 51 (512)، (تحفة الأشراف: 16448)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 108 (382، 383)، سنن ابی داود/الصلاة 112 (712)، سنن النسائی/الطہارة 120 (166)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 1 (2)، مسند احمد (6/44)، سنن الدارمی/الصلاة 127 (1453) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا ، قَالَتْ: " كَانَ فِرَاشُهَا بِحِيَالِ مَسْجَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ کے بالمقابل ہوتا تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 957]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/اللباس 45 (4148)، (تحفة الأشراف: 18278)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/322) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا بِحِذَائِهِ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ".
عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی ، اور بسا اوقات جب آپ سجدہ فرماتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے چھو جاتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 958]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 19 (379)، 21 (381)، 7 (517)، 10 (518)، صحیح مسلم/الصلاة 51 (513)، سنن ابی داود/الصلاة 91 (656)، سنن النسائی/المساجد 44 (739)، (تحفة الأشراف: 18060)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/330، 335، 336)، سنن الدارمی/الصلاة 101 (1413) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُتَحَدِّثِ وَالنَّائِمِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات چیت کرنے والے ، اور سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 959]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت تنزیہی ہے یعنی بہتر ہے کہ اس طرح نماز نہ ادا کی جائے، یا اس حدیث کا مفہوم یہ کہ مسجد وسیع اور جگہ بہت ہو لیکن خواہ مخواہ قصداً ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھے جو باتیں کر رہا ہو، تو ایسا کرنا درست نہیں ہے، ورنہ اوپر حدیث میں گزرا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سوئی ہوتیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن ¤ وله شاھد عند الطبراني في المعجم الاوسط (6/ 118 ح 5242، وسنده حسن / معاذ علي زئي)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 106 (694)، (تحفة الأشراف: 6448) (حسن) (تراجع الا ٔلبانی: رقم: 251)
41: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُسْبَقَ الإِمَامُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ لَا نُبَادِرَ الْإِمَامَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتے کہ ہم رکوع اور سجدے میں امام سے پہل نہ کریں اور ( فرماتے ) جب امام «اللہ اکبر» کہے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو ، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 960]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ مقتدی کو ہر ایک رکن امام کے بعد کرنا چاہئے، امام کے ساتھ ساتھ یا امام سے پہلے یا امام کے بعد زیادہ دیر سے کرنا درست نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12447) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے ، کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر سے بدل دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 961]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی گدھے کی طرح اس کو بے وقوف بنا دے، اور آخرت میں وہ گدھے کی طرح اٹھے، بعضوں نے کہا کہ دنیا میں بھی گدھے کی طرح مسخ ہو سکتا ہے، اس لئے کہ یہ مسخ خاص ہے اور اس امت میں وہ ہو سکتا ہے، البتہ مسخ عام نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 25 (427)، سنن ابی داود/الصلاة 76 (623)، سنن الترمذی/الصلاة 292 (582)، سنن النسائی/الإمامة 38 (829)، (تحفة الأشراف: 14362)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 53 (691)، مسند احمد (2/260، 271، 425، 456، 469، 472، 504)، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1355) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ دَارِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ، فَإِذَا رَكَعْتُ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعْتُ فَارْفَعُوا، وَإِذَا سَجَدْتُ فَاسْجُدُوا، وَلَا أُلْفِيَنَّ رَجُلًا يَسْبِقُنِي إِلَى الرُّكُوعِ وَلَا إِلَى السُّجُودِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا بدن بھاری ہو گیا ہے ، لہٰذا جب میں رکوع میں جاؤں تب تم رکوع میں جاؤ ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھا لوں تو تم اپنا سر اٹھاؤ ، اور جب سجدہ میں چلا جاؤں تو تم سجدہ میں جاؤ ، میں کسی شخص کو نہ پاؤں کہ وہ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں چلا جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 962]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8994، ومصباح الزجاجة: 345) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دارم مجہول ہیں، ملاحظہ: الصحیحة: 1725)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ، فَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ، إِذَا سَجَدْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ، إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم رکوع اور سجدے میں مجھ سے سبقت نہ کرو ، اگر میں رکوع تم سے پہلے کروں گا تو تم مجھ کو پا لو گے جب میں رکوع سے سر اٹھا رہا ہوں گا ، اور اگر میں سجدہ میں تم سے پہلے جاؤں گا تو تم مجھ کو پا لو گے جب میں سجدہ سے سر اٹھا رہا ہوں گا ، کیونکہ میرا جسم بھاری ہو گیا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 963]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11426، ومصباح الزجاجة: 346)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 75 (619)، مسند احمد (4/92، 98)، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1354) (حسن صحیح)
42: بَابُ : مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنَ الْجَفَاءِ أَنْ يُكْثِرَ الرَّجُلُ مَسْحَ جَبْهَتِهِ قَبْلَ الْفَرَاغِ مِنْ صَلَاتِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ بدسلوکی اور بےرخی کی بات ہے کہ آدمی نماز ختم کرنے سے پہلے اپنی پیشانی پر باربار ہاتھ پھیرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 964]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،فيه هارون بن هارون وقد اتفقوا علي تضعيفه‘‘ وھو: ضعيف (تقريب:7247) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13971، ومصباح الزجاجة: 347) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ہارون ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 877)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، وَإِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُفَقِّعْ أَصَابِعَكَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نماز میں اپنی انگلیاں نہ چٹخاؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 965]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الحارث الأعور: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10053، ومصباح الزجاجة: 348) (ضعیف) (اس کی سند میں حارث الا ٔعور ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 378)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَدِّبُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ فِي الصَّلَاةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 966]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (643) ترمذي (378) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14173)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 88 (643) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَى رَجُلًا قَدْ شَبَّكَ أَصَابِعَهُ فِي الصَّلَاةِ، فَفَرَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نماز میں تشبیک کر رکھی ہے ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی انگلیاں الگ الگ کر دیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 967]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنے کا نام تشبیک ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة (386)، (تحفة الأشراف: 11121)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/54، 4/242، 243)، سنن الدارمی/الصلاة 121 (1445) (ضعیف) (علقمہ اور ابو بکر بن عیاش کے ضعف کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ، وَلَا يَعْوِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص جمائی لے تو اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے اور آواز نہ کرے ، اس لیے کہ شیطان اس سے ہنستا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 968]
قال الشيخ الألباني: موضوع بهذا اللفظ وصحيح بدون ولا يعو
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ عبد اللّٰه بن سعيد المقبري: متروك ¤ وحديث البخاري (6223) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12968، ومصباح الزجاجة: 349)، قد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3289)، سنن ابی داود/الأدب 97 (5028)، سنن الترمذی/الأدب 7 (2748)، مسند احمد (2/397، 3/31)، ومن غير ذكر: ''ولا يعوي'' (موضوع) ( ولا يعوي کے لفظ کے ساتھ یہ حدیث موضوع ہے، اس کے بغیر صحیح ہے کما فی التخریج، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2420، ومصباح الز جاجہ بتحقیق الشہری: 351)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبُزَاقُ، وَالْمُخَاطُ، وَالْحَيْضُ، وَالنُّعَاسُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ".
ثابت کے والد دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز میں تھوکنا ، رینٹ نکالنا ، حیض کا آنا اور اونگھنا ، شیطان کی جانب سے ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 969]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (2748) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الأدب (2748)، (تحفة الأشراف: 3543) (ضعیف) (اس کی سند میں ابو الیقظان عثمان بن عمیر البجلی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3379)
43: بَابُ : مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ
باب: لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ امام کا کیا حکم ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ: الرَّجُلُ يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَالرَّجُلُ لَا يَأْتِي الصَّلَاةَ إِلَّا دِبَارًا يَعْنِي: بَعْدَ مَا يَفُوتُهُ الْوَقْتُ، وَمَنِ اعْتَبَدَ مُحَرَّرًا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی : ایک تو وہ جو لوگوں کی امامت کرے جب کہ لوگ اس کو ناپسند کرتے ہوں ، دوسرا وہ جو نماز میں ہمیشہ پیچھے ( یعنی نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد ) آتا ہو ، اور تیسرا وہ جو کسی آزاد کو غلام بنا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 970]
قال الشيخ الألباني: ضعيف إلا الجملة الأولى منه فصحيحة
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (593) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 63 (593)، (تحفة الأشراف: 8903) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 92، صحیح أبی دواود: 607)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تَرْتَفِعُ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُءُوسِهِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین اشخاص ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی : ایک وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کی اور لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں ، دوسرے وہ عورت جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو ، اور تیسرے وہ دو بھائی جنہوں نے باہم قطع تعلق کر لیا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 971]
قال الشيخ الألباني: ضعيف بهذا اللفظ وحسن بلفظ العبد الآبق مكان أخوان متصارمان
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبيدة بن الأسود: ”صدوق ربما دلس“ (انظر ضعيف سنن الترمذي: 2213) وعنعن ¤ وحديث الترمذي (360 وسنده حسن) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5635، ومصباح الزجاجة: 351) (منکر) (اس سیاق سے یہ حدیث منکر ہے، اخوان متصارمان کے بجائے العبدالآبق کے لفظ سے حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: غایة المرام: 248، ومصباح الزجاجة: 353، بتحقیق الشہری)
44: بَابُ : الاِثْنَانِ جَمَاعَةٌ
باب: دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَمْرِو بْنِ جَرَاد ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو یا دو سے زیادہ لوگ جماعت ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 972]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ الربيع بن بدر: متروك (تقريب: 1883) والسند ضعفه البو صيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9021، ومصباح الزجاجة: 352) (ضعیف) (اس کی سند میں ربیع اور ان کے والد بدر بن عمرو دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 489)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز ( تہجد ) کے لیے اٹھے ، میں بھی اٹھا اور جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 973]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ نفلی نماز میں جماعت صحیح ہے، اور دوسرے یہ کہ ایک لڑکے کے ساتھ ہونے سے جماعت ہو جاتی ہے، تیسرے یہ کہ اگر مقتدی اکیلا ہو تو امام کے دائیں طرف کھڑے ہو، چوتھی یہ کہ جس نے امامت کی نیت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 42 (117)، الأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، اللباس 71 (5919)، (تحفة الأشراف: 5769)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الصلاة 70 (610)، سنن النسائی/الإمامة 22 (807)، مسند احمد (1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھ رہے تھے میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 974]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح دائیں طرف کر لیا، ایک ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کی طرف سے گھما کر، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز اس قدر عمل کرنے سے فاسد نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شرحبيل بن سعد: ضعيف ¤ ولبعض الحديث شواھد عند ابن خزيمة (1532۔1674) و مسلم (3008) وغيرهما ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2279، ومصباح الزجاجة: 352/أ)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (766)، سنن ابی داود/الصلاة 82 (634)، مسند احمد (1/268، 360، 3/326) (صحیح) (دوسرے شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں شرحبیل ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 529، و مصباح الزجاحة: 355، بتحقیق الشہری)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ وَبِي، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَصَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَلْفَنَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کی ایک عورت اور میرے ساتھ نماز پڑھی ، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کیا ، اور عورت نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 975]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بھی نفل ہو گی کیونکہ فرض تو آپ مسجد میں ادا کرتے تھے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر مقتدی ایک عورت اور ایک لڑکا ہو تو لڑکا امام کے دائیں طرف کھڑا ہو، اور عورت پیچھے کھڑی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 70 (609)، سنن النسائی/الإمامة 21 (804)، (تحفة الأشراف: 1609)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 78 (727)، صحیح مسلم/المساجد 48 (660)، مسند احمد (3/258) (صحیح)
45: بَابُ : مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الإِمَامَ
باب: امام کے قریب کن لوگوں کا رہنا مستحب ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَر ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ".
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہمارے کندھوں پہ ہاتھ پھیرتے اور فرماتے : ” الگ الگ نہ رہو ، ورنہ تمہارے دل الگ الگ ہو جائیں گے ، اور تم میں جو عقل اور شعور والے ہیں وہ میرے نزدیک کھڑے ہوں ، پھر وہ لوگ جو عقل و شعور میں ان سے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 976]
💡 وضاحت:
۱؎: اختلاف نہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ صف میں برابر کھڑے ہو کسی کا کندھا آگے پیچھے نہ رہے، کیونکہ روحانی طور پر اس کا اثر دلوں پر پڑے گا، اور صفوں میں آگے پیچھے ہونے سے لوگوں کے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، جس سے مسلمانوں کی قوت و شوکت کمزور ہو جائے گی، اور دشمن کا تسلط و غلبہ بڑھے گا، اس سے معلوم ہوا کہ امام کو صفوں کی درستگی کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام کے ساتھ پہلی صف میں وہ لوگ کھڑے ہوں جو علم و فضل اور عقل و دانش میں ممتاز ہوں، پھر وہ جو ان سے کم ہوں، پھر وہ جو ان سے کم ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (432)، سنن ابی داود/الصلاة 96 (674)، سنن النسائی/الإمامة 23 (808)، 26 (813)، (تحفة الأشراف: 9994) مسند احمد (4/122)، سنن الدارمی/الصلاة 51 (1302) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَار لِيَأْخُذُوا عَنْهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب کھڑے ہوں ، تاکہ آپ سے دین کی باتیں سیکھ سکیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 977]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ یہ عقل اور علم و فضل میں اور لوگوں سے آگے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ -
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 722، ومصباح الزجاجة: 353)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/100، 199، 263) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ: " تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دیکھا کہ وہ پیچھے کی صفوں میں رہتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگے آ جاؤ ، اور نماز میں تم میری اقتداء کرو ، اور تمہارے بعد والے تمہاری اقتداء کریں ، کچھ لوگ برابر پیچھے رہا کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے کر دیتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 978]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آخرت میں وہ پیچھے رہ جائیں گے، اور جنت میں لوگوں کے بعد جائیں گے، یا دنیا میں ان کا درجہ گھٹ جائے گا، اور علم و عقل سے، اور اللہ تعالی کی عنایت اور رحمت سے پیچھے رہیں گے، اس میں امام کے قریب کھڑے ہونے کی تاکید اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (438)، سنن ابی داود/الصلاة 98 (680)، سنن النسائی/الإمامة 17 (796)، (تحفة الأشراف: 4309)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/19، 34، 54) (صحیح)
46: بَابُ : مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ
باب: کون شخص امامت کا زیادہ حقدار ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَمَّا أَرَدْنَا الِانْصِرَافَ قَالَ لَنَا: " إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا، وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، جب ہم واپس ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان و اقامت کہو ، اور تم میں جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 979]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایک اذان کہے اور دوسرا جواب دے، یا یہ کہا جائے کہ دونوں کی طرف اسناد مجازی ہے مطلب یہ ہے کہ تم دونوں کے درمیان اذان اور اقامت ہونی چاہئے جو بھی کہے، اذان اور اقامت کا معاملہ چھوٹے بڑے کے ساتھ خاص نہیں، البتہ امامت جو بڑا ہو وہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 17 (628)، 18 (630)، 35 (658، 685)، 49 (819)، الجہاد 42 (2848)، الادب 27 (6008)، أخبار الآحاد 1 (7246)، صحیح مسلم/المساجد 53 (672)، سنن ابی داود/الصلاة 61 (589)، سنن الترمذی/الصلاة 37 (205)، سنن النسائی/الأذان 7 (635)، 8 (636)، 29 (670)، الإمامة 4 (782)، (تحفة الأشراف: 11182)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/436، 5/53)، سنن الدارمی/الصلاة 42 (1288) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُود ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانَتِ الْهِجْرَةُ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمَّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ، وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنٍ أَوْ بِإِذْنِهِ".
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو لوگوں میں قرآن زیادہ جانتا ہو ، اگر قراءت میں سب یکساں ہوں تو امامت وہ کرے جس نے ہجرت پہلے کی ہو ۱؎ ، اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو امامت وہ کرے جو عمر کے لحاظ سے بڑا ہو ، اور کوئی شخص کسی شخص کے گھر والوں میں اور اس کے دائرہ اختیار و منصب کی جگہ میں امامت نہ کرے ۲؎ ، اور کوئی کسی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پہ بغیر اس کی اجازت کے نہ بیٹھے “ ۳؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 980]
💡 وضاحت:
۱؎: ابومسعود رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ اگر قراءت میں برابر ہوں تو جس کو سنت کا علم زیادہ ہو وہ امامت کرے، اگر اس میں بھی برابر ہوں تو جس کی ہجرت پہلے ہوئی ہو وہ امامت کرے، یعنی قرآن زیادہ جانتا ہو یا قرآن کو اچھی طرح پڑھتا ہو، یہ حدیث صحیح ہے، محدثین نے اسی کے موافق یہ حکم دیا ہے کہ جو شخص قرآن زیادہ جانتا ہو وہی امامت کا حق دار ہے اگرچہ نابالغ یا کم عمر ہو، اور اسی بناء پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عمر بن ابی سلمہ کو امام بنایا تھا، حالانکہ ان کی عمر چھ یا سات برس کی تھی۔ ۲؎: یعنی مہمان میزبان کی امامت نہ کرے، الا یہ کہ وہ اس کی اجازت دے، اسی طرح کوئی کسی جگہ کا حکمران ہو تو اس کی موجودگی میں کوئی اور امامت نہ کرے۔ ۳؎: مثلاً کسی کی کوئی مخصوص کرسی یا مسند وغیر ہو تو اس پر نہ بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 53 (673)، سنن ابی داود/الصلاة 61 (582، 583، 584)، سنن الترمذی/الصلاة60 (235)، سنن النسائی/الإمامة 3 (781)، 6 (784)، (تحفة الأشراف: 9976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/118، 121، 122) (صحیح)
47: بَابُ : مَا يَجِبُ عَلَى الإِمَامِ
باب: امام کی ذمہ داری کیا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخُو فُلَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ: كَانَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ يُقَدِّمُ فِتْيَانَ قَوْمِهِ يُصَلُّونَ بِهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: تَفْعَلُ وَلَكَ مِنَ الْقِدَمِ مَا لَكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْإِمَامُ ضَامِنٌ، فَإِنْ أَحْسَنَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَسَاءَ، يَعْنِي: فَعَلَيْهِ، وَلَا عَلَيْهِمْ".
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے جوانوں کو آگے بڑھاتے وہی لوگوں کو نماز پڑھاتے ، کسی نے سہل رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ جوانوں کو نماز کے لیے آگے بڑھاتے ہیں ، حالانکہ آپ کو سبقت اسلام کا بلند رتبہ حاصل ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” امام ( مقتدیوں کی نماز کا ) ضامن ہے ، اگر وہ اچھی طرح نماز پڑھائے تو اس کے لیے بھی ثواب ہے اور مقتدیوں کے لیے بھی ، اور اگر خراب طریقے سے پڑھائے تو اس پر گناہ ہے لوگوں پر نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 981]
💡 وضاحت:
۱؎: امام ضامن ہے کا مطلب یہ کہ اگر وہ اچھی طرح سے نماز پڑھتا ہے، تو اس کا اجر و ثواب اس کو اور مقتدیوں دونوں کو ملے گا، اور اگر خراب طریقے سے نماز پڑھتا ہے، تو اس کا وبال اسی پر ہو گا، نہ کہ مقتدیوں پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف۔عبدالحميد (بن سليمان) اتفقوا علي تضعيفه“ وھو: ضعيف ¤ ولبعض الحديث شواھد ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4700، ومصباح الزجاجة: 354) (صحیح) (دوسرے شواہد کے بناء پر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الحمید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1767)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُمِّ غُرَابٍ ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: عَقِيلَةُ ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُومُونَ سَاعَةً لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ".
خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے ، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 982]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (581) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 60 (581)، (تحفة الأشراف: 15898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/381) (ضعیف) (اس کی سند میں عقیلہ مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، أَنَّهُ خَرَجَ فِي سَفِينَةٍ فِيهَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، فَحَانَتْ صَلَاةٌ مِنَ الصَّلَوَاتِ، فَأَمَرْنَاهُ أَنْ يَؤُمَّنَا، وَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ أَحَقُّنَا بِذَلِكَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ، فَالصَّلَاةُ لَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ".
ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں نکلے ، اس میں عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بھی تھے ، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا ، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں ، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں ، انہوں نے امامت سے انکار کیا ، اور بولے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے ، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہو گا ، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 983]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 59 (580)، (تحفة الأشراف: 9912)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/145، 154، 156، 201) (صحیح)
48: بَابُ : مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ
باب: جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَتَأَخَّرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ لِمَا يُطِيلُ بِنَا فِيهَا، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، " إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُجَوِّزْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ، وَالْكَبِيرَ، وَذَا الْحَاجَةِ".
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز میں دیر سے جاتا ہوں ، اس لیے کہ وہ نماز کو بہت لمبی کر دیتا ہے ، ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا سخت غضبناک کبھی بھی کسی وعظ و نصیحت میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! تم میں کچھ لوگ نفرت دلانے والے ہیں ، لہٰذا تم میں جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ہلکی پڑھائے ، اس لیے کہ لوگوں میں کمزور ، بوڑھے اور ضرورت مند سبھی ہوتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 984]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ تین صورتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی فرمائیں کہ اس میں سارے معذور لوگ آ گئے، اب جس قدر سوچیں کوئی معذور ایسا نہیں ملے گا جو ان تین سے خارج ہو، اس حدیث سے آپ کا کمال رحم اور کرم بھی ثابت ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 28 (90)، الأذان 61 (702)، 63 (704)، الأحکام 13 (7159)، صحیح مسلم/الصلاة 37 (466)، (تحفة الأشراف: 10004)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/118، 119، 5/273)، سنن الدارمی/الصلاة 46 (1294) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوجِزُ وَيُتِمُّ الصَّلَاةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 985]
💡 وضاحت:
۱؎: مختصر تو اس طور سے ہوتی کہ سورتیں بہت لمبی نہ پڑھتے، اور پوری اس طرح سے ہوتی کہ سجدہ اور قیام اور قعدہ اچھے طور سے ادا کرتے، کم سے کم سجدہ اور رکوع میں پانچ یا تین تسبیحوں کے برابر ٹھہرتے، اسی طرح رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑے ہوتے، اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 37 (469)، (تحفة الأشراف: 1016)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاذان 64 (706، 708)، سنن ابی داود/الصلاة 147 (853)، مسند احمد (3/101)، سنن الدارمی/الصلاة 46 (1295) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْأَنْصَارِيُّ بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ، فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا، فَصَلَّى، فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ لَهُ مُعَاذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ، إِذَا صَلَّيْتَ بِالنَّاسِ فَاقْرَأْ ب: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی ، ہم میں سے ایک آدمی چلا گیا اور اکیلے نماز پڑھ لی ، معاذ رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا : یہ منافق ہے ، جب اس شخص کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات پہنچی ، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات بتائی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معاذ ! کیا تم فتنہ پرداز ہونا چاہتے ہو ؟ جب لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو «والشمس وضحاها» ، «سبح اسم ربك الأعلى» «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك» پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 986]
💡 وضاحت:
۱؎: دوسری روایت میں ہے «بروج» یا «وانشقت» پڑھو، یہ سب سورتیں قریب قریب برابر کی ہیں، عشاء کی نماز میں جب جماعت سے ہو تو یہی سورتیں پڑھنا مسنون ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں «والتين» بھی پڑھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن النسائی/الإمامة 39 (832)، 41 (836)، الافتتاح 63 (985)، 70 (998)، (تحفة الأشراف: 2912)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 60 (701)، 63 (705)، الأدب 74 (6106)، سنن ابی داود/الصلاة 127 (790)، مسند احمد (3/299، 308، 379)، سنن الدارمی/الصلاہ 65 (1333) (صحیح) (تراجع الا ٔلبانی: رقم: 122)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ ، يَقُولُ: كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَنِي عَلَى الطَّائِفِ قَالَ لِي: " يَا عُثْمَانُ" تَجَاوَزْ فِي الصَّلَاةِ، وَاقْدِرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَالصَّغِيرَ، وَالسَّقِيمَ، وَالْبَعِيدَ، وَذَا الْحَاجَةِ".
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو طائف کا امیر بنایا ، تو آپ نے میرے لیے آخری نصیحت یہ فرمائی : ” عثمان ! نماز ہلکی پڑھنا ، اور لوگوں ( عام نمازیوں ) کو اس شخص کے برابر سمجھنا جو ان میں سب سے زیادہ کمزور ہو ، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے ، بچے ، بیمار ، دور سے آئے ہوئے اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 987]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 40 (531)، سنن النسائی/الأذان 32 (673)، (تحفة الأشراف: 9770)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/218) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: حَدَّثَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ ، أَنَّ آخِرَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمْ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری بات جو مجھ سے کہی وہ یہ تھی : ” لوگوں کی جب امامت کرو تو نماز ہلکی پڑھاؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 988]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 37 (468)، (تحفة الأشراف: 9766)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 40 (531)، سنن النسائی/الأذان 32 (673)، مسند احمد (4/22) (صحیح)
49: بَابُ : الإِمَامِ يُخَفِّفُ الصَّلاَةَ إِذَا حَدَثَ أَمْرٌ
باب: دوران نماز حادثہ پیش آ جانے پر نماز ہلکی کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ لِوَجْدِ أُمِّهِ بِبُكَائِهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نماز شروع کرتا ہوں اور لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز اس خیال سے مختصر کر دیتا ہوں کہ بچے کی ماں کو اس کے رونے کی وجہ سے تکلیف ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 989]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عہد نبوی میں عورتیں مسجد میں آ کر نماز باجماعت ادا کرتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کی رعایت کرتے ہوئے نماز کو مختصر پڑھاتے، تاکہ بچوں کے رونے سے ماؤں کی نماز میں خلل نہ ہو، لہذا آج بھی جن مساجد میں عورتوں کے نماز پڑھنے کا انتظام ہے، ان میں عورتیں اپنے اسلامی شعار کا لحاظ کرتے ہوئے جائیں اور نماز باجماعت ادا کریں، یہ حدیث ہر زمانے اور ہر جگہ کے لئے عام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 65 (709، 710)، صحیح مسلم/الصلاة 37 (470)، (تحفة الأشراف: 1178)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/109)، سنن الدارمی/الصلاة 46 (1295) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي الصَّلَاةِ".
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز ہلکی کر دیتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 990]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9765، ومصباح الزجاجة: 356) (صحیح) (حسن بصری کا سماع عثمان رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ كَرَاهِيَةَ أَنْ أشُقَّ عَلَى أُمِّهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس کو لمبی کروں ، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اس ڈر سے نماز ہلکی کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں پریشان نہ ہو جائے ۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 991]
💡 وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رحم و کرم بے انتہا تھا، نماز ایسی عبادت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادنیٰ ادنیٰ عورتوں تک کا خیال رکھتے، اور یہ منظور نہ ہوتا کہ کسی امتی پر سختی گزرے، ایسا مہربان نبی جو ہم کو ماں باپ سے بھی زیادہ چاہتا ہے، اور کس امت کو ملا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 65 (707)، 163 (868)، سنن ابی داود/الصلاة 126 (789)، سنن النسائی/الإمامة 35 (826)، (تحفة الأشراف: 12110)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/305) (صحیح)
50: بَابُ : إِقَامَةِ الصُّفُوفِ
باب: صفیں برابر کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا"، قَالَ: قُلْنَا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: " يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ".
جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں ؟ “ ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف باندھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں ، اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 992]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 27 (430)، سنن ابی داود/الصلاة 94 (661)، سنن النسائی/الإمامة 28 (817)، (تحفة الأشراف: 2127)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/101) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی صفیں برابر کرو ، اس لیے کہ صفوں کی برابری تکمیل نماز میں داخل ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 993]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود امامت کے وقت صفوں کو دیکھتے، اور جب اطمینان ہو جاتا کہ صفیں برابر ہو گئیں تو اس وقت تکبیر کہتے، اور کبھی اپنے ہاتھ سے صف میں لوگوں کو آگے اور پیچھے کرتے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ ہر ایک امام کو بذات خاص صفوں کے برابر کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے، اور مقتدیوں کو دیکھنا چاہئے کہ وہ برابر کھڑے ہوئے ہیں یا آگے پیچھے ہیں، اور صف بندی میں یہ ضروری ہے کہ لوگ برابر کھڑے ہوں آگے پیچھے نہ ہوں، اور قدم سے قدم مونڈھے سے مونڈھا ملا کر کھڑے ہوں، اور جب تک پہلی صف پوری نہ ہو دوسری صف میں کوئی کھڑا نہ ہو، اسی طرح سے اخیر صف تک لحاظ رکھا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 74 (723)، صحیح مسلم/الصلاة (433)، سنن ابی داود/الصلاة 94 (668)، (تحفة الأشراف: 1243)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 28 (816)، التطبیق60 (1118)، مسند احمد (2/234، 319، 505، 3/177، 179، 254، 274، 291)، سنن الدارمی/الصلاة 49 (1299) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي الصَّفَّ حَتَّى يَجْعَلَهُ مِثْلَ الرُّمْحِ أَوِ الْقِدْحِ، قَالَ: فَرَأَى صَدْرَ رَجُلٍ نَاتِئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیزہ یا تیر کی طرح صف سیدھی کرتے تھے ، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تو فرمایا : ” اپنی صفیں برابر کرو ، یا اللہ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 994]
💡 وضاحت:
۱؎: چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا، کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈال دے گا، جس کی وجہ سے افتراق و انتشار عام ہو جائے گا، اور بعضوں نے کہا ہے کہ اس کے حقیقی معنی مراد ہیں، یعنی تمہارے چہروں کو گدّی کی طرف پھیر کر انھیں بدل اور بگاڑ دے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (436)، سنن ابی داود/الصلاة 94 (663و665)، سنن الترمذی/الصلاة 53 (227)، سنن النسائی/الإمامة 25 (811)، (تحفة الأشراف: 11620)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/270، 271، 272، 273، 274) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو صفیں جوڑتے ہیں ، اور جو شخص صف میں خالی جگہ بھر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 995]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ هشام بن عروة حجازي و رواية إسماعيل بن عياش عن الحجازيين ضعيفة و للحديث شواھد ضعيفة عند المحاملي (الأمالي ق 2/36،الصحيحة: 1892) وغيره ¤ و روي ابن خزيمة (1550) عن رسول اللّٰه ﷺ قال: ((إن اللّٰه و ملائكته يصلون علي الذين يصلون الصفوف۔)) وسنده حسن وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16764، ومصباح الزجاجة: 355)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/89) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن عیاش ہیں، اور ان کی اہل حجاز سے روایت ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1892، 2532، ومصباح الزجاجة: 358، بتحقیق عوض الشہری)
51: بَابُ : فَضْلِ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ
باب: پہلی صف کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَسْتَغْفِرُ لِلصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ثَلَاثًا، وَلِلثَّانِي مَرَّةً".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار مغفرت کی دعا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 996]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الإمامة 29 (818)، (تحفة الأشراف: 9884)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/126، 127، 128)، سنن الدارمی/الصلاة 50 (1300) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ مُصَرِّفٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِ الْأَوَّلِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی صلاۃ بھیجتا یعنی رحمت نازل فرماتا ہے ، اور اس کے فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی اس کے حق میں دعا کرتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 997]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1780، ومصباح الزجاجة: 357)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/285، 296، 297، 298، 299، 304)، سنن الدارمی/الصلاة 49 (1299) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ، لَكَانَتْ قُرْعَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگ جان لیں کہ پہلی صف میں کتنا ( ثواب ) ہے تو اس کو پانے کے لیے قرعہ اندازی ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 998]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (439)، (تحفة الأشراف: 14663)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 2 (6)، مسند احمد (2/236، 271، 303، 374) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پہ اپنی صلاۃ یعنی رحمت نازل فرماتا ہے ، اور فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی دعا کرتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 999]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9714، ومصباح الزجاجة: 358) (حسن صحیح)
52: بَابُ : صُفُوفِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کی صف کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وعَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں کی سب سے بہتر صف ان کی پچھلی صف ہے ، اور سب سے خراب صف ان کی اگلی صف ہے ۱؎ ، مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے ، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1000]
💡 وضاحت:
۱؎: اگلی صف سے مراد امام کے پیچھے والی صف ہے، سب سے اچھی صف پہلی صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے تو جو لوگ اس میں ہوتے ہیں وہ امام سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں، اور عورتوں سے دور رہنے کی وجہ سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں اور برے خیالات سے عام طور سے محفوظ رہتے ہیں، اور سب سے بری صف ان مردوں کی آخری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے، یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔ ۲؎: عورتوں کی آخری صف اس لئے بہتر ہے کہ وہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں، اور عورتوں کی اگلی صف سب سے خراب صف اس لئے ہے کہ وہ مردوں سے قریب ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: حدیث العلاء عن أبیہ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14083)، وحدیث سہیل عن أبیہ قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 28 (441)، سنن الترمذی/الصلاة 52 (224)، (تحفة الأشراف: 12701)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 98 (678)، سنن النسائی/الإمامة 32 (821)، مسند احمد (2/247، 336، 340، 366، 485)، سنن الدارمی/الصلاة 52 (1304) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ مُقَدَّمُهَا، وَشَرُّهَا مُؤَخَّرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ مُؤَخَّرُهَا، وَشَرُّهَا مُقَدَّمُهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے ، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے ، عورتوں کی سب سے اچھی صف ان کی پچھلی صف ہے ، اور سب سے بری صف ان کی اگلی صف ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1001]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2371، ومصباح الزجاجة: 359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/293، 331، 387) (حسن صحیح) (یہ سند حسن ہے اور دوسرے شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملا حظہ ہو: مصباح الزجاجة: 362، بتحقیق الشہری، وصحیح ابی داود: 681)
53: بَابُ : الصَّلاَةِ بَيْنَ السَّوَارِي فِي الصَّفِّ
باب: ستونوں (کھمبوں) کے درمیان صف بندی کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو قُتَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا نُنْهَى أَنْ نَصُفَّ بَيْنَ السَّوَارِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُطْرَدُ عَنْهَا طَرْدًا".
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ستونوں کے درمیان صف بندی سے روکا جاتا تھا ، اور سختی سے وہاں سے ہٹایا جاتا تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1002]
💡 وضاحت:
۱؎: ستونوں (کھمبوں) کے بیچ میں صف باندھنے سے منع کئے جاتے تھے کیونکہ ان کے بیچ میں حائل ہونے کی وجہ سے صف ٹوٹ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة مدلس و عنعن ¤ و حديث أبي داود (673) عن أنس: ’’كنا نتقي ھذا علي عهد رسول اللّٰه ﷺ“ ¤ سنده صحيح وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11085، ومصباح الزجاجة: 360) (حسن صحیح) (سند میں ہارون بن مسلم مستور ہیں، اور ان سے تین ثقات نے روایت کی ہے، اس لئے اس سند کی شیخ البانی نے تحسین فرمائی ہے، اور شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 335، صحیح ابی داود: 677، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 335)
54: بَابُ : صَلاَةِ الرَّجُلِ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ
باب: صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ ، وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ قَالَ: خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، ثُمَّ صَلَّيْنَا وَرَاءَهُ صَلَاةً أُخْرَى، فَقَضَى الصَّلَاةَ، فَرَأَى رَجُلًا فَرْدًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ، قَالَ: فَوَقَفَ عَلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ، قَالَ: " اسْتَقْبِلْ صَلَاتَكَ، لَا صَلَاةَ لِلَّذِي خَلْفَ الصَّفِّ".
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ اور ( وہ وفد میں سے تھے ) کہتے ہیں کہ ہم سفر کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی ، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دوسری نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرنے کے بعد ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے ، آپ اس کے پاس ٹھہرے رہے ، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دوبارہ نماز پڑھو ، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1003]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جب ہے کہ صف میں جگہ ہو، اور بلا عذر اکیلے رہ کر صف کے پیچھے نماز پڑھے، تو اس کی نماز جائز نہ ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10020، ومصباح الزجاجة: 361)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/23، 22) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، فَأَوْقَفَنِي عَلَى شَيْخٍ بِالرَّقَّةِ يُقَالُ لَهُ: وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، فَقَالَ: " صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ".
ہلال بن یساف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور رقہ کے ایک شیخ کے پاس مجھے لا کر کھڑا کیا ، جن کو وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، انہوں نے کہا : ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1004]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 100 (682)، سنن الترمذی/الصلاة 56 (230، 231)، (تحفة الأشراف: 11738)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/227، 228)، سنن الدارمی/الصلاة 61 (1322) (صحیح)
55: بَابُ : فَضْلِ مَيْمَنَةِ الصَّفِّ
باب: صف کے داہنی جانب کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1005]
💡 وضاحت:
۱؎: اللہ تعالیٰ کی صلاۃ رحمت اور فرشتوں کی صلاۃ دعا ہے، یہ جب ہے کہ دائیں اور بائیں طرف برابر ہوں، اور دونوں طرف نمازی ہوں اگر بائیں جانب خالی ہو اور ادھر نمازی نہ ہوں، تو بائیں جانب میں بھی وہی فضیلت ہو گی، جو دائیں جانب میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (676) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 96 (676)، (تحفة الأشراف: 16366) (ضعیف) (اسامہ بن زید العدوی ضعیف الحفظ ہیں، اور معاویہ بن ہشام کے حفظ میں ضعف ہے، اور ثقات نے اس کے خلاف روایت کی ہے: إن الله وملائكته يصلون على ميامن الصفوف ، اور یہ ثابت ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 104)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مِسْعَرٌ: مِمَّا نُحِبُّ أَوْ مِمَّا أُحِبُّ أَنْ نَقُومَ عَنْ يَمِينِهِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم پسند کرتے یا میں پسند کرتا کہ آپ کے دائیں جانب کھڑے ہوں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1006]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 8 (709)، سنن ابی داود/الصلاة 72 (615)، سنن النسائی/الإمامة 34 (823)، (تحفة الأشراف: 1789) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سَلِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ تَعَطَّلَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَمَّرَ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ كُتِبَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : مسجد کا بایاں جانب خالی ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے مسجد کا بائیں جانب آباد کیا ، اسے دہرا اجر ملے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1007]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،لضعف ليث بن أبي سليم“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8320، ومصباح الزجاجة: 362) (ضعیف) (اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)
56: بَابُ : الْقِبْلَةِ
باب: قبلہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَوَافِ الْبَيْتِ أَتَى مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ عُمَرُ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مَقَامُ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِمَالِكٍ: أَهَكَذَا قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا سورة البقرة آية 125؟ قَالَ: نَعَمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ ( خانہ کعبہ ) کے طواف سے فارغ ہو گئے تو مقام ابراہیم پر آئے ، عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! یہ ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ، یعنی : ( مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ ) ۔ ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا : کیا یہ انہوں نے اسی طرح ( امر کے صیغہ کے ساتھ ) «واتخذوا» ( خاء کے زیر ” کسرے “ کے ساتھ ) پڑھا ؟ تو انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1008]
قال الشيخ الألباني: ضعيف منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع ¤ و حديث أبي داود (3969) و مسلم (1218) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحروف 1 (3969)، سنن الترمذی/الحج 33 (856)، 38 (862)، سنن النسائی/المناسک 163 (2964)، 164 (2966)، 172 (2977)، (تحفة الأشراف: 2595) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2960) (ضعیف) (عمر رضی اللہ عنہ سے آیت کا پڑھنا منکر ہے، جب کہ دوسری کتب حدیث کی اسی روایت میں یہ قراءت رسول اکرم ﷺ سے ہے، اس لئے یہ صحیح ہے، اور ابن ماجہ کی روایت منکر ہے، یہ حدیث مکرر ہے، کما تقدم، پہلی جگہ شیخ البانی صاحب نے حدیث کو منکر کہا، اور اگلی حدیث (1009) کو معروف بتایا، اور (2960) میں نفس سند و متن کو صحیح کہا، اور مسلم کا ذکر کرتے ہوئے حجة النبی ﷺ کا حوالہ دیا، ملاحظہ ہو: ضعیف ابن ماجہ: 192، وصحیح ابن ماجہ: 2413، میرے خیال میں نکارت کی وجہ عمر رضی اللہ عنہ کا آیت کا پڑھنا ہے، جب کہ سنن ابی داود وترمذی اور نسائی (کبری) میں اس حدیث میں آیت کی تلاوت رسول اکرم ﷺ نے ہی فرمائی ہے، اور حج کی جابر رضی اللہ عنہ کی احادیث میں آیت کریمہ رسول اکرم ﷺ نے تلاوت فرمائی)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، فَنَزَلَتْ: " وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں ( تو بہتر ہو ) ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ” اور تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ “ ( سورة البقرة : 125 ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1009]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 32 (402)، تفسیر سورة البقرة 5 (4916)، سنن الترمذی/تفسیر سورة البقرة 7 (2959، 2960)، (تحفة الأشراف: 10409)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/23، 24، 36) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَصُرِفَتِ الْقِبْلَةُ إِلَى الْكَعْبَةِ بَعْدَ دُخُولِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِشَهْرَيْنِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَكْثَرَ تَقَلُّبَ وَجْهِهِ فِي السَّمَاءِ، وَعَلِمَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَهْوَى الْكَعْبَةَ، فَصَعِدَ جِبْرِيلُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ وَهُوَ يَصْعَدُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، يَنْظُرُ مَا يَأْتِيهِ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ سورة البقرة آية 144، فَأَتَانَا آتٍ فَقَالَ: إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ صُرِفَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ، وَقَدْ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسٍ وَنَحْنُ رُكُوعٌ، فَتَحَوَّلْنَا، فَبَنَيْنَا عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جِبْرِيلُ، كَيْفَ حَالُنَا فِي صَلَاتِنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟" فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ مہینے تک بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز ادا کی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے دو مہینہ بعد قبلہ خانہ کعبہ کی جانب تبدیل کر دیا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت المقدس کی جانب نماز پڑھتے تو اکثر اپنا چہرہ آسمان کی جانب اٹھاتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے دل کا حال جان لیا کہ آپ خانہ کعبہ کی جانب رخ کرنا پسند فرماتے ہیں ، ایک بار جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے ، آپ ان کی طرف نگاہ لگائے رہے ، وہ آسمان و زمین کے درمیان اوپر چڑھ رہے تھے ، آپ انتظار میں تھے کہ جبرائیل علیہ السلام کیا حکم لاتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «قد نرى تقلب وجهك في السماء» ( سورۃ البقرہ : ۱۴۴ ) ، ہمارے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا : قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا ، ہم دو رکعتیں بیت المقدس کی جانب پڑھ چکے تھے ، اور رکوع میں تھے ، ہم اسی حالت میں خانہ کعبہ کی جانب پھر گئے ، ہم نے اپنی پچھلی نماز پر بنا کیا اور دو رکعتیں اور پڑھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل ہماری ان نماز کا کیا حال ہو گا جو ہم نے بیت المقدس کی جانب پڑھی ہیں “ ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ” اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کو ضائع کرنے والا نہیں “ ( سورة البقرة : 143 ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1010]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کو کعبہ کی طرف ہونا پسند کرتے تھے، اس خیال سے کہ عربوں کی عبادت گاہ اور مرکز وہی تھا، اور اس میں اس بات کی امید اور توقع تھی کہ عرب جلد اسلام کو قبول کر لیں گے، اور یہودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے، ان کا قبلہ بیت المقدس تھا، اس وجہ سے بھی آپ کو ان کی موافقت پسند نہیں تھی، اور یہ آپ کا کمال ادب تھا کہ اللہ تعالیٰ سے قبلے کے بدلنے کا سوال نہیں کیا، بلکہ دل ہی میں یہ آرزو لئے رہے، اس خیال سے کہ اللہ رب العزت دلوں کی بات بھی خوب جانتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: منكر فيه زيادات كثيرة على رواية ق
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن ¤ وأصل الحديث متفق عليه بغير ھذا السياق (البخاري: 40،مسلم: 525) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1910، ومصباح الزجاجة: 363)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التفسیر 12 (4492)، صحیح مسلم/المساجد 2 (525)، سنن الترمذی/الصلاة 138 (340)، سنن النسائی/الصلاة 22 (489)، القبلة 1 (743) (منکر) (سند میں ابو بکر بن عیاش سئ الحفظ ہیں، اس لئے تحویل قبلہ کے بارے میں 18 مہینہ کا ذکر اور یہ کہ مدینہ جانے کے دو ماہ بعد تحویل قبلہ ہوا، یہ چیز شاذ اور ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری 1/97، البانی صاحب نے بھی انہیں زیادات کی وجہ سے حدیث پر ''منکر'' کا حکم لگایا ہے، ورنہ اصل حدیث صحیحین میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے بیت المقدس کے طرف (16) یا (17) مہینے تک صلاة پڑھی... الخ، اسی واسطے بوصیری نے حدیث کے ابتدائی دو فقرے نقل کرنے کے بعد لکھا کہ اس کی سند صحیح ہے، اور رجال ثقات ہیں، اور بخاری و مسلم وغیرہ نے اس طریق سے مذکور نص کے علاوہ بقیہ حدیث روایت کی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مشرق ( پورب ) اور مغرب ( پچھم ) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1011]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حکم مدینہ والوں کے لئے ہے کیونکہ ان کا قبلہ جنوب کی طرف ہے، اور مشرق اور مغرب کے وہ درمیان ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة140 (342)، (تحفة الأشراف: 15124) (صحیح)
57: بَابُ : مَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلاَ يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ
باب: مسجد میں داخل ہونے والا دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1012]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تحیۃ المسجد کی دو رکعت پڑھ لے، اور اگر دوسری کوئی سنت یا فرض جاتے ہی شروع کر دے تو تحیۃ المسجد ادا ہو جائے گی، اب اس کو علیحدہ پڑھنے کی ضرورت نہ ہو گی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب مسجد میں جائے تو دو رکعت پڑھے، اور یہ ہر حالت کو عام اور شامل ہے، چنانچہ اگر امام خطبہ دے رہا ہو اور اس وقت کوئی مسجد میں پہنچے تب بھی دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھے، سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس کی تصریح ہے، اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14615، ومصباح الزجاجة: 364) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں مطلب بن عبداللہ، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: والإرواء: 467، و صحیح ابی داود: 486)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1013]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 60 (444)، التہجد 25 (1163)، صحیح مسلم/المسافرین 11 (714)، سنن ابی داود/الصلاة 19 (467، 468)، سنن الترمذی/الصلاة 119 (316)، سنن النسائی/المساجد 37 (731)، (تحفة الأشراف: 12123)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 18 (57)، حم5/295، 296، 303، سنن الدارمی/الصلاة 114 (1433) (صحیح)
58: بَابُ : مَنْ أَكَلَ الثُّومَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ الْمَسْجِدَ
باب: لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَطِيبًا، أَوْ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، " إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ: هَذَا الثُّومُ، وَهَذَا الْبَصَلُ، وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ، فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ كَانَ آكِلَهَا لَا بُدَّ فَلْيُمِتْهَا طَبْخًا".
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطیب کی حیثیت سے کھڑے ہوئے یا خطبہ دیا ، تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر کہا : لوگو ! تم دو درختوں کے پھل کھاتے ہو ، اور میں انہیں خبیث ۱؎ اور گندہ سمجھتا ہوں ، وہ پیاز اور لہسن ہیں ، میں دیکھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جس شخص کے منہ سے اس کی بو آتی تھی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا تھا ، لہٰذا جو کوئی اسے کھانا ہی چاہے تو اس کو پکا کر اس کی بو زائل کر لے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1014]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ دونوں خبیث اس اعتبار سے ہیں کہ انہیں کچا کھا کر مسجد میں جانا منع ہے، البتہ پک جانے کے بعد ان کا حکم بدل جائے گا، اور ان کا کھانا جائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 17 (567)، سنن النسائی/المساجد 17 (709)، (تحفة الأشراف: 10646)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/49) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ: الثُّومِ، فَلَا يُؤْذِينَا بِهَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا"، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ أَبِي يَزِيدُ فِيهِ الْكُرَّاثَ وَالْبَصَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي: أَنَّهُ يَزِيدُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الثُّومِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اس پودے یعنی لہسن کو کھائے ، وہ ہماری مسجد میں آ کر ہمیں تکلیف نہ پہنچائے “ ۔ ابراہیم کہتے ہیں : میرے والد سعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں گندنا ( «کراث» ) ۱؎ اور پیاز کا اضافہ کرتے تھے اور اسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1015]
💡 وضاحت:
۱؎: گندنا (کراث): ایک تیز بو والی سبزی جس کی بعض قسمیں پیاز اور لہسن کے مشابہ ہوتی ہیں، اسی قسم کی ایک سبزی کراث مصری و کراث شامی کہلاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13111)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 17 (563)، مسند احمد (2/264، 266) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا، فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسْجِدَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اس پودے ( پیاز و لہسن ) سے کچھ کھائے تو مسجد میں ہرگز نہ آئے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1016]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ دوسرے نمازیوں کو اس کی بدبو سے ایذا پہنچے گی، اور تکلیف ہو گی، یا فرشتوں کو تکلیف ہو گی، تمباکو، سگریٹ، بیڑی اور حقہ وغیرہ لہسن یا پیاز سے بھی زیادہ سخت بدبو والی چیزیں ہیں، اس لئے اس کے کھانے اور پینے سے پیدا ہونے والی بدبو کا حکم بھی پیاز اور لہسن ہی کا ہونا چاہئے، بلکہ اس سے بھی سخت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7928)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان160 (853)، صحیح مسلم/المساجد 17 (561)، سنن ابی داود/الأطعمة 41 (3825)، سنن الدارمی/الأطعمة 21 (2097) (صحیح)
59: بَابُ : الْمُصَلِّي يُسَلَّمُ عَلَيْهِ كَيْفَ يَرُدُّ
باب: نمازی دوران نماز سلام کا جواب کیسے دے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ، فَجَاءَتْ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، فَسَأَلْتُ صُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: " كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء میں آ کر نماز پڑھ رہے تھے ، اتنے میں انصار کے کچھ لوگ آئے اور آپ کو سلام کرنے لگے ، تو میں نے صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا جو آپ کے ساتھ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سلام کا جواب کیسے دیا تھا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ کے اشارے سے جواب دے رہے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1017]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز سلام کا جواب زبان سے نہ دے ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی، البتہ انگلی یا ہاتھ کے اشارے سے جواب دے سکتا ہے، اور اکثر علماء کا یہی قول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/السہو 6 (1188)، (تحفة الأشراف: 4967) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ: " إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے تحت بھیجا ، جب میں واپس آیا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے آپ کو سلام کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے جواب دیا ، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو مجھے بلایا ، اور پوچھا : ” ابھی تم نے مجھے سلام کیا ، اور میں نماز پڑھ رہا تھا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1018]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے فرمایا کہ جابر رضی اللہ عنہ کو جواب نہ دینے کی وجہ معلوم ہو جائے اور ان کے دل کو رنج نہ ہو، سبحان اللہ آپ کو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کا کس قدر خیال تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 7 (540)، سنن النسائی/السہو 6 (1190)، (تحفة الأشراف: 2913)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/334) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَقِيلَ لَنَا: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے ، پھر ہمیں ارشاد ہوا کہ نماز میں خود ایک مشغولیت ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1019]
💡 وضاحت:
۱؎: جس میں نمازی کو مصروف رہنا چاہیے، اور دوسرا کام نہیں کرنا چاہئے، وہ کام جس میں نمازی کو مصروف رہنا چاہئے اللہ تعالیٰ کی یاد ہے، اور اس سے خشوع کے ساتھ دل لگانا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9525، ومصباح الزجاجة: 365)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 3 (1201)، 15 (1216)، المناقب 37 (3875)، صحیح مسلم/ المساجد 7 (538)، سنن ابی داود/الصلاة 170 (923)، مسند احمد (1/376، 409) (صحیح)
60: بَابُ : مَنْ يُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ
باب: لاعلمی میں قبلہ سے ہٹ کر کے نماز پڑھنے والے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَأَشْكَلَتْ عَلَيْنَا الْقِبْلَةُ، فَصَلَّيْنَا وَأَعْلَمْنَا، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِذَا نَحْنُ قَدْ صَلَّيْنَا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّه: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلہ کی سمت ہم پر مشتبہ ہو گئی ، آخر ہم نے ( اپنے ظن غالب کی بنیاد پر ) نماز پڑھ لی ، اور اس سمت ایک نشان رکھ دیا ، جب سورج نکلا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت نماز نہیں پڑھی ہے ، ہم نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے «فأينما تولوا فثم وجه الله» ” جدھر تم رخ کر لو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے “ ( سورۃ البقرہ : ۱۱۵ ) نازل فرمائی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1020]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (345،2957) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 141 (345)، (تحفة الأشراف: 5035) (حسن) (اس کی سند میں اشعث بن سعید متروک ہے، لیکن شواہد کی وجہ ہے یہ حسن ہے)
61: بَابُ : الْمُصَلِّي يَتَنَخَّمُ
باب: نمازی کے تھوکنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَلَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنْ ابْزُقْ عَنْ يَسَارِكَ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِكَ".
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز پڑھو تو اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکو ، بلکہ اپنے بائیں جانب یا قدم کے نیچے تھوک لو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1021]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 22 (478)، سنن الترمذی/الصلاة 284 (571)، سنن النسائی/المساجد 33 (727)، (تحفة الأشراف: 4987)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/396) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: " مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَهُ يَعْنِي: رَبَّهُ، فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ؟ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقَنَّ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ لِيَقُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ"، ثُمَّ أَرَانِي إِسْمَاعِيل يَبْزُقُ فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ يَدْلُكُهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی سمت بلغم دیکھا ، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، اور فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آگے بلغم تھوکتے ہیں ؟ کیا تم میں کا کوئی یہ پسند کرے گا کہ دوسرا شخص اس کی طرف منہ کر کے اس کے منہ پر تھوکے ؟ جب کوئی شخص نماز کی حالت میں تھوکے تو اپنے بائیں جانب تھوکے ، یا اپنے کپڑے میں اس طرح تھوک لے “ ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ پھر اسماعیل بن علیہ نے مجھے اپنے کپڑے میں تھوک کر پھر مل کر دکھایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1022]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/ المساجد 13 (550)، سنن النسائی/الطہارة 193 (310)، (تحفة الأشراف: 14669)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 35 (408، 409)، سنن ابی داود/الصلاة 22 (477)، مسند احمد (2/250، 251، 260)، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1438) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّهُ رَأَى شَبَثَ بْنَ رِبْعِيٍّ بَزَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا شَبَثُ، لَا تَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، حَتَّى يَنْقَلِبَ أَوْ يُحْدِثَ حَدَثَ سُوءٍ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے شبث بن ربعی کو اپنے آگے تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہا : شبث ! اپنے آگے نہ تھوکو ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے ، اور کہتے تھے : ” آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو جب تک وہ نماز پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ، یہاں تک کہ نماز پڑھ کر لوٹ جائے ، یا اسے برا حدث ہو جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1023]
💡 وضاحت:
۱؎: برے حدث سے مراد کوئی نیا امر اور نئی بات، جو خشوع کے خلاف ہو جیسے سامنے تھوکنا، یا اس سے مراد ہوا خارج ہونا ہے جس سے انسان کی پاکی ختم ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3349، ومصباح الزجاجة: 366) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ دَلَكَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں اپنے کپڑے میں تھوکا ، پھر اسے مل دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1024]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 388، ومصباح الزجاجة: 367)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 33 (405)، 39 (417)، سنن ابی داود/الطہارة 143 (390)، سنن النسائی/الطہارة 193 (309)، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1436) (صحیح)
62: بَابُ : مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کنکریاں ہٹانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز میں کنکریوں کو چھوا ، اس نے فضول کام کیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1025]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12549)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 8 (857)، سنن ابی داود/الصلاة 209 (1050)، سنن الترمذی/الصلاة 240 (498) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلَاةِ: " إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَمَرَّةً وَاحِدَةً".
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کنکریوں کے ہٹانے کے بارے میں فرمایا : ” اگر تمہیں ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کر لو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1026]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 8 (1207)، صحیح مسلم/المساجد 12 (546)، سنن ابی داود/الصلاة 175 (946)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (380)، سنن النسائی/السہو 8 (1193)، (تحفة الأشراف: 11485)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 5/425، 426، سنن الدارمی/الصلاة 110 (1427) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يَمْسَحْ بِالْحَصَى".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے ، اس لیے کہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1027]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 175 (945)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (379)، سنن النسائی/السہو7 (1192)، (تحفة الأشراف: 11997)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/150، 163)، سنن الدارمی/الصلاة110 (1428) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو الاحوص اللیثی ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 377)
63: بَابُ : الصَّلاَةِ عَلَى الْخُمْرَةِ
باب: چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1028]
💡 وضاحت:
۱؎: خمرہ: بورئیے کا ٹکڑا یا کھجور کی چٹائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 30 (333)، الصلاة 19 (379)، 21 (381)، سنن النسائی/المساجد 44 (739)، (تحفة الأشراف: 18062)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 48 (513)، سنن ابی داود/الصلاة 91 (659)، مسند احمد (6/330، 335)، سنن الدارمی/الصلاة 101 (1413) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1029]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 52 (519)، سنن الترمذی/الصلاة 130 (332)، (تحفة الأشراف: 3982)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/10، 52، 53، 59) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ بِالْبَصْرَةِ عَلَى بِسَاطِهِ، ثُمَّ حَدَّثَ أَصْحَابَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُصَلِّي عَلَى بِسَاطِهِ".
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں اپنے بچھونے پر نماز پڑھی ، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچھونے پر نماز پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1030]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں تصریح نہیں ہے کہ بچھونا کس چیز کا تھا غالباً روئی کا ہو گا تو کپڑے پر نماز پڑھنا جائز ہو گا، دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گرمی کی شدت سے زمین پر اپنا کپڑا بچھاتے پھر اس پر سجدہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ زمعة بن صالح ضعيف ¤ وحديث البخاري (6203) ومسلم (2150) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6310، ومصباح الزجاجة: 368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232) (صحیح) (اس کی سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 665)
64: بَابُ : السُّجُودِ عَلَى الثِّيَابِ فِي الْحَرِّ وَالْبَرْدِ
باب: گرمی اور سردی میں کپڑوں پہ سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: " جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى ثَوْبِهِ إِذَا سَجَدَ".
عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور بنو عبدالاشہل کی مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی ، تو میں نے دیکھا کہ آپ سجدے کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اپنے کپڑے پر رکھے ہوئے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1031]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن أبي حبيبة: فيه ضعف (تقريب: 433) أ ي من جھة جھالته لأنه مجھول والسند منقطع ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6578، ومصباح الزجاجة: 369) (ضعیف) (اس کی سند میں اسماعیل بن ابی حبیبہ ضعیف ہیں، نیز سند معضل ہے، عبد اللہ بن عبد الرحمن کے بعد عن أبیہ عن جدہ کا ذکر یہاں نہیں ہے، جو آگے آ رہا ہے، نیز خود عبد اللہ بن عبد الرحمن مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الارواء: 312)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْأَشْهَلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ مُتَلَفِّفٌ بِهِ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَيْهِ يَقِيهِ بَرْدَ الْحَصَى".
ثابت بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسجد ) بنو عبدالاشہل میں نماز پڑھی ، آپ اپنے جسم پہ ایک کمبل لپیٹے ہوئے تھے ، کنکریوں کی ٹھنڈک سے بچنے کے لیے اپنا ہاتھ اس پر رکھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1032]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة: ضعيف (ضعيف سنن الترمذ ي: 1462) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2061، ومصباح الزجاجة: 370) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل الأشہل ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، اور امام بخاری نے تاریخ کبیر میں عبد الرحمن بن ثابت کے بارے میں فرمایا کہ ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، 5/266 و الضعفاء الصغیرلہ: 69)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، فَإِذَا لَمْ يَقْدِرْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ جَبْهَتَهُ، بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے ، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پہ نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا بچھا لیتا ، اور اس پر سجدہ کرتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1033]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 23 (385)، المواقیت 11 (542)، العمل في الصلاة 9 (1208)، صحیح مسلم/المساجد 33 (620)، سنن ابی داود/الصلاة 93 (660)، سنن الترمذی/الجمعة 58 (584)، سنن النسائی/التطبیق 59 (1117)، (تحفة الأشراف: 250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 100، 400)، سنن الدارمی/الصلاة 82 (1376) (صحیح)
65: بَابُ : التَّسْبِيحِ لِلرِّجَالِ فِي الصَّلاَةِ وَالتَّصْفِيقِ لِلنِّسَاءِ
باب: نماز میں (غلطی پر تنبیہ کے لیے) مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نماز میں جب امام بھول جائے ، تو اس کو یاد دلانے کے لیے ) «سبحان الله» کہنا مردوں کے لیے ہے ، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1034]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام نماز میں بھول جائے، تو مرد «سبحان الله» کہہ کر اسے اس کی اطلاع دیں، اور عورت زبان سے کچھ کہنے کے بجائے دستک دے، اس کی صورت یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ کی دونوں انگلیوں سے اپنی بائیں ہتھیلی پر مارے، کچھ لوگ «سبحان اللہ» کہنے کے بجائے «الله أكبر» کہہ کر امام کو متنبہ کر تے ہیں، یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 5 (1203)، صحیح مسلم/الصلاة 23 (422)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (639)، 173، (939) سنن النسائی/السہو 15 (1208)، (تحفة الأشراف: 15141)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/261، 317، 6 37، 2 43، 440، 3 47، 479، 492، 507)، سنن الدارمی/الصلاة 95 (1403) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نماز میں جب امام بھول جائے ، تو اس کو یاد دلانے کے لیے ) مردوں کے لیے «سبحان الله» کہنا ہے ، اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1035]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4694)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة 5 (1204)، صحیح مسلم/الصلاة 23 (421)، سنن ابی داود/الصلاة 173 (941)، سنن الترمذی/الصلاة 156 (369)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 20 (61) سنن الدارمی/الصلاة 95 (1404) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عُمَر : " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ فِي التَّصْفِيقِ، وَلِلرِّجَالِ فِي التَّسْبِيحِ".
نافع کہتے تھے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز میں جب امام بھول جائے ، تو اس کو یاد دلانے کے لیے ) عورتوں کو تالی بجانے ، اور مردوں کو «سبحان الله» کہنے کی رخصت دی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1036]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سويد بن سعيد: ضعيف ضعفه الأئمة من أجل اختلاطه ولا يحتج به إلا ما يروي عنه مسلم في صحيحه ¤ والحديث السابق (الأصل: 1035) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7508 و 8225، ومصباح الزجاجة: 371) (صحیح) (سند میں سوید بن سعید میں ضعف ہے، لیکن سابقہ شواہد سے یہ صحیح ہے، نیز بوصیری نے اس سند کی تحسین کی ہے، اور شواہد ذکر کئے ہیں)
66: بَابُ : الصَّلاَةِ فِي النِّعَالِ
باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْسٍ ، قَالَ: كَانَ جَدِّي أَوْسٌ أَحْيَانًا يُصَلِّي، فَيُشِيرُ إِلَيَّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَأُعْطِيهِ نَعْلَيْهِ وَيَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ".
ابن ابی اوس کہتے ہیں کہ میرے دادا اوس رضی اللہ عنہ کبھی نماز پڑھتے ہوئے مجھے اشارہ کرتے تو میں انہیں ان کے جوتے دے دیتا ( وہ پہن لیتے اور نماز پڑھتے ) اور ( پھر نماز کے بعد ) کہتے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1037]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں، بلکہ علماء نے خاص اس مسئلہ میں مستقل رسالے لکھے ہیں، حاصل یہ ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا مستحب اور مسنون ہے، اور جو کہتا ہے کہ جوتے اتار کر پڑھنا ادب ہے اس کا قول غلط ہے اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فعل خلاف ادب نہیں ہو سکتا، دوسری حدیث میں ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھو اور یہود کی مخالفت کرو، وہ جوتے پہن کر نماز نہیں پڑھتے، البتہ یہ ضروری ہے کہ جوتے پاک و صاف ہوں، مگر ہماری شریعت میں جوتوں کی پاکی یہ رکھی گئی ہے کہ ان کو زمین سے رگڑ دے، اور جوتوں کا دھونا کسی حدیث سے ثابت نہیں، اور نہ سلف صالحین ہی سے منقول ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ تمدن اور شہریت کے اس زمانہ میں جب کہ مساجد میں فرش اور قالین بچھانے کا رواج ہے تو ان میں جوتا پہن کر جانا نامناسب ہے خاص کر برصغیر کے شہروں اور دیہاتوں کی مساجد میں کہ یہاں کی مٹی اور کیچڑ نیز راستہ کی گندگی اور کوڑا کرکٹ انسان کے جوتے اور کپڑوں میں لگ کر اس کو گندا کر دیتے ہیں، رہ گئی بات عرب دنیا کی تو وہاں پر عام زمین ریتیلی اور پہاڑی ہے اور بالعموم جوتے یا بدن میں لگنے کے بعد بھی خود سے یا رگڑنے سے صاف ہو جاتی ہے، بہرحال صفائی اور ستھرائی کا خیال کرنا بہت اہم مسئلہ ہے، اور صاف جوتے پہن کر مناسب مقام میں نماز پڑھنے کا جواز ایک الگ مسئلہ ہے، چنانچہ عرب ملکوں میں آج بھی لوگ جوتے پہن کر نماز ادا کرتے ہیں، لیکن مساجد میں جوتے پہن کر نماز نہیں ادا کرتے بلکہ اس کے لئے اندر اور باہر جگہیں ہر مسجد میں موجود ہوتی ہیں، جہاں انہیں رکھ کر آدمی مسجد میں داخل ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1742، ومصباح الزجاجة: 372)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/108) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَال: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کبھی جوتے نکال کر اور کبھی جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1038]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 89 (653)، (تحفة الأشراف: 8686)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/174، 179، 206، 215) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ وَالْخُفَّيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے ، اور موزے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1039]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9473، ومصباح الزجاجة: 373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/461) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں ابو اسحاق مدلس و مختلط ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، اور زہیر بن معاویہ خدیج کی ان سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے)
67: بَابُ : كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں بال اور کپڑے سمیٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ لَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں نماز میں بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1040]
💡 وضاحت:
۱؎: سمیٹنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بالوں اور کپڑوں کو مٹی نہ لگے، تو اس سے نمازی کو منع کیا گیا، اس لئے بالوں اور کپڑوں کو اپنے حال پر رہنے دے، چاہے مٹی لگے یا نہ لگے، اس لئے کہ اللہ تعالی کے آگے رکوع و سجود میں اگر مٹی لگ جائے تو یہ تواضع، انکساری اور عاجزی کی نشانی ہے، جو یقینا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 133 (809)، 134 (810)، 137 (815)، 138 (816)، صحیح مسلم/الصلاة 44 (490)، سنن ابی داود/الصلاة 155 (889، 890)، سنن الترمذی/الصلاة 88 (273)، سنن النسائی/التطبیق 40 (1094)، 43 (1097)، 45 (1099)، 56 (1114)، 58 (1116)، (تحفة الأشراف: 5734)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/221، 222، 255، 270، 279، 280، 285، 286، 290، 305، 324)، سنن الدارمی/الصلاة 73 (1357) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " أُمِرْنَا أَلَّا نَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا، وَلَا نَتَوَضَّأَ مِنْ مَوْطَإٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور زمین پر چلنے کے سبب دوبارہ وضو نہ کریں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1041]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر وضو کر کے زمین پر چلیں، اور پاؤں یا کپڑوں میں کوئی نجاست اور گندگی لگ جائے، تو وضو کا دہرانا ضروری نہیں صرف انہیں دھو ڈالنا کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (204) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة 81 (204)، (تحفة الأشراف: 9268) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُخَوَّلُ بْنُ رَاشِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ عَقَصَ شَعْرَهُ، فَأَطْلَقَهُ، أَوْ نَهَى عَنْهُ، وَقَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ عَاقِصٌ شَعَرَهُ".
مدینہ کے ایک باشندہ ابوسعد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولی ابورافع کو دیکھا کہ انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو اس حال میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے تھے ، ابورافع رضی اللہ عنہ نے اسے کھول دیا ، یا اس ( جوڑا باندھنے ) سے منع کیا ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بالوں کو جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1042]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ سجدے میں اگر بال کھلے ہوں گے تو وہ بھی سجدہ کریں گے، اور جب جوڑا باندھ لیا جائے تو بال زمین پر نہ گریں گے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر مرد کے بال لمبے ہوں تو وہ ان کا جوڑا باندھ سکتا ہے، لیکن نماز کے وقت کھول دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12029)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 88 (646)، سنن الترمذی/الصلاة 165 (384)، مسند احمد (6/8، 391)، سنن الدارمی/الصلاة 105 (1420) (صحیح)
68: بَابُ : الْخُشُوعِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں خشوع و خضوع کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَرْفَعُوا أَبْصَارَكُمْ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ تَلْتَمِعَ" يَعْنِي: فِي الصَّلَاةِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( نماز کی حالت میں ) اپنی نگاہیں آسمان کی طرف نہ اٹھاؤ ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بینائی چھین لی جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1043]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7017، ومصباح الزجاجة: 374) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِأَصْحَابِهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ، حَتَّى اشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَيَخْطَفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب رخ کر کے فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی نگاہیں ( بحالت نماز ) آسمان کی جانب اٹھاتے رہتے ہیں ؟ “ ، یہاں تک کہ بڑی سختی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تک فرما دیا : ” لوگ اس سے ضرور باز آ جائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی نگاہیں اچک لے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1044]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 2 9 (750)، سنن ابی داود/الصلاة 7 6 1 (913)، سنن النسائی/السہو 9 (1194)، (تحفة الأشراف: 1173)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/109، 112، 115، 116، 140، 258)، سنن الدارمی/ الصلاة 7 6 (1340) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ، أَوْ لَا تَرْجِعُ أَبْصَارُهُمْ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کو ( نماز کی حالت میں ) آسمان کی طرف اپنی نگاہیں اٹھانے سے باز آ جانا چاہیئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں ( صحیح سالم ) نہ لوٹیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1045]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نماز کے اندر اس کام سے باز آ جائیں، اور بعضوں نے کہا کہ جب دعا کرتا ہو تو نماز سے باہر بھی نگاہ اٹھانی مکروہ ہے، اور اکثر لوگوں نے نماز سے باہر نگاہ اٹھانے کو جائز کہا ہے، اس بناء پر کہ دعا کا قبلہ آسمان ہے جیسے نماز کا قبلہ کعبہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 23 (428)، (تحفة الأشراف: 2130)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 167 (912)، مسند احمد (5/90، 93، 101، 108، سنن الدارمی/الصلاة 67 (1339) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ، فَإِذَا رَكَعَ قَالَ: هَكَذَا يَنْظُرُ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ سورة الحجر آية 24 فِي شَأْنِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی ، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی ، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں ، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ : «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ” ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو ، اور پیچھے رہنے والوں کو “ ( سورۃ الحجر : ۲۴ ) نازل فرمائی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1046]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3122) نسائي (871) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/التفسیر سورة 15/1 (3122)، سنن النسائی/الإمامة 62 (871)، (تحفة الأشراف: 5364)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/305) (صحیح)
69: بَابُ : الصَّلاَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ
باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں “ ؟ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1047]
💡 وضاحت:
۱؎: اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کو دو کپڑے نہیں مل سکتے، اکثر کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، اور نماز سب پر فرض ہے، تو ضرور ایک کپڑے میں نماز جائز ہو گی، جمہور علماء کے نزدیک نماز ایک کپڑے میں جائز ہے گو اس کے پاس دوسرے کپڑے بھی ہوں، اور بعضوں نے کہا کہ افضل یہ ہے کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھے گو ایک کپڑے میں بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13145)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلا 49 (258)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (515)، سنن ابی داود/الصلاة 8 7 (625)، سنن النسائی/القبلة 14 (764)، موطا امام مالک/الجماعة 9 (30)، مسند احمد (6/230، 239، 285، 345، 495، 498، 499، 501)، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1410) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، أَنَّهُ: " دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1048]
💡 وضاحت:
۱؎: «متوشحًا» یعنی لپیٹے ہوئے، تو «شح» یہ ہے کہ کپڑے کا جو کنارہ داہنے کندھے پر ہو اس کو بائیں بغل کے نیچے سے لے جائے، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینے پر گرہ دے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 52 (519)، (تحفة الأشراف: 3982) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم" يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ".
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ، اور اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1049]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة4 (354، 355)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (517)، سنن الترمذی/الصلاة 138 (339)، سنن النسائی/القبلة 14 (765)، (تحفة الأشراف: 10684)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 78 (678)، موطا امام مالک/الجماعة 9 (29)، مسند احمد (4/26، 27) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَنْظَلَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ مُشْكَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِالْبِئْرِ الْعُلْيَا فِي ثَوْبٍ".
کیسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1050]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن كيسان مستور (تقريب:3992) ¤ والحديث السابق (الأصل: 1049) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (02تحفة الأشراف: 11170، ومصباح الزجاجة: 376)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/417) (حسن) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن کیسان مستور اور محمد بن حنظلہ غیر معروف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 379 بتحقیق الشہری)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَلَبِّبًا بِهِ".
کیسان بن جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ظہر و عصر ایک ہی کپڑے میں پڑھ رہے تھے ، اس حال میں کہ آپ اس کو لپیٹے ہوئے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1051]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (1050) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11170، مصباح الزجاجة: 375) (حسن) (بوصیری نے اس اسناد کی تحسین کی ہے)
70: بَابُ : سُجُودِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کے سجدوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ، فَأَبَيْتُ، فَلِي النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب انسان آیت سجدہ تلاوت کرتا اور سجدہ کرتا ہے ، تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے ، اور کہتا ہے : ہائے خرابی ! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا ، اس نے سجدہ کیا ، اب اس کے لیے جنت ہے ، اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا ، میں نے انکار کیا ، میرے لیے جہنم ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1052]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 35 (81)، (تحفة الأشراف: 12524)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/443) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ، قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، يَا حَسَنُ، أَخْبَرَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي إِلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ، فَقَرَأْتُ: السَّجْدَةَ، فَسَجَدْتُ، فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: اللَّهُمَّ احْطُطْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاكْتُبْ لِي بِهَا أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ۱؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے ، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں ، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا ، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا ، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا «اللهم احطط عني بها وزرا واكتب لي بها أجرا واجعلها لي عندك ذخرا» ” اے اللہ ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے ، اور میرے لیے اجر لکھ دے ، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے “ ۲؎ ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا ، تو میں نے سنا آپ سجدہ میں وہی دعا پڑھ رہے تھے ، جو اس آدمی نے درخت سے سن کر بیان کی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1053]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں پر شخص سے مراد ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ دوسری روایت میں تصریح ہے۔ ۲؎: سجدہ تلاوت میں یہ دعا پڑھے، یا «سبحان ربي الأعلى» کہے، یا وہ دعا جو آگے آ رہی ہے، بعض نے کہا کہ یہ دعا پڑھے: «سبحان ربنا إن كان وعد ربنا لمفعولا» ۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجمعة 55 (579)، الدعوات 33 (3424)، (تحفة الأشراف: 5867) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا سَجَدَ قَالَ: " اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي شَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو فرماتے : «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت أنت ربي سجد وجهي للذي شق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين» ” اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا ، اور تجھ ہی پر ایمان لایا ، اور تیرا ہی فرماں بردار ہوا تو میرا رب ہے ، اور میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے کان اور آنکھ کو بنایا ، اللہ تعالیٰ کتنا بابرکت ہے جو سب سے اچھا بنانے والا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1054]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (771)، سنن ابی داود/الصلاة121 (760)، سنن الترمذی/الدعوات 32 (3421، 3422)، سنن النسائی/الافتتاح 17 (898)، (تحفة الأشراف: 10228)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/95، 102) (صحیح)
71: بَابُ : عَدَدِ سُجُودِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ ، أَنَّهُ: " سَجَدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً مِنْهُنَّ النَّجْمُ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے ، ان میں سے ایک سورۃ النجم کا سجدہ بھی تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1055]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (568) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجمعة 47 (568، 569)، (تحفة الأشراف: 10993)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 328 (1401)، مسند احمد (5/194) (ضعیف) (اس کی سند میں عمر الدمشقی مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَائِدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ الْمَهْدِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَهَ بْنِ خَاطِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: " سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً لَيْسَ فِيهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ شَيْءٌ: الْأَعْرَافُ، وَالرَّعْدُ، وَالنَّحْلُ، وَبَنِي إِسْرَائِيلَ، وَمَرْيَمُ، وَالْحَجُّ، وَسَجْدَةُ الْفُرْقَانِ، وَسُلَيْمَانُ سُورَةِ النَّمْلِ، وَالسَّجْدَةُ، وَفِي ص، وَسَجْدَةُ الْحَوَامِيمِ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے ، جن میں سے کوئی مفصل میں نہ تھا ( اور وہ گیارہ سجدے ان سورتوں میں تھے ) : اعراف ، رعد ، نحل ، بنی اسرائیل ، مریم ، حج ، فرقان ، نمل ، سورۃ السجدۃ ، سورۃ ص اور سورۃ حم سجدہ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1056]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ المھدي بن عبد الرحمٰن: مجهول وعثمان بن فائد ضعيف (تقريب: 6931،4509) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10997، ومصباح الزجاجة: 377) (ضعیف) (اس کی سند میں عثمان بن فائد ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سَعِيدٍ الْعُتَقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ: مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، وَفِي الْحَجِّ سَجْدَتَيْنِ".
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے ، ان میں سے تین سجدے مفصل میں اور دو سجدے سورۃ الحج میں ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1057]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1401) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 328 (1401)، (تحفة الأشراف: 10735) (ضعیف) (اس کی سند میں حارث بن سعید العتقی مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ : «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1058]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 20 (578)، سنن ابی داود/الصلاة 331 (1407)، سنن الترمذی/الصلاة 285 (573)، سنن النسائی/الافتتاح 52 (968)، (تحفة الأشراف: 14206)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 100 (766)، مسند احمد (2/249، 461، سنن الدارمی/الصلاة 162، (1509) (صحیح) (اس کی سند میں عطاء بن میناء مجہول ہیں، لیکن دوسری صحیح سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَجَدَ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ"، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَذْكُرُهُ غَيْرَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے : «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے مروی ہے ، میں نے ان کے علاوہ کسی اور کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1059]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 5 28 (573)، سنن النسائی/الافتتاح 51 (964)، (تحفة الأشراف: (14865)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/247) (صحیح)
72: بَابُ : إِتْمَامِ الصَّلاَةِ
باب: نماز کو مکمل طور پر ادا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ، فَسَلَّمَ فَقَالَ" وَعَلَيْكَ، فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " وَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ بَعْدُ"، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَاعِدًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے ، اس نے آ کر آپ کو سلام کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور تم پر بھی سلام ہو ، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی “ ، وہ واپس گیا اور اس نے پھر سے نماز پڑھی ، پھر آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : ” اور تم پر بھی سلام ہو ، جاؤ پھر سے نماز پڑھو ، تم نے ابھی بھی نماز نہیں پڑھی “ ، آخر تیسری مرتبہ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز کا ارادہ کرو تو کامل وضو کرو ، پھر قبلے کی طرف منہ کرو ، اور «الله أكبر» کہو ، پھر قرآن سے جو تمہیں آسان ہو پڑھو ، پھر رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ پورا اطمینان ہو جائے ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھاؤ ، اور پورے اطمینان کے ساتھ قیام کرو ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں مطمئن ہو جاؤ ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے بیٹھ جاؤ ، پھر اسی طرح اپنی ساری نماز میں کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1060]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث «مسيء الصلاة» کے نام سے اہل علم کے یہاں مشہور ہے، اس لئے کہ صحابی رسول خرباق رضی اللہ عنہ نے یہ نماز اس طرح پڑھی تھی جس میں ارکان نماز یعنی قیام، رکوع اور سجود وغیرہ کو اچھی طرح نہیں ادا کیا تھا جس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی، اور نماز کی یہ تفصیل بیان کی، یعنی ساری نماز کو اسی طرح اطمینان اور تعدیل ارکان کے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت کی، ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اس شخص نے ہلکی نماز پڑھی تھی، اور رکوع اور سجدے کو پورا نہیں کیا تھا، اس حدیث سے صاف معلوم ہوا ہے کہ نماز میں تعدیل ارکان یعنی اطمینان کے ساتھ رکوع، سجود اور قومہ و جلسہ ادا کرنا فرض ہے، جب ہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔ ائمہ حدیث نیز امام شافعی، امام احمد، اور امام ابو یوسف وغیرہم نے یہ اور اس طرح کی دوسری احادیث کے پیش نظر تعدیل ارکان کو فرض اور واجب کہا ہے، اور امام ابوحنیفہ اور امام محمد نے تعدیل ارکان کو فرض نہیں کہا، بلکہ کرخی کی روایت میں واجب کہا ہے، اور جرجانی کی روایت میں سنت کہا ہے، وجوب اور فرضیت کے قائلین کا استدلال یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں جتنی باتیں بتائی ہیں وہ سب کی سب یا شروط نماز میں سے ہیں جیسے وضو، استقبال قبلہ، یا فرائض و واجبات میں سے، جیسے تکبیر تحریمہ، قرأت فاتحہ، وغیرہ وغیرہ، اور اگر یہ اعمال فرض نہ ہوتے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس صحابی کو بار بار نماز ادا کرنے کے لئے کیوں حکم دیتے؟ اور یہ فرماتے کہ ابھی تمہاری نماز نہیں ہوئی، یہ اور اس طرح کی احادیث کی روشنی میں تعدیل ارکان کو فرض اور واجب کہنے والے ائمہ کا مسلک صحیح اور راجح ہے، اس کے مقابل میں صرف ان چیزوں کو سنت کہنے والے ائمہ کے اتباع اور مقلدین کے طریقہ نماز کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کافی ہے کہ خشوع و خضوع اور تعدیل ارکان کی کتنی اہمیت ہے، اور اس کے مقابل میں سب سے اہم عبادت کو اس طرح ادا کرنا کہ کسی طور پر بھی اطمئنان نہ ہو بس جلدی جلدی ٹکریں مار لی جائیں، یہ بعینہ وہی نماز ہو جائے گی جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی سے فرمایا کہ تم نے نماز ہی نہیں ادا کی اس لئے دوبارہ نماز ادا کرو، «والله الهادي إلى الصواب» .
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاستئذان 81 (6251)، الأیمان والنذور 15 (6667)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (397) سنن ابی داود/الصلاة 8 14 (856)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (2692)، (تحفة الأشراف: 12983)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 7 (885)، التطبیق 15 (1054)، السہو 66 (1314)، مسند احمد (2/7 43) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيَقِرَّ كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ مُعْتَمِدًا، لَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ وَيُجَافِي بَيْنَ يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَجْلِسُ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بَقِيَّةَ صَلَاتِهِ هَكَذَا، حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي يَنْقَضِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ وَجَلَسَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ مُتَوَرِّكًا"، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کی موجودگی میں ۱؎ ، جن میں ایک ابوقتادہ رضی اللہ عنہ تھے ، ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں ، لوگوں نے کہا : کیسے ؟ جب کہ اللہ کی قسم آپ نے ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی ہے اور نہ آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے ؟ ، ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ... ضرور لیکن میں آپ لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں ، لوگوں نے کہا : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز بیان کریں ، انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «الله أكبر» کہتے ، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، اور آپ کا ہر عضو اپنی جگہ پر برقرار رہتا ، پھر قراءت کرتے ، پھر «الله أكبر» کہتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) ، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک کر رکھتے ، نہ تو اپنا سر پیٹھ سے نیچا رکھتے نہ اونچا بلکہ پیٹھ اور سر دونوں برابر رکھتے ، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے ، اور دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جاتی ، پھر زمین کی طرف ( سجدہ کے لیے ) جھکتے اور اپنے دونوں ہاتھ پہلو سے جدا رکھتے ، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے ، اور سجدہ میں پاؤں کی انگلیاں کھڑی رکھتے ، پھر سجدہ کرتے ، پھر «الله أكبر» کہتے ، اور اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی ، پھر کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے ، پھر جب دو رکعتوں کے بعد ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے ، تو اپنے دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ۳؎ ، پھر اپنی باقی نماز اسی طرح ادا فرماتے ، یہاں تک کہ جب اس آخری سجدہ سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام ہے تو بائیں پاؤں کو ایک طرف نکال دیتے ، اور بائیں پہلو پہ سرین کے بل بیٹھتے ۲؎ ، لوگوں نے کہا : آپ نے سچ کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے ۳؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1061]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا یہ حدیث دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت کی کیونکہ ان سب نے ابوحمید رضی اللہ عنہ کے کلام کی تصدیق کی۔ ۲؎: اس بیٹھک کو تورّک کہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ آخری تشہد میں تورک مسنون ہے، رہی افتراش والی روایت تو وہ مطلق ہے اس میں یہ نہیں کہ یہ دونوں تشہد کے لئے ہے یا پہلے تشہد کے لئے ہے، ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی اس روایت نے اس اطلاق کی کر دی ہے اور یہ کہ افتراش پہلے تشہد میں ہے اور تورّک آخری تشہد میں ہے۔ تورّک کے مسئلہ میں اختلاف ہے، یعنی تشہد میں سرین (چوتڑ) کے بل بیٹھے یا نہ بیٹھے، بعض نے کہا کہ دونوں قعدوں (تشہد) میں تورّک کرے، امام مالک کا یہی مذہب ہے، اور بعض نے کہا کسی قعدہ (تشہد) میں تورک نہ کرے، بلکہ بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے، یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے، اور بعض نے کہا کہ جس قعدہ (تشہد) کے بعد سلام ہو تو اس میں تورّک کرے، خواہ وہ پہلا تشہد ہو، جیسے نماز فجر میں، یا دوسرا تشہد ہو، جیسے چار یا تین رکعتوں والی نماز، اور جس قعدہ (تشہد) کے بعد سلام نہ ہو اس میں بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھے، اور یہ امام شافعی کا مذہب ہے، اور بعض نے کہا کہ جس نماز میں دو قعدے ہوں تو دوسرے قعدہ میں تورک کرے، اور جس نماز میں ایک ہی قعدہ ہو تو اس میں بایاں پاؤں بچھا کر بیٹھے، امام احمد اور اہل حدیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور حدیث سے یہی ثابت ہے۔ ۳؎: اس روایت سے ان لوگوں کے قول کی بھی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رفع یدین شروع اسلام میں تھا بعد میں منسوخ ہو گیا کیونکہ حدیث کا سیاق یہ بتا رہا ہے کہ ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں ان سے جو گفتگو کی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز میں چار جگہوں پر رفع یدین کیا جائے گا، تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے، اور قعدہ اولیٰ (پہلے تشہد) کے بعد تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 145 (828)، لارسنن ابی داود/الصلاة 181 (963، 964)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (304، 305)، سنن النسائی/التطبیق 6 (1040)، (تحفة الأشراف: 11897)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/424)، سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَت: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ سَمَّى اللَّهَ، وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، فَيُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيُقِيمُ صُلْبَهُ، وَيَقُومُ قِيَامًا هُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلًا، ثُمَّ يَسْجُدُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَجْلِسُ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى، وَيَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ".
عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی تھی ؟ انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر «بسم الله» کہتے اور وضو مکمل کرتے ، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے ، پھر رکوع کرتے ، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے ، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے ، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے ، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے ، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تک ہو سکتا اپنے بازوؤں کو ( اپنی بغلوں سے ) جدا رکھتے ، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے ، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے ، ( اور قعدہ اولیٰ میں ) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1062]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حارثة: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17888) (ضعیف جدا) (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 874)
73: بَابُ : تَقْصِيرِ الصَّلاَةِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، وَالْجُمُعَةُ رَكْعَتَانِ، وَالْعِيدُ رَكْعَتَانِ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ، عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے ، جمعہ اور عید بھی دو رکعت ہیں ، بہ زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کامل ہیں ناقص نہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1063]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سفر میں دو ہی رکعتیں واجب ہیں، اور یہ نہیں ہے کہ چار واجب تھیں سفر کی وجہ سے دو ہو گئیں اب قرآن کریم میں جو آیا ہے: «وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة» جب تم سفر میں ہو تو تم پر نماز کو قصر پڑھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے (سورۃ النساء: ۱۰۱)، یہاں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، کہ یہ آیت سفر میں نازل ہوئی، اور خوف کی قید اتفاقی ہے، مفسرین کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے، یا خوف کی حالت میں نازل ہوئی، اور سفر کی حالت اتفاقی ہے، مفسرین کی ایک جماعت نے آیت میں قصر سے مراد رکوع اور سجود کو ایما اور اشارہ سے کرنے کے معنی میں لیا ہے، اور امام بخاری نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نماز پہلے دو ہی رکعت فرض ہوئی تھی پھر سفر کی نماز اپنی حالت پر باقی رہی اور حضر میں دو دو رکعتیں بڑھا دی گئیں، اکثر ائمہ کے یہاں سفر میں قصر واجب ہے، امام ابوحنیفہ کے یہاں اتمام ناجائز ہے، اور امام شافعی کے نزدیک سفر میں قصر و اتمام دونوں جائز ہے، اور قصر افضل ہے، اور احادیث سے قصر کا وجوب ہی ثابت ہوتا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسفار میں ہمیشہ قصر ہی ثابت ہے، ملاحظہ ہو: (الروضہ الندیہ: ۱/۳۷۳، ۳۷۴)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10596، ومصباح الزجاجة: 378)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة 37 (1421)، مسند احمد (1/37) (صحیح) (سند میں شریک القاضی سیء الحفظ ہیں، لیکن سفیان ثوری نے مسند احمد میں ان کی متابعت کی ہے، اور عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ کا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع مختلف فیہ ہے، لیکن بعض علماء نے سماع کو ثابت مانا ہے، ملاحظہ ہو: نصب الرایہ: 2/189، و الإرواء: 3/106)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: " صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ، وَالْفِطْرُ وَالْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ، عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے ، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے ، عید الفطر اور عید الاضحی کی دو دو رکعت ہے ، بہ زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کامل ہیں ناقص نہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1064]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10629، ومصباح الزجاجة: 379) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قُلْتُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا، وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ".
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، میں نے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» ” نماز قصر کرنے میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر کافروں کی فتنہ انگیزیوں کا ڈر ہو “ ( سورۃ النساء : ۱۰۱ ) ، اب اس وقت تو لوگ مامون ( امن و امان میں ) ہو گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا : جس بات پر تمہیں تعجب ہوا مجھے بھی اسی پر تعجب ہوا تھا ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ صدقہ ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے ، لہٰذا تم اس کے صدقہ کو قبول کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1065]
💡 وضاحت:
۱؎: اللہ تعالیٰ کا ایک صدقہ ہمارے اوپر یہ ہے کہ سفر میں دشمنوں کا ڈر نہ رہتے بھی نماز قصر مشروع اور ثابت ہے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام اسفار میں قصر کرتے تھے، اس حدیث سے بھی قصر کے وجوب کی تائید ہوتی ہے، اس لئے کہ اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے صدقے کو قبول کرنے کا حکم دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 1 (686)، سنن ابی داود/الصلاة270 (1199، 1200)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء (3034)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 1 (1434)، (تحفة الأشراف: 10659)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/25، 36)، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1546) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْر بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : " إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ، وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: " إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : ہم قرآن میں نماز حضر اور نماز خوف کا ذکر پاتے ہیں ، لیکن سفر کی نماز کا ذکر نہیں پاتے ؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا : اللہ تعالیٰ نے ہماری جانب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے ، اور ہم دین کی کچھ بھی بات نہ جانتے تھے ، ہم وہی کرتے ہیں جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1066]
💡 وضاحت:
۱؎: حالانکہ قرآن کریم میں یہ آیت موجود ہے: «وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» اخیر تک، یعنی: جب تم زمین میں سفر کرو تو نماز کے قصر کرنے میں تم پر گناہ نہیں، اگر تم کو ڈر ہو کہ کافر تم کو ستائیں گے، اس آیت سے سفر کی نماز کا حکم نکلتا ہے، مگر چونکہ اس میں قید ہے کہ اگر تم کو کافروں کا ڈر ہو تو امیہ بن عبداللہ نے نماز خوف سے اس کو خاص کیا، کیونکہ صرف سفر کا حکم جس میں ڈر نہ ہو قرآن میں نہیں پایا، اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حکم صاف طور سے قرآن میں نہیں ہے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے مطلق سفر میں قصر کرنا ثابت ہے، پس حدیث سے جو امر ثابت ہو اس کی پیروی تو ویسے ہی ضروری ہے، جیسے اس امر کی جو قرآن سے ثابت ہو، ہم تک قرآن اور حدیث دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے پہنچا ہے، اور قرآن میں حدیث کی پیروی کا صاف حکم ہے، جو کوئی صرف قرآن پر عمل کرنے کا دعویٰ کرے، اور حدیث کو نہ مانے وہ گمراہ ہے، اور اس نے قرآن کو بھی نہیں مانا، اس لئے کہ قرآن میں صاف حکم ہے: «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» اور فرمایا: «من يطع الرسول فقد أطاع الله» اور یہ ممکن نہیں کہ حدیث کے بغیر کوئی قرآن پر عمل کر سکے، اس لئے کہ قرآن مجمل ہے، اور حدیث اس کی تفسیر ہے، مثلاً قرآن میں نماز ادا کرنے کا حکم ہے لیکن اس کے شرائط، ارکان، اور کیفیات کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، اسی طرح زکاۃ، حج، روزہ وغیرہ دین کے ارکان بھی صرف قرآن دیکھ کر ادا نہیں ہو سکتے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه» خبردار ہو! مجھے قرآن دیا گیا، اور اس کے مثل ایک اور، یعنی حدیث۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/التقصیر1 (1435)، (تحفة الأشراف: 6380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/66، 94) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس شہر سے باہر نکلتے تو دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے یہاں تک کہ آپ یہاں لوٹ آتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1067]
💡 وضاحت:
۱؎: حالانکہ مدینہ سے نکلتے ہی کافروں کا ڈر نہ ہوتا، پھر معلوم ہوا کہ بغیر ڈر کے بھی سفر میں قصر درست ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسافر جب شہر سے نکل جائے اس وقت سے قصر شروع کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6655)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/99، 124) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، وَجُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " افْتَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے حضر ( اقامت ) میں چار رکعتیں اور سفر میں دو رکعتیں فرض کیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1068]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین (687)، سنن ابی داود/الصلاة 287 (1247)، سنن النسائی/الصلاة 3 (457)، التقصیر1 (1443) الخوف 1 (1533)، (تحفة الأشراف: 6380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/237، 243) (صحیح)
74: بَابُ : الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں جمع بین الصلاتین (دو نمازیں جمع کرنے) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، وَطَاوُسٍ ، أَخْبَرُوهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُعْجِلَهُ شَيْءٌ، وَلَا يَطْلُبَهُ عَدُوُّ، وَلَا يَخَافَ شَيْئًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کی نماز کو سفر میں جمع کرتے تھے ، نہ تو آپ کو کسی چیز کی عجلت ہوتی ، نہ کوئی دشمن آپ کا پیچھا کئے ہوئے ہوتا ، اور نہ آپ کو کسی چیز کا خوف ہی ہوتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1069]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع الأنصاري: ضعيف (تقريب: 148) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5550، 5907، 6411)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فِي السَّفَرِ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر ، اور مغرب و عشاء کی نماز کو غزوہ تبوک کے سفر میں جمع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1070]
💡 وضاحت:
۱؎: «جمع بین الصلاتین» کی دو قسمیں ہیں: ایک صوری، دوسری حقیقی، پہلی نماز کو آخر وقت میں اور دوسری نماز کو اوّل وقت میں پڑھنے کو جمع صوری کہتے ہیں، اور ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں جمع کر کے پڑھنے کو جمع حقیقی کہتے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں ایک جمع تقدیم، دوسری جمع تاخیر، جمع تقدیم یہ ہے کہ ظہر کے وقت میں عصر اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھی جائے، اور جمع تاخیر یہ ہے کہ عصر کے وقت میں ظہر اور عشاء کے وقت میں مغرب پڑھی جائے، یہ دونوں جمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ جمع سے مراد جمع حقیقی ہے کیوں کہ جمع کی مشروعیت آسانی کے لیے ہوئی ہے اور جمع صوری کی صورت میں تو اور زیادہ پریشانی اور زحمت ہے کیوں کہ تعیین کے ساتھ اول اور آخر وقت کا معلوم کرنا بہت دشوار امر ہے، اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ «جمع بین الصلاتین» کی رخصت عرفہ اور مزدلفہ کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بھی دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے، واضح رہے کہ «جمع بین الصلاتین» کے لئے سفر کا تسلسل شرط نہیں، سفر کے دوران قیام کی حالت میں بھی «جمع بین الصلاتین» جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 6 (706)، سنن ابی داود/الصلاة 274 (1206 و 1208)، سنن النسائی/المواقیت 42 (588)، (تحفة الأشراف: 11320)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 277 (553)، موطا امام مالک/ قصر الصلاة 1 (1)، سنن الدارمی/الصلاة 182 (1556) (صحیح)
75: بَابُ : التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں نوافل پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَهُ وَانْصَرَفَ، قَالَ: فَالْتَفَتَ، فَرَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، ثُمَّ صَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَبَضَهُمُ اللَّهُ، وَاللَّهُ يَقُولُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21".
حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی ، پھر ہم ان کے ساتھ لوٹے ، انہوں نے مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے ، پوچھا : یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا : سنت پڑھ رہے ہیں ، انہوں نے کہا : اگر مجھے نفلی نماز ( سنت ) پڑھنی ہوتی تو میں پوری نماز پڑھتا ، میرے بھتیجے ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی ، پھر میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ، تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی ، پھر میں عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی ، اور پوری زندگی ان سب لوگوں کا یہی عمل رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی ، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ” تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے “ ( سورۃ الاحزاب : ۲۱ ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1071]
💡 وضاحت:
۱؎: تو نماز ایسی عبادت میں بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سنت سے زیادہ پڑھنا مناسب نہ جانا، یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کمال اتباع ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں بہت سخت تھے، یہاں تک کہ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ان مقامات پر ٹھہرتے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرتے تھے، اور وہیں نماز ادا کرتے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ سفر میں نماز کی سنتوں کے پڑھنے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، اکثر کا یہ قول ہے کہ اگر پڑھے گا تو ثواب ہو گا، اور خود ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ترمذی کی روایت میں ظہر کی سنتیں پڑھنا منقول ہے، اور بعض علماء کا یہ قول ہے کہ سفر میں صرف فرض ادا کرے، سنتیں نہ پڑھے، ہاں عام نوافل پڑھنا جائز ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اسفار مبارکہ میں فرض نماز سے پہلے یا بعد کی سنتوں کو نہیں پڑھتے تھے، سوائے فجر کی سنت اور وتر کے کہ ان دونوں کو سفر یا حضر کہیں نہیں چھوڑتے تھے، نیز عام نوافل کا پڑھنا آپ سے سفر میں ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 11 (1101)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (689)، سنن ابی داود/الصلاة 276 (1223)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 5 (1459)، (تحفة الأشراف: 6693)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/224)، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1547) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ أَنَّه سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ، وَصَلَاةَ السَّفَرِ، فَكُنَّا نُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا، وَكُنَّا نُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا".
اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سفر میں نفل پڑھنے کے بارے سوال کیا ، اور اس وقت ان کے پاس حسن بن مسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے ، تو حسن نے کہا : طاؤس نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر اور سفر دونوں کی نماز فرض کی ، تو ہم حضر میں فرض سے پہلے اور اس کے بعد سنتیں پڑھتے ، اور سفر میں بھی پہلے اور بعد نماز پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1072]
قال الشيخ الألباني: منكر مخالف للحديث
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5696، ومصباح الزجاجة: 380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232) (منکر) (اسامہ بن زید میں کچھ ضعف ہے، اور یہ حدیث سابقہ حدیث اور خود ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک حدیث سے معارض ہے، نیز سنن نسائی میں ابن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں دو رکعت سے زیادہ (فرض) نہیں پڑھتے تھے، اور نہ اس فریضہ سے پہلے اور نہ اس کے بعد (نوافل) پڑھتے تھے، (1459)، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/605)
76: بَابُ : كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ الْمُسَافِرُ إِذَا أَقَامَ بِبَلْدَةٍ
باب: جب مسافر کسی مقام پر ٹھہرے تو کتنے دنوں تک قصر کر سکتا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ السَّائِب بْنَ يَزِيدَ مَاذَا سَمِعْتَ فِي سُكْنَى مَكَّةَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثًا لِلْمُهَاجِرِ بَعْدَ الصَّدَرِ".
عبدالرحمٰن بن حمید زہری کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید سے پوچھا کہ آپ نے مکہ کی سکونت کے متعلق کیا سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہاجرین کو منٰی سے لوٹنے کے بعد تین دن تک مکہ میں رہنے کی اجازت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1073]
💡 وضاحت:
۱؎: مہاجر وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو تین دن سے زیادہ مکہ میں رہنے کی اجازت نہ دی، اس حدیث کا تعلق ترجمہ باب سے معلوم نہیں ہوتا مگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ جب مہاجرین کو جو کہ مکہ میں مسافر تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن رہنے کی اجازت دی، تو معلوم ہوا کہ تین دن کی اقامت سے سفر کا حکم باطل نہیں ہوتا، پس اگر کوئی مسافر کسی شہر میں تین دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو قصر کرے، اور اس مسئلہ میں علماء کا بہت اختلاف ہے لیکن اہل حدیث نے اس کو اختیار کیا ہے کہ اگر تردد و شک کے ساتھ مسافر کو کہیں ٹھہرنے کا اتفاق ہو تو بیس دن تک قصر کرتا رہے، اس کے بعد پوری نماز ادا کرے، کیونکہ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں بیس راتوں تک کی اقامت میں قصر کا حکم دیا، اس واسطے کہ قصر حالت سفر میں مشروع تھا، اور جب اقامت کی تو سفر نہ رہا، اور اگر یقین کے ساتھ مسافر کہیں ٹھہرنے کا ارادہ کرے، تو اگر چار دن یا زیادہ کی اقامت کی نیت کرے، تو چار دن کے بعد نماز پوری پڑھے، اور جو چار دن سے کم رہنے کی نیت کرے تو قصر کرے، یہ حنبلی مذہب کا مشہور مسئلہ ہے، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چوتھی تاریخ کی صبح کو مکہ میں تشریف لائے، اور ساتویں دن تک قیام فرمایا، اور آٹھویں تاریخ کی صبح کو نماز فجر پڑھ کر منیٰ تشریف لے گئے، اور چار دنوں میں مکہ میں قصر کرتے رہے، جبکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں انیس دن تک نماز قصر ادا کی (صحیح البخاری)، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت کی حد چار دن نہیں ہے، سنن ابی داود (۱۲۳۵) میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تبوک میں بیس دن تک اقامت رہی، اور قصر پڑھتے رہے، مختلف احادیث میں مختلف مدتوں کے ذکر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی تعارض کی بات ہے، رواۃ نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق بیان کیا، راجح قول یہی ہے کہ مسافر جب تک اقامت کی نیت نہ کر ے نماز کو قصر کرے اور جمع بھی، جب تک کہ اقامت کی نیت نہ کر ے اور سفر کو ختم نہ کر دے، شیخ الإسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ مسافر کے لیے قصر و افطار اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اقامت اور سکونت نہ اختیار کر لے، اور چند دن کی اقامت کی نیت سے مقیم اور مسافر کے درمیان فرق و تمیز شرع اور عرف میں غیر معروف چیز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/مناقب الانصار 47 (3933)، صحیح مسلم/الحج81 (1352)، سنن ابی داود/الحج92 (2022)، سنن الترمذی/الحج 103 (949)، سنن النسائی/تقصیرالصلاة 4 (1455، 1456)، (تحفة الأشراف: 11008)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/339، 5/52)، سنن الدارمی/الصلاة 180 (1553) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، فِي أُنَاسٍ مَعِي، قَالَ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ".
عطاء کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے مجھ سے میرے ساتھ کئی لوگوں کی موجودگی میں حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ چار ذی الحجہ کی صبح تشریف لائے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1074]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشرکة 15 (2505) التمنی 3 (7229)، سنن النسائی/الحج 108 (2875)، (تحفة الأشراف: 2448)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 18 (1216)، سنن ابی داود/الحج 23 (1788)، مسند احمد (3/305، 317) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَنَحْنُ إِذَا أَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں انیس ( ۱۹ ) دن رہے ، اور دو دو رکعت پڑھتے رہے ، لہٰذا ہم بھی جب انیس ( ۱۹ ) دن قیام کرتے ہیں تو دو دو رکعت پڑھتے ہیں ، اور جب اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1075]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مذہب انیس دن کی اقامت تک قصر کا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 1 (1080)، المغازي (4298)، سنن الترمذی/الصلاة 275 (549)، سنن ابی داود/الصلاة (1230)، (تحفة الأشراف: 6134) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَامَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يَقْصُرُ الصَّلَاةَ".
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال مکہ میں پندرہ دن قیام کیا ، اور نماز قصر کرتے رہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1076]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 279 (1231)، (تحفة الأشراف: 5849)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/تقصیر الصلاة 4 (1454) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 3/26، 27)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى رَجَعْنَا"، قُلْتُ: كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ، قَالَ: عَشْرًا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے اور واپسی تک دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے ۔ یحییٰ کہتے ہیں : میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کتنے دنوں تک مکہ میں رہے ؟ کہا : دس دن تک ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1077]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 1 (1081)، المغازي 52 (4297)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (693)، سنن ابی داود/الصلاة 279 (1233)، سنن الترمذی/الصلاة 275 (548)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة (1439)، (تحفة الأشراف: 1652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/187، 190) (صحیح)
77: بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ تَرَكَ الصَّلاَةَ
باب: تارک نماز کے گناہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا چھوڑنا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1078]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کفر اور بندے میں نماز ہی حد فاصل اور حائل ہے، جہاں نماز چھوڑی یہ حد فاصل اٹھ گئی اور آدمی کافر ہو گیا، یہی امام احمد اور اصحاب حدیث کا مذہب ہے اور حماد بن زید، مکحول، مالک اور شافعی نے کہا کہ تارک نماز کا حکم مثل مرتد کے ہے، یعنی اگر توبہ نہ کرے تو وہ واجب القتل ہے، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک تارک نماز کافر نہ ہو گا، لیکن کفر کے قریب ہو جائے گا، حالانکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: نماز کا ترک کفر ہے، اور ایسا ہی منقول ہے عمر اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے، جمہور علماء اس حدیث کی تاویل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز کے چھوڑ دینے کو حلال سمجھے، وہ شخص جو محض سستی کی وجہ سے اسے چھوڑ دے وہ کافر نہیں ہوتا، لیکن بعض محققین کے نزدیک نماز کی فرضیت کے عدم انکار کے باوجود عملاً و قصداً نماز چھوڑ دینے والا بھی کافر ہے، دیکھئے اس موضوع پر عظیم کتاب «تعظيم قدر الصلاة» تالیف امام محمد بن نصر مروزی، بتحقیق ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی، اور تارک صلاۃ کا حکم تالیف شیخ محمد بن عثیمین، ترجمہ ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/السنة 15 (4678)، سنن الترمذی/الإیمان 9 (2620)، (تحفة الأشراف: 2746)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 35 (82)، سنن النسائی/الصلاة 8 (464، 465)، مسند احمد (3/370، 389)، سنن الدارمی/الصلاة 29 (1269) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے اور منافقوں کے درمیان نماز معاہدہ ہے ۱؎ ، جس نے نماز ترک کر دی اس نے کفر کیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1079]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں گے، ہم ان پر اسلام کے احکام جاری رکھیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الإیمان 9 (2621)، سنن النسائی/الصلاة 8 (464)، (تحفة الأشراف: 1960)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/346) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَالشِّرْكِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ، فَإِذَا تَرَكَهَا فَقَدْ أَشْرَكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندے اور شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے ، جب اس نے نماز چھوڑ دی تو شرک کیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1080]
💡 وضاحت:
۱؎: مشرک اور کافر دونوں کا حکم ایک ہے، دونوں جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، معاذ اللہ! اتنی صاف حدیثوں کو دیکھ کر بھی کوئی نماز ترک کر دے تو اس سے زیادہ بدبخت و بدنصیب کون ہو گا کہ مشرک اور کافر ہو گیا، اور دین محمدی سے نکل گیا، «أعاذنا الله» !
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف۔لضعف يزيد بن أبان الرقاشي“ وھو: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1681، ومصباح الزجاجة: 381) (صحیح) (اس کی سند میں یزید بن أبان الرقاشی ضعیف ہیں، لیکن دوسری احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 574، مصباح الزجاجة: 384 بتحقیق عوض الشہری)
78: بَابٌ في فَرْضِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کی فرضیت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ بُكَيْرٍ أَبُو جَنَّابٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إِلَى اللَّهِ قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا، وَبَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ قَبْلَ أَنْ تُشْغَلُوا، وَصِلُوا الَّذِي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ بِكَثْرَةِ ذِكْرِكُمْ لَهُ، وَكَثْرَةِ الصَّدَقَةِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ، تُرْزَقُوا وَتُنْصَرُوا وَتُجْبَرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي هَذَا، فِي يَوْمِي هَذَا، فِي شَهْرِي هَذَا، مِنْ عَامِي هَذَا، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ تَرَكَهَا فِي حَيَاتِي أَوْ بَعْدِي وَلَهُ إِمَامٌ عَادِلٌ أَوْ جَائِرٌ، اسْتِخْفَافًا بِهَا أَوْ جُحُودًا لَهَا، فَلَا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ شَمْلَهُ، وَلَا بَارَكَ لَهُ فِي أَمْرِهِ، أَلَا وَلَا صَلَاةَ لَهُ، وَلَا زَكَاةَ لَهُ، وَلَا حَجَّ لَهُ، وَلَا صَوْمَ لَهُ، وَلَا بِرَّ لَهُ، حَتَّى يَتُوبَ، فَمَنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، أَلَا لَا تَؤُمَّنَّ امْرَأَةٌ رَجُلًا، وَلَا يَؤُمَّن أَعْرَابِيٌّ مُهَاجِرًا، وَلَا يَؤُمَّ فَاجِرٌ مُؤْمِنًا، إِلَّا أَنْ يَقْهَرَهُ بِسُلْطَانٍ يَخَافُ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا : ” لوگو ! مرنے سے پہلے اللہ کی جناب میں توبہ کرو ، اور مشغولیت سے پہلے نیک اعمال میں سبقت کرو ، جو رشتہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہے اسے جوڑو ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کو خوب یاد کرو ، اور خفیہ و اعلانیہ طور پر زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرو ، تمہیں تمہارے رب کی جانب سے رزق دیا جائے گا ، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری گرتی حالت سنبھال دی جائے گی ، جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جمعہ اس مقام ، اس دن اور اس مہینہ میں فرض کیا ہے ، اور اس سال سے تاقیامت فرض ہے ، لہٰذا جس نے جمعہ کو میری زندگی میں یا میرے بعد حقیر و معمولی جان کر یا اس کا انکار کر کے چھوڑ دیا حالانکہ امام موجود ہو خواہ وہ عادل ہو یا ظالم ، تو اللہ تعالیٰ اس کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے اور اس کے کام میں برکت نہ دے ، سن لو ! اس کی نماز ، زکاۃ ، حج ، روزہ اور کوئی بھی نیکی قبول نہ ہو گی ، یہاں تک کہ وہ توبہ کرے ، لہٰذا جس نے توبہ کی اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا ، سن لو ! کوئی عورت کسی مرد کی ، کوئی اعرابی ( دیہاتی ) کسی مہاجر کی ، کوئی فاجر کسی مومن کی امامت نہ کرے ، ہاں جب وہ کسی ایسے حاکم سے مغلوب ہو جائے جس کی تلوار اور کوڑوں کا ڈر ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1081]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ظالم حاکم کی طرف سے کوئی امام ایسا ہو یا وہ خود امامت کرے، اور لوگوں کو ڈر ہو کہ اگر اس کی اقتداء نہ کریں گے تو عزت و آبرو کو نقصان پہنچے گا تو مجبوراً اور مصلحتاً فاسق کے پیچھے نماز ادا کرنی جائز ہے، اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ امام ہمیشہ صالح اور نیک اور ذی علم ہونا چاہئے اور اسی وجہ سے اعرابی کو مہاجر کی امامت سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ مہاجر ذی علم نیک اور صالح ہوتے تھے بہ نسبت اعراب (بدوؤں) کے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ عبد اللّٰه بن محمد العدوي: متروك رماه وكيع بالوضع،و الوليدبن بكير: لين الحديث (تقريب: 3601،7417) وعلي بن زيد ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2258، ومصباح الزجاجة: 382) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں علی بن زید بن جدعان، اور عبداللہ بن محمد العدوی ضعیف اور متروک راوی ہے، نیزملاحظہ ہو: الإرواء: 591)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ، وَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الْأَذَانَ، اسْتَغْفَرَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، وَدَعَا لَهُ، فَمَكَثْتُ حِينًا أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْهُ ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي: وَاللَّهِ إِنَّ ذَا لَعَجْزٌ إِنِّي أَسْمَعُهُ كُلَّمَا سَمِعَ أَذَانَ الْجُمُعَةِ يَسْتَغْفِرُ لِأَبِي أُمَامَةَ، وَيُصَلِّي عَلَيْهِ، وَلَا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ لِمَ هُوَ؟ فَخَرَجْتُ بِهِ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ اسْتَغْفَرَ كَمَا كَانَ يَفْعَلُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتَاهُ، أَرَأَيْتَكَ صَلَاتَكَ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ بِالْجُمُعَةِ لِمَ هُوَ؟، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ فِي نَقِيعِ الْخَضَمَاتِ فِي هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ، قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ: أَرْبَعِينَ رَجُلًا".
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی بینائی چلی گئی تو میں انہیں پکڑ کر لے جایا کرتا تھا ، جب میں انہیں نماز جمعہ کے لیے لے کر نکلتا اور وہ اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار اور دعا کرتے ، میں ایک زمانہ تک ان سے یہی سنتا رہا ، پھر ایک روز میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اللہ کی قسم یہ تو بے وقوفی ہے کہ میں اتنے عرصے سے ہر جمعہ یہ بات سن رہا ہوں کہ جب بھی وہ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے لیے استغفار اور دعا کرتے ہیں ، اور ابھی تک میں نے ان سے اس کی وجہ نہیں پوچھی ، چنانچہ ایک روز معمول کے مطابق انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلا ، جب انہوں نے اذان سنی تو حسب معمول ( اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے ) مغفرت کی دعا کی تو میں نے ان سے کہا : ابا جان ! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا فرماتے ہیں ، آخر اس کی وجہ کیا ہے ، تو انہوں نے کہا : میرے بیٹے ! اسعد ہی نے ہمیں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے قبیلہ بنی بیاضہ کے ہموار میدان «نقیع الخضمات» میں نماز جمعہ پڑھائی ، میں نے سوال کیا : اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کیا تھی ؟ کہا : ہم چالیس آدمی تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1082]
💡 وضاحت:
۱؎: بظاہر یہاں ایک اشکال ہوتا ہے کہ جمعہ تو مدینہ میں فرض ہوا، پھر اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے کیونکر جمعہ ادا کیا، اس کا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ جمعہ مکہ ہی میں فرض ہو گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے ڈر سے اس کو ادا نہ کر سکتے تھے، اور مدینہ میں اس کی فرضیت قرآن میں اتری، اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جنہوں نے جمعہ کے لئے مسلمان حاکم کی شرط رکھی ہے، کیونکہ مدینہ طیبہ میں اس وقت کوئی مسلمان حاکم نہ تھا، اس کے باوجود اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جمعہ ادا کیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 216 (1069)، (تحفة الأشراف: 11149) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَضَلَّ اللَّهُ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا، كَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ، وَالْأَحَدُ لِلنَّصَارَى، فَهُمْ لَنَا تَبَعٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَالْأَوَّلُونَ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا ۱؎ ، یہود نے ہفتہ کا دن ، اور نصاریٰ نے اتوار کا دن ( عبادت کے لیے ) منتخب کیا ، اس طرح وہ قیامت تک ہمارے پیچھے رہیں گے ، ہم دنیا والوں سے ( آمد کے لحاظ سے ) آخر ہیں ، اور آخرت کے حساب و کتاب میں ساری مخلوقات سے اول ہیں “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1083]
💡 وضاحت:
۱؎: جمعہ سے بھٹکانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جمعہ اور اس کے علاوہ دوسرے دنوں کے اختیار کی توفیق دی، لیکن انہوں نے اسے اختیار نہ کرکے دوسرا دن اختیار کیا۔ ۲؎: یہ امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہوئی کہ دنیا میں ان کو سب کے بعد رکھا، اور آخرت میں سب سے پہلے رکھے گا، دنیا میں بعد میں رکھنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ امت سابقہ امتوں پر گواہ ہے جیسے کہ قرآن میں وارد ہے، بہرحال جمعہ کی فضیلت یہود اور نصاریٰ کو نہیں ملی، انہوں نے اس دن کے پہچاننے میں غلطی کی، اور امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے صاف کھول کر یہ دن بیان کر دیا، اور جمعہ کی تخصیص کی وجہ یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش اسی دن کی، یعنی آدم علیہ السلام کو اسی دن پیدا کیا، پس ہر ایک انسان پر اس دن اپنے مالک کا شکر ادا کرنا فرض ہوا، اور قیامت بھی اسی دن آئے گی، گویا شروع اور خاتمہ دونوں اسی دن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: حدیث ربعي بن حراش عن حذیفة أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 6 (856)، (تحفة الأشراف: 3311)، وحدیث أبي حازم عن أبي ہریرة أخرجہ مثلہ، (تحفة الأشراف: 13397)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 12 (896)، سنن النسائی/الجمعة 1 (1369) (صحیح)
79: بَابٌ في فَضْلِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کی فضیلت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سَيِّدُ الْأَيَّامِ وَأَعْظَمُهَا عِنْدَ اللَّهِ، وَهُوَ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ، فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ، وَأَهْبَطَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ، وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا الْعَبْدُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ حَرَامًا، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ، وَلَا سَمَاءٍ، وَلَا أَرْضٍ، وَلَا رِيَاحٍ، وَلَا جِبَالٍ، وَلَا بَحْرٍ، إِلَّا وَهُنَّ يُشْفِقْنَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ".
ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے ، اس کا درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی زیادہ ہے ، اس کی پانچ خصوصیات ہیں : اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم کو پیدا فرمایا ، اسی دن ان کو روئے زمین پہ اتارا ، اسی دن اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی ، اور اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ اس میں جو بھی اللہ سے مانگے اللہ تعالیٰ اسے دے گا جب تک کہ حرام چیز کا سوال نہ کرے ، اور اسی دن قیامت آئے گی ، جمعہ کے دن ہر مقرب فرشتہ ، آسمان ، زمین ، ہوائیں ، پہاڑ اور سمندر ( قیامت کے آنے سے ) ڈرتے رہتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1084]
💡 وضاحت:
۱؎: جمعہ کی اجابت کی ساعت یعنی قبولیت دعا کی گھڑی کے بارے میں بہت اختلاف ہے، راجح قول یہ ہے کہ یہ عصر اور مغرب کے درمیان کوئی گھڑی ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز کے ختم ہونے کے درمیانی وقفے میں ہوتی ہے، واللہ اعلم، اور یہ جو فرمایا: جب تک حرام کا سوال نہ کرے، یعنی گناہ کے کام کے لئے دعا نہ کرے جیسے زنا یا چوری یا ڈاکے یا قتل کے لئے، تو ایسی دعا کا قبول نہ ہونا بھی بندے کے حق میں افضل اور زیادہ بہتر ہے، اور قبول نہ ہونے والی ہر دعا کا یہی حال ہے، معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی بہتری اسی میں رکھی ہے، انسان اپنے انجام سے آگاہ نہیں، ایک چیز اس کے لئے مضر ہوتی ہے لیکن وہ بہتر خیال کر کے اس کے لئے دعا کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن عقيل ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12151، ومصباح الزجاجة: 382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/430) (ضعیف) (عبداللہ بن محمد بن عقیل کی اس روایت کی سند و متن میں شدید اضطراب ہے، اس لئے یہ سیاق ضعیف ہے، اصل حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس کے لئے ملاحظہ ہو: ابوداود، نیز ساعت اجابہ متفق علیہ ہے، تراجع الألبانی: رقم: 188)۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ شَدَّاد بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ؟ يَعْنِي: بَلِيتَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے ، اسی دن آدم پیدا کئے گئے ، اور اسی دن پہلا اور دوسرا صور پھونکا جائے گا ، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو ، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا “ ، ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارا درود ( صلاۃ ) آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے زمین پہ انبیاء کے جسموں کے کھانے کو حرام قرار دیا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1085]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1047،1531) نسائي (1375) وانظر الحديث الآتي (1636) ¤ عبد الرحمٰن ھو ابن يزيد بن تميم،انظر سنن أبي داود (1047) وأخطأ من زعم بأنه ابن يزيد بن جابر فالسند معلل ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4819، ومصباح الزجاجة: 383)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 207 (1047)، سنن النسائی/الجمعة 5 (1375)، مسند احمد (4/8) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے ، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1086]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14038)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 5 (233)، سنن الترمذی/المواقیت 47 (214)، مسند احمد (2/481) (صحیح)
80: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ ، حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْتَسَلَ، وَبَكَّرَ، وَابْتَكَرَ، وَمَشَى، وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ، وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا".
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے جمعہ کے دن غسل کرایا اور خود بھی غسل کیا ۱؎ ، اور نماز کے لیے سویرے نکلا اور شروع خطبہ میں حاضر ہوا ، بغیر سواری کے پیدل چل کر آیا ، اور امام کے قریب بیٹھا ، خطبہ غور سے سنا ، اور کوئی لغو کام نہیں کیا ، تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے نفلی روزوں اور تہجد کا ثواب ملے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1087]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جمعہ کے غسل سے پہلے بیوی سے صحبت کرے کہ اسے بھی غسل کی ضرورت ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة 129 (346، 347)، سنن الترمذی/الصلاة 239 (469)، سنن النسائی/الجمعة 10 (1382)، 12 (1385)، 19 (1399)، (تحفة الأشراف: 1735)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8، 9، 10)، سنن الدارمی/الصلاة 194 (1588) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: " مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا : ” جو جمعہ کے لیے آئے ، وہ غسل کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1088]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8248)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 2 (877)، 12 (894)، 26 (919)، صحیح مسلم/الجمعة 1 (844)، سنن الترمذی/الصلاة 238 (492)، سنن النسائی/الجمعة 7 (1377)، موطا امام مالک/الجمعة 1 (5)، مسند احمد (2/3، 9، 37، 41، 42، 48، 53، 55، 58)، سنن الدارمی/الصلاة 190 (1577) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1089]
💡 وضاحت:
۱؎: علماء کی ایک جماعت کے نزدیک جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے، اہل ظاہر کا یہی قول ہے، اور جمہور علماء کرام اس کو مستحب اور مسنون کہتے ہیں۔ شیخ الإسلام ابن تیمیہ نے فرمایا ہے کہ اگر آدمی کا جسم اور اس کا لباس صاف ستھرا ہو تو اس کے حق میں یہ غسل مسنون و مستحب ہے، اور جسم اور کپڑوں کے صاف نہ ہونے یا بدن میں بو موجود ہونے کی صورت میں یہ غسل واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، الجمعة 2 (879)، 12 (895)، الشہادات 18 (2665)، صحیح مسلم/الجمعة1 (846)، سنن ابی داود/الطہارة129 (341)، سنن النسائی/الجمعة 6 (1376)، (تحفة الأشراف: 4161)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 1 (4)، مسند احمد (3/6) سنن الدارمی/الصلاة 190 (1578) (صحیح)
81: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اچھی طرح وضو کیا ، پھر جمعہ کے لیے آیا اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا ، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ، اور جس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا اس نے لغو حرکت کی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1090]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 8 (857)، سنن ابی داود/الصلاة 209 (1050)، سنن الترمذی/الصلاة 240 (498)، (تحفة الأشراف: 12504) وقد أخرجہ: مسند احمد (2/424) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ يُجْزِئُ عَنْهُ الْفَرِيضَةُ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو یہ بڑی اچھی بات ہے ، اس سے فریضہ ادا ہو جائے گا ، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1091]
💡 وضاحت:
۱؎: «فبها» کا مطلب ہے «فباالرخصة أخذ» یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا ہے اور نعمت کا مطلب «هي الرخصة» یعنی یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے واجب نہ ہونے پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ اس میں ایک تو وضو پر اکتفا کرنے کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے غسل نہ کر نے کی اجازت نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون يجزىء عنه الفريضة
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن مسلم المكي: ضعيف ¤ ويزيد الرقاشي: ضعيف ¤ وحديث أبي داود (354) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1682، ومصباح الزجاجة: 384) (صحیح) (اس کی سند میں یزید بن ابان ضعیف ہیں، اس لئے حدیث میں وارد یہ ٹکڑا يجزئ عنه الفريضة صحیح نہیں ہے، بقیہ حدیث دوسرے شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 540)۔
82: بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّهْجِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے لیے مسجد سویرے جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ، الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ، فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلَاةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي بَقَرَةٍ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي كَبْشٍ، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ"، زَادَ سَهْلٌ فِي حَدِيثِهِ: فَمَنْ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا يَجِيءُ بِحَقٍّ إِلَى الصَّلَاةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے متعین ہوتے ہیں ، وہ لوگوں کے نام ان کے درجات کے مطابق لکھتے رہتے ہیں ، جو پہلے آتے ہیں ان کا نام پہلے ( ترتیب وار ) لکھتے ہیں ، اور جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں ، لہٰذا جمعہ کے لیے سویرے جانے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے ، اور اس کے بعد جانے والا گائے قربان کرنے والے ، اور اس کے بعد جانے والا مینڈھا قربان کرنے والے کے مانند ہے “ یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے ( کی قربانی ) کا بھی ذکر فرمایا اور سہل نے اپنی حدیث میں اتنا زیادہ بیان کیا کہ جو کوئی اس کے ( خطبہ شروع ہو چکنے کے ) بعد آئے تو وہ صرف اپنا فریضہ نماز ادا کرنے کے لیے آیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1092]
💡 وضاحت:
۱؎: اور فرض ادا کرنے کے لئے آنے کا یہ نتیجہ ہو گا کہ عذاب سے بچ جائے گا، لیکن اس کو ثواب اور درجے نہ ملیں گے جیسے ان لوگوں کو ملتے ہیں جو سویرے آتے ہیں، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے لیے جو جتنا جلدی مسجد میں پہنچے گا اتنا ہی زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہو گا، اور جتنی دیر کر ے گا اتنے ہی اس کے ثواب میں کمی آتی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 7 (850)، سنن النسائی/الإمامة 59 (865)، الجمعة 13 (1386)، (تحفة الأشراف: 13138، ومصباح الزجاجة: 385)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة، 31 (929)، بدء الخلق 6 (3211)، سنن الترمذی/الجمعة 6 (499)، موطا امام مالک/الجمعة 1 (1)، مسند احمد (2/239، 259، 280، 505، 512)، سنن الدارمی/الصلاة 3 9 1 (1585) (صحیح) (صرف ابن ماجہ میں قدر منازلهم کا لفظ ہے، دوسروں نے یہ لفظ نہیں ذکر کیا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَرَبَ مَثَلَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ التَّبْكِيرِ، كَنَاحِرِ الْبَدَنَةِ، كَنَاحِرِ الْبَقَرَةِ، كَنَاحِرِ الشَّاةِ، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ اور جمعہ کے لیے سویرے آنے والے کی مثال اونٹ قربان کرنے والے ، گائے قربان کرنے والے اور بکری قربان کرنے والے کی بیان فرمائی ہے ، یہاں تک کہ مرغی ( کی قربانی ) کا بھی ذکر فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1093]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سعيد بن بشير ضعيف ¤ و قتادة عنعن إن صح السند إليه ¤ و الحديث السابق (الأصل: 1092) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4607، ومصباح الزجاجة: 386) (حسن صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں سعید بن بشیر ضعیف ہیں، نیز حسن بصری کا سماع سمرہ رضی اللہ عنہ سے عقیقہ والی حدیث کے علاوہ ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 390، بتحقیق الشہری)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَوَجَدَ ثَلَاثَةً وَقَدْ سَبَقُوهُ، فَقَالَ: رَابِعُ أَرْبَعَةٍ، وَمَا رَابِعُ أَرْبَعَةٍ بِبَعِيدٍ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ النَّاسَ يَجْلِسُونَ مِنَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ رَوَاحِهِمْ إِلَى الْجُمُعَاتِ، الْأَوَّلَ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ، ثُمَّ قَالَ: رَابِعُ أَرْبَعَةٍ، وَمَا رَابِعُ أَرْبَعَةٍ بِبَعِيدٍ".
علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کے لیے نکلا ، انہوں نے تین آدمیوں کو دیکھا جو ان سے آگے بڑھ گئے تھے ، تو کہا : میں چار میں سے چوتھا ہوں اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ” لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس اسی ترتیب سے بیٹھیں گے جس ترتیب سے جمعہ کے لیے پہلے اور بعد میں جاتے رہتے ہیں ، جمعہ کے لیے پہلے جانے والا وہاں بھی پہلے درجہ میں دوسرا دوسرے درجہ میں اور تیسرا تیسرے درجہ میں “ پھر کہا : چار میں سے چوتھا اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1094]
💡 وضاحت:
۱؎: چار میں کا چوتھا کچھ دور نہیں ہے یعنی اپنے نفس کو دیر میں آنے پر تنبیہ کی اور اس کو دھمکایا، اور بعضوں نے کہا: اپنے نفس کو تسلی دی کہ تین ہی آدمیوں سے پیچھے رہا، اور اپنے مالک سے قرب میں چوتھے درجہ میں ہوا، اور یہ درجہ بھی غنیمت ہے چنداں دور نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الأعمش عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9439، ومصباح الزجاجة: 387) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں عبد المجید بن عبد العزیز بن أبی رواد ہیں، جو صدوق روای ہیں لیکن خطاء کرتے ہیں، ان کی طرف سے اس حدیث میں اضطراب ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2810)
83: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الزِّينَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن زیب و زینت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ لَنَا ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ.
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن منبر پہ فرماتے ہوئے سنا : ” کیا اچھا ہوتا کہ تم میں سے ہر شخص جمعہ کے لیے اپنے عام استعمال کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے خرید لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1095]
💡 وضاحت:
۱؎: عام کپڑے اکثر میلے کچیلے یا کم قیمت کے ہوتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جمعہ کا احترام اور اس کی عزت و توقیر کرے، اور اپنی حیثیت کے مطابق عمدہ اور صاف ستھرے کپڑے پہنے، جیسے کوئی حاکم اور امیر کے دربار میں جاتے وقت اچھا لباس پہننے اور زیب و زینت کا خیال رکھتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ لَنَا ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ.
اس سند سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا ، اور پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1095M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَرَأَى عَلَيْهِمْ ثِيَابَ النِّمَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ سَعَةً أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن خطبہ دیا ، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھاری دار چادریں پہنے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا مشکل ہے کہ تم میں سے جو صاحب وسعت ہو وہ جمعہ کے لیے اپنے عام کپڑے کے علاوہ دوسرے دو کپڑے بنا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1096]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16896 ومصباح الزجاجة: 388) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَحَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ غُسْلَهُ، وَتَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ طُهُورَهُ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ وَلَمْ يَلْغُ، وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا ، اچھی طرح وضو کیا ، سب سے اچھا کپڑا پہنا ، اور اس کے گھر والوں کو اللہ نے جو خوشبو میسر کی اسے لگایا ، پھر جمعہ کے لیے آیا اور کوئی لغو اور بیکار کام نہیں کیا ، اور دو مل کر بیٹھنے والوں کو الگ الگ کر کے بیچ میں نہیں گھسا ۱؎ تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1097]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے نہیں گیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11959، ومصباح الزجاجة: 389)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/177، 180) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ، وَإِنْ كَانَ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ عید کا دن ہے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے ، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے ، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے ، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کر لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1098]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ غسل نماز جمعہ کے لئے مسنون ہے نہ کہ جمعہ کے دن کے لئے، اور بعضوں نے کہا: جمعہ کے دن کے لئے مسنون ہے، پس جس پر جمعہ فرض نہ ہو، جیسے عورت، مریض، مسافر یا نابالغ اور وہ جمعہ کی نماز کے لئے آنے کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو تو اس کو بھی غسل کرنا مستحب ہو گا، اور پہلے قول کے لحاظ سے جن پر جمعہ فرض نہیں ہے ان پر غسل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ سنده ضعيف ¤ صالح بن أبي الأخضر لينه الجمهور و علي بن غراب والزهري مدلسان و عنعنا إن صح السند إلي الزهري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 535
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5870، ومصباح الزجاجة: 390)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 32 (113) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں علی بن غراب اور صالح بن ابی الأخضر ضعیف ہیں، منذری نے اس کو حسن کہا ہے، الترغیب و الترہیب 1/498، نیز ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 394 بتحقیق الشہری)
84: بَابُ : مَا جَاءَ فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے وقت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " مَا كُنَّا نَقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے ، اور دوپہر کا کھانا کھایا کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1099]
💡 وضاحت:
۱؎: جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ پڑھ لیتے تھے، پھر لوگ اپنے اونٹوں کی طرف جاتے اور سورج ڈھلنے کے وقت ان کو چلاتے، یعنی آپ جلد جمعہ پڑھا دیتے تھے۔ سلمہ بن الاکوع اور انس رضی اللہ عنہما کی حدیثیں آگے آ رہی ہیں، ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جمعہ زوال (سورج ڈھلنے) سے پہلے پڑھ لیتے تھے، امام احمد کے نزدیک یہ جائز ہے، الروضۃ الندیۃ میں ہے کہ یہی حق ہے، اور جمہور علماء کے نزدیک جمعہ کا وقت زوال کے بعد سے ہے، جو ظہر کا وقت ہے کیونکہ جمعہ بدل ہے ظہر کا، امام شوکانی نے الدرر البہیہ میں اہل حدیث کا مذہب بھی یہی قرار دیا ہے، اور وہ ان حدیثوں کی تاویل کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ جمعہ کے دن صبح کا کھانا اور دن کا قیلولہ موقوف رکھتے، اور جمعہ کی نماز کا اہتمام کرتے پھر نماز پڑھ کر یہ کام کرتے، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ زوال سے پہلے ہی جمعہ پڑھ لیتے، اور ابن سیدان کی روایت موید ہے امام احمد کے مذہب کی، کہ میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ میں حاضر تھا، انہوں نے زوال سے پہلے خطبہ پڑھا، اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما سے بھی ایسا ہی نقل کیا (سنن دارقطنی) لیکن ابن سیدان کو لوگوں نے ضعیف کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 40 (939)، الحرث والمزارعة 21 (2949)، الأطعمة 17 (5403)، الإستئذان 16 (6248)، صحیح مسلم/الجمعة 9 (859)، سنن الترمذی/الصلاة 261 (225)، (تحفة الأشراف: 4706)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 224 (1086) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ، فَلَا نَرَى لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے ، پھر گھروں کو واپس ہوتے تو دیواروں کا سایہ اتنا بھی نہ ہوتا تھا کہ ہم اس سایہ میں چل سکیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1100]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 35 (4168)، صحیح مسلم/الجمعة 9 (860)، سنن ابی داود/الصلاة 224 (1085)، سنن النسائی/الجمعة 14 (1392)، (تحفة الأشراف: 4512) وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 194 (1587) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ كَانَ: " يُؤَذِّنُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ".
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جمعہ کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتا کے تسمے کے برابر ہو جاتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1101]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،عبد الرحمٰن أجمعوا علي تضعيفه وأما أبوه فقال ابن القطان: لا يعرف حاله وحال أبيه‘‘ عبد الرحمٰن بن سعد: ضعيف (تقريب: 3873) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3827، ومصباح الزجاجة: 391) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد الرحمن ضعیف ا ور ان کے والد سعد مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كُنَّا نُجَمِّعُ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِيلُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ پڑھتے پھر لوٹ کر قیلولہ کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1102]
💡 وضاحت:
۱؎: قیلولہ: دوپہر کے کھانے کے بعد آرام کو قیلولہ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 780)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 16 (392) (صحیح)
85: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے خطبہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ، يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا جَلْسَةً زَادَ بِشْرٌ وَهُوَ قَائِمٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبہ دیتے تھے ، اور دونوں کے درمیان کچھ دیر بیٹھتے تھے ۔ بشر بن مفضل نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ دیتے وقت ) کھڑے ہوتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1103]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة30 (928، 920)، سنن النسائی/الجمعة 33 (1417)، (تحفة الأشراف: 7812، 8129)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 10 (861)، سنن ابی داود/الصلاة 227 (1092)، سنن الترمذی/الجمعة 11 (506)، مسند احمد (2/98)، سنن الدارمی/الصلاة 200 (1599) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ، اس وقت آپ کے سر پہ ایک کالا عمامہ تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1104]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 84 (1359)، سنن ابی داود/اللباس 24 (4077)، سنن النسائی/الزینة من المجتیٰ 56 (5348)، (تحفة الأشراف: 10816)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/07 3)، سنن الترمذی/الشمائل 16 (108، 109)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3584، 3587) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقْعُدُ قَعْدَةً ثُمَّ يَقُومُ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ، البتہ آپ ( دونوں خطبوں کے درمیان ) تھوڑی دیر بیٹھتے تھے ، پھر کھڑے ہو جاتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1105]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2184)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 13 (866)، سنن ابی داود/الصلاة 229 (1101)، سنن الترمذی/الصلاة 247 (507)، سنن النسائی/الجمعة 35 (1419)، سنن الدارمی/الصلاة 199 (1598) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ، فَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا، وَصَلَاتُهُ قَصْدًا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پھر بیٹھ جاتے ، پھر کھڑے ہوتے اور قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرماتے اور اللہ کا ذکر کرتے ، آپ کا خطبہ اور نماز دونوں ہی درمیانی ہوتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1106]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 229 (1101)، سنن النسائی/الجمعة 35 (1419)، صلاة العیدین 26 (1585)، (تحفة الأشراف: 2163) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " إِذَا خَطَبَ فِي الْحَرْبِ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ، وَإِذَا خَطَبَ فِي الْجُمُعَةِ خَطَبَ عَلَى عَصًا".
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میدان جنگ میں خطبہ دیتے تو کمان پر ٹیک لگا کر دیتے ، اور جب جمعہ کا خطبہ دیتے تو چھڑی پر ٹیک لگا کر دیتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1107]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن سعد: ضعيف ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3828 ومصباح الزجاجة: 393) (ضعیف) (سعد بن عمار بن سعد القرظ نے عن أبیہ عن جدہ ایک نسخہ حدیث روایت کیا ہے، اور ان سے ان کے لڑکے عبد الرحمن نے روایت کی ہے، اور یہ باپ اور بیٹے اور پوتے سب مجہول ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ: " سُئِلَ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟، قَالَ: أَوَمَا تَقْرَأُ: وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ غَرِيبٌ: لَا يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَحْدَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے یا کھڑے ہو کر ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تم نے یہ آیت کریمہ نہیں پڑھی : «وتركوك قائما» ” جب ان لوگوں نے تجارت یا لہو و لعب دیکھا تو آپ کو کھڑا چھوڑ کر چل دیئے “ ( سورة الجمعة : 11 ) ۱؎ ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، اس کو صرف ابن ابی شیبہ ہی نے بیان کرتے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1108]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کھڑے ہو کر دیتے تھے۔ ۲؎: پوری آیت یوں ہے: «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما» جب کوئی تجارت یا تماشا اور کھیل کود دیکھتے ہیں تو ادھر چل دیتے ہیں، اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں (سورة الجمعة: 11) اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کر دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الأعمش عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 416
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9438، ومصباح الزجاجة: 394) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ سَلَّمَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر چڑھتے تو لوگوں کو سلام کرتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1109]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی حاضرین کو سلام کرتے، اور امام شافعی نے اسی حدیث کو دلیل بنا کر یہ کہا ہے کہ امام جب منبر پر جائے تو کل حاضرین کو مخاطب کر کے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن لهيعة عنعن ¤ وللحديث شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3075، ومصباح الزجاجة: 395) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الاجوبہ النافعہ: 58)
86: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الاِسْتِمَاعِ لِلْخُطْبَةِ وَالإِنْصَاتِ لَهَا
باب: خطبہ جمعہ کو خاموشی کے ساتھ غور سے سننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے دوران خطبہ کہا کہ چپ رہو ، تو تم نے لغو کام کیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1110]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تم سے فضول اور بیکار حرکت صادر ہوئی، کیونکہ خطبہ کے درمیان خاموش رہنا، اور خطبہ سننا ضروری ہے، اگر کوئی بات کرے تو اشارہ سے اس کو منع کر دے، جب زبان سے کہا کہ خاموش رہو تو خود اس نے بات کی، اور دوسرے کو بات سے منع کیا، یہ ایک لغو حرکت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13253)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 36 (934)، صحیح مسلم/الجمعة 3 (851)، سنن ابی داود/الصلاة 235 (1112)، سنن النسائی/الجمعة 22 (1403)، سنن الترمذی/الصلاة 251 (521)، موطا امام مالک/الجمعة 2 (6)، سنن الدارمی/الصلاة 195 (1589) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: تَبَارَكَ وَهُوَ قَائِمٌ"، فَذَكَّرَنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ أَوْ أَبُو ذَرٍّ يَغْمِزُنِي فَقَالَ: مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا الْآنَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ: سَأَلْتُكَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ فَلَمْ تُخْبِرْنِي، فَقَالَ أُبَيٌّ: لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ الْيَوْمَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَ أُبَيٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَدَقَ أُبَيٌّ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہو کر سورۃ تبارک ( سورۃ الملک ) پڑھی ، اور ہمیں اللہ عزوجل کی طرف سے گزشتہ قوموں پر پیش آنے والے اہم واقعات سے نصیحت کی ، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یا ابوذر رضی اللہ عنہ نے میری جانب نظر سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی ؟ میں نے تو یہ ابھی سنی ہے ، تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان کو اشارہ کیا کہ خاموش رہو ، جب وہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ یا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ابی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی تو آپ نے نہیں بتایا ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آج آپ کو آپ کی نماز میں ان لغو باتوں کے سوا کچھ بھی اجر و ثواب نہیں ملے گا ، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور آپ سے اس کا ذکر کیا ، اور ابی رضی اللہ عنہ نے جو بات کہی تھی وہ بھی بتائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابی نے سچ کہا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1111]
💡 وضاحت:
۱؎: مسند احمد اور سنن ابوداود میں علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص امام کے نزدیک بیٹھا لیکن اس نے لغو حرکت کی اور خطبہ نہیں سنا، اور خاموش نہیں رہا، تو اس پر وبال کا ایک حصہ ہو گا، اور جس نے کہا: خاموش رہو تو اس نے لغو کیا اور جس نے لغو کیا، اس کا جمعہ نہ ہوا، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایسا ہی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اس باب کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ پڑھنے کے لئے آنے والے پر ہر طرح کی دینی اور دنیاوی بات چیت خطبہ کے دوران ممنوع ہے۔ جس میں ذکر و اذکار بھی داخل ہے، اسی طریقے سے ایک دوسرے کو نصیحت و تلقین بھی، ہاں! ضرورت وحاجت اور شرعی مصلحت کے پیش نظر امام سامعین سے مخاطب ہو سکتا ہے، جیسا کہ کئی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے۔ خود آگے کی حدیث میں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا، نیز سامعین خطبہ کے دوران امام کی متابعت میں صلاۃ و سلام اور اس کی دعاؤں پر آمین بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ واضح رہے کہ اس سے خطبہ کے سننے میں یا مسجد کے احترام میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 68، ومصباح الزجاجة: 397)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/143) (صحیح) (ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 80-81)
87: بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: دوران خطبہ مسجد میں آنے والا کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرًا ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: " أَصَلَّيْتَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، وَأَمَّا عَمْرٌو فَلَمْ يَذْكُرْ سُلَيْكًا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، تو آپ نے پوچھا : ” کیا تم نے نماز ادا کر لی ؟ “ انہوں نے کہا : جی نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو رکعت پڑھ لو “ ۱؎ ۔ عمرو بن دینار نے سلیک کا ذکر نہیں کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1112]
💡 وضاحت:
۱؎: اسے «تحیۃ المسجد» کہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص امام کے خطبہ دینے کی حالت میں آئے تو وہ دو رکعتیں پڑھے، بعض لوگوں نے اسے سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کیا ہے، اور کہا ہے کہ انہیں یہ حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ لوگ ان کی غربت دیکھ کر ان کا تعاون کریں، لیکن ابوداود کی ایک روایت کے الفاظ یوں آئے ہیں: «إذا جاء أحدكم والإمام يخطب فليصل ركعتين» جب بھی تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو رکعت پڑھ لے اس سے ان کے اس قول کی تردید ہو جاتی ہے کہ یہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: حدیث عمر و بن دینار عن جابر أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 32 (930)، 33 (931)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، (تحفة الأشراف: 2532)، وحدیث أبي الزبیر عن جابر قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2771)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 237 (1115)، سنن الترمذی/الصلاة 250 (510)، سنن النسائی/الجمعة 16 (1396)، مسند احمد (3/297، 308، 369)، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1592) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: " أَصَلَّيْتَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، اسی دوران ایک شخص مسجد میں آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے نماز پڑھ لی ؟ “ اس نے کہا : جی نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو رکعت پڑھ لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1113]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام خطبہ کے دوران بات کر سکتا ہے، اور مقتدی بھی امام کا جواب دے سکتا ہے، لیکن ازخود مقتدی کا خطبہ کی حالت میں بات کرنا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 250 (511)، سنن النسائی/الجمعة 26 (1409)، (تحفة الأشراف: 4272)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/25)، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1593) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا".
ابوہریرہ اور جابر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم نے ( میرے نزدیک ) آنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لی ہے ؟ “ تو انہوں نے کہا : جی نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو رکعتیں پڑھ لو ، اور ہلکی پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1114]
💡 وضاحت:
۱؎: امام مزی کہتے ہیں کہ راوی نے اس روایت میں غلطی کی، اور «صواب» یہ ہے «أصلّيت ركعتين قبل أن تجلس» اس کو راوی نے «تجيىء» کر دیا۔ اب علماء کا اختلاف یہ ہے کہ تحیۃ المسجد سنت ہے یا واجب؟ ظاہر حدیث سے اس کا وجوب نکلتا ہے، اور امام شوکانی نے ایک مستقل رسالہ میں اس کے وجوب کو ثابت کیا ہے، اور علامہ نواب صدیق حسن نے الروضہ الندیہ (۱؍۳۷۲) میں اسی کو حق کہا ہے، دلائل کی روشنی میں جمعہ کے دن مسجد میں آنے والے کے لئے دو رکعت ادا کرنا کم سے کم سنت موکدہ تو ہے ہی۔ جبکہ محققین نے اس کو واجب کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله قبل أن تجيء فإنه شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حفص بن غياث: عنعن وھو مدلس ¤ والحديث في صحيح مسلم (875) ولم يذكر ”قبل أن تجئ“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابی داود/الصلاة 237 (1116)، (تحفة الأشراف: 2294و 12368)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 32 (930)، 33 (931)، سنن الترمذی/الجمعة 15 (510)، سنن النسائی/الجمعة 16 (1396)، مسند احمد (3/380)، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1592) (صحیح) (اس حدیث میں قبل أن تجیٔ کا جملہ شاذ ہے)
88: بَابُ : مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ تَخَطِّي النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: دوران جمعہ لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَجَعَلَ يَتَخَطَّى النَّاسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ، وَآنَيْتَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے لگا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھ جاؤ ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی ، اور آنے میں تاخیر بھی کی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1115]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض لوگ جمعہ کے دن دیر سے آتے ہیں اور لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جاتے ہیں، یہ ممنوع بلکہ حرام ہے، علامہ ابن القیم نے اس کو کبیرہ گناہوں میں لکھا ہے، اس لئے آدمی کو چاہئے کہ جہاں جگہ پائے وہیں بیٹھ جائے، جب دیر میں آیا تو پیچھے ہی بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2226، ومصباح الزجاجة: 396) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتُّخِذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ".
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگے گا وہ جہنم کا پل بنایا جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1116]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (513) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجمعة 17 (513)، (تحفة الأشراف: 11292)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/438) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں رشدین بن سعد، زبان بن فائد اور سہل بن معاذ ضعیف ہیں)
89: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْكَلاَمِ بَعْدَ نُزُولِ الإِمَامِ عَنِ الْمِنْبَرِ
باب: منبر سے اترنے کے بعد امام بات چیت کر سکتا ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُكَلَّمُ فِي الْحَاجَةِ إِذَا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جمعہ کے دن منبر سے اترتے تو ضروری امور سے متعلق گفتگو فرما لیا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1117]
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1120) ترمذي (517) نسائي (1420) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 240 (1120)، سنن الترمذی/الصلاة 256 (517)، سنن النسائی/الجمعة 36 (1420)، (تحفة الأشراف: 260) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 127، 213) (شاذ) (جریر بن حازم اس روایت میں منفرد ہیں، یہ حدیث ثابت ہے، معروف نہیں ہے)
90: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلاَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: نماز جمعہ پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْمَدَنِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: " اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَرَأَ: بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى، وَفِي الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا".
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا ، خود مکہ گئے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز جمعہ پڑھائی ، پہلی رکعت میں سورۃ الجمعہ اور دوسری رکعت میں : «إذا جاءك المنافقون» پڑھی ۔ عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ، اور ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ بھی کوفہ میں ( نماز جمعہ میں ) یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1118]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 16 (877)، سنن ابی داود/الصلاة 242 (1124)، سنن الترمذی/الصلاة 257 (519)، (تحفة الأشراف: 14104)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/429) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، أَنْبَأَنَا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَخْبِرْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا: هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ضحاک ( احنف ) بن قیس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورۃ الجمعہ کے ساتھ اور کون سی سورت پڑھتے تھے ؟ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم  «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1119]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 16 (878)، سنن ابی داود/الصلاة 242 (1123)، سنن النسائی/الجمعة 39 (1424)، (تحفة الأشراف: 11634)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 9 (19)، مسند احمد (4/270، 277، سنن الدارمی/الصلاة 203 (1607، 1608) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں : «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1120]
💡 وضاحت:
۱؎: دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ میں سورۃ «ق» پڑھی، اور ایک روایت میں ہے کہ سورۃ «قمر» پڑھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12075، (الف) ومصباح الزجاجة: 398) (صحیح) (دوسری صحیح سند کے ساتھ صحیحین میں یہ حدیث موجود ہے، اس بناء پر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں سعید بن سنان ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 1027)۔
91: بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً
باب: جمعہ کی ایک رکعت پانے والے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً، فَلْيَصِلْ إِلَيْهَا أُخْرَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی ، تو اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1121]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جمعہ اس کا صحیح ہو گیا، اب ایک رکعت اور پڑھ لے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر ایک رکعت بھی نہ پائے، مثلاً: دوسری رکعت کے سجدے میں شریک ہو، یا قعدہ (تشہد) میں تو جمعہ نہیں ملا، اب وہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھے، اور یہ بعض اہل علم کا مذہب ہے، اور بعض اہل علم کے نزدیک جمعہ میں شامل ہونے والا اگر ایک رکعت سے کم پائے یعنی جیسے رکوع کے بعد سے سلام پھیرنے کے وقت کی مدت تو وہ جمعہ دو رکعت ادا کرے اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے: «ما أدركتم فصلوا وما فاتكم فأتموا» کہ امام کے ساتھ جو ملے وہ پڑھو اور جو نہ ملے اس کو پوری کر لو تو جمعہ میں شریک ہونے والا نماز جمعہ ہی پڑھے گا، اور یہ دو رکعت ہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13254ومصباح الزجاجة: 399)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 3 (11) (صحیح) (سند میں عمر بن حبیب ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طرق کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 467، نیز ملاحظہ ہو الروضة الندیة 376)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پا لی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1122]
💡 وضاحت:
۱؎: اب یہ تمام نماز کو شامل ہے، امام کے ساتھ ایک رکعت پائے تو جماعت کا ثواب پا لے گا، وقت کے اندر ایک رکعت پا لے تو نماز ادا ہو گی نہ کہ قضا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 30 (607، 608)، سنن الترمذی/الصلاة 260 (524)، سنن النسائی/المواقیت 29 (554)، الجمعة 40 (1426)، (تحفة الأشراف: 15143)، وقدأخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت 29 (580)، سنن ابی داود/الصلاة 241 (1121)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 3 (15)، مسند احمد (2/241، 265، 271، 280، 375، 376)، سنن الدارمی/الصلاة 22 (1256) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ أَوْ غَيْرِهَا، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ یا کسی بھی نماز سے ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1123]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7001)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المواقیت 30 (558) (صحیح)
92: بَابُ : مَا جَاءَ مِنْ أَيْنَ تُؤْتَى الْجُمُعَةُ
باب: کتنی دور سے جمعہ کے لیے آنا ضروری ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ قُبَاءَ كَانُوا يُجَمِّعُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : قباء کے رہنے والے جمعے کے دن جمعے کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1124]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: t
93: بَابُ : فِيمَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ
باب: بغیر عذر کے جمعہ چھوڑنے والے کے بارے میں وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَ لَهُ صُحْبَةٌ وَكَانَ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بِهَا، طُبِعَ عَلَى قَلْبِهِ".
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ ( انہیں شرف صحبت حاصل ہے ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے تین جمعے سستی سے چھوڑ دئیے ، اس کے دل پہ مہر لگ گئی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1125]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا دل خیر اور ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے گا۔ اس کے دل پر غفلت چھا جائے گی، اور عبادت کا ذوق و شوق جاتا رہے گا، اور بعض نے کہا: اس میں نفاق آ جائے گا، اور ایمان کا نور جاتا رہے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی جمعہ کی نماز پابندی سے پڑھائی، اہل علم نے اس کے فرض عین ہونے پر اجماع کیا ہے، اس لیے فریضہ جمعہ کا ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 210 (1052)، سنن الترمذی/الصلاة 242 (500)، سنن النسائی/الجمعة 14 (1368)، (تحفة الأشراف: 11883) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثًا مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ، طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے تین جمعے بغیر کسی ضرورت کے چھوڑ دئیے اللہ تعالیٰ اس کے دل پہ مہر لگا دے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1126]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 2363، ومصباح الزجاجة: 401)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة 3 (1373)، مسند احمد (3/332) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا هَلْ عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَتَّخِذَ الصُّبَّةَ مِنَ الْغَنَمِ عَلَى رَأْسِ مِيلٍ أَوْ مِيلَيْنِ فَيَتَعَذَّرَ عَلَيْهِ الْكَلَأُ، فَيَرْتَفِعَ ثُمَّ تَجِيءُ الْجُمُعَةُ، فَلَا يَجِيءُ وَلَا يَشْهَدُهَا، وَتَجِيءُ الْجُمُعَةُ، فَلَا يَشْهَدُهَا، وَتَجِيءُ الْجُمُعَةُ، فَلَا يَشْهَدُهَا حَتَّى يُطْبَعَ عَلَى قَلْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سن لو ! قریب ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک یا دو میل کے فاصلے پہ بکریوں کا ایک ریوڑ اکٹھا کر لے ، وہاں گھاس ملنی مشکل ہو جائے تو دور چلا جائے ، پھر جمعہ آ جائے اور وہ واپس نہ آئے ، اور نماز جمعہ میں شریک نہ ہو ، پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو ، اور پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو ، بالآخر اس کے دل پہ مہر لگا دی جاتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1127]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف لضعف معدي بن سليمان“ ¤ وللحديث شاھد ضعيف جدًا عند أبي يعلي (2198) ¤ وشاھد آخر عند الطبراني في الأوسط (338) ¤ وإسناده ضعيف (راجع مجمع الزوائد 2/ 193) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14148، ومصباح الزجاجة: 402) (حسن) (سند میں معدی بن سلیمان ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث شاہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 733)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ جان بوجھ کر چھوڑ دیا ، تو وہ ایک دینار صدقہ کرے ، اور اگر ایک دینار نہ ہو سکے تو آدھا دینار ہی سہی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1128]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1053) نسائي (1373ب) ¤ قتادة عنعن ¤ وللحديث شاهد ضعيف عند أبي داود (1053) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الجمعة 3 (1373)، (تحفة الأشراف: 4599)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 211 (1053)، مسند احمد (5/8، 14) (ضعیف) (عقیقہ والی حدیث کے علاوہ حسن بصری کاسماع سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے)
94: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ سے پہلے کی سنتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعُوفِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا لَا يَفْصِلُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ، اور درمیان میں فصل نہیں کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1129]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد مسلسل بالضعفاء: عطية (العوفي) متفق علي ضعفه وحجاج (بن أرطاة) مدلس ¤ و مبشر بن عبيد: كذاب،وبقية ھو ابن الوليد يدلس بتدليس التسوية‘‘ بقية: صدوق مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5983، ومصباح الزجاجة: 403) (ضعیف جدا) (سند میں عطیہ ضعیف، حجاج مدلس، مبشر بن عبید کذاب اور بقیہ مدلس رواة ہیں)
95: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے بعد کی سنتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : " أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو اپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے ، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1130]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 18 (882)، سنن الترمذی/الصلاة 259 (522)، (تحفة الأشراف: 8276)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 39 (937)، سنن ابی داود/الصلاة 244 (1127)، سنن النسائی/الجمعة 43 (1430)، مسند احمد (2/449، 499)، سنن الدارمی/الصلاة 144 (1477) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1131]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 18 (882)، سنن الترمذی/الصلاة 259 (521)، (تحفة الأشراف: 6901)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/11) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَصَلُّوا أَرْبَعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم جمعہ کے بعد سنت پڑھو تو چار رکعت پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1132]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اوپر والی احادیث میں جمعہ کے بعد دو رکعت سنت مذکور ہے اور اسی پر خود ان کا عمل رہا ہے، اور اس حدیث میں چار رکعت سنت کا ذکر ہے، تطبیق یوں ہو گی کہ آدمی مسجد میں پڑھے تو چار رکعت اور گھر جا کر پڑھے تو دو رکعت پڑھ لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 18 (881)، (تحفة الأشراف: 12687)، وقد أخرجہ سنن ابی داود/الصلاة 244 (1131)، سنن الترمذی/الصلاة 259 (523)، سنن النسائی/الجمعة 42 (1427)، دی/الصلاة 207 (1616) (صحیح)
96: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْحِلَقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلاَةِ وَالاِحْتِبَاءِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ
باب: نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر اور دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يُحَلَّقَ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1133]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ جمعہ کے دن خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے، اس لئے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 220 (1079)، سنن الترمذی/الصلاة 124 (322)، سنن النسائی/المساجد 22 (715)، (تحفة الأشراف: 8796)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/179، 212) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ" الِاحْتِبَاءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ"، يَعْنِي: وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1134]
💡 وضاحت:
۱؎: «احتباء» : یعنی گوٹ مار کر بیٹھنے کی صورت یہ ہے کہ دونوں ٹانگوں کو دونوں ہاتھوں سے باندھ کر کھڑا رکھا جائے، اور سرین (چوتڑ) پر بیٹھا جائے، اس سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8803، ومصباح الزجاجة: 404) (حسن) (اس حدیث کی سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ان کے شیخ مجہول ہیں، لیکن معاذ بن انس کے شاہد سے (جو ابوداود، اور ترمذی میں ہے، اور جس کی ترمذی نے تحسین اور ابن خزیمہ نے تصحیح کی ہے) تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 1017)
97: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الأَذَانِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن اذان کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: " مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ إِذَا خَرَجَ أَذَّنَ، وَإِذَا نَزَلَ أَقَام، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ كَذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ، وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى دَارٍ فِي السُّوقِ يُقَالُ لَهَا الزَّوْرَاءُ، فَإِذَا خَرَجَ أَذَّنَ وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف ایک ہی مؤذن تھے ۱؎ ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ کے لیے ) نکلتے تو وہ اذان دیتے ، اور جب منبر سے اترتے تو اقامت کہتے ، ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں بھی ایسا ہی تھا ، جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہو گئے ، تو انہوں نے زوراء نامی ۲؎ بازار میں ایک مکان پر ، تیسری اذان کا اضافہ کر دیا ، چنانچہ جب عثمان رضی اللہ عنہ ( خطبہ دینے کے لیے ) نکلتے تو مؤذن ( دوبارہ ) اذان دیتا ، اور جب منبر سے اترتے تو تکبیر کہتا ۳؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1135]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جمعہ کے دن کے لئے ایک ہی مؤذن تھا، اب یہ اعتراض نہ ہو گا کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن تھے، کیونکہ وہ صرف فجر کی اذان دیا کرتے تھے، بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے بعد، اور ابو محذورہ رضی اللہ عنہ مکہ میں اذان دیتے تھے، اور سعد القرظ قبا میں اذان دیتے تھے، اور حارث صدائی کبھی کبھی سفر وغیرہ میں اذان دیا کرتے تھے، انہوں نے صرف اذان سیکھی تھی۔ ۲؎: زوراء: مدینہ کے ایک بازار کا نام تھا۔ ۳؎:تکبیر کو شامل کر کے یہ تیسری اذان ہوئی، اور یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہو گی جب امام خطبہ دینے کے لئے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان، اقامت (تکبیر) ہے، اگر کوئی اذان اور اقامت ہی پر اکتفا کرے تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے سنت کی اتباع کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 21 (912)، 22 (913)، 24 (915)، 25 (916)، سنن ابی داود/الصلاة 225 (1088، 1090)، سنن الترمذی/الصلاة 255 (516)، سنن النسائی/الجمعة 15 (1393، 1394)، (تحفة الأشراف: 3799)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/449، 450) (صحیح)
98: بَابُ : مَا جَاءَ فِي اسْتِقْبَالِ الإِمَامِ وَهُوَ يَخْطُبُ
باب: دوران خطبہ امام کی جانب منہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلَهُ أَصْحَابُهُ بِوُجُوهِهِمْ".
ثابت کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر کھڑے ہوتے تو آپ کے صحابہ اپنا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کر لیتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1136]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ثابت أبو عدي مجھول الحال (تقريب:836) ولم يذكر من حدثه به ¤ وحديث البخاري (921) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 417
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2070، ومصباح الزجاجة: 405) (صحیح) (اس کی سند میں عدی کے والد ثابت مجہول الحال ہیں، ان سے عدی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے، ثابت صحابی نہیں ہیں، اس لئے یہ حدیث مرسل ہے، مجہول تابعی ثابت نے اس حدیث کو رسول اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، واسطہ غیر معلوم ہے اس لئے انقطاع کی وجہ سے یہ مرسل ہے، اور ابان بن تغلب کا ذکر سند میں غلط ہے، وہ ابان بن عبداللہ البجلی ہے، نیز حدیث کے شواہد ہیں، اس لئے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال 4/385، و مصباح الزجاجة: 405 وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2080)
99: بَابُ : مَا جَاءَ فِي السَّاعَةِ الَّتِي تُرْجَى فِي الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کے وقت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ وَقَلَّلَهَا بِيَدِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ نماز پڑھتا ہوا اسے پا لے ، اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے کسی بھلائی کا سوال کرے ، تو اللہ اسے عطا فرماتا ہے “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے اس وقت کو بہت ہی مختصر بتایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1137]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14441)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 37 (935)، الطلاق 24 (5294)، الدعوات 61 (6400)، صحیح مسلم/الجمعة 4 (852)، سنن النسائی/الجمعة 44 (1433)، سنن ابی داود/الصلاة 204 (1610)، موطا امام مالک/الجمعة 7 (51) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ مِنَ النَّهَارِ لَا يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا الْعَبْدُ شَيْئًا إِلَّا أُعْطِيَ سُؤْلَهُ"، قِيلَ: أَيُّ سَاعَةٍ؟، قَالَ: " حِينَ تُقَامُ الصَّلَاةُ إِلَى الِانْصِرَافِ مِنْهَا".
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ( گھڑی ) ہے کہ اس میں بندہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگے اس کی دعا قبول ہو گی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا : وہ کون سی ساعت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کے لیے اقامت کہی جانے سے لے کر اس سے فراغت تک “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1138]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (490) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 237 (490)، (تحفة الأشراف: 10773) (ضعیف جدا) (اس حدیث کی سند میں کثیر بن عبد اللہ متروک ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ: إِنَّا لَنَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا قَضَى لَهُ حَاجَتَهُ، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ: " فَأَشَارَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَعْضُ سَاعَةٍ"، فَقُلْتُ: صَدَقْتَ، أَوْ بَعْضُ سَاعَةٍ، قُلْتُ: أَيُّ سَاعَةٍ هِيَ؟، قَالَ: " هِيَ آخِرُ سَاعَه مِنْ سَاعَاتِ النَّهَارِ"، قُلْتُ: إِنَّهَا لَيْسَتْ سَاعَةَ صَلَاةٍ، قَالَ: " بَلَى، إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا صَلَّى ثُمَّ جَلَسَ لَا يَحْبِسُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، فَهُوَ فِي الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، میں نے کہا : ہم اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت ( گھڑی ) ہے کہ جو مومن بندہ نماز پڑھتا ہوا اس کو پا لے اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو وہ اس کی حاجت پوری کرے گا ، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کیا کہ ” وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے “ میں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا ، وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے ، میں نے پوچھا : وہ کون سی ساعت ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دن کی آخری ساعت ہے “ میں نے کہا : یہ تو نماز کی ساعت نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیوں نہیں ! بیشک مومن بندہ جب نماز پڑھتا ہے ، پھر نماز ہی کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے ، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1139]
💡 وضاحت:
۱؎: جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کی ساعت کے سلسلہ میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں، بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نماز جمعہ کی اقامت سے فراغت نماز تک ہے، اور بعض سے پتہ چلتا ہے اخیر دن میں ہے، لیکن سب سے زیادہ صحیح حدیث اس باب میں ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی ہے، جو صحیح مسلم میں ہے کہ یہ ساعت اس وقت ہے جب امام خطبہ کے لئے منبر پر بیٹھے نماز کی تکبیر ہونے تک ابن حجر فرماتے ہیں: عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قول کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے اس باب میں سب سے زیادہ مشہور ہے، اور ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت سب سے زیادہ صحیح ہے، «واللہ اعلم» ، اس گھڑی کو پوشیدہ رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ آدمی اس گھڑی کی تلاش میں پورے دن عبادت و دعامیں مشغول و منہمک رہے، «والعلم عند الله»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5342، ومصباح الزجاجة: 406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/450، 451) (حسن صحیح)
100: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ السُّنَّةِ
باب: سنن موکدہ کی بارہ رکعتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ ثَابَرَ عَلَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ السُّنَّةِ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص روزانہ پابندی کے ساتھ بارہ رکعات سنن موکدہ پڑھا کرے ، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا : چار رکعتیں ظہر سے پہلے ، اور دو رکعت اس کے بعد ، دو رکعت مغرب کے بعد ، دو رکعت عشاء کے بعد ، دو رکعت فجر سے پہلے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1140]
💡 وضاحت:
۱؎: فرض نماز سے پہلے یا اس کے بعد جو سنتیں پڑھی جاتی ہیں، ان کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم وہ ہے جس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مداومت فرمائی ہے، بعض روایتوں میں ان کی تعداد دس بیان کی گئی ہے، اور بعض میں بارہ، اور بعض میں چودہ، انہیں سنن مؤکدہ، یا سنن رواتب کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہے جس پر آپ نے مداومت نہیں کی ہے، انہیں نوافل یا غیر موکدہ کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے مزید تقرب کے لیے نوافل یا سنن غیر موکدہ کی بھی بڑی اہمیت ہے، بہتر یہ کہ یہ سنتیں گھر میں ادا کی جائیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا، ویسے مسجد میں بھی ادا کرنا جائز اور درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 190 (414)، سنن النسائی/قیام اللیل 57 (1795)، (تحفة الأشراف: 17393) (صحیح لغیرہ) (تراجع الألبانی: رقم: 621)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَجْدَةً، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ".
ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رات اور دن میں بارہ رکعتیں ( سنن موکدہ ) پڑھیں ۱؎ ، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1141]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ وہی ۱۲ رکعتیں ہیں جن کا ذکر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر کی حدیث میں ہوا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 190 (415)، سنن النسائی/قیام اللیل 57 (1803، 1804)، (تحفةالأشراف: 15862)، وقدأخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 15 (728)، سنن ابی داود/الصلاة 290 (1250)، مسند احمد (6/327، 426) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ أَظُنُّهُ قَالَ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، أَظُنُّهُ قَالَ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں ( سنن موکدہ ) پڑھیں ، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا : دو رکعت فجر سے پہلے ، دو رکعت ظہر سے پہلے ، اور دو رکعت اس کے بعد ، غالباً آپ نے یہ بھی فرمایا : دو رکعت عصر سے پہلے ، اور دو رکعت مغرب کے بعد ، اور یہ بھی فرمایا : دو رکعت عشاء کے بعد “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1142]
قال الشيخ الألباني: ضعيف والحديث صحيح بلفظ وأربع ركعات قبل الظهر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ نسائي (1812) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12747، ومصباح الزجاجة: 407)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل 57 (1812) مختصرا علی قولہ ''من صلی فی یوم۔۔۔'' (ضعیف) (اس کی سند محمد بن سلیمان بن اصبہانی ضعیف ہیں، لیکن واربع رکعات قبل الظہر ”ظہر سے پہلے چار رکعت“ کے لفظ سے یہ حدیث صحیح ہے ملاحظہ ہو: 2347)
101: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
باب: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح صادق روشن ہو جاتی تو دو رکعت پڑھتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1143]
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن المحفوظ عن ابن عمر عن حفصة
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7365)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (618)، التہجد 29 (1173)، 34 (1181)، صحیح مسلم/المسافرین 14 (723)، سنن النسائی/المواقیت 38 (584)، قیام اللیل 57 (1761، 1762)، 60 (1766) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ كَأَنَّ الْأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے ، گویا کہ آپ اقامت سن رہے ہوں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1144]
💡 وضاحت:
۱؎: اقامت کے وقت جیسے جلدی ہوتی ہے، ویسی جلدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان رکعتوں کے ادا کرنے میں کرتے، مطلب یہ ہے کہ ان رکعتوں میں طول نہ کرتے، مختصر سورتیں پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوتر2 (995)، صحیح مسلم/المسافرین 20 (749)، سنن الترمذی/الصلاة 222 (461)، (تحفة الأشراف: 6652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/31، 45، 78، 88، 126) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا نُودِيَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ إِلَى الصَّلَاةِ".
ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نماز فجر کی نماز کی خبر دے دی جاتی تو آپ نماز کے لیے اٹھنے سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1145]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (618)، التہجد 29 (1173)، 34 (1181)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین 16 (732)، سنن الترمذی/الصلاة 203 (433)، سنن النسائی/المواقیت 38 (584)، قیام اللیل 57 (1761)، 60 (1766)، (تحفة الأشراف: 15801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/6، 17، 141، 6/283، 283، 284، 285، سنن الدارمی/الصلاة 146 (1483، 1484) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا تَوَضَّأَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو دو رکعت پڑھتے ، پھر نماز کے لیے نکلتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1146]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16037، ومصباح الزجاجة: 408)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/77، 87، 98، 111، 115) (صحیح) (سند میں ابو اسحاق السبیعی مدلس و مختلط راوی ہیں، لیکن اختلاط سے پہلے ان سے ابو الاحوص نے روایت کی ہے، چنانچہ امام بخاری اور امام مسلم نے ابو الاحوص کے واسطہ سے روایت فرمائی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اقامت کے وقت دو رکعت پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1147]
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الحارث الأعور: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10054، ومصباح الزجاجة: 409، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/77، 87، 98، 111، 115) (ضعیف) (حارث الاعور ضعیف اور شریک سئی الحفظ ہیں)
102: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
باب: فجر کی سنتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1148]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 14 (726)، سنن ابی داود/الصلاة 292 (1256)، سنن النسائی/الافتتاح 39 (946)، (تحفةالأشراف: 13438) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ ، الْوَاسِطِيَّانِ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فَكَانَ" يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مہینہ تک غور سے دیکھا ہے کہ آپ فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں : «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1149]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (417) نسائي (993) ¤ أبو إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 192 (417)، سنن النسائی/الافتتاح 68 (993)، (تحفة الأشراف: 7388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/94، 95، 99) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ"، وَكَانَ يَقُولُ: " نِعْمَ، السُّورَتَانِ هُمَا يُقْرَأُ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے ، اور کہتے تھے کہ یہ دونوں سورتیں جو فجر کی دونوں رکعتوں میں پڑھی جاتی ہیں کیا ہی بہتر ہیں ایک : «قل هو الله أحد» دوسری «قل يا أيها الكافرون» ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1150]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الجريري اِختلط وسماع يزيد بن ھارون وإسحاق الأزرق منه بعد اختلاطه (التقييد والإيضاح ص 427) ¤ وانظر ضعيف سنن أبي داود (1555) ¤ وللحديث شواھد ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16216، ومصباح الزجاجة: 410)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (619)، سنن ابی داود/الصلاة 290 (1255)، سنن النسائی/الافتتاح 40 (947)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 5 (29)، مسند احمد (6/165، 183، 186، 235) سنن الدارمی/الصلا ة146 (1482) (صحیح)
103: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ
باب: فرض نماز کی اقامت کے بعد کوئی اور نماز نہ پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی بھی نماز نہیں ہوتی “ ۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم مثل حدیث مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1151]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرض نماز کے لیے تکبیر ہو جائے تو نفل پڑھنا جائز نہیں، وہ سنت موکدہ ہی کیوں نہ ہوں، بعض لوگوں نے فجر کی سنت کو اس سے مستثنیٰ اور الگ کیا ہے، لیکن یہ استثناء صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ مسلم بن خالد کی روایت میں جسے انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے، مزید وارد ہے «قيل: يا رسول الله! ولا ركعتي الفجر؟ قال: ولا ركعتي الفجر» اس کی تخریج ابن عدی نے یحییٰ بن نصر بن حاجب کے ترجمہ میں کی ہے، اور اس کی سند کو حسن کہا ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت جس کی تخریج بیہقی نے کی ہے، اور جس میں «إلا ركعتي الفجر» کا اضافہ ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس زیادتی کے متعلق بیہقی خود فرماتے ہیں «هذه الزيادة لا أصل لها» یعنی یہ اضافہ بے بنیاد ہے اس کی سند میں حجاج بن نصر اور عباد بن کثیر ہیں یہ دونوں ضعیف ہیں اس لیے اس سے استدلال صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
امام ابن ماجہ نے ایک تیسری سند سے مذکورہ روایت کی مثل بیان کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1151M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ لَهُ: " بِأَيِّ صَلَاتَيْكَ اعْتَدَدْتَ".
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو نماز فجر سے پہلے دو رکعت پڑھ رہا تھا ، اس وقت آپ فرض پڑھ رہے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” اپنی دونوں نماز میں سے کس نماز کا تم نے اعتبار کیا ؟ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1152]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ جو تم نے اکیلے پڑھی یا وہ جو امام کے ساتھ پڑھی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ جب امام نماز کے لئے کھڑا ہو، تو اب فرض نماز کے علاوہ دوسری نماز نہ پڑھنی چاہئے، چاہے وہ فجر کی سنت ہی کیوں نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 9 (712)، سنن ابی داود/الصلاة 294 (1265)، سنن النسائی/الإمامة 61 (869)، (تحفة الأشراف: 5319)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/82) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ، وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَحَطْنَا بِهِ نَقُولُ لَهُ: مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: قَالَ لِي: " يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ الْفَجْرَ أَرْبَعًا".
عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا ، اور نماز فجر کے لیے اقامت کہی جا رہی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہیں آیا ، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو ہم اس کے گرد یہ پوچھنے کے لیے جمع ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا ؟ اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” قریب ہے کہ اب تم میں سے کوئی فجر کی نماز چار رکعت پڑھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1153]
💡 وضاحت:
۱؎: فجر کی چار رکعت پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ اقامت کے بعد وہ دو رکعت سنت پڑھتا ہے، جبکہ وہ فرض نماز کا محل ہے، گویا کہ اس نے فرض کو چار رکعت پڑھ ڈالا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 38 (663)، صحیح مسلم/المسافرین 9 (711)، سنن النسائی/الإمامة 60 (868)، (تحفة الأشراف: 9155)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/345، 346)، دی/الصلاة 149 (1490) (صحیح)
104: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ مَتَى يَقْضِيهِمَا
باب: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھی ہو تو اس سے کب پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَلَاةَ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ؟"، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا، قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز فجر کے بعد دو رکعت پڑھ رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا نماز فجر دو بار پڑھ رہے ہو ؟ “ ، اس شخص نے کہا : میں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکا تھا ، تو میں نے اب ان کو پڑھ لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1154]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 295 (1267، 1268)، سنن الترمذی/الصلاة 197 (422)، (تحفة الأشراف: 11102)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/447) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَامَ عَنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَضَاهُمَا بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سو گئے ، اور فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے ، تو ان کی قضاء سورج نکلنے کے بعد کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1155]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی دو رکعت سنت کی قضا سورج نکلنے کے بعد بھی جائز ہے، یہی ثوری، احمد، اسحاق، اور ابن مبارک کا مذہب ہے، امام محمد کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک زوال تک ان کی قضا پڑھ لینا بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13461، ومصباح الزجاجة: 411) (صحیح)
105: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ
باب: ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَرْسَلَ أَبِي إِلَى عَائِشَةَ ، أَيُّ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا؟، قَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ، وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ".
قابوس اپنے والد ( ابوظبیان ) سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( یہ پوچھنے کے لیے ) بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ان سنتوں میں سے ) کس سنت پر مداومت پسند فرماتے تھے ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے ، ان میں قیام لمبا ، اور رکوع و سجود اچھی طرح کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1156]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قابوس: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16060، ومصباح الزجاجة: 412)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43) (ضعیف) (اس کی سند میں قابوس بن ابی ظبیان ضعیف ہیں، ابو ظبیان حصین بن جندب تابعی ہیں، انہوں نے جو واسطہ ذکر کیا ہے، مبہم ہے، ملاحظہ ہو: الترغیب و الترہیب للمنذری 1/ 400)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ قَرْثَعٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ"، وَقَالَ: " إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے اور بیچ میں سلام سے فصل نہیں کرتے تھے ، اور فرماتے : ” سورج ڈھلنے کے بعد آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1157]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة الفصل
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1270) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 296 (1270)، (تحفة الأشراف: 3485)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4175، 420) (صحیح) (حدیث میں وارد لفظ لا يفصل بينهن بتسليم منکر اور ضعیف ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 125)
106: . بَابُ : مَنْ فَاتَتْهُ الأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ
باب: جو ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں نہ پڑھ سکا ہو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا فَاتَتْهُ الْأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ، صَلَّاهَا بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا قَيْسٌ، عَنْ شُعْبَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر سے پہلے چار رکعتیں فوت ہو جاتیں تو آپ ان کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتوں کے بعد پڑھ لیتے ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف قیس بن ربیع نے شعبہ سے روایت کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1158]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قيس بن الربيع: ضعيف ضعفه الجمهور ¤ وحديث الترمذي (426) ھو المحفوظ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 418
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 201 (426)، (تحفة الأشراف: 16208) (ضعیف) (اس باب میں صحیح حدیث کریب کی ہے، جو ام سلمہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4208)
107: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ بَعْدَ الظُّهْرِ
باب: جس کی ظہر کے بعد کی دو رکعت سنت چھوٹ جائے اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ الرَّسُولِ، فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَتَوَضَّأُ فِي بَيْتِي لِلظُّهْرِ، وَكَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِيًا، وَكَثُرَ عِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ، وَكَانَ قَدْ أَهَمَّهُ شَأْنُهُمْ إِذْ ضُرِبَ الْبَابُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَلَسَ يَقْسِمُ مَا جَاءَ بِهِ، قَالَتْ: فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى الْعَصْرِ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " شَغَلَنِي أَمْرُ السَّاعِي أَنْ أُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ".
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص بھیجا ، قاصد کے ساتھ میں بھی گیا ، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا ، تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں نماز ظہر کے لیے وضو کر رہے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ وصول کرنے والا ایک شخص روانہ کیا تھا ، آپ کے پاس مہاجرین کی بھیڑ تھی ، اور ان کی بدحالی نے آپ کو فکر میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ، آپ باہر نکلے ، ظہر پڑھائی پھر بیٹھے ، اور صدقہ وصول کرنے والا جو کچھ لایا تھا اسے تقسیم کرنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر تک ایسے ہی تقسیم کرتے رہے ، پھر آپ میرے گھر میں داخل ہوئے ، اور دو رکعت پڑھی ، اور فرمایا : ” صدقہ وصول کرنے والے کے معاملے نے مجھے ظہر کے بعد دو رکعت سنت کی ادائیگی سے مشغول کر دیا تھا ، اب نماز عصر کے بعد میں نے وہی دونوں رکعتیں پڑھی ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1159]
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ يزيد بن أبي زياد: ضعيف مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18171ومصباح الزجاجة: 413)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/السہو 8 (1233)، المغازي 69 (4370)، صحیح مسلم/المسافرین 54 (834)، سنن ابی داود/الصلاة 298 (1273)، سنن النسائی/المواقیت 35 (580)، مسند احمد (6/309)، سنن الدارمی/الصلاة 143 (1476) (منکر) (یزید بن ابی زیاد القرشی الہاشمی ضعیف ہیں، بڑھاپے کی وجہ سے حافظہ میں فرق آ گیا تھا، اور تلقین قبول کرنے لگے تھے، نیز شیعہ تھے، ابن حجر کے الفاظ ہیں: ضعيف كبر فتغير وصار يتلقن وكان شيعياً (خت م 4) تہذیب الکمال 32؍ 140، والتقریب)، بخاری نے تعلیقاً اور مسلم نے دوسرے راوی کے ساتھ ان سے حدیث روایت کی ہے، صحیحین وغیرہ میں دوسرے سیاق کے ساتھ یہ حدیث موجو د ہے، اوپر کی تخریج ملاحظہ ہو)
108: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا
باب: ظہر سے پہلے اور اس کے بعد چار چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1160]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 201 (427)، سنن النسائی/قیام اللیل 57 (1818)، (تحفة الأشراف: 15858)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 296 (1769)، مسند احمد (6/326) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 376)
109: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ
باب: دن کی مستحب (نفل) نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ، فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِهِ نَأْخُذْ مِنْهُ مَا اسْتَطَعْنَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ بِمِقْدَارِهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَا هُنَا، قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمُؤْمِنِينَ"، قَالَ عَلِيٌّ: فَتِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، وَقَلّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا، قَالَ وَكِيعٌ: زَادَ فِيهِ أَبِي، فَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ: يَا أَبَا إِسْحَاق، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِحَدِيثِكَ هَذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ هَذَا ذَهَبًا".
عاصم بن ضمرہ سلولی کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دن کی نفل نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : تم ان کو ادا نہ کر سکو گے ، ہم نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیے ، ہم ان میں سے جتنی ادا کر سکیں گے اتنی لے لیں گے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے بعد رکے رہتے یہاں تک کہ جب سورج مشرق ( پورب ) کی جانب سے اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کے وقت مغرب ( پچھم ) کی جانب سے ہوتا ہے تو کھڑے ہوتے اور دو رکعت پڑھتے ، ۱؎ پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ جب سورج ( پورب ) کی جانب سے اتنا بلند ہو جاتا جتنا ظہر کے وقت مغرب ( پچھم ) کی طرف سے بلند ہوتا ہے ، تو آپ کھڑے ہوتے اور چار رکعت پڑھتے ، ۲؎ اور جب سورج ڈھل جاتا تو نماز ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے ، اور چار رکعت عصر سے پہلے جن میں ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں ، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں پر سلام بھیج کر فصل کرتے ۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ سب سولہ رکعتیں ہوئیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دن میں بطور نفل پڑھتے ، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جو پابندی کے ساتھ انہیں پڑھتے رہیں ۔ راوی حدیث وکیع کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس حدیث میں اتنا اضافہ کیا کہ حبیب بن ابی ثابت نے ابواسحاق سے کہا کہ اے ابواسحاق ! اگر اس حدیث کے بدلے مجھے تمہاری اس مسجد بھر سونا ملتا تو میں پسند نہیں کرتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1161]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اشراق کی نماز ہوتی۔ ۲؎: یہ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) ہوتی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 301 (598، 599)، سنن النسائی/الإمامة 65 (875، 876)، (تحفةالأشراف: 10137)، مسند احمد (1/85) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحة: 237)
110: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ"، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: " لِمَنْ شَاءَ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے ، آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا ، اور تیسری مرتبہ میں کہا : ” اس کے لیے جو چاہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1162]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان اور اقامت کے درمیان نفلی نماز ہے، اور یہ نفل ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان ہے، اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 14 (624)، 16 (627)، صحیح مسلم/المسافرین 56 (838)، سنن ابی داود/الصلاة 300 (1283)، سنن الترمذی/الصلاة 22 (185)، سنن النسائی/الاذان 39 (682)، (تحفة الأشراف: 9658)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 5/54، 56، 57)، سنن الدارمی/الصلاة 145 (1480) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ لَيُؤَذِّنُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُرَى أَنَّهَا الْإِقَامَةُ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يَقُومُ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مؤذن اذان دیتا تو لوگ اتنی کثرت سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے کہ محسوس ہوتا کہ نماز مغرب کے لیے اقامت کہہ دی گئی ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1163]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ دو رکعتیں ہلکی ہوتی تھیں جب تک اذان سے فراغت ہوتی اور موذن تکبیر شروع کرتا تو ان سے فراغت ہو جاتی، نیز اس حدیث سے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1104)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 95 (503)، الأذان 14 (625)، صحیح مسلم/المسافرین 55 (836)، سنن ابی داود/الصلاة 300 (1282)، سنن النسائی/الأذان 39 (682)، سنن ابی داود/الصلاة 300 (1282)، مسند احمد (3/282) (صحیح) (اس سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن کئی ثقات نے ان کی متابعت کی ہے کما فی التخریج)
111: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھتے ، پھر میرے گھر واپس آتے ، اور دو رکعت پڑھتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1164]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجمعة 39 (937)، التہجد 25 (1175)، عن ابن عمر صحیح مسلم/المسافرین 15 (730)، سنن ابی داود/الصلاة290 (1251)، سنن الترمذی/الصلاة 205 (436)، (تحفة الأشراف: 16210) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ فِي مَسْجِدِنَا، ثُمَّ قَالَ: " ارْكَعُوا هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس بنو عبدالاشہل ( قبیلہ ) میں آئے ، اور ہمیں ہماری مسجد میں مغرب پڑھائی ، پھر فرمایا : ” یہ دونوں رکعتیں ( مغرب کے بعد کی سنتیں ) اپنے گھروں میں پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1165]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنتوں کا گھر میں ادا کرنا افضل ہے، کیونکہ اس میں ریا و نمود سے بچاؤ ہوتا ہے، اور گھر میں برکت بھی ہوتی ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں لوگوں نے اس سنت کو چھوڑ دیا ہے، اور سنتوں کو مسجد میں ہی پڑھا کرتے ہیں، اور جمعہ کے بعد ایک فیصد بھی ایسا نہیں دیکھا جاتا، جو سنتیں گھر میں جا کر ادا کرے جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3584، ومصباح الزجاجة: 414) (حسن) (عبد الوہاب بن الضحاک متروک ہے، اور اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل شام کے علاوہ سے ضعیف ہے، اور محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث کی تخریج ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں (1/129/2) محمد بن اسحاق کے طریق سے کی ہے، اس لئے عبد الوہاب اور ابن عیاش کی متابعت ہو گئی، نیز مسند احمد: 5/427) میں ابن اسحاق سے تحدیث کی تصریح ہے، لیکن وہ محمود بن لبید کی حدیث ہے، اس وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 1176، و مصباح الزجاجة: 418، تحقیق الشہری)
112: . بَابُ : مَا يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں کون سی سورتیں پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، وَأَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں : «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1166]
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (431) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ: حدیث زرعن عبد اللہ مسعود تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 926) وحدیث أبي وائل عن ابن سعود: أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 204 (431)، (تحفة الأشراف: 9278) (ضعیف) (اس کی سند میں بدل بن المحبر اور عبد الملک بن الو لید ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: المشکاة: 851)
113: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي السِّتِّ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کے بعد چھ رکعت سنت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ الْيَمَامِيُّ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ، عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھے اور ان کے درمیان کوئی غلط بات نہ کہے ، تو وہ بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائیں گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1167]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (435) وانظر الحديث الآتي (1374) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 205 (435)، (تحفة الأشراف: 15412) (ضعیف جدا) (اس حدیث کی سند میں عمر بن ابی خثعم منکر الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 469)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1374)
114: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ لَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ الْوِتْرُ، جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ".
خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر مزید ایک نماز مقرر کی ہے ، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ، وہ وتر کی نماز ہے ، اللہ نے اسے تمہارے لیے عشاء سے لے کر طلوع فجر کے درمیان مقرر کیا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1168]
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله هي خير لكم من حمر النعم
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1418) ترمذي (452) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 336 (1418)، سنن الترمذی/الصلاة215 (452)، (تحفة الأشراف: 3450)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 208 (1617) (صحیح) (اس سند میں عبد اللہ بن راشد مجہول ہیں، اس لئے ھی خیر لکم من حمرالنعم کا ٹکڑا ضیعف ہے، بقیہ حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 442 و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 108 و 1141، و ضعیف أبی داود: 255)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَا كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ، ثُمَّ قَالَ: " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وتر واجب نہیں ہے ، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہے ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی پھر فرمایا : ” اے قرآن والو ! وتر پڑھو ، اس لیے کہ اللہ طاق ہے ، طاق ( عدد ) کو پسند فرماتا ہے ۱؎ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1169]
💡 وضاحت:
۱؎: قرآن والوں سے مراد قراء و حفاظ کی جماعت ہے، نہ کہ عامۃ الناس، اس کی تائید اگلی روایت میں «ليس لك ولا لأصحابك» کے جملہ سے ہو رہی ہے، جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک اعرابی سے کہا تھا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ وتر واجب نہیں ہے، کیونکہ اگر واجب ہوتی تو حکم عام ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1416) ترمذي (453) نسائي (1676) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 336 (1416)، سنن الترمذی/الصلاة 216 (453)، سنن النسائی/قیام اللیل 27 (1676)، (تحفة الأشراف: 10135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/100، 110، 143، 144، 148)، سنن الدارمی/الصلاة 209 (1621) (صحیح لغیرہ) (تراجع الألبانی: رقم: 482)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ"، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ طاق ( یکتا و بے نظیر ) ہے ، طاق کو پسند فرماتا ہے ، لہٰذا اے قرآن والو ! وتر پڑھا کرو ، ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں ؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1170]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1417) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 336 (1417)، (تحفة الأشراف: 9627) (صحیح)
115: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا يُقْرَأُ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ طَلْحَةَ ، وَزُبَيْدٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں : «سبح اسم ربك الأعلى» ، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1171]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 339 (1423)، سنن النسائی/قیام اللیل 34 (1700)، (تحفة الأشراف: 54)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1182) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں : «سبح اسم ربك الأعلى» ، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1172]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1172M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ".
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں : «سبح اسم ربك الأعلى» دوسری میں «قل يا أيها الكافرون» اور تیسری میں «قل هو الله أحد» اور معوذتین پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1173]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں «سبح اسم ربك الأعلى» کی تلاوت فرماتے، اور دوسری رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» کی، اور تیسری رکعت میں: «قل هو الله أحد» اور معوذتین پڑھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1424) ترمذي (463) ¤ خصيف ضعيف،ضعفه الجمهور ¤ ولو شاھد حسن لذاته عند ابن حبان (2423) والحاكم (1/305،2/520) دون قوله: ’’والمعوذتين‘‘ وھو يغني عنه ¤ وانظر مشكاة المصابيح (1/420 ح 1269) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 339 (1424)، سنن الترمذی/الصلاة 223 (463)، (تحفة الأشراف: 16306) وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 227) (صحیح)
116: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ
باب: ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مِنِ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دو دو رکعت پڑھتے تھے ، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1174]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوتر1 (995)، صحیح مسلم/المسافرین20 (749)، سنن الترمذی/الصلاة 222 (461)، (تحفة الأشراف: 6652، 7267)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 338 (1421)، سنن النسائی/قیام اللیل34 (1690)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 3 (13)، مسند احمد (2/33، 43، 45، 49، 51، 54، 81، 83، 154)، سنن الدارمی/الصلاة 154 (1499)، 155 (1500) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ"، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ غَلَبَتْنِي عَيْنِي، أَرَأَيْتَ إِنْ نِمْتُ؟، قَالَ: " اجْعَلْ أَرَأَيْتَ عِنْدَ ذَلِكَ النَّجْمِ"، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا السِّمَاكُ، ثُمَّ أَعَادَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ قَبْلَ الصُّبْحِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات کی نماز دو دو رکعت اور وتر ایک رکعت ہے “ ، ابومجلز ( لاحق بن حمید ) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ اگر میری آنکھ لگ جائے ، اگر میں سو جاؤں ؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اگر مگر اس ستارے کے پاس لے جاؤ ، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ستارہ سماک ۱؎ چمک رہا تھا ، پھر انہوں نے وہی جملہ دہرایا ، اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” رات کی نماز دو دو رکعت ہے ، اور وتر صبح سے پہلے ایک رکعت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1175]
💡 وضاحت:
۱؎: «سماک» : ایک ستارہ کا نام ہے، «سما کان» : دو روشن ستارے، ایک کا نام «السماء الرامح» ہے، دوسرے کا «السماء الأعزل» ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8560) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ، فَقَالَ: كَيْفَ أُوتِرُ؟، قَالَ: " أَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ"، قَالَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ الْبُتَيْرَاءُ، فَقَالَ: " سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يُرِيدُ هَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : میں وتر کیسے پڑھوں ؟ تو انہوں نے کہا : تم ایک رکعت کو وتر بناؤ ، اس شخص نے کہا : میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس نماز کو «بتیراء» ( دم کٹی نماز ) کہیں گے ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے ، ان کی مراد تھی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1176]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ رواية المطلب عن ابن عباس و ابن عمر مرسلة (انظر المراسيل ص 209) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7459، ومصباح الزجاجة: 415) (صحیح) (سند میں انقطاع ہے کیونکہ بقول امام بخاری (التاریخ الکبیر: 8/ 8) مطلب بن عبد اللہ کا سماع کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں ہے، الا یہ کہ انہوں نے کہا ہے کہ مجھ سے بیان کیا اس شخص نے جو نبی اکرم ﷺ کے خطبہ میں حاضر تھا، اور ابو حاتم نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، میں نہیں جانتا کہ ان سے سنایا نہیں سنا (المراسیل: 209)، پھر الجرح و التعدیل میں کہا کہ ان کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرسل (منقطع) ہے، شاید یہ تصحیح شواہد کی وجہ سے ہے، جس کو مصباح الزجاجة (419) میں ملاحظہ کریں، یہ حدیث صحیح ابن خزیمہ (1074) میں ہے، جس کے اسناد کی تصحیح البانی صاحب نے کی ہے، جب کہ ابن ماجہ میں ضعیف لکھا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُسَلِّمُ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعت پہ سلام پھیرتے تھے ، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1177]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16618، ومصباح الزجاجة: 416) (صحیح الإسناد)
117: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: " عَلَّمَنِي جَدِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: اللَّهُمَّ عَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَاهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، سُبْحَانَكَ رَبَّنَا تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ".
حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جن کو میں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں : «اللهم عافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت واهدني فيمن هديت وقني شر ما قضيت وبارك لي فيما أعطيت إنك تقضي ولا يقضى عليك إنه لا يذل من واليت سبحانك ربنا تباركت وتعاليت» ” اے اللہ ! مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جن کو تو نے عافیت بخشی ہے ، اور میری سرپرستی کر ان لوگوں میں جن کی تو نے سرپرستی کی ہے ، اور مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے زمرے میں جن کو تو نے ہدایت دی ہے ، اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے ، اور میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے ، پس جو تو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے ، اور تجھ پر کسی کا حکم نہیں چل سکتا ، اور جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا ، اے ہمارے رب ! تو پاک ، بابرکت اور بلند ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1178]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 340 (1425، 1426)، سنن الترمذی/الصلاة 224 (464)، سنن النسائی/قیام اللیل 42 (1746)، (تحفة الأشراف: 3404)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/199، 200) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ” اے اللہ ! میں تیری رضا مندی کے ذریعہ تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں ، اور تیری معافی کے ذریعہ تیری سزاؤں سے پناہ مانگتا ہوں ، اور تیرے رحم و کرم کے ذریعہ تیرے غیظ و غضب سے پناہ مانگتا ہوں ، میں تیری حمد و ثنا کو شمار نہیں کر سکتا ، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف کی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1179]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 340 (1427)، سنن الترمذی/الدعوات 113 (3566)، (تحفة الأشراف: 10207)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل 43 (1749)، مسند احمد (1/96، 118، 150) (صحیح)
118: . بَابُ : مَنْ كَانَ لاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الْقُنُوتِ
باب: دعائے قنوت میں ہاتھ نہ اٹھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بھی دعا میں اپنے ہاتھ ( مبالغہ کے ساتھ ) نہیں اٹھاتے تھے ، البتہ آپ استسقاء میں اپنے ہاتھ اتنا اوپر اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1180]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ روایت ان بہت سی روایتوں کی معارض ہے جن سے استسقاء کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر دعا میں دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ثابت ہے، لہذا اولیٰ یہ ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ آپ نے جو نفی کی ہے، وہ اپنے علم کی حد تک کی ہے، جس سے دوسروں کے علم کی نفی لازم نہیں آتی ہے، یا یہ کہا جائے کہ اس میں ہاتھ زیادہ اٹھانے کی نفی ہے، یعنی دوسری دعاؤں میں آپ اپنے ہاتھ اتنے اونچے نہیں اٹھاتے تھے جتنا استسقاء میں اٹھاتے تھے، حتی «رأيت بياض إبطيه» کے ٹکڑے سے اس قول کی تائید ہو رہی ہے، اس سے مطلق قنوت میں ہاتھ نہ اٹھانے پر استدلال صحیح نہیں، اس لئے کہ قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھانا صحیح روایتوں سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاستسسقاء 22 (1031) المناقب 23 (3565)، الدعوات 23 (6341)، صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (895)، سنن ابی داود/الصلاة260 (1770)، قیام اللیل 43 (1749)، (تحفة الأشراف: 1168)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الاستسقاء 9 (1512)، مسند احمد (3/282)، سنن الدارمی/الصلاة 189 (1576) (صحیح)
119: . بَابُ : مَنْ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ
باب: دعا میں ہاتھ اٹھانے اور اس کو چہرے پر پھیرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَعَوْتَ اللَّهَ فَادْعُ بِبَاطِنِ كَفَّيْكَ، وَلَا تَدْعُ بِظُهُورِهِمَا، فَإِذَا فَرَغْتَ، فَامْسَحْ بِهِمَا وَجْهَكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کا باطن منہ کی طرف کر کے دعا کرو ، ان کے ظاہری حصہ کو منہ کی طرف نہ کرو ، اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو دونوں ہتھیلیاں اپنے چہرہ پر پھیر لو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1181]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف جدًا ¤ صالح بن حسان: متروك ¤ والحديث ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 358، (1485)، (تحفة الأشراف: 6448، ومصباح الزجاجة: 417)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3866) (ضعیف) (اس کی سند میں صالح بن حسان ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 334)
120: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ
باب: رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُوتِرُ، فَيَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھتے تھے تو دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1182]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 339 (1423)، سنن النسائی/قیام اللیل 34 (1700)، (تحفة الأشراف: 54)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/123) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سُئِلَ عَنِ الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ: " كُنَّا نَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نماز فجر میں دعائے قنوت کے متعلق پوچھا گیا کہ کب پڑھی جائے ؟ تو انہوں نے کہا : ہم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں طرح دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1183]
💡 وضاحت:
۱؎: محدثین نے اسی پر عمل کیا ہے، اور نماز فجر کی طرح وتر میں بھی یہ جائز رکھا ہے کہ خواہ رکوع سے پہلے قنوت پڑھے یا رکوع کے بعد، مگر رکوع کے بعد پڑھنے کی حدیثیں زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 687 ومصباح الزجاجة: 418)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 126 (798)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1444)، سنن النسائی/التطبیق 27 (1072)، مسند احمد (3/217، 232)، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1637) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے ملاحظہ ہو: 1243)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ، فَقَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ".
محمد ( محمد بن سیرین ) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1184]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوتر 7 (1001)، المغازي 29 (4089)، الدعوات 58 (6394)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1444)، (تحفة الأشراف: 1453)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/التطبیق 26 (1071)، مسند احمد (3/113، 511، 166، 167) (صحیح)
121: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ آخِرَ اللَّيْلِ
باب: رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَوْسَطِهِ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ فِي السَّحَرِ".
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا ، کبھی رات کے شروع حصے میں ، کبھی درمیانی حصے میں ، اور وفات کے قریبی ایام میں اپنا وتر صبح صادق کے قریب پڑھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1185]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کو رات میں مختلف اوقات میں پڑھا ہے، لیکن اخیر عمر میں وتر کو صبح صادق کے قریب پڑھا ہے، تو ایسا ہی کرنا افضل ہے، بالخصوص ان لوگوں کے لئے جو اخیر رات میں تہجد کے لئے اٹھا کرتے ہیں، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ابتدائی حصہ یا درمیانی حصہ میں پڑھا ہے تو اس سے جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں امت کے لئے آسانی ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 17 (745)، سنن الترمذی/الصلاة 218 (456)، سنن النسائی/قیام اللیل 28 (1682)، (تحفة الأشراف: 17653)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر 2 (996)، سنن ابی داود/الصلاة 343 (1435)، مسند احمد (6/129، 204)، سنن الدارمی/الصلا ة 211، (1628) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَوْسَطِهِ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں کبھی شروع میں ، اور کبھی بیچ میں ، صبح صادق کے طلوع تک نماز وتر پڑھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1186]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10145، ومصباح الزجاجة: 914)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/78، 86، 104، 137، 143، 147) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ لِيَرْقُدْ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَاءَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو رات کی ابتداء ہی میں وتر پڑھ لے اور سو جائے ، اور جس کو امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو جائے گا تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی قراءت میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1187]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 21 (755)، سنن الترمذی/الصلاة 217 (455)، (تحفة الأشراف: 2297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 315، 389) (صحیح)
122: . بَابُ : مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرٍ أَوْ نَسِيَهُ
باب: سو جانے یا بھولنے کی وجہ سے وتر فوت ہو جائے تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَدِينِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنُ أَبِي سَعِيدٍ عن أبي هريرة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ، فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ أَوْ ذَكَرَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو نماز وتر سے سو جائے ، یا اسے بھول جائے ، تو صبح کے وقت یا جب یاد آ جائے پڑھ لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1188]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 341 (1431)، سنن الترمذی/الصلاة 225 (465، 466)، (تحفة الأشراف: 4168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/31، 44) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: فِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَوَاهٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح صادق سے پہلے وتر پڑھ لو “ ۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن زید کی حدیث ضعیف ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1189]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین20 (754)، سنن الترمذی/الصلاة 226 (468)، سنن النسائی/قیام اللیل 29 (1684)، (تحفة الأشراف: 4384)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 343 (1422)، مسند احمد (3/13، 35، 37، 71)، سنن الدارمی/الصلاة 211 (1629) (صحیح)
123: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِثَلاَثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ
باب: وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوِتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلَاثٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وتر حق ( ثابت ) ہے ، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے ، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے ، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1190]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 338 (1422)، سنن النسائی/قیام اللیل 34 (1711، 1712)، (تحفة الأشراف: 3480)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/418)، سنن الدارمی/الصلاة 210 (1626) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَفْتِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَدْعُو رَبَّهُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ".
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : ام المؤمنین ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بتائیے ، تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے ، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا رات میں آپ کو بیدار کر دیتا ، آپ مسواک اور وضو کرتے ، پھر نو رکعتیں پڑھتے ، بیچ میں کسی بھی رکعت پر نہ بیٹھتے ، ہاں آٹھویں رکعت پر بیٹھتے ، اپنے رب سے دعا کرتے ، اس کا ذکر کرتے اور حمد کرتے ہوئے اسے پکارتے ، پھر اٹھ جاتے ، سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے ، پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کرتے ، اور اپنے رب سے دعا کرتے ، اور اس کے نبی پر درود ( صلاۃ ) پڑھتے ، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم سن لیتے ، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے ، یہ سب گیارہ رکعتیں ہوئیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی ، اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہو گیا ، تو آپ سات رکعتیں وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1191]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/السہو 67 (1316)، (تحفة الأشراف: 16107)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 18 (746)، الصلاة 316 (1342)، مسند احمد (6/44، 54) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ وَلَا كَلَامٍ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعتیں وتر پڑھتے تھے ، اور ان کے درمیان سلام اور کلام سے فصل نہیں کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1192]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/قیام اللیل 35 (1715)، (تحفةالأشراف: 18214)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الوتر 5 (457)، مسند احمد (6/290، 310، 321) (ضعیف) (اس سند میں مقسم ہیں، اور ان کا سماع ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2961)
124: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں وتر پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا، وَكَانَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ، قُلْتُ: وَكَانَ يُوتِرُ؟، قَالَ: نَعَمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں ، اور رات میں تہجد پڑھتے تھے ، سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( سفر میں ) وتر پڑھتے تھے ؟ کہا : جی ہاں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1193]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ جابر الجعفي: ضعيف جدًا مدلس ¤ وقال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف‘‘ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6747، ومصباح الزجاجة: 420)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/86) (ضعیف جدًا) (اس حدیث کی سند میں جابر بن یزید الجعفی کذاب راوی ہے، لیکن اس باب میں صحیح احادیث آئی ہیں جو ہمارے لئے کافی ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، قَالَا: " سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَهُمَا تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ، وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ".
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی نماز دو رکعت مقرر کی ہے ، یہ دو رکعت پوری ہے ناقص نہیں ، اور سفر میں نماز وتر پڑھنا سنت ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1194]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جابر الجعفي: ضعيف رافضي ¤ والحديث ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5775، 7116، ومصباح الزجاجة: 421)، مسند احمد (1/241) (ضعیف جدا) (سند میں جابر جعفی متروک اور کذاب راوی ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 1350)
125: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ جَالِسًا
باب: وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مُوسَى الْمَرَئِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد دو ہلکی رکعت بیٹھ کر پڑھتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1195]
💡 وضاحت:
۱؎: اور بعض فقہاء کو اس کی خبر نہیں ہوئی انہوں نے وتر کے بعد اس دو رکعت نفل سے منع کیا، اور شاید کبھی کبھار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہو گا، کیونکہ آپ اکثر وتر اخیر رات میں پڑھتے تھے جیسے اوپر گزرا، اور وتر کے بعد دوسری نماز نہ پڑھتے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوتی تو فجر کی سنتیں پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الحسن البصري عنعن ¤ و ميمون بن موسي المرئي مدلس و عنعن (طبقات المدلسين 3/109) ¤ و حديث مسلم (738) و الترمذي (471) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الوتر 14 (471)، (تحفة الأشراف: 18255)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/298) (صحیح) (اس کی سند میں میمون بن موسیٰ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 426 بتحقیق الشہری)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، يَقْرَأُ فِيهِمَا وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے تھے ، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے ۱؎ اور ان میں قراءت کرتے ، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1196]
💡 وضاحت:
۱؎: امام احمد کہتے ہیں کہ میں وتر کے بعد اس دو رکعت سے نہ منع کرتا ہوں، نہ میں اس کو پڑھتا ہوں، اور امام مالک نے اس کا انکار کیا ہے، نووی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں رکعتوں کو بیٹھ کر پڑھا، اس امر کو ظاہر کرنے کے لئے کہ وتر کے بعد نفل پڑھنا صحیح ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ان کو نہیں پڑھا، اور قاضی عیاض نے ان حدیثوں کو قبول نہیں کیا، حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ شاید یہ مسافر کے لئے ہے کہ جب تہجد کے لئے جاگنے کی امید نہ ہو تو وتر کے بعد یہ دو رکعت پڑھ کر سوئے، جیسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر ایک تکلیف ہے، پھر جب کوئی تم میں سے وتر پڑھے تو دو رکعت پڑھ لے، اگر جاگے تو خیر ورنہ یہ دو رکعت اس کے لئے تہجد کے قائم مقام ہو جائے گی، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17715ومصباح الزجاجة: 423)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (691)، التہجد 22 (1159)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (738)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1340)، سنن النسائی/قیام اللیل 46 (1757)، مسند احمد (6/53، 81) (صحیح)
126: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الضَّجْعَةِ بَعْدَ الْوِتْرِ وَبَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
باب: وتر کے بعد اور فجر کی دو رکعت سنت کے بعد لیٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا كُنْتُ أُلْفِي أَوْ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَّا وَهُوَ نَائِمٌ عِنْدِي"، قَالَ وَكِيعٌ: تَعْنِي: بَعْدَ الْوِتْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اخیر رات میں پاتی تو اپنے پاس سویا ہوا پاتی ۱؎ ۔ وکیع نے کہا : ان کی مراد وتر کے بعد ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1197]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ وتر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جاتے، اور تھوڑی دیر آرام فرماتے پھر فجر کی سنتوں کے لئے اٹھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17715)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 7 (1133)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (742)، سنن ابی داود/الصلاة 312 (1318)، مسند احمد (6/137، 161، 205، 270) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعت سنت پڑھ لیتے تو دائیں کروٹ لیٹ جاتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1198]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16509)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 14 (626)، التہجد 23 (1160)، 24 (1161)، الدعوات 5 (6310)، سنن الترمذی/الصلاة 208 (440)، سنن النسائی/قیام اللیل 49 (1763)، مسند احمد (6/34، 35)، سنن الدارمی/الصلاة 165 (1514) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعت سنت پڑھ لیتے تو پہلو پر لیٹ جاتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1199]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12685)، سنن ابی داود/الصلاة 293 (1261)، سنن الترمذی/الصلاة 194 (420) (حسن صحیح)
127: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ
باب: سواری پر وتر پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَتَخَلَّفْتُ، فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ: مَا خَلَفَكَ؟، قُلْتُ: أَوْتَرْتُ، فَقَالَ: أَمَا لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ".
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ، میں پیچھے ہو گیا ، اور نماز وتر ادا کی ، انہوں نے پوچھا : تم پیچھے کیوں رہ گئے ؟ میں نے کہا : میں وتر پڑھ رہا تھا ، انہوں نے کہا : کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1200]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوتر 5 (999)، تقصیرالصلاة 7 (1095)، 8 (1096)، 12 (1105)، صحیح مسلم/المسافرین 4 (700)، سنن الترمذی/الصلاة 228 (472)، سنن النسائی/قیام اللیل 31 (1689)، (تحفة الأشراف: 7085)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 3 (15) مسند احمد (2/57، 138)، سنن الدارمی/الصلاة 213 (1631) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَسْفَاطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1201]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6140، ومصباح الزجاجة: 424) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عباد بن منصور ضعیف ہیں)
128: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ
باب: رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلِيمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : تم وتر کب پڑھتے ہو ؟ کہا : شروع رات میں عشاء کے بعد ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تم اے عمر ! انہوں نے کہا : رات کے اخیر حصے میں ، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابوبکر ! تم نے مضبوط کڑا پکڑا ہے ( یقینی طریقہ اختیار کیا ) اور اے عمر ! تم نے قوت والا کام پکڑا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1202]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 8224، ومصباح الزجاجة: 426) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلِيمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا ، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1202M]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 8224، ومصباح الزجاجة: 426) (صحیح)
129: . بَابٌ في السَّهْوِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں سہو (بھول چوک) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَزَادَ أَوْ نَقَصَ"، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَالْوَهْمُ مِنِّي، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟، قَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ تَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، آپ نے کچھ زیادہ یا کچھ کم کر دیا ، ( ابراہیم نخعی نے کہا یہ وہم میری جانب سے ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا نماز میں کچھ زیادتی کر دی گئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں بھی انسان ہی ہوں ، جیسے تم بھولتے ہوں ویسے میں بھی بھولتا ہوں ، لہٰذا جب کوئی شخص بھول جائے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی جانب گھوم گئے ، اور دو سجدے کئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1203]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، سنن ابی داود/الصلاة 196 (1021)، (تحفة الأشراف: 9424)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 23 (401)، سنن الترمذی/الصلاة 173 (392)، سنن النسائی/السہو25 (1242)، مسند احمد (1/379، 429، 438، 455) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى ، حَدَّثَنِي عِيَاضٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَقَالَ: أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ".
عیاض نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کوئی شخص نماز ادا کرتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کر لیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے ، اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1204]
💡 وضاحت:
۱؎: بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے یہ اس لئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اس کا مسئلہ معلوم ہو، اور اللہ تعالیٰ نے سہو کے تدارک میں دو سجدے مقرر کئے، کیونکہ بھول چوک شیطان کے وسوسہ سے ہوتی ہے، اور سجدہ کرنے سے شیطان بہت ناراض ہوتا ہے، تو اس میں یہ حکمت ہے کہ شیطان بھلانے سے باز آ جائے گا، جب دیکھے گا کہ میرے بھلانے کی وجہ سے بندے کو زیادہ ثواب ملا۔ اور سجدہ سہو سنت کے ترک سے بھی مشروع ہے، اسی طرح جب نماز میں زیادتی ہو جائے یا شک ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھیں، اور جب امام سجدہ سہو کرے تو مقتدی بھی اس کی پیروی کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 197 (1029)، سنن الترمذی/الصلاة 17 (396)، (تحفة الأشراف: 4396)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 19 (571)، سنن النسائی/السہو 24 (1240)، موطا امام مالک/الصلاة 16 (62)، مسند احمد (3/12، 37، 50، 51، 53، 54)، سنن الدارمی/الصلاة 174 (1536) (صحیح)
130: . بَابُ : مَنْ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا وَهُوَ سَاهٍ
باب: بھول کر ظہر پانچ رکعت پڑھ لے تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ فَقِيلَ لَهُ: فَثَنَى رِجْلَهُ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ".
عیاض نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کیا نماز میں اضافہ ہو گیا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا بات ہے ؟ “ آپ سے کہا گیا ( کہ آپ نے پانچ رکعت پڑھی ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا ، اور سہو کے دو سجدے کئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1205]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 31 (401)، 32 (404)، السہو2 (1226)، الأیمان 15 (6671)، صحیح مسلم/المساجد 19 (572) سنن ابی داود/الصلاة 196 (1019)، سنن الترمذی/الصلاة 173 (392)، سنن النسائی/السہو26 (1255)، (تحفة الأشراف: 9411) وقد أخرجہ: مسند احمد (1/379، 429، 438، 376، 443، 465)، سنن الدارمی/الصلاة 175 (1539) (صحیح)
131: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ قَامَ مِنَ اثْنَتَيْنِ سَاهِيًا
باب: جو شخص بھول سے دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى صَلَاةً أَظُنُّ أَنَّهَا الظُّهْرُ، فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّانِيَةِ قَامَ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ".
ابن بحینہ ( عبداللہ بن مالک ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھائی ، میرا خیال ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی ، جب آپ دوسری رکعت میں تھے تو تشہد کیے بغیر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہو گئے ، پھر جب آپ آخری تشہد میں بیٹھے تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1206]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاذان 146 (829)، 147 (830)، السہو1 (1224)، 5 (1230)، الأیمان 15 (6670)، صحیح مسلم/المساجد 19 (570)، سنن ابی داود/الصلاة 200 (1034، 1035)، سنن الترمذی/الصلاة 172 (391)، سنن النسائی/التطبیق 106 (1178، 1179) السہو21 (1223، 1224)، (تحفة الأشراف: 9154)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 17 (65)، مسند احمد (5/345، 346)، سنن الدارمی/الصلاة 176 (1540) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ لَهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، أَنَّ ابْنَ بُحَيْنَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَامَ فِي ثِنْتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، نَسِيَ الْجُلُوسَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَّا أَنْ يُسَلِّمَ، سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَسَلَّمَ".
عبدالرحمٰن اعرج سے روایت ہے کہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی دوسری رکعت پڑھ کر ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہو گئے ، اور تشہد بھول گئے ، یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے ، اور صرف سلام پھیرنا باقی رہ گیا ، تو سہو کے دو سجدے کئے ، اور سلام پھیرا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1207]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ترک سنت سے بھی سجدہ سہو ہوتا ہے، کیونکہ (تشہد) قعدہ اولیٰ سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُبَيْلٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَلَمْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے لیکن ابھی پورے طور پہ کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے ، اور اگر پورے طور پہ کھڑا ہو گیا ہو تو نہ بیٹھے ، اور آخر میں سہو کے دو سجدے کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1208]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک سیدھا کھڑا نہ ہو اس وقت تک بیٹھ سکتا ہے، اگرچہ قیام کے قریب ہو گیا ہو، اور بعض فقہاء نے کہا کہ قیام کے قریب ہو گیا ہو تو بھی نہ بیٹھے، اور حدیث میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 201 (1036)، سنن الترمذی/الصلاة 152 (364 تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 25 115) وقد أخرجہ: مسند احمد (4/253، 254)، سنن الدارمی/الصلاة 176 (1540) (صحیح)
132: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَرَجَعَ إِلَى الْيَقِينِ
باب: نماز میں شک کی صورت میں یقینی بات پر عمل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالْوَاحِدَةِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ، وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلَاثِ وَالْأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ لِيُتِمَّ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب کوئی شخص شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا ایک ، تو ایک کو اختیار کرے ، ( کیونکہ وہ یقینی ہے ) اور جب دو اور تین رکعت میں شک کرے تو دو کو اختیار کرے ، اور جب تین یا چار میں شک کرے تو تین کو اختیار کرے ، پھر باقی نماز پوری کرے ، تاکہ وہم زیادتی میں ہو کمی میں نہ ہو ، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1209]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کی رائے کسی طرف قرار نہ پکڑے، اور دونوں جانب برابر ہوں یعنی غلبہ ظن کسی طرف نہ ہو تو کم عدد اختیار کرے کیونکہ اس میں احتیاط ہے، اگر غلطی ہو گی تو یہی ہو گی کہ نماز زیادہ ہو جائے گی، اور وہ بہتر ہے کم ہو جانے سے، اور اس حالت میں یہ حدیث اگلی حدیثوں کے خلاف نہ ہو گی، جن میں سوچنے کا ذکر ہے، اور بعضوں نے کہا سوچنا چاہئے، بلکہ ہر حال میں یقین کی طرف رجوع کرنا چاہئے، اور کم عدد اختیار کرنا چاہئے، اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر پہلی مرتبہ ایسا اتفاق ہو تو نماز سرے سے دوبارہ پڑھے، اگر دوسری یا تیسری بار ہو تو سوچے اور جس رائے پر اطمینان ہو اس پر عمل کرے، اگر کسی پر رائے اطمینان نہ ہو تو کم کو اختیار کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 175 (398)، (تحفة الأشراف: 9722)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/190، 193، 195) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيُلْغِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ، فَإِذَا اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ لِتَمَامِ صَلَاتِهِ، وَكَانَتِ السَّجْدَتَانِ رَغْمَ أَنْفِ الشَّيْطَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص اپنی نماز میں شبہ کرے تو شبہ کو ختم کر کے یقین پر بنا کرے ، اور جب نماز کے مکمل ہو جانے کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے ، اگر اس کی نماز پوری تھی تو جو رکعت زائد پڑھی وہ نفل ہو جائے گی ، اور اگر ناقص تھی تو یہ رکعت نماز کو پوری کر دے گی ، اور یہ دونوں سجدے شیطان کی تذلیل و تحقیر کے لیے ہوں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1210]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 19 (571)، سنن ابی داود/الصلاة 197 (1024، 1027)، سنن النسائی/السہو 42 (1239، 1240) (تحفة الأشراف: 4163)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة16 (62)، مسند احمد (3/72، 83، 84، 87) سنن الدارمی/الصلاة 174 (1536) (حسن صحیح)
133: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَتَحَرَّى الصَّوَابَ
باب: جس شخص کو نماز میں شک ہو تو وہ سوچے اور غور کرے اور جو صحیح معلوم ہو اس پر عمل کرے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ شُعْبَةُ: كَتَبَ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَا يَدْرِي أَزَادَ أَوْ نَقَصَ، فَسَأَلَ، فَحَدَّثْنَاهُ، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمُوهُ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ مِنَ الصَّوَابِ، فَيُتِمَّ عَلَيْهِ، وَيُسَلِّمَ، وَيَسْجُدَ سَجْدَتَيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی ، ہمیں یاد نہیں کہ آپ نے اس میں کچھ بیشی کر دی یا کمی کر دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے بارے میں پوچھا تو ہم نے آپ سے اسے بیان کیا ، آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور قبلہ کی جانب رخ کیا ، اور دو سجدے کئے ، پھر سلام پھیرا ، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : ” اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں ضرور باخبر کرتا ، میں تو ایک انسان ہوں ، میں بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو ، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو ، اور تم میں سے جو بھی نماز میں شک کرے تو سوچے ، اور جو صحیح کے قریب تر معلوم ہو اسی کے حساب سے نماز پوری کر کے سلام پھیرے ، اور دو سجدے کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1211]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً شک ہوا کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار تو سوچ کر جس عدد پر رائے ٹھہرے اس پر عمل کرے، اگر کسی طرف غلبہ ظن نہ ہو تو احتیاطاً کم عدد اختیار کرے، اور ہر حال میں سجدہ سہو کرے، نیز اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: ایک یہ کہ نماز کے اندر بھولے سے بات کرے تو نماز نہیں جاتی، دوسرے یہ کہ ایک شخص کی گواہی میں شبہ رہتا ہے تو اس خبر کی تحقیق کرنی چاہئے، تیسرے یہ کہ جب نماز میں کمی ہو جائے تو سجدہ سہو سلام کے بعد کرنا چاہئے، اور اس کی بحث آگے آئے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 31 (401)، 32 (404)، السہو 2 (1226)، الأیمان والنذور 15 (6671)، أخبارالآحاد1، (7249)، صحیح مسلم/المساجد 19 (572)، سنن ابی داود/الصلاة 196 (1020)، سنن النسائی/السہو 25 (1241، 1242)، (تحفة الأشراف: 9451)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 173، (392)، مسند احمد (1/379، 419، 438، 455)، دي الصلاة 175 (1539) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ"، قَالَ الطَّنَافِسِيُّ: هَذَا الْأَصْلُ وَلَا يَقْدِرُ أَحَدٌ يَرُدُّهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص نماز میں شک کرے ، تو سوچ کر صحیح کو معلوم کرے ، پھر دو سجدے کرے “ ۔ طنافسی کہتے ہیں : یہی اصل ہے جس کو کوئی شخص رد نہیں کر سکتا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1212]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سجدہ سہو سب کے نزدیک لازم ہو گا، اب اختلاف اور امور میں ہے کہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، یا سلام سے پہلے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9451) (صحیح)
134: . بَابُ : فِيمَنْ سَلَّمَ مِنْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلاَثٍ سَاهِيًا
باب: دوسری یا تیسری رکعت میں بھول کر سلام پھیر دے تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَهَا فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: ذُو الْيَدَيْنِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَصُرَتْ أَمْ نَسِيتَ؟، قَالَ: " مَا قَصُرَتْ وَمَا نَسِيتُ"، قَالَ: صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: " أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ"، قَالُوا: نَعَمْ، " فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول کر دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا ، تو ذوالیدین نامی ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” نہ تو نماز کم ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں “ ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا : تب تو آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا حقیقت وہی ہے جو ذوالیدین کہتا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، آپ آگے بڑھے اور دو رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر سہو کے دو سجدے کئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1213]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 195 (1017)، (تحفة الأشراف: 7838) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ كَانَتْ فِي الْمَسْجِدِ يَسْتَنِدُ إِلَيْهَا"، فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ يَقُولُونَ: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَاهُ أَنْ يَقُولَا لَهُ شَيْئًا، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ طَوِيلُ الْيَدَيْنِ يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟، فَقَالَ: " لَمْ تَقْصُرْ وَلَمْ أَنْسَ"، قَالَ: فَإِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: " أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ"، قَالُوا: نَعَمْ، " فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء ( یعنی زوال کے بعد کی دو نمازوں ظہر یا عصر ) میں سے کوئی نماز دو ہی رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیر دیا ، پھر مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے ، جلد باز لوگ تو یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم ہو گئی ، مقتدیوں میں ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے ، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکے ، لوگوں میں ذوالیدین نامی ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ تو وہ کم ہوئی ، نہ میں بھولا ہوں “ تو انہوں نے کہا : آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ ذوالیدین کہہ رہے ہیں ؟ “ ، تو لوگوں نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اور دو رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر دو سجدے کئے ، پھر سلام پھیرا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1214]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سلام سجدہ سہو سے نکلنے کے لئے تھا کیونکہ دیگر تمام روایات میں یہ صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا (پھر اس کے لئے سلام پھیرا) رکعات کی کمی بیشی کے سبب جو سجدہ سہو آپ نے کئے ہیں، وہ سب سلام کے بعد میں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 88 (482)، الأذان 69 (714، 715)، السہو3 (1227)، 4 (1228)، 5 (1229)، الادب 45 (6051)، أخبارالآحاد 1 (7250)، سنن ابی داود/الصلاة 195 (1011)، سنن النسائی/السہو 22 (1225)، (تحفة الأشراف: 14469)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 19 (573)، سنن الترمذی/الصلاة 176 (399)، مسند احمد (2/235، 423، 460) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: " سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ"، فَقَامَ الْخِرْبَاقُ رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ، فَنَادَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟" فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَسَأَلَ، فَأُخْبِرَ، فَصَلَّى تِلْكَ الرَّكْعَةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر میں تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا ، پھر اٹھے اور حجرہ میں تشریف لے گئے ، تو لمبے ہاتھوں والے خرباق ( رضی اللہ عنہ ) کھڑے ہوئے اور پکارا : اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہو گئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے ، اور لوگوں سے پوچھا ، تو اس کے بارے میں آپ کو خبر دی گئی ، تو آپ نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی ، پھر سلام پھیرا ، پھر دو سجدے کئے ، پھر سلام پھیرا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1215]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 19 (574)، سنن ابی داود/الصلاة 202 (1018)، سنن النسائی/السہو 23 (1238)، (تحفة الأشراف: 10882)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 174 (395)، مسند احمد (4/427، 431، 440، 5/110) (صحیح)
135: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلاَمِ
باب: سلام سے پہلے سجدہ سہو کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بَكِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَيَدْخُلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ زَادَ أَوْ نَقَصَ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، ثُمَّ يُسَلِّمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے ، اور انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو کر وسوسے ڈالتا ہے ، یہاں تک کہ آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے زیادہ پڑھی یا کم پڑھی ، جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے ، پھر سلام پھیرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1216]
💡 وضاحت:
۱؎: سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے کہ آدمی اسے سلام سے پہلے کرے، یا سلام کے بعد، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ اسے سلام سے پہلے کرے، یہی قول اکثر فقہائے مدینہ مثلاً یحیی بن سعید، ربیعہ اور امام شافعی وغیرہ کا ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہ قول مالک بن انس کا ہے، اور امام احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہو جائے تو ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر و عصر کی نماز میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس صورت میں جیسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل موجود ہے، اس پر اس طرح عمل کرے، اور جس صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 31 (516)، 198 (1032)، (تحفة الأشراف: 15252)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 4 (608)، صحیح مسلم/المساجد 19 (389)، سنن الترمذی/الصلاة 174 (397)، موطا امام مالک/السہو 1 (1) (حسن صحیح) ( قبل أن یسلم کا جملہ صحیح نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بَكِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ بَيْنَ ابْنِ آدَمَ وَبَيْنَ نَفْسِهِ، فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی ؟ جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1217]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شک کی صورت میں سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے، امام احمد نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور بخاری، اور مسلم نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے ایسا ہی روایت کیا ہے، اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں کمی کی صورت میں سلام کے بعد سجدہ منقول ہے، غرض اس باب میں مختلف حدیثیں وارد ہیں، کسی میں سلام سے پہلے سجدہ سہو منقول ہے، کسی میں سلام کے بعد، اس لیے اہل حدیث نے دونوں طرح جائز رکھا ہے، اور اسی کو صحیح مذہب قرار دیا ہے تاکہ سب حدیثوں پر عمل ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14962)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 4 (608)، العمل في الصلاة 18 (1222)، السہو 6 (1231)، بدء الخلق 11 (3285)، صحیح مسلم/السہو19 (389) سنن ابی داود/الصلاة 31 (516)، مسند احمد (2/313، 398، 411) (حسن صحیح)
136: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلاَمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ، وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ".
علقمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کئے ، اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1218]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9460)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/363، 376) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ سَالِمٍ الْعَنْسِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فِي كُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1219]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 202 (1038)، (تحفة الأشراف: 2077)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/280) (حسن)
137: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز پر بنا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِمْ، فَمَكَثُوا، ثُمَّ انْطَلَقَ فَاغْتَسَلَ، وَكَانَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً، فَصَلَّى بِهِمْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " إِنِّي خَرَجْتُ إِلَيْكُمْ جُنُبًا، وَإِنِّي نَسِيتُ حَتَّى قُمْتُ فِي الصَّلَاةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے اور آپ نے «الله أكبر» کہا ، پھر لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں ، لوگ ٹھہرے رہے ، پھر آپ گھر گئے اور غسل کر کے آئے ، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” میں تمہارے پاس جنابت کی حالت میں نکل آیا تھا ، اور غسل کرنا بھول گیا تھا یہاں تک کہ نماز کے لیے کھڑا ہو گیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1220]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14594، ومصباح الزجاجة: 427)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 25 (640، 639)، صحیح مسلم/المساجد 29 (605)، سنن ابی داود/الطہارة 94 (235)، سنن النسائی/الإمامة 14 (793)، مسند احمد (1/368، 2/237، 259، 448) (حسن صحیح) (یہ سند حسن ہے، اس کے رواة ثقہ ہیں، اور مسلم کے راوی ہیں، یعنی سند مسلم کی شرط پر ہے، اور اسامہ بن زید یہ لیثی ابو زید مدنی صدوق ہیں، لیکن ان کے حفظ میں کچھ ضعف ہے، بو صیری اور ابن حجر وغیرہ نے شاید اسامہ بن زید کو عدوی مدنی سمجھ کر اس کی تضعیف کی ہے، لیکن متن حدیث ثابت ہے، نیز اس کے شواہد بھی ہیں، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 227- 231)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصَابَهُ قَيْءٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلَسٌ أَوْ مَذْيٌ، فَلْيَنْصَرِفْ، فَلْيَتَوَضَّأْ، ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے نماز میں قے ، نکسیر ، منہ بھر کر پانی یا مذی آ جائے تو وہ لوٹ جائے ، وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے ، لیکن اس دوران کسی سے کلام نہ کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1221]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،لأنه من رواية إسماعيل عن الحجازين وھي ضعيفة‘‘ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16252، ومصباح الزجاجة: 428) (ضعیف) (اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہیں، اور ان کی روایت حجاز سے ضعیف ہوتی ہے، اور یہ اسی قبیل سے ہے)
138: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ أَحْدَثَ فِي الصَّلاَةِ كَيْفَ يَنْصَرِفُ
باب: جس کو نماز میں حدث ہو جائے تو وہ مسجد سے کس حالت میں باہر جائے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی شخص کو نماز میں حدث ہو جائے ، تو اپنی ناک پکڑ لے اور چلا جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1222]
💡 وضاحت:
۱؎: وضو کرنے کے لئے ناک پکڑنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سے لوگ سمجھیں کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے، کیونکہ شرم کی بات ہے (ہوا خارج ہو جانے کی بات) کو چھپانا ہی بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ عمر بن علي المقدمي صرح بالسماع عند الدارقطني وتابعه غير واحد عند أبي داود (1114) وابن الجارود (222) والحاكم (1/ 184، 260)
تخریج دارالدعوہ: تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17129، ومصباح الز جاجة: 429/أ) (صحیح) (اس کی سند میں عمر بن قیس ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ متابعت سے تقویت پاکر صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مرفوعاً آئی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1222M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17129، ومصباح الز جاجة: 429/أ) (صحیح) (اس کی سند میں عمر بن قیس ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ متابعت سے تقویت پاکر صحیح ہے)
139: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْمَرِيضِ
باب: بیمار کی نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ بِيَ النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے ناسور ۱؎ کی بیماری تھی ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو ، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو ، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1223]
💡 وضاحت:
۱؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے، باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 179 (952)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (372)، (تحفة الأشراف: 10832)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 19 (1117) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى جَالِسًا عَلَى يَمِينِهِ وَهُوَ وَجِعٌ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دائیں پہلو پر بیٹھ کر نماز پڑھی ، اس وقت آپ بیمار تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1224]
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جابر: ضعيف رافضي ¤ وأبو حريز: مجهول (تقريب: 8044) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11789، ومصباح الزجاجة: 430) (ضعیف) (اس کی سند میں جابر بن یزید الجعفی ضعیف ومتروک، اور ابو حریز مجہول ہیں)
140: . بَابٌ في صَلاَةِ النَّافِلَةِ قَاعِدًا
باب: نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلَ الصَّالِحَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کو قبض کیا ، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے ، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے ، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1225]
💡 وضاحت:
۱ ؎: عمل اگرچہ تھوڑا ہو جب وہ ہمیشہ کیا جائے تو اس کی برکت اور ہی ہوتی ہے، اور ہمیشگی کی وجہ سے وہ اس کثیر عمل سے بڑھ جاتا ہے جو چند روز کے لئے کیا جائے، ہر کام کا یہی حال ہے مواظبت اور دوام عجب برکت کی چیز ہے، اگر کوئی شخص ایک سطر قرآن شریف کی ہر روز حفظ کیا کرے تو سال میں دو پارے ہو جائیں گے، اور پندرہ سال میں سارا قرآن حفظ ہو جائے گا، اس حدیث پر ساری حکمتیں قربان ہیں، دین و دنیا کے فائدے اس میں بھرے ہوئے ہیں، نفس پر زور ڈالو اور ہمیشہ کام کرنا سیکھو، اور ہر کام کے لئے وقت مقرر کرو اور کسی کام کا ناغہ نہ کرو، اور تھوڑا کام ہر روز اختیار کرو کہ دل پر بار نہ ہو، پھر دیکھو کیا برکت ہوتی ہے کہ تم خود تعجب کرو گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/قیام اللیل 17 (1655، 1656)، (تحفة الأشراف: 18236)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/305، 319، 320، 321، 322) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نفل نماز میں ) بیٹھ کر قراءت کرتے تھے ، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں کوئی شخص چالیس آیتیں پڑھ لیتا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1226]
💡 وضاحت:
۱؎: اور اتنی قراءت کھڑے کھڑے کر کے پھر رکوع کرتے، نفل میں ایسا کرنا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن النسائی/قیام اللیل 16 (1651)، (تحفة الأشراف: 17950)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 7 (22)، مسند احمد (6/217) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ إِلَّا قَائِمًا، حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَجَعَلَ يُصَلِّي جَالِسًا حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ قِرَاءَتِهِ أَرْبَعُونَ آيَةً أَوْ ثَلَاثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَسَجَدَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ رات کی نماز کھڑے ہو کر پڑھتے ہوئے دیکھا ، یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر پڑھنے لگے ، جب آپ کی قراءت سے چالیس یا تیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے ( پھر رکوع ) اور سجدے کرتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1227]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17030، ومصباح الزجاجة: 431)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 20 (1118)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (953)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (372)، سنن النسائی/قیام اللیل 16 (1650)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة 7 (22)، مسند احمد (6/46) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا".
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے ، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے ، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے ، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1228]
💡 وضاحت:
۱؎: غرض نفل میں ہر طرح اختیار ہے چاہے بیٹھ کر پڑھے، چاہے کھڑے ہوکر شروع کرے پھر بیٹھ جائے، چاہے بیٹھ کر شروع کرے پھر کھڑا ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، (تحفة الأشراف: 16205)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 179 (955)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (375)، سنن النسائی/ قیام اللیل 16 (1647)، مسند احمد (6/262، 365) (صحیح)
141: . بَابُ : صَلاَةِ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلاَةِ الْقَائِمِ
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے میں آدھا ثواب ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَقَالَ: " صَلَاةُ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں ( ثواب میں ) آدھی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1229]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے تندرست اور صحت مند آدمی ہی نہیں بلکہ مریض بھی مراد ہے کیونکہ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے سے آدھا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8837)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 16 735)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (950)، سنن النسائی/قیام اللیل 18 (1660)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 6 (19)، مسند احمد (2/162)، سنن الدارمی/الصلاة 108 (1424) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَرَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ قُعُودًا، فَقَالَ: " صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو کچھ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں ( ثواب میں ) آدھی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1230]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 229، ومصباح الزجاجة: 432)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/214، 240) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: " مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ زیادہ بہتر ہے ، اور جو بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے ، اور جو شخص لیٹ کر نماز پڑھے تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1231]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 17 (1115)، 18 (1116)، 19 (1118)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (951)، سنن الترمذی/الصلاة 158 (371)، سنن النسائی/ قیام اللیل 19 (1661)، (تحفة الأشراف: 10831)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/433، 435، 442، 443) (صحیح)
142: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ
باب: مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: لَمَّا ثَقُلَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ تَعْنِي: رَقِيقٌ، وَمَتَى مَا يَقُومُ مَقَامَكَ يَبْكِي، فَلَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ"، قَالَتْ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، " فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے ( ابومعاویہ نے کہا : جب آپ مرض کی گرانی میں مبتلا ہوئے ) تو بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ ، ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں ، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے ، اور نماز نہ پڑھا سکیں گے ، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ( تو بہتر ہو ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا ، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا ، تو دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے نکلے ، اور آپ کے پاؤں زمین پہ گھسٹ رہے تھے ، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی آہٹ محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ ” اپنی جگہ پر رہو “ ان دونوں آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں پہلو میں بیٹھا دیا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1232]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 39 (664)، 67 (712)، 68 (713)، صحیح مسلم/الصلاة 22 (418)، ن الکبري/الأمانة 40 (907)، (تحفة الأشراف: 15945)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة 24 (83)، مسند احمد (5/261، 6/210، 224)، سنن الدارمی/المقدمة 14 (83) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِفَّةً، فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو باہر نکلے ، اس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے ، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا : ” اپنی جگہ رہو “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے ، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1233]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 47 (683)، صحیح مسلم/الصلاة 21 (418)، (تحفة الأشراف: 16979)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/231) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ مِنْ كِتَابِهِ فِي بَيْتِهِ، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ : أَنْبَأَنَا، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: " أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: " أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: " أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَإِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمَقَامَ يَبْكِي لَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: " مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ أَوْ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ"، قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، وَأُمِرَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً، فَقَالَ: " انْظُرُوا لِي مَنْ أَتَّكِئُ عَلَيْهِ"، فَجَاءَتْ بَرِيرَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَنْكِصَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ، " ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلَاتَهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ غَيْرُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت میں بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر ہوش میں آئے ، تو آپ نے پوچھا : ” کیا نماز کا وقت ہو گیا ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں ، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ ، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر ہوش آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا نماز کا وقت ہو گیا ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں ، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر ہوش آیا ، تو فرمایا : ” کیا نماز کا وقت ہو گیا ؟ “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں ، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میرے والد نرم دل آدمی ہیں ، جب اس جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے ، نماز نہ پڑھا سکیں گے ، اگر آپ ان کے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے ( تو بہتر ہوتا ) ! پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، پھر ہوش آیا ، تو فرمایا : ” بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں ، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو “ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا ، تو انہوں نے اذان دی ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا : ” دیکھو کسی کو لاؤ جس پر میں ٹیک دے کر ( مسجد جا سکوں ) بریرہ رضی اللہ عنہا اور ایک شخص آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ٹیک لگایا ، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ” اپنی جگہ پر رہو “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز پوری کی ، پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے ، نصر بن علی کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت نہیں کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1234]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3787، ومصباح الزجاجة: 433) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ: " ادْعُوا لِي عَلِيًّا"، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟، قَالَ: " ادْعُوهُ"، قَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ قَالَ: " ادْعُوهُ"، قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ؟، قَالَ: " نَعَمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ فَسَكَتَ"، فَقَالَ عُمَرُ: قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ حَصِرٌ، وَمَتَى لَا يَرَاكَ يَبْكِي، وَالنَّاسُ يَبْكُونَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، " فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ سَبَّحُوا بِأَبِي بَكْرٍ، فَذَهَبَ لِيَسْتَأْخِرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ كَانَ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ"، قَالَ وَكِيعٌ: وَكَذَا السُّنَّةُ، قَالَ: فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی ، اس وقت آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی ( رضی اللہ عنہ ) کو بلاؤ “ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں بلاؤ “ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا عمر رضی اللہ عنہ کو بلا دیں ؟ آپ نے فرمایا : ” بلا دو “ ، ام الفضل نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہم عباس کو بلا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا کر ان لوگوں کی طرف دیکھا ، اور خاموش رہے ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ جاؤ ۱؎ ، پھر بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! ابوبکر رضی اللہ عنہ نرم دل آدمی ہیں ، پڑھنے میں ان کی زبان رک جاتی ہے ، اور جب آپ کو نہ دیکھیں گے تو رونے لگیں گے ، اور لوگ بھی رونا شروع کر دیں گے ، لہٰذا اگر آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ( تو بہتر ہو ) ، لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے ، اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا ، تو دو آدمیوں پر ٹیک دے کر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے ، جب لوگوں نے آپ کو آتے دیکھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو «سبحان الله» کہا ، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف آئے ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دائیں جانب بیٹھ گئے ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے رہے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے ، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کر رہے تھے ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے تھے ۲؎ ۔ وکیع نے کہا : یہی سنت ہے ، راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی مرض میں انتقال ہو گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1235]
💡 وضاحت:
۱؎: کیوں کہ بیماری کی وجہ سے آپ کو ہمارے بیٹھنے سے تکلیف ہو گی۔ ۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو اپنی مرضی سے بلایا تھا، لیکن بیویوں کے اصرار سے اور لوگوں کو بھی بلا لیا تاکہ ان کا دل ناراض نہ ہو، اور چونکہ بہت سے لوگ جمع ہو گئے اس لئے آپ دل کی بات نہ کہنے پائے، اور سکوت فرمایا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور صحابہ پر ثابت ہوئی کہ آپ نے نماز کی امامت کے لئے ان کو منتخب فرمایا، اور امامت صغری قرینہ ہے امامت کبری کا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جماعت میں شریک ہونا کیسا ضروری ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیماری اور کمزوری کے باوجود حجرہ سے باہر مسجد تشریف لائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن دون ذكر علي
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن ¤ وللحديث شاهد ضعيف عند أحمد (209/1) ¤ والخبر مخالف لحديث البخاري (687) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5358، ومصباح الزجاجة: 434)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/231، 232، 343، 355، 356، 357) (حسن) (سند میں ابو اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے علی کے ذکر کے ساتھ یہ ضعیف ہے، لیکن دوسری حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
143: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِهِ.
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ایک امتی کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتِمَّ الصَّلَاةَ، قَالَ: وَقَدْ أَحْسَنْتَ كَذَلِكَ فَافْعَلْ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک سفر میں ) پیچھے رہ گئے ، اور ہم اس وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے ، جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نماز مکمل کرنے کا اشارہ کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اچھا کیا ، ایسے ہی کیا کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1236]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب نماز کا وقت آ جایا کرے تو نماز شروع کر دیا کرو، اور میرے انتظار میں تاخیر نہ کرو، یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دیا، لیکن حضر میں تو آپ ہر روز نماز کو افضل وقت پر پڑھا کرتے تھے، اور کبھی کبھی لوگ آپ کا انتظار بھی کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الطہارة 22 (274)، سنن النسائی/الطہارة 87 (108)، (تحفة الأشراف: 11495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 248، 251، 112، 150، 210، 248)، سنن الدارمی/الصلاة 81 (1375) (صحیح)
144: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ
باب: امام اس لیے مقرر ہوا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے ، تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ آپ کی عیادت کے لیے اندر آئے ، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اپنا سر اٹھاؤ ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1237]
💡 وضاحت:
۱؎: مرض الموت والی روایت سے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور لوگوں نے کھڑے ہو کر پڑھی، یہ روایت منسوخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 19 (412)، (تحفة الأشراف: 17067)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 51 (688)، تقصیر الصلاة 17 (1113)، 20 (1119)، سنن ابی داود/الصلاة 69 (605)، مسند احمد (6/114، 169) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا نَعُودُهُ، وَحَضَرَتَ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا، وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے ، تو آپ کے دائیں جانب خراش آ گئی ، ہم آپ کی عیادت کے لیے گئے ، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی ، اور ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا : ” امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے ، تو تم بھی «الله أكبر» کہو ، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، اور جب «سمع الله لمن حمده‏» کہے ، تو تم لوگ «ربنا ولك الحمد‏» کہو ، اور جب سجدہ کرے تو تم سب لوگ سجدہ کرو ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب لوگ بیٹھ کر نماز پڑھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1238]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 18 (378)، الأذان 51 (689)، 82 (732)، 128 (805)، تقصیرالصلاة 17 (1114)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (411)، سنن النسائی/الإمامة 16 (795)، 40 (833)، التطبیق 22 (1062)، (تحفة الأشراف: 1485)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 69 (361)، سنن الترمذی/الصلاة 151 (793)، موطا امام مالک/الجماعة 5 (16)، مسند احمد (3/110، 162)، سنن الدارمی/الصلاة 44 (1291) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے ، لہٰذا جب وہ «الله أكبر» کہے ، تو تم بھی «الله أكبر» کہو ، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو ، اور جب «سمع الله لمن حمده‏» کہے تو تم بھی «ربنا ولك الحمد‏» کہو ، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو ، اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1239]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14988)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 82 (734)، تقصیر الصلاة 17 (1114)، صحیح مسلم/الصلاة 19 (414)، سنن ابی داود/الصلاة 69 (603)، مسند احمد (2/314، 230، 411، 438، 475)، سنن الدارمی/الصلاة 71 (1350) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ كِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ، يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ، فَلَا تَفْعَلُوا، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ، آپ بیٹھے ہوئے تھے ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ تکبیر کہہ رہے تھے تاکہ لوگ سن لیں ، آپ ہماری جانب متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر ہماری جانب اشارہ کیا ، ہم بیٹھ گئے ، پھر ہم نے آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا : ” اس وقت تم فارس اور روم والوں کی طرح کرنے والے تھے کہ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں ، اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں ، لہٰذا تم ایسا نہ کرو ، اپنے اماموں کی اقتداء کرو ، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو ، اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1240]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ واقعہ مرض الموت والے واقعے سے پہلے کا ہے، مرض الموت والے واقعے میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر امامت کرائی، اور لوگوں نے کھڑے ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور آپ نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا، اس لئے یہ بات اب منسوخ ہو گئی، اور نماز میں آپ کا التفات کرنا آپ کی خصوصیات میں سے تھا، امت کے لئے آپ کا یہ فرمان ہے کہ التفات نماز میں چھینا جھپٹی کا نام ہے جو شیطان نمازی کے ساتھ کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 19 (413)، سنن ابی داود/الصلاة 69 (606)، ن السہو 11 (1199)، (تحفة الأشراف: 2906)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/334) (صحیح)
145: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ
باب: نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتِ: يَا أَبَتِ" إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هَاهُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، فَكَانُوا يَقْنُتُونَ فِي الْفَجْرِ"، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، مُحْدَثٌ.
ابومالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان ! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے اور کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ہے ، تو کیا وہ لوگ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : بیٹے یہ نئی بات ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1241]
💡 وضاحت:
۱؎: خاص خاص موقوں پر فجر کی نماز میں اور دوسری نمازوں میں بھی قنوت پڑھنا مسنون ہے۔ اسے قنوت نازلہ کہتے ہیں۔ جن لوگوں نے قراء صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھوکے سے شہید کر دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف مہینہ بھر قنوت نازلہ پڑھی جیسے کہ آگے حدیث ۱۲۴۳ میں آ رہا ہے۔ طارق رضی اللہ عنہ نے مطلقاً قنوت کو بدعت نہیں کہا بلکہ فجر کی نماز میں قنوت ہمیشہ پرھنے کو بدعت کہا، اس سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات ایک کام اصل میں سنت ہوتا ہے لیکن اسے غلط طریقے سے انجام دینے سے یا اس کو اس کی اصل حیثیت سے گھٹا دینے سے یا بڑھا دینے کی وجہ سے وہ بدعت بن جاتا ہے، یعنی اس عمل کی وہ خاص کیفیت بدعت ہوتی ہے اگرچہ اصل عمل بدعت نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 178 (402)، سنن النسائی/التطبیق 32 (1079)، (تحفة الأشراف: 4976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/472، 6/394) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ بَكْرٍ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى زُنْبُورٌ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: " نُهِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الْفَجْرِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے سے منع کر دیا گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1242]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ عنبسة بن عبد الرحمٰن: متروك متھم ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 18219، ومصباح الزجاجة: 435) (موضوع) (محمد بن یعلی متروک الحدیث اور جہمی ہے، اور عنبسہ حدیث گھڑا کرتا تھا، اور عبد اللہ بن نافع منکر احادیث کے راوی ہیں، نیز نافع کا سماع ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے صحیح نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ شَهْرًا، ثُمَّ تَرَكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے رہے ، اور عرب کے ایک قبیلہ ( قبیلہ مضر پر ) ایک مہینہ تک بد دعا کرتے رہے ، پھر اسے آپ نے ترک کر دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1243]
💡 وضاحت:
۱؎: قبیلہ مضر: جنہوں نے چند قراء کرام رضی اللہ عنہم کو دھوکے سے مار ڈالا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 29 (4089)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، سنن النسائی/التطبیق 27 (1072)، (تحفة الأشراف: 1354)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 345 (1444)، مسند احمد (3/115، 180، 217، 261) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے : «اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين بمكة اللهم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف» ” اے اللہ ! ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور حال مسلمانوں کو نجات دیدے ، اے اللہ ! تو اپنی پکڑ قبیلہ مضر پر سخت کر دے ، اور یوسف علیہ السلام کے عہد کے قحط کے سالوں کی طرح ان پر بھی قحط مسلط کر دے ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1244]
💡 وضاحت:
۱؎: جیسے سالہا سال یوسف علیہ السلام کے عہد میں مصر میں گزرے تھے کہ پانی بالکل نہیں برسا اور قحط ہو گیا، ویسا ہی کفار مضر پر قحط بھیج تاکہ یہ بھوک سے تباہ و برباد ہو جائیں۔ دوسری روایت میں دعاء قنوت یوں وارد ہے: «اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات و المسلمين و المسلمات، و ألف بين قلوبهم، و أصلح ذات بينهم، وانصرهم على عدوك وعدوهم، اللهم العن الكفرة الذين يصدون عن سبيلك، ويكذبون رسلك، ويقاتلون أوليائك، اللهم خالف بين كلمتهم، و زلزل أقدامهم، و أنزل بهم بأسك الذي لاترده عن القوم المجرمين» ۔ جب کافر مسلمانوں کو ستائیں یا مسلمانوں پر کوئی آفت کافروں کی طرف سے آئے تو اس دعاء قنوت کو پڑھے، اور اس کے بعد یوں کہے: «اللهم أنج فلانا وفلانا» اور فلاں کی جگہ ان مسلمانوں کا نام لے جن کا چھڑانا کافروں سے مطلوب ہو۔ «والمستضعفين بمكة» میں مکہ کی جگہ پر اس کا نام لے جہاں یہ مسلمان کافروں کے ہاتھ سے تکلیف اٹھا رہے ہوں۔ «اللهم اشدد وطأتك على مضر» کی جگہ بھی ان کافروں کا نام لے جو مسلمانوں کو تکلیف دیتے ہیں۔ حدیث میں ولید، سلمہ اور عیاش رضی اللہ عنہم کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، یہ سب مسلمان ہو گئے تھے لیکن مکہ میں ابوجہل اور دوسرے کافروں نے ان کو سخت قید اور تکلیف میں رکھا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 128 (804)، الاستسقاء 2 (1006)، الجہاد 98 (2932)، الأنبیاء 19 (3386)، تفسیرآلعمران 9 (4560)، تفسیرالنساء 21 (4598)، الدعوات 58 (6393)، الإکرا ہ 1 (6940)، الأدب 110 (6200)، صحیح مسلم/المساجد 54 (675)، سنن النسائی/التطبیق 27 (1074)، (تحفة الأشراف: 13132)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 345 (1442)، مسند احمد (2/239، 255، 271، 418، 470، 507، 521)، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1636) (صحیح)
146: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ فِي الصَّلاَةِ
باب: دوران نماز سانپ اور بچھو مارنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا : سانپ کو اور بچھو کو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1245]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ دونوں سخت موذی جانور ہیں اور اگر نماز کے تمام ہونے کا انتظار کیا جائے گا تو ان کے بھاگ جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے نماز کے اندر ہی ان کو مارنا درست ہوا، اگرچہ چلنے اور عمل کثیر کی حاجت پڑے پھر بھی نماز فاسد نہ ہو گی، اور پھر مارنے کے بعد نماز وہیں سے شروع کر دے جہاں تک پڑھی تھی، واضح رہے جن کاموں کے کرنے کی اجازت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ان سے نماز فاسد نہیں ہوتی جیسے سانپ بچھو مارنا، اگر کوئی اور گھر میں نہ ہو تو زنجیر کھول دینا، اشارہ سے سلام کا جواب دینا، ضرورت کے وقت کھنکار دینا مثلاً باہر کوئی پکارے اور یہ گھر کے اندر نماز میں ہو تو کھنکار دے، قیام اور رکوع منبر پر کرنا، اور سجدہ کے لئے نیچے اترنا، پھر منبر پر چلے جانا، بچے کو کندھے پر اٹھا لینا، رکوع اور سجدہ کے وقت اس کو زمین پر بٹھا دینا پھر قیام کے وقت لے لینا، بھولے سے بات کرنا، اور امام بھول جائے تو اس کو بتانا یعنی لقمہ دینا، نفل نماز میں قرآن (مصحف) میں دیکھ کر پڑھنا، کوئی نمازی کے سامنے سے گزرتا ہو تو ہاتھ سے اس کو ہٹانا یا ہاتھ سے اس کو ضرب لگانا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 169 (921)، سنن الترمذی/الصلاة 170 (390)، سنن النسائی/السہو12 (1203)، (تحفة الأشراف: 13513)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/233، 255، 273، 275، 284، 490)، سنن الدارمی/الصلاة 178 (1545) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الدَّهَّانُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَدَغَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْرَبٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْعَقْرَبَ مَا تَدَعُ الْمُصَلِّيَ، وَغَيْرَ الْمُصَلِّي، اقْتُلُوهَا فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بچھو نے نماز میں ڈنک مار دیا ، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ بچھو پر لعنت کرے کہ وہ نمازی و غیر نمازی کسی کو نہیں چھوڑتا ، اسے حرم اور حرم سے باہر ، ہر جگہ میں مار ڈالو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1246]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16125، ومصباح الزجاجة: 436)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/250) (صحیح) (اس کی سند میں حکم بن عبد الملک ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنَا مِنْدَلٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَتَلَ عَقْرَبًا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی حالت میں ایک بچھو کو مار ڈالا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1247]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مندل و محمد بن عبيد اللّٰه بن أبي رافع ضعيفان (تقريب: 6883) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12022، ومصباح الزجاجة: 437) (ضعیف) (اس کی سند میں مندل ابن علی العنبری الکوفی ضعیف راوی ہیں)
147: . بَابُ : النَّهْيِ عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْفَجْرِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ
باب: فجر اور عصر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ صَلَاتَيْنِ: عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں سے منع فرمایا ، ایک فجر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج نکلنے تک ، دوسرے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج ڈوب جانے تک ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1248]
💡 وضاحت:
۱؎: مکروہ اوقات میں سے اس حدیث میں دو وقت، مذکور ہیں اور دوسری حدیث میں دیگر تین اوقات مذکور ہیں، ایک سورج نکلنے کے وقت، دوسرے سورج ڈوبنے کے وقت، تیسرے ٹھیک دوپہر کے وقت، علماء کا اس مسئلہ میں بہت اختلاف ہے، دلائل متعارض ہیں، اور اہل حدیث نے اس کو ترجیح دی ہے کہ ان اوقات میں بلاضرورت اور بلاسبب اور ضرورت سے جیسے طواف کے بعد دو رکعت یا تحیۃ المسجد کی سنت اور واجب کی قضا جیسے وتر یا فجر یا ظہر کے دو رکعت کی قضا ان اوقات میں درست اور صحیح ہے، اسی طرح مکہ مستثنیٰ ہے، وہاں ہر وقت نماز صحیح ہے، اسی طرح جمعہ کی نماز مستثنیٰ ہے اور وہ ٹھیک دوپہر کے وقت بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت 30 (584)، 31 (588)، اللباس 20 (5819)، صحیح مسلم/المسافرین 51 (825)، سنن النسائی/المواقیت 32 (565)، (تحفة الأشراف: 12265)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 10 (48)، مسند احمد (2/462، 496، 510، 529)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2169، 3560) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اور نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1249]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت 31 (586)، الصوم 67 (1995)، (تحفة الأشراف: 4279)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین51 (827)، سنن النسائی/المواقیت 34 (568)، مسند احمد (3/7، 39، 46، 52، 53، 60، 67، 71) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی اچھے لوگوں نے گواہی دی ، ان میں میرے نزدیک سب زیادہ اچھے شخص عمر رضی اللہ عنہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج نکل آئے ، اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1250]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المواقیت30 (581)، صحیح مسلم/المسافرین 51 (826)، سنن ابی داود/الصلاة 299 (1276)، سنن الترمذی/الصلاة20 (183)، سنن النسائی/المواقیت 32 (563)، (تحفة الأشراف: 10492)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/21، 39، 50، 51)، سنن الدارمی/الصلاة 142 (1473) (صحیح)
148: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي السَّاعَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاَةُ
باب: جن اوقات میں نماز مکروہ ہے ان کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ أُخْرَى؟، قَالَ: " نَعَمْ، جَوْفُ اللَّيْلِ الْأَوْسَطُ، فَصَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى يَطْلُعَ الصُّبْحُ، ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَمَا دَامَتْ كَأَنَّهَا حَجَفَةٌ حَتَّى تَنْتَشِرَ، ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى يَقُومَ الْعَمُودُ عَلَى ظِلِّهِ، ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ نِصْفَ النَّهَارِ، ثُمَّ صَلِّ مَا بَدَا لَكَ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ انْتَهِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، وَتَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ".
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : کیا کوئی وقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوسرے وقت سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، رات کا بیچ کا حصہ ، لہٰذا اس میں جتنی نمازیں چاہتے ہو پڑھو ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے ، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج نکل آئے ، اور جب تک وہ ڈھال کے مانند رہے رکے رہو یہاں تک کہ وہ پوری طرح روشن ہو جائے ، پھر جتنی نمازیں چاہتے ہو پڑھو یہاں تک کہ ستون کا اپنا اصلی سایہ رہ جائے ، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے ، اس لیے کہ دوپہر کے وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے ، پھر عصر تک جتنی نماز چاہو پڑھو ، پھر رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے اس لیے کہ اس کا نکلنا اور ڈوبنا شیطان کی دونوں سینگوں کے درمیان ہوتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1251]
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله جوف الليل الأسود فإنه منكر والصحيح جوف الليل الآخر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (585) وانظر الحديث الآتي (1364) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/المواقیت 39 (585)، (تحفة الأشراف: 10762)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 52 (832)، سنن ابی داود/الصلاة 299 (1277)، سنن الترمذی/الدعوات 119 (3579)، مسند احمد (4/111، 114، 385)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1364) (صحیح) (دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں یزید بن طلق مجہول اور عبد الرحمن بن البیلمانی ضعیف ہیں، نیز جوف الليل الأوسط کا جملہ منکر ہے، بلکہ صحیح جملہ جوف الليل الاخير'' ہے، جو دوسری حدیثوں سے ثابت ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ، وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ، قَالَ: وَمَا هُوَ؟، قَالَ: هَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ؟، قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، ثُمَّ صَلِّ فَالصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَسْتَوِيَ الشَّمْسُ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ، فَإِذَا كَانَتْ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ فَدَعِ الصَّلَاةَ، فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ، وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزِيغَ الشَّمْسُ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ، فَإِذَا زَالَتْ فَالصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھ رہا ہوں جسے آپ جانتے ہیں میں نہیں جانتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” وہ کیا ہے ؟ “ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا : رات اور دن میں کوئی وقت ایسا بھی ہے جس میں نماز مکروہ ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، جب تم نماز فجر پڑھ لو تو نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے ، اس لیے کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ، پھر نماز پڑھو اس میں فرشتے حاضر ہوں گے اور وہ قبول ہو گی ، یہاں تک کہ سورج سیدھے سر پہ نیزے کی طرح آ جائے تو نماز چھوڑ دو کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے ، اور اس کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ سورج تمہارے دائیں ابرو سے ڈھل جائے ، لہٰذا جب سورج ڈھل جائے ( تو نماز پڑھو ) اس میں فرشتے حاضر ہوں گے اور وہ قبول ہو گی ، یہاں تک کہ عصر پڑھ لو ، پھر ( عصر کے بعد ) نماز چھوڑ دو یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1252]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12963، ومصباح الزجاجة: 438)، ومسند احمد (5/312) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ أَوْ قَالَ: يَطْلُعُ مَعَهَا قَرْنَا الشَّيْطَانِ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا كَانَتْ فِي وَسَطِ السَّمَاءِ قَارَنَهَا، فَإِذَا دَلَكَتْ أَوْ قَالَ: زَالَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا، فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا، فَلَا تُصَلُّوا هَذِهِ السَّاعَاتِ الثَّلَاثَ".
ابوعبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ، یا فرمایا کہ سورج کے ساتھ وہ اس کی دونوں سینگیں نکلتی ہیں ، جب سورج بلند ہو جاتا ہے تو وہ اس سے الگ ہو جاتا ہے ، پھر جب سورج آسمان کے بیچ میں آتا ہے تو وہ اس سے مل جاتا ہے ، پھر جب سورج ڈھل جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے ، پھر جب ڈوبنے کے قریب ہوتا ہے تو وہ اس سے مل جاتا ہے ، پھر جب ڈوب جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے ، لہٰذا تم ان تین اوقات میں نماز نہ پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1253]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ اوقات مشرکین کی عبادت کے اوقات ہیں جو اللہ کے سوا سورج کی عبادت کرتے ہیں، تو ان اوقات میں گو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے لیکن مشرکین کی مشابہت کی وجہ سے مکروہ اور منع ٹھہری۔ یہاں ایک اعتراض ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ زمین کروی (گول) ہے اور وہ سورج کے گرد گھوتی ہے اب جو لوگ زمین کے چاروں طرف رہتے ہیں، ان کا کوئی وقت اس سے خالی نہ ہو گا یعنی کہیں دوپہر ضرور ہی ہو گی اور کہیں سورج نکل رہا ہو گا اور کہیں ڈوب رہا ہو گا، پس ہر وقت میں نماز منع ٹھہرے گی، اس کا جواب یہ ہے کہ ہر ایک ملک والوں کو اپنے طلوع اور غروب اور استواء سے غرض ہے، دوسرے ملکوں سے غرض نہیں، پس جس وقت ہمارے ملک میں زوال ہو جائے تو نماز صحیح ہو گی، حالانکہ جس وقت ہمارے ہاں زوال ہوا ہے اس وقت ان لوگوں کے پاس جو مغرب کی طرف ہٹے ہوئے ہیں استواء کا وقت ہوا۔ ایک اعتراض اور ہوتا ہے کہ جب سورج کسی وقت میں خالی نہ ہوا یعنی کسی نہ کسی ملک میں اس وقت استواء ہو گا، اور کسی نہ کسی ملک میں اس وقت طلوع ہو گا، اور کسی نہ کسی ملک میں غروب تو شیطان سورج سے جدا کیونکر ہو گا بلکہ ہر وقت سورج کے ساتھ رہے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک جو شیطان سورج پر متعین ہے وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے، اور سورج کے ساتھ ہی ساتھ پھرتا رہتا ہے، لیکن جدا ہونے کا مقصد یہ ہے کہ سورج کے ساتھ ہی وہ ہماری سمت سے ہٹ جاتا ہے، اور مشرکوں کی عبادت کا وقت ہمارے ملک میں ختم ہو جاتا ہے، اور ہمارے لیے نماز کی ادائیگی اور عبادت کرنا صحیح ہو جاتا ہے، گو نفس الامر میں وہ سورج سے جدا نہ ہو اس لئے کہ ہر گھڑی کہیں نہ کہیں طلوع اور غروب اور استواء کا وقت ہے۔ «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/المواقیت 30 (560)، (تحفة الأشراف: 9678)، موطا امام مالک/القرآن 10 (44)، مسند احمد (4/348، 349) (ضعیف) (ابوعبد اللہ صنابحی عبد الرحمن بن عسیلہ تابعی ہیں اس لئے یہ حدیث مرسل اور ضعیف ہے نیز ملاحظہ ہو: ضعیف الجامع برقم: 1472)
149: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الصَّلاَةِ بِمَكَّةَ فِي كُلِّ وَقْتٍ
باب: مکہ میں ہر وقت نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، " لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے بنی عبدمناف ! دن و رات کے جس وقت میں جو کوئی خانہ کعبہ کا طواف کرنا یا نماز پڑھنا چاہے اسے نہ روکو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1254]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اہل حدیث اور شافعی اور احمد اور اسحاق نے مکہ کو ممانعت کی حدیثوں سے مستثنی کیا ہے، اور مسجد حرام میں ہر وقت طواف اور نماز کو جائز رکھا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/المناسک 53 (1894)، سنن الترمذی/الحج 42 (868)، سنن النسائی/المواقیت 40 (586)، المناسک والحج 137 (2927)، (تحفة الأشراف: 3187)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/80، 81)، 84، سنن الدارمی/المناسک 79 (1967) (صحیح)
150: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا أَخَّرُوا الصَّلاَةَ عَنْ وَقْتِهَا
باب: جب ائمہ و حکمران نماز میں تاخیر کریں تو کیا کرنا چاہئے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ لِلْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ، ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ، وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید تم لوگ ایسے لوگوں کو پاؤ گے ، جو نماز بے وقت پڑھیں گے ، اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو نماز اپنے گھر ہی میں وقت مقررہ پر پڑھ لو ، پھر ان کے ساتھ بھی پڑھ لو اور اسے نفل ( سنت ) بنا لو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1255]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دوسری نماز کو کیونکہ وہ بے وقت ہے گو جماعت سے ہے، اور بعضوں نے کہا ہے کہ اول نماز نفل ہو جائے گی اور یہ فرض، اور بعضوں نے کہا اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جس کو چاہے فرض کر دے اور جس کو چاہے نفل کر دے۔ اب یہ حدیث عام ہے اور ہر ایک نماز کو شامل ہے کہ جماعت کے ساتھ اس کو دوبارہ پڑھ سکتے ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ صرف ظہر اور عشاء کو دوبارہ پڑھے، بقیہ کو دوبارہ نہ پڑھے۔ «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الإمامة 2 (780)، (تحفة الأشراف: 9211)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 5 (534)، نحوہ، سنن ابی داود/الصلاة 10 (432)، مسند احمد (1/379، 455، 459) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الْإِمَامَ يُصَلِّي بِهِمْ فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، وَإِلَّا فَهِيَ نَافِلَةٌ لَكَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز اس کے وقت پر پڑھو ، اگر امام کو پاؤ کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے تو ان کے ساتھ نماز پڑھ لو ، اگر تم نے نماز نہیں پڑھی ہے تو یہ تمہاری فرض نماز ہو گئی ، ورنہ پھر یہ تمہارے لیے نفل ( سنت ) ہو جائے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1256]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 41 (648)، سنن ابی داود/الصلاة 10 (431)، سنن الترمذی/الصلاة 15 (176)، (تحفة الأشراف: 11950)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 2 (779، 780)، 55 (860)، مسند احمد (5/168، 169، 149، 156، 163)، سنن الدارمی/الصلاة 25 (91264) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى ، عَنْ أَبِي أُبَيٍّ ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ يَعْنِي: عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب کچھ ایسے حکمران ہوں گے جو کاموں میں مشغول رہیں گے ، اور وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے ( تو تم وقت پہ نماز پڑھ لو ) اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1257]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 10 (433)، (تحفة الأشراف: 5097)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384، 387، 2/95، 3/24، 28، 5/315، 329) (صحیح)
151: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ
باب: ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ: " أَنْ يَكُونَ الْإِمَامُ يُصَلِّي بِطَائِفَةٍ مَعَهُ فَيَسْجُدُونَ سَجْدَةً وَاحِدَةً، وَتَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الَّذِينَ سَجَدُوا السَّجْدَةَ مَعَ أَمِيرِهِمْ، ثُمَّ يَكُونُونَ مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّوا مَعَ أَمِيرِهِمْ سَجْدَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ يَنْصَرِفُ أَمِيرُهُمْ وَقَدْ صَلَّى صَلَاتَهُ، وَيُصَلِّي كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ بِصَلَاتِهِ سَجْدَةً لِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا"، قَالَ: يَعْنِي بِالسَّجْدَةِ: الرَّكْعَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کی ( کیفیت ) کے بارے میں فرمایا : ” امام اپنے ساتھ مجاہدین کی ایک جماعت کو نماز پڑھائے ، اور وہ ایک رکعت ادا کریں ، اور دوسری جماعت ان کے اور دشمن کے درمیان متعین رہے ، پھر جس گروہ نے ایک رکعت اپنے امام کے ساتھ پڑھی وہ ہٹ کر اس جماعت کی جگہ چلی جائے جس نے نماز نہیں پڑھی ، اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے وہ آئیں ، اور اپنے امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں ، اب امام تو اپنی نماز سے فارغ ہو جائے گا ، اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک اپنی ایک ایک رکعت پڑھیں ، اگر خوف و دہشت اس سے بھی زیادہ ہو ، ( صف بندی نہ کر سکتے ہوں ) تو ہر شخص پیدل یا سواری پر نماز پڑھ لے “ ۱؎ ۔ راوی نے کہا کہ ” سجدہ “ سے مراد ” رکعت “ ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1258]
💡 وضاحت:
۱؎: گو منہ قبلہ کی طرف نہ ہو اور سجدہ اور رکوع اشارے سے کرے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے معلوم ہوا کہ منہ قبلہ کی طرف ہو یا نہ ہو، جاننا چاہئے کہ خوف کی نماز کا ذکر قرآن مجید میں ہے پر وہ مجمل ہے، اور احادیث میں اس کی تفصیل کئی طرح سے وارد ہے، صحیحین میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر گروہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھے، تو امام کی چار رکعتیں ہوں گی اور مقتدیوں کی دو دو رکعتیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7819) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الخوف 1 (943)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (839)، سنن ابی داود/الصلاة 285 (1243)، سنن الترمذی/الصلاة 281 (الجمعة 46) (564)، سنن النسائی/الخوف (1539)، مسند احمد (2/147) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ: قَالَ: " يَقُومُ الْإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَتَقُومُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ، وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ وَوُجُوهُهُمْ إِلَى الصَّفِّ، فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً وَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ، وَيَسْجُدُونَ لِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ، ثُمَّ يَذْهَبُونَ إِلَى مُقَامِ أُولَئِكَ، وَيَجِيءُ أُولَئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، فَهِيَ لَهُ ثِنْتَانِ وَلَهُمْ وَاحِدَةٌ، ثُمَّ يَرْكَعُونَ رَكْعَةً وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ : فَسَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ لِي يَحْيَى: اكْتُبْهُ إِلَى جَنْبِهِ، وَلَسْتُ أَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَلَكِنْ مِثْلُ حَدِيثِ يَحْيَى.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نماز خوف کے بارے میں کہا : امام قبلہ رو کھڑا ہو ، اور ایک جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو ، اور ایک جماعت دشمن کے سامنے اس طرح کھڑی ہو کہ ان کے رخ صف کی جانب ہوں ، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے ، پھر وہ اسی جگہ میں امام سے علیحدہ اپنے لیے ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے کر کے دوسری رکعت پوری کریں ، پھر یہ لوگ دوسری جماعت کی جگہ چلے جائیں ، اب وہ جماعت آئے اور امام ان کو ایک رکوع اور دو سجدے سے نماز پڑھائے ، امام کی نماز دو رکعت ہوئی ، اور دوسری جماعت کی ابھی ایک ہی رکعت ہوئی ، لہٰذا وہ لوگ ایک رکوع اور دو سجدے الگ الگ کر کے نماز پوری کر لیں ۱؎ ۔ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے «شعبة عن عبدالرحمٰن بن القاسم عن أبيه عن صالح بن خوات عن سهل بن أبي حثمة» کے طریق سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً ً یحییٰ بن سعید کی روایت کے مثل بیان کیا ۔ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ یحییٰ القطان نے مجھ سے کہا کہ اسے بھی اس کے پاس ہی لکھ لو اور مجھے تو حدیث یاد نہیں ، لیکن یہ یحییٰ کی حدیث کے ہم مثل ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1259]
💡 وضاحت:
۱ ؎: اور اتنی دیر تک کہ دوسرا گروہ اس رکعت سے فارغ ہو امام خاموش بیٹھا رہے، جب یہ دوسری رکعت سے فارغ ہوں تو امام سلام پھیرے اور دونوں گروہ سلام پھیر دیں، کیونکہ دونوں کی نماز ختم ہو گئی، اور پہلے گروہ کو لازم ہے کہ چپکے سے دشمن کے سامنے کھڑے رہیں بات نہ کریں یہاں تک کہ سلام پھیر دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 32 (4131)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (841)، سنن ابی داود/الصلاة 282 (1237)، 283، (1239)، سنن الترمذی/الصلاة 281 (الجمعة 46) (566)، سنن النسائی/الخوف (1537)، (تحفة الأشراف: 4645)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الخوف 1 (2)، مسند احمد (3/448)، سنن الدارمی/الصلاة 185 (1563) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَرَكَعَ بِهِمْ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ حَتَّى إِذَا نَهَضَ، سَجَدَ أُولَئِكَ بِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ حَتَّى قَامُوا مُقَامَ أُولَئِكَ، وَتَخَلَّلَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا مُقَامَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، فَرَكَعَ بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلُونَهُ، فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ أُولَئِكَ سَجْدَتَيْنِ، فَكُلُّهُمْ قَدْ رَكَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَجَدَت طَائِفَةٌ بِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، وَكَانَ الْعَدُوُّ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو صلاۃ خوف پڑھائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا ، پھر سجدہ کیا ، اور اس صف نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھی ، اور دوسرے لوگ کھڑے رہے ، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے تو ان لوگوں نے اپنے طور سے دو سجدے کئے ، پھر پہلی صف پیچھے آ گئی اور وہاں جا کر کھڑی ہو گئی ، جہاں یہ لوگ تھے ، اور درمیان ہی سے یہ لوگ آگے بڑھ گئے اور ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے ، اور پچھلی صف ہٹ کر اگلی کی جگہ کھڑی ہو گئی ، اب پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں کے ساتھ رکوع کیا ، اور آپ نے اور آپ سے قریبی صف نے سجدہ کیا ، جب یہ صف سجدے سے فارغ ہو گئی تو دوسری صف نے اپنے دو سجدے کئے ، اس طرح سب نے ایک رکوع اور دو سجدے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ، اور ہر جماعت نے دو سجدے اپنے اپنے طور پر کئے ، اور دشمن قبلہ کے سامنے تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1260]
💡 وضاحت:
۱ ؎: پس یہاں اس کی ضرورت نہ تھی کہ ایک گروہ جائے اور دوسرا آئے صرف یہ ضروری تھا کہ سب لوگ ایک ساتھ سجدہ نہ کریں ورنہ احتمال ہے کہ دشمن غفلت میں کچھ کر بیٹھے، لہذا سجدہ میں تفریق ہوئی، باقی ارکان سب نے ایک ساتھ ادا کئے، اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ جیسا موقع ہو اسی طرح سے صلاۃ خوف پڑھنا اولیٰ ہے، اور ہر ایک صورت جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2673، ومصباح الزجاجة: 440)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ المغازي 31 (4130)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (840)، سنن ابی داود/الصلاة (تعلیقا) 281 (1286)، سنن النسائی/صلاة الخوف (1936)، مسند احمد (3/298) (صحیح)
152: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج اور چاند گرہن کی نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَقُومُوا فَصَلُّوا".
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک سورج و چاند کسی کے موت کی وجہ سے نہیں گہناتے ۱؎ ، لہٰذا جب تم اسے گہن میں دیکھو تو اٹھو ، اور نماز پڑھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1261]
💡 وضاحت:
۱؎: بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یعنی اس کی قدرت کی نشانی ہے، اور سچی حکمت تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتائی، اور ان کے غلط خیال کی تردید کہ گرہن کسی بڑے کی موت کی وجہ سے لگتا ہے، اگر ایسا ہو تو گرہن سورج اور چاند کا اپنے مقررہ اوقات پر نہ ہوتا بلکہ جب دنیا میں کسی بڑے کی موت کا حادثہ پیش آتا اس وقت گرہن لگتا حالانکہ اب علمائے ہئیت نے سورج اور چاند کے گرہن کے اوقات ایسے معلوم کر لیے ہیں کہ ایک منٹ بھی ان سے آگے پیچھے نہیں ہوتا، اور سال بھر سے پہلے یہ لکھ دیتے ہیں کہ ایک سال میں سورج گرہن فلاں تاریخ اور فلاں وقت میں ہو گا، اور چاند گرہن فلاں تاریخ اور فلاں وقت میں، اور یہ بھی بتلا دیتے ہیں کہ سورج یا چاند کا قرص گرہن سے کل چھپ جائے گا یا اس قدر حصہ، اور یہ بھی دکھلا دیتے ہیں کہ کس میں کتنا گرہن ہو گا، ان کے نزدیک زمین اور چاند کے گرہن کی علت حرکت ہے اور زمین کا سورج اور چاند کے درمیان حائل ہونا ہے۔ «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 1 (1041)، 12 (1057)، بدأالخلق 4 (3204)، صحیح مسلم/الکسوف 5 (911)، سنن النسائی/الکسوف 4 (1463)، (تحفة الأشراف: 10003)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/122)، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1566) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَجَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَخَرَجَ، فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى أَتَى الْمُسْجِدَ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى انْجَلَتْ"، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ أُنَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج میں گہن لگا تو آپ گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں آئے اور سورج روشن ہونے تک برابر نماز پڑھتے رہے ، پھر فرمایا : ” کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ، بیشک سورج اور چاند کو کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے ، بلکہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز پر اپنی تجلی کرتا ہے تو وہ عاجزی سے جھک جاتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1262]
💡 وضاحت:
۱؎: اور دوسری حدیثوں میں دعا اور تکبیر اور صدقہ اور استغفار بھی وارد ہے، جب تک گرہن ختم نہ ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1193) نسائي (1486) مختصرًا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 268 (1193)، سنن النسائی/الکسوف 16 (1486)، (تحفة الأشراف: 11631)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/267، 269، 271، 277) (منکر) (''اس میں فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ لِشَيْئٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ'' کا ٹکڑا منکر ہے، سابقہ حدیث ملاحظہ ہو جو کافی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلتَ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ"، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد گئے ، اور کھڑے ہو کر «الله أكبر» کہا ، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صف لگائی ، آپ نے لمبی قراءت کی ، پھر «الله أكبر» کہا ، اور دیر تک رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، اور «سمع الله لمن حمده‏ ربنا ولك الحمد‏» کہا ، پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی ، پھر «الله أكبر» کہا ، اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا ، پھر «سمع الله لمن حمده‏ ربنا ولك الحمد‏» کہا ، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا ، اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، خطبہ دیا ، اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے ، پھر فرمایا : ” بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، وہ کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے ، لہٰذا جب تم ان کو گہن میں دیکھو تو نماز کی طرف دوڑ پڑو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1263]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046)، 5 (1047)، 13 (1058)، العمل في الصلاة 11 (1212)، بدأالخلق 4 (3203)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1180)، سنن النسائی/الکسوف 11 (1476)، (تحفة الأشراف: 16692)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الکسوف 1 (1)، مسند احمد (6/76، 87، 164، 168)، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1570) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ، فَلَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گہن کی نماز پڑھائی ، تو ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1264]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ کسوف کی نماز میں جہر نہ کرے، جب کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اور ضعیف حدیث قابل استدلال نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 262 (1184)، سنن الترمذی/الصلاة 280 (562) سنن النسائی/الکسوف 19 (1496)، (تحفة الأشراف: 4573)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/14، 16، 17، 19، 23) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں راوی ثعلبہ بن عباد مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 216)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْكُسُوفِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ"، فَقَالَ: " لَقَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ أَيْ رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ"، قَالَ نَافِعٌ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: وَرَأَيْتُ امْرَأَةً تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ لَهَا، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟، قَالُوا: حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خِشَاشِ الْأَرْضِ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گہن کی نماز پڑھائی ، اور کافی لمبا قیام کیا ، پھر کافی لمبا رکوع کیا ، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو کافی لمبا قیام کیا ، پھر کافی لمبا رکوع کیا ، پھر رکوع سے سر اٹھایا ، پھر سجدہ کیا تو کافی لمبا سجدہ کیا ، پھر سجدے سے سر اٹھایا ، پھر سجدہ کیا ، اور کافی لمبا سجدہ کیا ، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا ، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا ، پھر لمبا رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا ، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ” جنت مجھ سے اتنی قریب ہو گئی کہ اگر میں جرات کرتا تو تمہارے پاس اس کے خوشوں ( گچھوں ) میں سے کوئی خوشہ ( گچھا ) لے کر آتا ، اور جہنم بھی مجھ سے اتنی قریب ہو گئی کہ میں نے کہا : اے رب ! ( کیا لوگوں پر عذاب آ جائے گا ) جبکہ میں ان کے درمیان موجود ہوں ؟ “ ۔ نافع کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : ” میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ اس کو اس کی بلی نوچ رہی تھی ، میں نے پوچھا : اس کا سبب کیا ہے ؟ فرشتوں نے بتایا کہ اس عورت نے اسے باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی ، نہ اس نے اسے کھلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1265]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «خشاش» کا لفظ ہے خائے معجمہ سے یعنی زمین کے کیڑے مکوڑے اور بعضوں نے «حشاش» کہا ہے حائے حطی سے، اور یہ سہو ہے کیونکہ «حشاش» سوکھی گھاس کو کہتے ہیں، اسی سے «حشیش» ہے، اور وہ بلی کی غذا نہیں ہے، اس حدیث سے بھی ہر رکعت میں دو رکوع ثابت ہوتے ہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جاندار کو قید میں رکھنا اور اس کو خوراک نہ دینا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو جائے بہت بڑا گناہ ہے، جس کی وجہ سے آدمی جہنم میں جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 90 (749)، سنن النسائی/الکسوف 21 (1499)، (تحفة الأشراف: 15717)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الکسوف 2 (4)، مسند احمد (6/315) (صحیح)
153: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الاِسْتِسْقَاءِ
باب: نماز استسقا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا، مُتَبَذِّلًا، مُتَخَشِّعًا، مُتَرَسِّلًا، مُتَضَرِّعًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے کسی امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کے متعلق پوچھنے کے لیے بھیجا ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : امیر نے مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھ لیا ؟ پھر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی کے ساتھ سادہ لباس میں ، خشوع خضوع کے ساتھ ، آہستہ رفتار سے ، گڑگڑاتے ہوئے ( عید گاہ کی طرف ) روانہ ہوئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کی طرح دو رکعت نماز پڑھائی ، اور اس طرح خطبہ نہیں دیا جیسے تم دیتے ہو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1266]
💡 وضاحت:
۱؎: حجۃ اللہ البالغۃ میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے استسقاء کئی بار مختلف طریقوں سے کیا لیکن جو طریقہ سنت کا اپنی امت کے لئے اختیار کیا وہ یہ ہے کہ لوگوں سمیت نہایت عاجزی کے ساتھ عید گاہ تشریف لے گئے، اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں زور سے قراءت کی، پھر خطبہ پڑھا، اور قبلے کی طرف منہ کیا، خطبہ میں دعا مانگی، اور دونوں ہاتھ اٹھائے، اور اپنی چادر پلٹی، استسقاء کی نماز دو رکعت مسنون ہے، ان کے بعد خطبہ ہے، اس کے وجوب کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک استسقاء میں صرف دعا اور استغفار کافی ہے، جب کہ متعدد احادیث میں نماز وارد ہے، اور جن حدیثوں میں نماز کا ذکر نہیں ان سے نماز کی نفی لازم نہیں آتی، اور ابن ابی شیبہ نے جو عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ استسقاء کو نکلے پھر نہ زیادہ کیا استغفار پر، یہ ایک صحابی کا موقوف اثر ہے، قطع نظر اس کے سنت کے ترک سے اس کی سنیت باطل نہیں ہوتی، اور اسی پر وہ مرفوع حدیث بھی محمول ہو گی جس میں نماز کا ذکر نہیں ہے، اور صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کا وسیلہ لیتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا وسیلہ لیا، اس معنی میں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود استسقاء کی نماز ادا فرمائی، اور بارش کی دعا کی، آپ سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے یہاں اور کون تھا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کو نماز استسقاء کے لیے آگے بڑھایا کیونکہ آپ کی بزرگی، صالحیت اور اللہ کے رسول سے تعلق کی وجہ سے اس بات کی توقع کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں آپ کی دعا قبول ہو گی، اور بعض روایتوں میں نماز سے پہلے خطبہ وارد ہے، اور دونوں طرح صحیح ہے، (ملاحظہ ہو: الروضہ الندیہ)۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 258 (1165)، سنن الترمذی/الصلاة 278 (الجمعة43) (558، 559)، سنن النسائی/الاستسقاء 3 (1507)، 4 (1509)، 13 (1522)، (تحفة الأشراف: 5359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/230، 260، 355) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 534)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ سُفْيَانُ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو: أَجَعَلَ أَعْلَاهُ أَسْفَلَهُ أَوِ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ؟ قَالَ: لَا، بَلِ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ.
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ کی جانب نماز استسقاء کے لیے نکلے ، آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا ، اپنی چادر کو پلٹا ، اور دو رکعت نماز پڑھائی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1267]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی چادر کو اس طرح پلٹا کہ اوپر کا حصہ نیچے ہو گیا، اور نیچے کا اوپر، اور داہنا کنارہ بائیں طرف ہو گیا، اور بایاں کنارہ داہنی طرف اس کا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے چادر کا نیچے کا بایاں کونہ اور بائیں ہاتھ سے نیچے کا داہنا کونہ پکڑ کر پیٹھ کے پیچھے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھرا دے اس طرح سے کہ جو کونہ داہنے ہاتھ سے پکڑا ہے وہ داہنے کندھے پر آ جائے، اور جو بائیں ہاتھ سے پکڑا ہے وہ بائیں کندھے پر آ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قول المسعودي سألت. . الخ
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ سُفْيَانُ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو: أَجَعَلَ أَعْلَاهُ أَسْفَلَهُ أَوِ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ؟ قَالَ: لَا، بَلِ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ.
اس سند سے بھی عباد بن تمیم نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سفیان ثوری نے مسعودی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے ابوبکر بن محمد بن عمرو سے پوچھا کہ چادر کو کیسے پلٹا ، کیا اوپر کا حصہ نیچے کر دیا ، یا دائیں کو بائیں جانب کر دیا ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، بلکہ دائیں کو بائیں جانب کر لیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1267M]
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قول المسعودي سألت. . الخ
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا، وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ، وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّهَ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلَبَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ، وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز استسقاء پڑھنے کے لیے نکلے ، تو بغیر اذان و اقامت کے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی ، پھر خطبہ دیا ، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی ، اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنا منہ قبلہ کی طرف کیا ، پھر اپنی چادر پلٹی تو دایاں جانب بائیں کندھے پر اور بایاں جانب دائیں کندھے پر کر لیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1268]
💡 وضاحت:
۱؎: استسقا (بارش طلب کرنے) میں جہاں تک ہو سکے امام کو اور رعایا کو اللہ تعالی سے گڑگڑا کر رو رو کر دعائیں مانگنی چاہئے، اور سب لوگوں کو اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کرنا چاہئے، کیونکہ پانی گناہوں کی نحوست سے رک جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال ابن خزيمة في صحيحه: ”في القلب من النعمان بن راشد فإن في حديثه عن الزهري تخليط كثير“(1422) والزهري مدلس وعنعن (د 145) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12291، ومصباح الزجاجة: 442)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/326) (ضعیف) (بوصیری نے اسناد کو صحیح کہا اور رجال کو ثقات بتایا، جب کہ سند میں نعمان بن راشد صدوق سئی الحفظ ہیں، ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ نعمان کی توثیق کے سلسلہ میں دل میں کچھ شک ہے، اس لئے کہ ان کی زہری سے روایت میں بہت خلط ملط ہے، اگر یہ خبر ثابت ہو جائے، تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا اور دعا کی، اور دو مرتبہ اپنی چادر پلٹی، ایک بار صلاة سے پہلے ایک بار اس کے بعد صحیح ابن خزیمہ: 2/338، لیکن البانی صاحب نے حدیث کی تضعیف کی)
154: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ
باب: استسقا کی دعا کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبٍ : يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَسْقِ اللَّهَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مَرِيئًا مَرِيعًا، طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ"، قَالَ: فَمَا جَمَّعُوا حَتَّى أُجِيبُوا، قَالَ: فَأَتَوْهُ، فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْمَطَرَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا"، قَالَ: فَجَعَلَ السَّحَابُ يَنْقَطِعُ يَمِينًا وَشِمَالًا.
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے کہا : کعب بن مرہ ! آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئیے اور احتیاط برتئے ، تو انہوں نے کہا : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ سے بارش مانگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا : «اللهم اسقنا غيثا مريئا مريعا طبقا عاجلا غير رائث نافعا غير ضار» ” اے اللہ ! ہم پر اچھے انجام والی ، سبزہ اگانے والی ، زمین کو بھر دینے والی ، جلد برسنے والی ، تھم کر نہ برسنے والی ، فائدہ دینے والی اور نقصان نہ پہنچانے والی بارش برسا “ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ابھی نماز جمعہ سے ہم فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ بارش ہونے لگی اور مسلسل ہوتی رہی ، بالآخر پھر لوگ آپ کے پاس آئے ، اور بارش کی کثرت کی شکایت کی اور کہا اللہ کے رسول ! مکانات گر گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا فرمائی «اللهم حوالينا ولا علينا» ” اے اللہ ! بارش ہمارے اردگرد میں ہو ہم پر نہ ہو “ ، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تھا کہ بادل دائیں اور بائیں پھٹنے لگا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1269]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال أبو داود (3967): ”سالم لم يسمع من شرحبيل،مات شرحبيل بصفين“ فالسند منقطع و لبعض الحديث شواھد صحيحة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11165، ومصباح الزجاجة: 441، 443)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/235، 236) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/145)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ أَبُو الْأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ مَا يَتَزَوَّدُ لَهُمْ رَاعٍ، وَلَا يَخْطِرُ لَهُمْ، فَحْلٌ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا طَبَقًا مَرِيعًا غَدَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، ثُمَّ نَزَلَ، فَمَا يَأْتِيهِ أَحَدٌ مِنْ وَجْهٍ مِنَ الْوُجُوهِ إِلَّا قَالُوا قَدْ أُحْيِينَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کے پاس ایک ایسی قوم کے پاس سے آیا ہوں جس کے کسی چرواہے کے پاس توشہ ( کھانے پینے کی چیزیں ) نہیں ، اور کوئی بھی نر جانور ( کمزوری دور دبلے پن کی وجہ سے ) دم تک نہیں ہلاتا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر یوں دعا فرمائی : «اللهم اسقنا غيثا مغيثا مريئا طبقا مريعا غدقا عاجلا غير رائث» ” اے اللہ ! ہمیں سیراب کر دینے والا ، فائدہ دینے والا ، ساری زمین پر برسنے والا ، سبزہ اگانے والا ، زور کا برسنے والا ، جلد برسنے والا اور تھم کر نہ برسنے والا پانی نازل فرما “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر گئے ، اس کے بعد جو بھی جس کسی سمت سے آتا وہ یہی کہتا کہ ہمیں زندگی عطا ہو گئی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1270]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حبيب بن أبي ثابت: مدلس و عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5392، ومصباح الزجاجة: 444) (صحیح) (بوصیری نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اور رجال کو ثقات لیکن اس حدیث کی سند میں حبیب بن ابی ثابت مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2؍146، اسی کے ہم مثل اوپر صحیح حدیث گذری، اور بعض اجزاء حدیث کو اصحاب سنن اربعہ نے روایت کیا ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجہ بتحقیق الشہری: 448)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ بَرَكَة ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَسْقَى حَتَّى رَأَيْتُ أَوْ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ"، قَالَ مُعْتَمِرٌ: أُرَاهُ فِي الِاسْتِسْقَاءِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا مانگی یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی ، یا یوں کہا کہ یہاں تک کہ آپ کی بغل کی سفیدی دکھائی دی ۔ معتمر کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ یہ استسقاء کے بارے میں ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1271]
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سليمان التيمي مدلس و عنعن ¤ و لبعض الحديث شواھد و ھي تغني عن ھذا الحديث ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12222، ومصباح الزجاجة: 445)، وقد أخرجہ: مسند احمد2/235، 370) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَمَا نَزَلَ حَتَّى جَيَّشَ كُلُّ مِيزَابٍ بِالْمَدِينَةِ، فَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ: وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ، ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ"، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو منبر پہ دیکھتا تھا ، تو اکثر مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آ جاتا تھا ، آپ ابھی منبر سے اترے بھی نہیں کہ مدینہ کے ہر پر نالہ میں پانی زور سے بہنے لگا ، وہ شعر یہ ہے : وہ سفید فام شخصیت ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) جس کے چہرے کے وسیلے سے بادل سے بارش مانگی جاتی ہے ، یتیموں کا نگہبان ، بیواؤں کا محافظ ۔ یہ ابوطالب کا کلام ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1272]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الاستسقاء 3 تعلیقاً وموصولا (1009عقیب حدیث عبد اللہ بن دینار)، (تحفة الأشراف: 6775)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/93) (حسن)
155: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کی نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ، وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِيَدَيْهِ هَكَذَا، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْءَ".
عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز ادا کی ، پھر خطبہ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ عورتوں تک آواز نہیں پہنچ سکی ہے لہٰذا آپ ان کے پاس آئے ، ان کو ( بھی ) وعظ و نصیحت کی ، اور انہیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا ، اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا دامن پھیلائے ہوئے تھے جس میں عورتیں اپنی بالیاں ، انگوٹھیاں اور دیگر سامان ڈالنے لگیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1273]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو نماز عید کے لئے عید گاہ جانا صحیح ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باپردہ اور کنواری عورتوں کو بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیا یہاں تک کہ حائضہ عورتوں کو بھی، اور فرمایا: وہ مسجد کے باہر رہ کر دعا میں شریک رہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے عیدگاہ میں نماز عید پڑھے اس کے بعد خطبہ دے، اور نماز عیدین کے بارے میں اختلاف ہے کہ واجب ہے یا سنت، اور حق یہ ہے کہ واجب ہے اور بعضوں نے کہا آیت: «فصل لربك و انحر» سے عید کی نماز مراد ہے اور جب عید کے دن جمعہ آ جائے تو عید کی نماز پڑھنے سے جمعہ واجب نہیں رہتا یعنی جمعہ کا وجوب ساقط ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 16 (975)، 18 (977)، الزکاة 33 (1449)، النکاح 125 (5249)، اللباس 56 (5880)، الاعتصام 16 (7325)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1142)، سنن النسائی/العیدین 13 (1570)، (تحفة الأشراف: 5883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 226، 242، 345، 346، 357، 368)، سنن الدارمی/الصلاة 218 (1644) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1274]
💡 وضاحت:
۱؎: اس پر سب کا اتفاق ہے اور صحیح میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی روایت ہے، اس لئے نماز عید میں اذان یا اقامت کہنا بدعت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 8 (962)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن ابی داود/الصلاة 250 (1147)، (تحفة الأشراف: 5698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/227، 242، 285، 331، 345، 346) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ، خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ عِيدٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا؟، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَأَى مُنْكَرًا، فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( گورنر ) مروان عید کے دن ( عید گاہ ) منبر لے گئے ، اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا ، ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : مروان ! آپ نے خلاف سنت عمل کیا ، عید کے دن منبر لے آئے ، جب کہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا ، اور آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا جب کہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا تھا ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : اس شخص نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جو شخص خلاف شرع کام ہوتے ہوئے دیکھے اور اپنے ہاتھ سے اسے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے ، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے ، اور اگر زبان سے بھی کچھ نہ کہہ سکتا ہو تو دل میں برا جانے ، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1275]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایمان کا اخیر درجہ ہے اگر خلاف شرع کام کو دل سے بھی برا نہ جانے بلکہ ایسے کاموں پر چپ رہے اور دل میں بھی نفرت نہ لائے تو اس شخص میں ذرا بھی ایمان نہیں ہے، اس حدیث کو یاد رکھنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1140)، سنن الترمذی/الفتن 11 (7172)، سنن النسائی/الإیمان 17 (5011)، (تحفة الأشراف: 4085)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین 6 (956)، مسند احمد (3/10، 49، 52، 53، 54، 92) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ يُصَلُّونَ الْعِيدَ قَبْلَ الْخُطْبَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما عید کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1276]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 8 (963)، 19 (979)، صحیح مسلم/العیدین (888)، سنن الترمذی/الصلاة 266 (الجمعة 31) (531)، (تحفة الأشراف: 7823)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین 8 (1565)، مسند احمد (2/12، 38) (صحیح)
156: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي كَمْ يُكَبِّرُ الإِمَامُ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کی نماز میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ: فِي الْأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ، وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1277]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3829، ومصباح الزجاجة: 446)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 220 (1647) (صحیح) (عبدالرحمن بن سعد ضعیف اور ان کے والد مجہول الحال ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإروااء: 3/109)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبَّرَ فِي صَلَاةِ الْعِيدِ سَبْعًا، وَخَمْسًا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید میں سات اور پانچ تکبیریں کہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1278]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 251، (1151)، (تحفة الأشراف: 8728)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ: سَبْعًا فِي الْأُولَى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ".
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1279]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجمعة 34 (536)، (تحفة الأشراف: 10774) (صحیح) (اس سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں، لیکن اصل حدیث کثrت طرق کی وجہ سے صحیح ہے، جیسا کہ اس باب کی سابقہ اور آنے والی احادیث سے واضح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبَّرَ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى سَبْعًا وَخَمْسًا سِوَى تَكْبِيرَتَيِ الرُّكُوعِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی اور عید الفطر میں رکوع کی تکبیروں کے علاوہ سات اور پانچ تکبیریں کہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1280]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 251 (1149)، (تحفة الأشراف: 16425، 16548)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/65، 70) (صحیح)
157: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ
باب: نماز عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1281]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 16 (878)، سنن ابی داود/الصلاة 242 (1122)، سنن الترمذی/الصلاة268 (الجمعة33) (533)، سنن النسائی/الجمعة 39 (1425)، (تحفة الأشراف: 11612)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 9 (19)، مسند احمد (4/271، 273، 276، 277)، سنن الدارمی/الصلاة 221 (1648) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " خَرَجَ عُمَرُ يَوْمَ عِيدٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ؟، قَالَ: بِـقَ وَاقْتَرَبَتْ".
عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن نکلے تو ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے انہوں نے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن نماز عید میں کون سی سورۃ پڑھتے تھے ، تو انہوں نے کہا : سورۃ «قٓ» اور «اقتربت الساعۃ» ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1282]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/العیدین 3 (891)، سنن ابی داود/الصلا ة 252 (1154)، سنن الترمذی/الصلاة 268 (الجمعة 33)، 534، 535)، سنن النسائی/العیدین 11 (1568)، (تحفة الأشراف: 15513)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العیدین 4 (8)، مسند احمد (5/217، 218، 219) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں : «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1283]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6447، ومصباح الزجاجة: 447) (صحیح) (سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
158: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین میں خطبے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا كَاهِلٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، فَحَدَّثَنِي أَخِي عَنْهُ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ، وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِهَا".
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابوکاہل رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا ، میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابوکاہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ، اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1284]
💡 وضاحت:
۱؎: حبشی سے مراد بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/العیدین 16 (1574)، (تحفة الأشراف: 12142)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/306) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَائِذٍ هُوَ أَبُو كَاهِلٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ حَسْنَاءَ، وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِهَا".
قیس بن عائذ رضی اللہ عنہ ( ابوکاہل ) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خوبصورت اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1285]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12142) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ حَجَّ، فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ عَلَى بَعِيرِهِ".
نبیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حج کیا اور کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اونٹ پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1286]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ سنن أبي داود (1916) نسائي (3010،3011) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الحج 62 (1916)، سنن النسائی/الحج 198 (3010)، (تحفة الأشراف: 11589)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 305، 306) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنِ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُكَبِّرُ بَيْنَ أَضْعَافِ الْخُطْبَةِ يُكْثِرُ التَّكْبِيرَ فِي خُطْبَةِ الْعِيدَيْنِ".
سعد مؤذن کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے درمیان تکبیر کہتے تھے ، اور عیدین کے خطبہ کے دوران کثرت سے تکبیریں پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1287]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن سعد: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3830، ومصباح الزجاجة: 448) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں عبد الرحمن ضعیف ہیں، اور ان کے والد اور دادا مجہول الحال ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ، فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ، فَيَقِفُ عَلَى رِجْلَيْهِ، فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ"، فَيَقُولُ: " تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا، فَأَكْثَرُ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمِ وَالشَّيْءِ، فَإِنْ كَانَتْ حَاجَةٌ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا يَذْكُرُهُ لَهُمْ وَإِلَّا انْصَرَفَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت پڑھاتے ، پھر سلام پھیرتے ، اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر لوگوں کی جانب رخ کرتے ، اور لوگ بیٹھے رہتے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” لوگو ! صدقہ کرو ، صدقہ کرو ، زیادہ صدقہ عورتیں دیتیں ، کوئی بالی ڈالتی ، کوئی انگوٹھی اور کوئی کچھ اور ، اگر آپ کو لشکر بھیجنا ہوتا تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے ، ورنہ تشریف لے جاتے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1288]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 6 (304)، العیدین 6 (964، 989)، الزکاة 44 (1431)، صحیح مسلم/الایمان 34 (79، 80)، العیدین 9 (844)، سنن النسائی/العیدین 19 (1577)، (تحفة الأشراف: 5558)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/36، 57) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَخَطَبَ قَائِمًا، ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً، ثُمَّ قَامَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحی میں گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا ، پھر تھوڑی دیر بیٹھے ، پھر کھڑے ہو گئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1289]
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري ما ملخصه: ”إسماعيل بن مسلم (المكي) أجمعوا علي ضعفه،أبو بحر (البكراوي) ضعيف“ إسماعيل بن مسلم: ضعيف ¤ وعبد الرحمٰن بن عثمان البكراوي: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2661، ومصباح الزجاجة: 449) (منکر) (سند میں اسماعیل بن مسلم اور ابوبحر ضعیف ہیں، نیز ابوالزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے یہ سنداً اور متناً ضعیف ہے، صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ خطبہ جمعہ میں محفوظ ہے)
159: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي انْتِظَارِ الْخُطْبَةِ بَعْدَ الصَّلاَةِ
باب: نماز کے بعد خطبہ کا انتظار کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: حَضَرْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِنَا الْعِيدَ، ثُمَّ قَالَ: " قَدْ قَضَيْنَا الصَّلَاةَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا ، تو آپ نے ہمیں عید کی نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : ” ہم نماز ادا کر چکے ، لہٰذا جو شخص خطبہ کے لیے بیٹھنا چاہے بیٹھے ، اور جو جانا چاہے جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1290]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 253 (1155)، سنن النسائی/العیدین 14 (1572)، (تحفة الأشراف: 5315) (صحیح)
160: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ صَلاَةِ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا
باب: عید سے پہلے اور اس کے بعد نماز پڑھنا کیسا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمُ الْعِيدَ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف گئے تو آپ نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی ، اور اس سے پہلے یا بعد کوئی اور نماز نہ پڑھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1291]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 8 (964)، 26 (989)، الزکاة 21 (1431)، اللباس 57 (5881)، 59 (5883)، صحیح مسلم/العیدین 2 (884)، سنن ابی داود/الصلاة 256 (1159)، سنن الترمذی/الصلاة 270 (الجمعة 35) (537)، سنن النسائی/العیدین 28 (1588)، (تحفة الأشراف: 5558)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 280، 340، 355)، سنن الدارمی/الصلاة 219 (1646) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا، وَلَا بَعْدَهَا فِي عِيدٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید میں عید سے پہلے یا بعد کوئی بھی نماز نہیں پڑھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1292]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8729، ومصباح الزجاجة: 450)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الرَّقِّيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا يُصَلِّي قَبْلَ الْعِيدِ شَيْئًا، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے پہلے کچھ بھی نہیں پڑھتے تھے ، جب اپنے گھر واپس لوٹتے تو دو رکعت پڑھتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1293]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن عقيل ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4187، ومصباح الزجاجة: 451)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/40) (حسن)
161: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا
باب: عید کے لیے عیدگاہ پیدل چل کر جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ مَاشِيًا".
سعد مؤذن سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1294]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن سعد: ضعيف ¤ وضعفه البوصيري ¤ وللحديث شواھد ضعيفة عند الترمذي (530) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3831، ومصباح الزجاجة: 452) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الرحمن ضعیف، اور ان کے والد و دادا مجہول الحال ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 636)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ مَاشِيًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل جاتے ، اور پیدل ہی واپس آتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1295]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد فيه عبد الرحمٰن بن عبد اللّٰه العمري وھو ضعيف“ وھو متروك (تقريب: 3922) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7740 و 8020، ومصباح الزجاجة: 453) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الرحمن بن عبد اللہ العمری ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 636)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُمْشَى إِلَى الْعِيدِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ لوگ عید کی نماز کے لیے پیدل چل کر جائیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1296]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (530) ¤ الحارث الأعور: ضعيف ¤ وأبو إسحاق: عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجمعة 30 (530)، (تحفة الأشراف: 10042) (حسن) (سند میں الحارث ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 636)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنَا مِنْدَلٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَأْتِي الْعِيدَ مَاشِيًا".
ابورافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کے لیے پیدل چل کر آتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1297]
💡 وضاحت:
۱؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ سنت یہی ہے کہ عیدگاہ کو پیدل جائے، اگر عید گاہ دور ہو یا کوئی پیدل نہ چل سکے تو سواری پر جائے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث الآتي (1300) ¤ مندل و محمد بن عبيد اللّٰه بن أبي رافع: ضعيفان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12021، ومصباح الزجاجة: 454) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی: مندل و محمد بن عبیداللہ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 636)
162: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ يَوْمَ الْعِيدِ مِنْ طَرِيقٍ وَالرُّجُوعِ مِنْ غَيْرِهِ
باب: عید کے دن ایک راستے سے عیدگاہ جانے اور دوسرے راستے سے واپس آنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ سَلَكَ عَلَى دَارِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِ الْفَسَاطِيطِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فِي الطَّرِيقِ الْأُخْرَى طَرِيقِ بَنِي زُرَيْقٍ، ثُمَّ يَخْرُجُ عَلَى دَارِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَدَارِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى الْبَلَاطِ".
مؤذن رسول سعد القرظ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کی نماز کے لیے نکلتے تو سعید بن ابی العاص کے مکان سے گزرتے ، پھر خیمہ والوں کی طرف تشریف لے جاتے ، پھر دوسرے راستے سے واپس ہوتے ، اور قبیلہ بنی زریق کے راستے سے عمار بن یاسر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے مکانات کو پار کرتے ہوئے مقام بلاط پر تشریف لے جاتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1298]
💡 وضاحت:
۱؎: بلاط ایک مقام کا نام ہے، جو مسجد نبوی اور بازار کے درمیان واقع تھا۔ ۲؎: علماء نے راستہ بدلنے کی بہت سی حکمتیں بیان فرمائی ہیں، امام نووی ؒنے اس کی حکمت مقامات عبادت کا زیادہ ہونا بتلایا ہے، بعض کہتے ہیں کہ ایسا اس لئے کہ دونوں راستے قیامت والے دن گواہی دیں گے کہ یا اللہ تیری تکبیر و تہلیل کرتا ہوا یہ بندہ ہمارے اوپر سے گزرا تھا کیونکہ نماز عید کے لئے یہ حکم ہے کہ آتے جاتے راستوں میں بہ آواز بلند تکبیریں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے رہو، یا مقصد ہے کہ ایک کے بجائے دو راستوں کے فقراء، لوگوں کے صدقہ و خیرات سے بہرمند ہوں، یا اس لئے کہ مسلمانوں کی قوت و اجتماعیت کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن سعد: ضعيف ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3832، ومصباح الزجاجة: 456) (ضعیف) (عبدالرحمن اور ان کے والد ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ، وَيَرْجِعُ فِي أُخْرَى، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عید کے لیے ایک راستے سے جاتے ، اور دوسرے راستے سے واپس آتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1299]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 254 (1156)، (تحفة الأشراف: 7722)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/109) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَدَّثَنَا مِنْدَلٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَأْتِي الْعِيدَ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي ابْتَدَأَ فِيهِ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور اس راستہ کے سوا دوسری راستہ سے لوٹتے تھے جس سے پہلے آئے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1300]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (1297) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12021، ومصباح الزجاجة: 455) (صحیح) (اگلی و پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں مندل و محمد بن عبید اللہ دونوں ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدِ رَجَعَ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي أَخَذَ فِيهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1301]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 24 (986)، سنن الترمذی/الصلاة 272 (الجمعة 37)، (541)، (تحفة الأشراف: 12937)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/209، 388) (صحیح)
163: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّقْلِيسِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن دف بجانے اور کھیلنے کودنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: شَهِدَ عِيَاضٌ الْأَشْعَرِيُّ عِيدًا بِالْأَنْبَارِ، فَقَالَ: " مَا لِي لَا أَرَاكُمْ تُقَلِّسُونَ كَمَا كَانَ يُقَلَّسُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عامر شعبی کہتے ہیں کہ عیاض اشعری نے شہر انبار میں عید کی اور کہا : کیا بات ہے کہ میں تم کو اس طرح دف بجاتے اور گاتے نہیں دیکھ رہا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بجایا ، اور گایا جاتا تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1302]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شريك القاضي و مغيرة عنعنا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11017، ومصباح الزجاجة: 1302) (ضعیف) (سند میں شریک ضعیف الحدیث راوی ہیں، اور ایسے ہی سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: رقم: 4285)
مکمل مطالعہ →
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ دِيزِيلَ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ. ح وَحَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ. ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَامِرٍ نَحْوَهُ.
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی چیزیں تھیں ، وہ سب میں نے دیکھیں سوائے ایک چیز کے ، وہ یہ کہ عید الفطر کے روز آپ کے لیے گانا بجانا ہوتا تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1303]
💡 وضاحت:
۱؎: مصباح الزجاجة: بتحقيق د/عوض الشهري: (461)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن ¤ وتابعه جابر الجعفي وھو ضعيف جدًا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 422
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ دِيزِيلَ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ. ح وَحَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ. ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَامِرٍ نَحْوَهُ.
ان سندوں سے بھی عامر شعبی سے اسی جیسی روایت آئی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1303M]
💡 وضاحت:
۱؎: مصباح الزجاجة: بتحقيق د/عوض الشهري: (461)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
تخریج دارالدعوہ: t
164: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْحَرْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن (عیدگاہ میں) نیزہ لے جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى فِي يَوْمِ الْعِيدِ، وَالْعَنَزَةُ تُحْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا بَلَغَ الْمُصَلَّى نُصِبَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا"، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصَلَّى كَانَ فَضَاءً لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ يُسْتَتَرُ بِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن عید گاہ کی جانب صبح جاتے ، اور آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا ، جب آپ عید گاہ پہنچ جاتے تو آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا ، آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز عید پڑھاتے ، اس لیے کہ عید گاہ ایک کھلا میدان تھا اس میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے نماز کے لیے سترہ بنایا جاتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1304]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العیدین 13 (972)، 14 (973)، (تحفة الأشراف: 7757)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 47 (501)، سنن ابی داود/الصلاة 102 (687)، سنن النسائی/العیدین 9 (1566)، مسند احمد (2/98، 145، 151)، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1450) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ أَوْ غَيْرَهُ، نُصِبَتِ الْحَرْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ مِنْ خَلْفِهِ"، قَالَ نَافِعٌ: فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید یا کسی اور دن جب ( میدان میں ) نماز پڑھتے تو نیزہ آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا ، آپ اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے ، اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے ۔ نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے امراء نے اسے اختیار کر رکھا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1305]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8078)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 92 (498)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (501)، سنن ابی داود/الصلاة 102 (687)، سنن النسائی/القبلة 4 (748)، مسند احمد (2/13، 18، 142)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 941) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى الْعِيدَ بِالْمُصَلَّى مُسْتَتِرًا بِحَرْبَةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں عید کی نماز نیزہ کو سترہ بنا کے ادا فرمائی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1306]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1658، ومصباح الزجاجة: 459) (صحیح)
165: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ، وَالنَّحْرِ"، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا: أَرَأَيْتَ إِحْدَاهُنَّ لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ؟، قَالَ: " فَلْتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عورتوں کو عیدین میں لے جائیں ، ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ بتائیے اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو ( کیا کرے ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی ساتھ والی اسے اپنی چادر اڑھا دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1307]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ غریب و مسکین عورت بھی عیدگاہ کے لیے نکلے، اگر کپڑے نہ ہوں تو اپنی سہیلی یا رشتے دار عورت سے مانگ لے، اس حدیث سے عورتوں کے عیدین میں عیدگاہ جانے کی بڑی تاکید ثابت ہوتی ہے، بعض نے کہا کہ یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تھا اور اب جب کہ فسق و فجور پھیل گیا ہے تو عورتوں کا باہر نکلنا مناسب نہیں، اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے وہ کام دیکھتے جو انہوں نے نکالے ہیں تو یقینا ان کو مسجد میں جانے سے منع کرتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کی گئیں، اور اس اثر سے خود ان لوگوں کے قول کے خلاف ثابت ہوتا ہے یعنی یہ کہ عورتوں کو باہر نکلنا منع نہیں ہوا۔ برصغیر میں علماء کا ایک طبقہ عورتوں کے عیدگاہ اور مساجد جانے کی بوجوہ چند بڑی مخالفت کرتا ہے، جبکہ نصوص شرعیہ سے عورتوں کا ان جگہوں پر جانا ثابت ہے، اور یہ ان کا حق ہے جو اسلام نے انہیں دیا ہے، بالخصوص اگر ان مساجد اور دینی مراکز کے ذریعہ سے وعظ و تبلیغ اور دینی تعلیم کی ضرورت بھی پوری ہوتی ہو تو اس سلسلہ میں عورتوں کو نہ صرف یہ کہ جانے کی اجازت دینی چاہیے بلکہ اس کا اہتمام بھی کرنا چاہئے، ظاہر بات ہے کہ اسلام نے جو آداب اس سلسلہ میں بتائے ہیں اس کا لحاظ کئے بغیر عورتوں کا باہر نکلنا صحیح اور مناسب نہ ہو گا، لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ ہر طرح کے تجارتی اور تفریحی مقامات پر عورتیں بے پردہ اور بے لگام گھوم رہی ہیں اور اس سلسلہ میں کوئی حرج اور انکار کا جذبہ لوگوں میں باقی نہیں رہا، لیکن فقہی فروع کی پابندی اس انداز سے کرائی جاتی ہے کہ شریعت سے ثابت مسائل میں بھی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے، لہذا ہمیں شرعی ضابطہ میں رہ کر عورتوں کو ان دینی مقامات میں جانے کی ترغیب دینی چاہئے کیونکہ یہ ان کا حق ہے، اور اس سے بڑھ کر اگر دینی مسائل کے سیکھنے سکھانے کا موقع بھی فراہم ہو تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، سنن الترمذی/الصلاة 271 (539)، سنن النسائی/الحیض الاستحاضہ 22 (390)، العیدین 2 (1559)، 3 (1560)، (تحفة الأشراف: 18136)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 23 (324)، الصلاة 2 (351)، العیدین 15 (974)، 20 (980)، 21 (981)، الحج 81 (1652)، سنن ابی داود/الصلاة 247 (1136)، مسند احمد (5/84، 85)، سنن الدارمی/الصلاة 223 (1650) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ لِيَشْهَدْنَ الْعِيدَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَلْيَجْتَنِبَنَّ الْحُيَّضُ مُصَلَّى النَّاسِ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کنواری اور پردہ نشیں عورتوں کو عید گاہ لے جاؤ تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں ، البتہ حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ بیٹھیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1308]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العدین 15 (974)، مخصراً صحیح مسلم/صلاة العیدین 1 (890)، سنن ابی داود/الصلاة 247 (1136، 1137)، مطولاً سنن النسائی/صلاة العیدین 2 (1559)، (تحفة الأشراف: 18095) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُخْرِجُ بَنَاتِهِ وَنِسَاءَهُ فِي الْعِيدَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو عیدین میں عید گاہ لے جاتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1309]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حجاج بن أرطاة عنعن ¤ والسند ضعفه البوصيري لتدليسه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 423
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ این ماجہ، (تحفة الأشراف: 5818، ومصباح الزجاجة: 460)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/231، 353) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
166: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ
باب: عید اور جمعہ ایک دن اکٹھا ہو جائیں تو کیسے کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ : هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ فِي يَوْمٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ؟، قَالَ: " صَلَّى الْعِيدَ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ"، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ".
ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی ایک ہی دن دو عید میں حاضر رہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، اس آدمی نے کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید پڑھائی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا : ” جو پڑھنا چاہے پڑھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1310]
💡 وضاحت:
۱؎: جمعہ اور عید دونوں پڑھنا افضل ہے، اور دور دراز کے لوگوں کو اگر جمعہ کے لئے جامع مسجد آنے میں مشقت اور دشواری ہو تو اس صورت میں صرف عید پر اکتفا ہو سکتا ہے، اور اس صورت میں ظہر پڑھ لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 217 (1070)، سنن النسائی/العیدین 31 (1592)، (تحفة الأشراف: 3657)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/372)، سنن الدارمی/الصلاة 225، (1653) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي مُغِيرَةُ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں ، لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لیے عید کی نماز ہی کافی ہے ، اور ہم تو ان شاءاللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1311]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1073) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 423
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة 217 (1073)، (تحفة الأشراف: 12827) (ضعیف) (سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي مُغِيرَةُ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1311M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة 217 (1073)، (تحفة الأشراف: 12827) (ضعیف) (سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَأْتِهَا، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتَخَلَّفَ فَلْيَتَخَلَّفْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو عیدیں ( عید اور جمعہ ) اکٹھا ہو گئیں ، تو آپ نے لوگوں کو عید پڑھائی ، پھر فرمایا ” جو جمعہ کے لیے آنا چاہے آئے ، اور جو نہ چاہے نہ آئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1312]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ جبارة بن المغلس ضعيف (تقريب: 890) ¤ و مندل بن علي ضعيف ¤ و الحديث السابق (الأصل: 1310) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 423
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7772، ومصباح الزجاجة: 462) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی مندل و جبارہ ضعیف ہیں)
167: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ إِذَا كَانَ مَطَرٌ
باب: بارش کی وجہ سے نماز عید مسجد میں پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى عُبَيْدَ اللَّهِ التَّيْمِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَصَابَ النَّاسَ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهِمْ فِي الْمَسْجِدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید کے دن بارش ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید مسجد ہی میں پڑھائی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1313]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1160) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 423
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 257 (1160)، (تحفة الأشراف: 14120) (ضعیف) (اس کی سند میں عیسیٰ بن عبد الاعلی مجہول ہیں)
168: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي لُبْسِ السِّلاَحِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ
باب: عید کے دن ہتھیار بند ہونے کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا نَائِلُ بْنُ نَجِيحٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يُلْبَسَ السِّلَاحُ فِي بِلَادِ الْإِسْلَامِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونُوا بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی شہروں میں عیدین کے دنوں میں ہتھیار باندھ کر جانے سے منع فرمایا ، الا یہ کہ دشمن کا سامنا ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1314]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ إسماعيل بن زياد: متروك كذبوه (تقريب: 446) ¤ ونائل بن نجيح: ضعيف (تقريب:7089) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 423
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6508، ومصباح الزجاجة: 463) (ضعیف جدا) (نائل بن نجیح کے حدیث کی کوئی اصل نہیں، نیز اسماعیل بن زیاد متروک راوی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5645)
169: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الاِغْتِسَالِ فِي الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین میں غسل کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ الْأَضْحَى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1315]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ جبارة:ضعيف ¤ والحجاج بن تميم: ضعيف (تقريب: 1120) ¤ والسند ضعفه الحافظ في الدراية (ح36) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 423
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6508، ومصباح الزجاجة: 464) (ضعیف جدا) (یہ سند بہت ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں جبارہ ہیں، جن کی حدیثوں میں غفلت کی وجہ سے اضطراب ہے، نیز حجاج بن تمیم کی مروی حدیثوں کی کوئی متابعت نہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 146، امام بزار کہتے ہیں کہ عید ین میں غسل کی کوئی صحیح حدیث مجھے یاد نہیں ہے، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر2/61)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ النَّحْرِ، وَيَوْمَ عَرَفَةَ"، وَكَانَ الْفَاكِهُ: يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالْغُسْلِ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ.
فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر ، عید الاضحی اور عرفہ کے دن غسل فرمایا کرتے تھے اور فاکہ رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال کو ان دنوں میں غسل کا حکم دیا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1316]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ يوسف بن خالد: زنديق كذاب،لا يكتب عنه شيء كما قال ابن معين رحمه اللّٰه (تاريخ ابن معين رواية الدوري: 3556) وعبد الرحمٰن بن عقبة: مجهول (تقريب:3956) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 423
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11020، ومصباح الزجاجة: 465)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/78) (موضوع) (یوسف بن خالد متروک و کذاب ہے، حدیثیں گھڑتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 416)
170: . بَابٌ في وَقْتِ صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کی نماز کے وقت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ، وَقَالَ: " إِنْ كُنَّا لَقَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ، وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے تو امام کے تاخیر کرنے پر ناگواری کا اظہار کیا ، اور کہنے لگے کہ ہم لوگ تو اس وقت عیدین کی نماز سے فارغ ہو جایا کرتے تھے ، اور وہ وقت کراہت کے گزرنے کے بعد نماز الضحی ( چاشت کی نفل ) کا وقت ہوتا تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1317]
💡 وضاحت:
۱؎: نفل فجر کے بعد اس وقت صحیح ہوتی ہے، جب سورج ایک نیزے کے مقدار بلند ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 246، (1135)، (تحفة الأشراف: 5206) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں راوی عبد الوہاب بن ضحاک متروک ہیں)
171: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ
باب: تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نفل نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1318]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث: رقم 1174، (تحفة الأشراف: 6652) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات کی نماز دو دو رکعت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1319]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 206 (437)، سنن النسائی/قیام اللیل 24 (1672)، (تحفة الأشراف: 8288)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/119) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وعَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: " يُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَافَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِرَكْعَهٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو دو رکعت پڑھے ، جب طلوع فجر کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1320]
💡 وضاحت:
۱؎: اس ایک رکعت سے ساری نماز جو اس نے پڑھی ہے وتر ہو جائے گی، اور رات کی نماز کبھی وتر میں داخل ہوتی ہے جیسے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتیں وتر کی پڑھتے تھے، ان کے بیچ میں نہ سلام پھیرتے تھے، نہ بات کرتے تھے اور کبھی وتر الگ ہوتی ہے جیسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پانچ رکعتیں ان میں وتر کی ہوتیں، ان میں اخیر میں بیٹھتے، اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے، اور آٹھویں کے بعد بیٹھتے تھے پھر سلام پھیرتے تھے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے، تو کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر اخیر عمر میں سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور چھٹی یا ساتویں رکعت میں بیٹھتے تھے، اور ایک روایت میں ہے کہ سات رکعتیں پڑھیں، صرف آخری رکعت میں بیٹھے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان و غیر رمضان میں آٹھ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے، اور تین وتر کی پڑھتے تو کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، ابن حزم کہتے ہیں کہ احادیث میں رات کی نماز وتر سمیت تیرہ آئی ہے، اور ہر طرح سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: حدیث طاوس وسالم: أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین20 (749)، سنن النسائی/قیام اللیل24 (1668)، (تحفة الأشراف: 6830، 7099)، وحدیث عبد اللہ بن دینار عن ابن عمر تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 7176) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر 1 (990)، سنن ابی داود/الصلاة 314 (1326)، موطا امام مالک/صلاةاللیل 3 (13)، مسند احمد (2/49، 54، 66)، سنن الدارمی/الصلاة 154 (1499)، 155 (1500) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِاللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں ( نفل ) نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1321]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (288) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 423
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5380)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبرٰي الصلاة 43 (405)، سنن ابی داود/الطہارة 30 (58)، مسند احمد (1/ 218)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 288) (صحیح)
172: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى
باب: رات اور دن کی (نفلی) نماز دو دو رکعت ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : ” رات اور دن کی ( نفل ) نماز دو دو رکعت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1322]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 302 (1295)، سنن الترمذی/الصلاة 301 (597)، سنن النسائی/قیام اللیل 24 (1667)، (تحفة الأشراف: 7349)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/26، 51)، سنن الدارمی/الصلاة 155 (1500) (صحیح) ( والنہار کی زیادتی کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے، ابن خزیمہ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور کہا کہ اس کے رواة ثقہ ہیں، اور مسلم نے علی البارقی سے حجت پکڑی ہے، اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، علامہ البانی نے سلسلة الاحادیث الصحیحة میں اس کی تصحیح کی ہے، لیکن بعض اہل علم نے والنہار کو ضعیف کہا ہے، کیونکہ یہ زیادتی علی البارقی الازدی کے طریق سے مروی ہے، اور یہ ابن معین کے نزدیک ضیعف ہیں، ملاحظہ ہو: التلخیص ا لحبیر: 544)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ: " صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، سَلَّمَ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ".
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن نماز الضحیٰ ( چاشت کی نفل ) آٹھ رکعت پڑھی ، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1323]
💡 وضاحت:
۱؎: نماز الضحیٰ کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں روایتوں میں اختلاف ہے، دو، چار، آٹھ اور بارہ رکعات تک کا ذکر ہے، اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ روایتوں کے اختلاف کو گنجائش پر محمول کیا جائے، اور جتنی جس کو توفیق ملے پڑھے اس فرق کے ساتھ کہ آٹھ رکعت تک کا ذکر فعلی حدیثوں میں ہے، اور بارہ کا ذکر قولی حدیث میں ہے، بعض نے اسے بدعت کہا ہے لیکن بدعت کہنا غلط ہے، متعدد احادیث سے اس کا مسنون ہونا ثابت ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے (مصنف ابن ابی شیبہ۲/۴۰۵)۔ اکثر علماء کے نزدیک چاشت اور اشراق کی نماز ایک ہی ہے، جو سورج کے ایک یا دو نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنے پر پڑھی جاتی ہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ نماز الضحیٰ چاشت کی نماز اشراق کے بعد پڑھی جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: منكر بزيادة التسليم والمحفوظ دونها
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 301 (1290)، (تحفة الأشراف: 1810)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل 21 (280)، الصلاة 4 (357)، الجزیة 9 (3171)، الأدب 94 (6158)، صحیح مسلم/الحیض 16 (336)، المسافرین 13 (336)، سنن الترمذی/الوتر 15 (474)، الاستئذان 34 (2734)، سنن النسائی/الطہارة 143 (226)، موطا امام مالک/صلاةالضحیٰ 8 (27)، سنن الدارمی/الصلاة 151 (1494) (صحیح) دون زیادة ''ثم سلم۔۔۔ الخ''کمارواہ الآخرون والمؤلف برقم: 1378۔
مکمل مطالعہ →
حدثنا هارون بن إسحاق الهمداني حدثنا محمد بن فضيل عن أبي سفيان السعدي عن أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «في كل ركعتين تسليمة» .
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر دو رکعت پر سلام ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1324]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ طريف بن شهاب السعدي: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4360، ومصباح الزجاجة: 466) (ضعیف) (اس کی سند میں ابوسفیان طریف بن شھاب السعدی ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4023)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ الْمُطَّلِبِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَدَاعَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَتَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَبَاءَسُ، وَتَمَسْكَنُ، وَتُقْنِعُ، وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ".
مطلب بن ابی وداعہ ۱؎ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات کی نماز دو دو رکعت ہے ، اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے ، اور اللہ کے سامنے اپنی محتاجی و مسکینی ظاہر کرنا ، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا ، اور کہنا ہے کہ اے اللہ ! مجھ کو بخش دے ، جو کوئی ایسا نہ کرے ( یعنی اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر نہ کرے تو ) اس کی نماز ناقص ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1325]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب بن أبی وداعہ وہم ہے، صحیح (المطلب بن ربیعہ ہے) ملاحظہ ہو: تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۸۸، تہذیب الکمال، ترجمہ المطلب بن ربیعہ ۲۸؍ ۷۶)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1296) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 302 (1296)، (تحفة الأشراف: 11288)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/167) (ضعیف) (اس کے روای عبد اللہ بن نافع بن العمیاء مجہول ہیں)
173: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي قِيامِ شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے ، اور ( اس کی راتوں میں ) قیام کیا ، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1326]
💡 وضاحت:
۱؎: رمضان میں رات کو عبادت کرنا سنت ہے خواہ اخیر رات میں کرے یا شروع رات میں، اور اس کا وقت نماز عشاء کے بعد سے نماز فجر تک ہے، اور قیام رمضان تہجد پڑھنے سے ادا ہو جاتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ تراویح ہی پڑھے، تہجد کی طرح آٹھ رکعتیں تراویح کی ادا کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی ثابت ہے۔ لیکن جو شخص آخری رات میں تہجد پڑھتا ہو یا پڑھ سکتا ہو تو اس کے حق میں یہی زیادہ افضل و بہتر ہے کہ وہ آخری رات میں پڑھے، اور اگر پہلے نماز تراویح با جماعت پڑھنی ہو، اور آخری رات میں آدمی تنہا ہو، تو باجماعت نماز اس کے لئے افضل اور زیادہ بہتر ہے اس لئے کہ باجماعت پڑھنے والے کو پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔ بیس رکعت کی مروجہ تراویح پر عوام کی محافظت نے صحیح احادیث سے ثابت گیارہ رکعت تراویح کو ترک کر دیا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ: ۱- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (۱۱) رکعت سے زیادہ نماز تراویح نہیں ادا فرمائی، اور عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو سنت صحیحہ کے مطابق لوگوں کو (۱۱) رکعت تراویح ہی پڑھانے کا حکم دیا تھا، واضح رہے کہ عہد فاروقی میں رمضان میں لوگوں کے بیس رکعت تراویح پڑھنے کی روایت شاذ اور ضعیف ہے، اور ثقہ راویوں کی اس روایت کے خلاف ہے کہ یہ (۱۱) رکعات تھیں، اور ان کے پڑھانے کا حکم عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا، شاذ روایت (یعنی ثقہ راوی کی روایت جس کی ثقات نے مخالفت کی ہو) اگر صحیح بھی ہو جائے تو ثقات یا زیادہ ثقہ راوی کی صحیح اور محفوظ روایت کو لینا، اور اس پر عمل کرنا اولی اور بہتر ہے، کیونکہ یہ عدد میں سنت نبویہ کے مطابق ہے، نیز اس میں یہ بھی نہیں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیس رکعت پڑھانے کا حکم دیا تھا، بلکہ لوگوں کا فعل تھا جو اس صحیح روایت کے خلاف تھا جس میں (۱۱) رکعت تراویح پڑھانے کا حکم موجود ہے، اگر یہ فعل عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح اور ثابت بھی ہوتا تو اس پر عمل اور مطابق سنت صحیح روایت پر عمل نہ کرنا ایسا امر نہیں تھا کہ عامل بالحدیث جماعت مسلمین کے گروہ سے خارج ہو جائے جیسا کہ تعصب اور جہالت کے شکار لوگ تصور کرتے ہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ جو بات سمجھی جا سکتی ہے وہ بیس رکعات کے جواز کی ہے، لیکن یہ بات قطعی طور سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فعل کو کیا، اور جس پر مواظبت فرمائی وہ افضل ہے، اور وہ (۱۱) رکعت ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان کی نماز کے بارے میں استفسار کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز (تراویح و تہجد) نہیں پڑھتے تھے، چار رکعتیں تو ایسی ادا فرماتے کہ جس کے طول اور حسن کے متعلق کچھ نہ پوچھو، پھر چار رکعتیں مزید پڑھتے اس کے طول وحسن کو نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں ادا فرماتے (صحیح بخاری، و صحیح مسلم)۔ ان رکعات میں کمی بھی ممکن ہے، حتی کہ صرف ایک رکعت ہی پڑھ لے تو ایسا کر سکتا ہے، اس پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی اور فعلی دونوں حدیثیں دلیل ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے استفسار کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتنی رکعت وتر ادا فرماتے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ چار رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور چھ رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور دس رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور سات رکعات سے کم پر آپ وتر نہیں پڑھتے تھے، اور نہ تیرہ رکعات سے زیادہ پڑھتے تھے (سنن ابی داود، مسند احمد)، اور تیرہ رکعتیں یوں کہ دو رکعتیں عشاء کے بعد کی سنتیں ہیں، یا وہ دو ہلکی رکعتیں جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کا افتتاح فرماتے تھے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے اس کو راجح قرار دیا ہے۔ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ وتر حق ہے، جو چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، جو چاہے تین رکعت، جو چاہے ایک ہی رکعت پڑھے، (طحاوی، ومستدرک الحاکم) یہ بھی واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے بھی (۲۰) رکعت تراویح کا پڑھنا ثابت نہیں ہے، اور بیس رکعت پر اجماع کا جن لوگوں نے دعوی کیا ہے ان کا دعوی باطل ہے، سنت سے ثابت (۱۱) رکعت تراویح کی وجہ سے علماء نے اس سے زائد رکعات پر نکیر کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15091)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 28 (37)، لیلة القدر 1 (2014)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (759)، سنن ابی داود/الصلاة 318 (1371)، سنن الترمذی/الصوم 1 (683)، سنن النسائی/الصیام 3 (6104)، موطا امام مالک/الصلاة في رمضان 1 (2)، مسند احمد (2/232، 241، 385، 473، 503)، سنن الدارمی/الصوم 54 (1817) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْهُ حَتَّى بَقِيَ سَبْعُ لَيَالٍ، فَقَامَ بِنَا لَيْلَةَ السَّابِعَةِ حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ كَانَتِ اللَّيْلَةُ السَّادِسَةُ الَّتِي تَلِيهَا، فَلَمْ يَقُمْهَا حَتَّى كَانَتِ الْخَامِسَةُ الَّتِي تَلِيهَا، ثُمَّ قَامَ بِنَا حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، فَإِنَّهُ يَعْدِلُ قِيَامَ لَيْلَةٍ"، ثُمَّ كَانَتِ الرَّابِعَةُ الَّتِي تَلِيهَا، فَلَمْ يَقُمْهَا حَتَّى كَانَتِ الثَّالِثَةُ الَّتِي تَلِيهَا، قَالَ: فَجَمَعَ نِسَاءَهُ وَأَهْلَهُ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ، قَالَ: فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قِيلَ: وَمَا الْفَلَاحُ؟، قَالَ: السُّحُورُ، قَالَ: ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْ بَقِيَّةِ الشَّهْرِ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے ، آپ نے کسی بھی رات ہمارے ساتھ نماز تراویح نہ ادا فرمائی ، یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں ، تو ساتویں ( یعنی تیئیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا ، یہاں تک کہ رات تہائی کے قریب گزر گئی ، پھر اس کے بعد چھٹی ( یعنی چوبیسویں ) رات کو جو اس کے بعد آتی ہے ، آپ نے قیام نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے بعد والی پانچویں یعنی ( پچیسویں ) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ رات آدھی کے قریب گزر گئی ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کاش آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے ، تو وہ ساری رات کے قیام کے برابر ہے ، پھر جب اس کے بعد والی چوتھی ( یعنی چھبیسویں ) رات آئی تو آپ نے اس میں قیام نہیں کیا ، جب اس کے بعد والی تیسری ( یعنی ستائیسویں ) رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں اور گھر والوں کو جمع کیا ، اور لوگ بھی جمع ہوئے ، ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا : تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم سے «فلاح» فوت نہ ہو جائے ، ان سے پوچھا گیا : «فلاح» کیا ہے ؟ کہا : سحری : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کے باقی دنوں میں تراویح باجماعت نہیں پڑھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1327]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر مہینہ تیس دن کا شمار کیا جائے تو سات راتیں چوبیس سے رہتی ہیں، اور اگر انتیس دن کا مانا جائے تو تیئسویں سے سات راتیں رہتی ہیں اس حساب سے تیئسویں اور پچیسویں اور ستائیسویں رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا، یہ راتیں طاق بھی ہیں اور متبرک بھی، غالب یہی ہے کہ لیلۃ القدر بھی انہیں راتوں میں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ستائیسویں رات کا لیلۃ القدر ہونا راجح ہے، لیلۃ القدرکی تعیین میں لوگوں کا بہت اختلاف ہے اور یقینی طور پر کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کب ہے، البتہ جو سال بھر تہجد پڑھتا رہے گا وہ لیلۃ القدر بھی ضرور پائے گا، ان شاء اللہ، اس حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تین راتیں تراویح پڑھیں، دوسری حدیث میں ہے کہ چوتھی رات کو بھی لوگ جمع ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ مبارک سے باہر تشریف نہ لائے اور صبح کو فرمایا کہ میں ڈرا ایسا نہ ہو یہ نماز تم پر فرض ہو جائے، اس حدیث سے تراویح کے باجماعت پڑھنے کی مشروعیت ثابت ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 318 (1375)، سنن الترمذی/الصوم 81 (806)، سنن النسائی/السہو 103 (1365)، قیام اللیل 4 (1606)، (تحفة الأشراف: 11903)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/159، 163)، سنن الدارمی/الصوم 54 (1818) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيّ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيّ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ يَذْكُرُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: نَعَمْ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " شَهْرٌ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور کہا : آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے رمضان سے متعلق اپنے والد سے سنی ہو ، ابوسلمہ نے کہا : ہاں ، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا : ” وہ ایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کے روزے کو فرض قرار دیا ہے ، اور میں نے اس کے قیام اللیل کو تمہارے لیے مسنون قرار دیا ہے ، لہٰذا جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس مہینے میں روزے رکھے ، اور راتوں میں نفل پڑھے ، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1328]
قال الشيخ الألباني: ضعيف والشطر الثاني منه صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (2210۔2212) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الصیام 22 (2210)، (تحفة الأشراف: 9729)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/191، 195) (ضعیف) (نضر بن شیبان لین الحدیث ہے، جس کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، لیکن دوسراٹکڑا فمن صامه وقامه إيمانا واحتسابا شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: التعلیق الرغیب 2 /73)
174: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ
باب: تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِاللَّيْلِ بِحَبْلٍ فِيهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا، فَيُصْبِحُ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ قَدْ أَصَابَ خَيْرًا، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَصْبَحَ كَسِلًا خَبِيثَ النَّفْسِ لَمْ يُصِبْ خَيْرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر شخص کی گدی پر رات میں شیطان رسی سے تین گرہیں لگا دیتا ہے ، اگر وہ بیدار ہوا اور اللہ کو یاد کیا ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، پھر جب اٹھ کر وضو کیا تو ایک گرہ اور کھل جاتی ہے ، پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوا تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں ، اس طرح وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے ، جیسے اس نے بہت ساری بھلائی حاصل کر لی ہو ، اور اگر ایسا نہ کیا تو سست اور بری حالت میں صبح کرتا ہے ، جیسے اس نے کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1329]
💡 وضاحت:
۱؎: مولف نے اس حدیث سے قیام اللیل مراد لیا ہے، اور ممکن ہے کہ نماز فجر کے لئے اٹھنے سے اور وضو کرنے سے بھی شیطان کی یہ گرہیں کھل جائیں، «والعلم عند الله» ، ہمیں گرہ کی تاویل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، درحقیقت شیطان یہ گرہیں لگاتا ہے اور بعضوں نے تاویل کی اور اس سے غفلت کی رسی مراد لی، اور گرہوں سے اس غفلت کو مضبوط کر دینا، اور رات کے لمبی ہونے کا احساس دلا دینا مراد لیا ہے، جب کہ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جب وہ اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس سے کہتا ہے کہ ابھی رات بہت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12550)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 12 (1442)، بدأالخلق 11 (3269)، صحیح مسلم/المسافرین 28 (776)، سنن ابی داود/الصلاة 307 (1306)، سنن النسائی/قیام اللیل5 (1608)، موطا امام مالک/قصرالصلاة 25 (95)، مسند احمد (2/243، 253) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ: " ذَلِكَ الشَّيْطَانُ بَالَ فِي أُذُنَيْهِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح تک سوتا رہا ، آپ نے فرمایا : ” شیطان نے اس شخص کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1330]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کان میں پیشاب کرنا حقیقت ہے گرچہ ہمیں اس کا ادراک نہیں ہوتا، اور بعضوں کے نزدیک کنایہ ہے اس بات سے کہ جو شخص سویا رہتا ہے اور رات کو اٹھ کر نماز نہیں پڑھتا تو شیطان اس کے لئے اللہ کی یاد میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اسی کو شیطان کے آدمی کے کان میں پیشاب کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التہجد 13 (1144)، بدأالخلق 11 (3270)، صحیح مسلم/المسافرین 28 (774)، سنن النسائی/قیام اللیل 5 (1609، 1610)، (تحفة الأشراف: 9297)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/475، 427) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ، فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا جو رات میں تہجد پڑھتا تھا ، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1331]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التہجد 19 (1152)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، سنن النسائی/قیام اللیل 50 (1764)، (تحفة الأشراف: 8961)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/170) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَدَثَانِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ لِسُلَيْمَانَ: يَا بُنَيَّ، " لَا تُكْثِرِ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ، فَإِنَّ كَثْرَةَ النَّوْمِ بِاللَّيْلِ تَتْرُكُ الرَّجُلَ فَقِيرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سلیمان بن داود علیہما السلام کی ماں نے سلیمان سے کہا : بیٹے ! تم رات میں زیادہ نہ سویا کرو اس لیے کہ رات میں بہت زیادہ سونا آدمی کو قیامت کے دن فقیر کر دے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1332]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذاإسناد ضعيف،لضعف يوسف بن محمد بن المنكدر ¤ وسنيد بن داود‘‘ يوسف بن محمد ابن المنكدر: ضعيف (تقريب: 7881) و قال العراقي فيه: ضعفه الجمهور (تخريج الإحياء 244/3) ¤ وسنيد: ضعيف إلخ (التحرير: 2646) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
تخریج دارالدعوہ: (تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3094، ومصباح الزجاجة: 467) (ضعیف) (اس حدیث کو ابن الجوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور کہا ہے: لایصح عن رسو ل اللہ، ویوسف لایتابع علی حدیثہ ، یہ رسول اللہ ﷺ سے صحیح نہیں ہے، اور یوسف کی حدیث کا کوئی متابع نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُوسَى أَبُو يَزِيدَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَثُرَتْ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ حَسُنَ وَجْهُهُ بِالنَّهَارِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص رات میں زیادہ نمازیں پڑھے گا ، دن میں اس کے چہرے سے نور ظاہر ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1333]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ موضوع ¤ ثابت بن موسي الزاهد: ضعيف الحديث (تقريب: 831) ¤ وأدخل قول شريك في الخبر كما قال ابن حبان (المجروحين 1/ 207) ¤ و أورده ابن الجوزي في الموضوعات (109/2،110) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2336، ومصباح الزجاجة: 468) (موضوع) (ابن الجوزی نے اس حدیث کو باطل کہا ہے، (2/109- 110) اس کی سند میں ثابت بن موسیٰ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4644)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وعبد الوهاب ، ومحمد بن جعفر ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَقِيلَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ".
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے ، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں ، تو لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لیے میں بھی آیا ، جب میں نے کوشش کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا ، تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے ، پہلی بات آپ نے جو کہی وہ یہ تھی کہ ” لوگو ! سلام کو عام کرو ، کھانا کھلاؤ ، اور رات کو نماز پڑھو ، جب کہ لوگ سوئے ہوں ، تب تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1334]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/القیامة 42 (2485)، (تحفة الأشراف: 5331)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/451)، سنن الدارمی/الصلاة 156 (1501)، (حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3251) (صحیح)
175: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ أَيْقَظَ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ
باب: (عبادت کے لیے) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ ، عَنْ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ مِنَ اللَّيْلِ، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ، كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ".
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے ، اور دونوں دو رکعت نماز پڑھیں ، تو وہ دونوں «ذاکرین» ( اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے ) اور «ذاکرات» ( کثرت سے یاد کرنے والیوں ) میں سے لکھے جائیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1335]
💡 وضاحت:
۱؎: ان کی شان میں قرآن میں یہ آیا ہے: «والذاكرين الله كثيرا والذاكرات» اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے مرد اور عورتیں (الأحزاب:35) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیام اللیل (تہجد) کے لئے دو رکعت بھی کافی ہے، اور سنت آٹھ، دس اور بارہ ہے، اور اس کے بعد وتر، اگر دو رکعت بھی نہ ہو سکیں تو صرف بستر پر ہی رہ کر تھوڑی دیر دعا اور استغفار کر لے، اور اللہ کی یہ یاد بھی غنیمت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1309) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 307 (1309)، (تحفة الأشراف: 3965، 12195) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ رَشَّ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى، فَإِنْ أَبَى رَشَّتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، جو رات میں بیدار ہوا ، اور نماز پڑھی ، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا ، اس نے نماز پڑھی ، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا ، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے ، جو رات میں بیدار ہوئی ، پھر اس نے نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا ، اس نے بھی نماز پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1336]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 307 (1308)، 348 (1450)، سنن النسائی/ قیام اللیل 5 (1611)، (تحفة الأشراف: 12860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/250، 436) (حسن صحیح)
176: . بَابٌ في حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ
باب: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِي، بَلَغَنِي أَنَّكَ حَسَنُ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ، فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْكُوا، فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا وَتَغَنَّوْا بِهِ، فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا".
عبدالرحمٰن بن سائب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے ، وہ نابینا ہو گئے تھے ، میں نے ان کو سلام کیا ، تو انہوں نے کہا : تم کون ہو ؟ میں نے انہیں ( اپنے بارے میں ) بتایا : تو انہوں نے کہا : بھتیجے ! تمہیں مبارک ہو ، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن اچھی آواز سے پڑھتے ہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” یہ قرآن غم کے ساتھ اترا ہے لہٰذا جب تم قرآن پڑھو ، تو رؤو ، اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف رؤو ، اور قرآن پڑھتے وقت اسے اچھی آواز کے ساتھ پڑھو ۱؎ ، جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1337]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «تغنى» کا لفظ ہے، اور «تغنى» کا معنی گانا ہے، قرآن میں «تغنى» نہیں ہو سکتی، لہذا «تغنى» سے یہ مراد ہو گا کہ باریک آواز سے درد کے ساتھ اس کو پڑھنا بایں طور کہ پڑھنے والے پر اور سننے والے سب پر اثر ہو، اور دلوں میں اللہ کا خوف اور خشوع پیدا ہو، اور تجوید کے قواعد کی رعایت باقی رہے، کلمات اور حروف میں کمی اور بیشی نہ ہو، سفیان بن عیینہ نے کہا: «تغنی بالقرآن» کا یہ معنی ہے کہ قرآن کو دولت لازوال سمجھے، اور دنیا داروں سے غنی یعنی بے پرواہ رہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث الآتي (4196) مختصرًا ¤ قال البو صيري: ”فيه أبو رافع واسمه: إسماعيل بن رافع،ضعيف متروك“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3900، ومصباح الزجاجة: 469) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 355 (1469) (ضعیف) (اس میں راوی ابورافع، اسماعیل بن رافع ضعیف ومترو ک ہیں، لیکن آخری جملہ وتغنوا به صحیح ہے، کیونکہ صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، (البخاری 13/ 50 و مسلم (1/545)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَبْطَأْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بَعْدَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ: " أَيْنَ كُنْتِ؟"، قُلْتُ: كُنْتُ أَسْتَمِعُ قِرَاءَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِكَ، لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَ قِرَاءَتِهِ وَصَوْتِهِ مِنْ أَحَدٍ، قَالَتْ: فَقَامَ، وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى اسْتَمَعَ لَهُ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: " هَذَا سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ هَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے میں دیر کر دی ، جب میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کہاں تھیں ؟ “ میں نے کہا : آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی ، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی ، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی ، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی ، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے ، اور فرمایا : ” یہ ابوحذیفہ کے غلام سالم ہیں ، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1338]
💡 وضاحت:
۱؎: سالم مولی ابوحذیفہ مشہور قاری اور خوش آواز تھے، یہ دونوں صفات ایک قاری میں بہت کم جمع ہوتی ہیں، اکثر لوگ خوش آواز تو ہوتے ہیں لیکن تجوید یعنی قواعد قراءت سے ناواقف ہوتے ہیں، اور بعض قاری ہوتے ہیں لیکن ان کی آواز اچھی نہیں ہوتی، نیز حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عورت کو اجنبی مرد کی آواز سننے میں کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل ¤ و في سماع عبد الرحمٰن بن سابط من عائشة رضي اللّٰه عنھا نظر فالسند معلل ¤ و للحديث شواھد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16303، ومصباح الزجاجة: 470)، ومسند احمد (6/165) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَمِّعٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ صَوْتًا بِالْقُرْآنِ الَّذِي إِذَا سَمِعْتُمُوهُ يَقْرَأُ حَسِبْتُمُوهُ يَخْشَى اللَّهَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1339]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی درد انگیز آواز سے پڑھتا ہو، اور اس پر رقت طاری ہو جاتی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن مجمع: ضعيف ¤ وللحديث شاهد مرسل ضعيف عند ابن المبارك في الزهد (114) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2646، ومصباح الزجاجة: 471) (صحیح) (دوسرے طرق سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس حدیث کی سند میں دو راوی عبد اللہ بن جعفر اور ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: 475، بتحقیق عوض الشہری)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ مَوْلَى فَضَالَةَ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ".
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1340]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل ¤ و في السند علة أخري: بين فضالة رضي اللّٰه عنه و إسماعيل بن عبيد اللّٰه: ميسرة مولي فضالة وھو مجھول الحال ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11040، ومصباح الزجاجة: 472)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/19، 20) (ضعیف) (ولید بن مسلم کثیر التدلیس والتسویہ اور میسرہ لین الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2951)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، فَقِيلَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا : ” یہ کون ہے ؟ “ عرض کیا گیا : عبداللہ بن قیس ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں داؤد ( علیہ السلام ) کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1341]
💡 وضاحت:
۱؎: «مزامیر» : جمع ہے «مزمار» کی، «مزمار» کہتے ہیں ستار کو، یا بجانے کے آلہ کو، یہاں «مزمار» سے مراد خوش الحانی ہے، اور داود علیہ السلام بہت خوش الحان تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15119، ومصباح الزجاجة: 473)، وقد أخر جہ: سنن النسائی/الافتتاح 83 (1020)، مسند احمد (2/354، 369، 450) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ الْيَامِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1342]
💡 وضاحت:
۱؎: خطابی وغیرہ نے اس کا ایک مفہوم یہ بتایا ہے کہ قرآن کے ذریعہ اپنی آواز کو زینت دو، یعنی اپنی آوازوں کو قرآن کی تلاوت میں مشغول رکھو، اس مفہوم کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں «زينوا أصواتكم بالقرآن» کے الفاظ ہیں، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ موسیقی کی طرح آواز نکالو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 355 (1468)، سنن النسائی/الافتتاح 83 (1016)، (تحفة الأشراف: 1775)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 52 تعلیقًا، مسند احمد (4/283، 285، 304)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 34 (3543) (صحیح)
177: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ نَامَ عَنْ جُزْئِهِ مِنَ اللَّيْلِ
باب: جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنا پورا وظیفہ ( ورد ) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے ، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے ، تو اس کو ایسا لکھا جائے گا گویا اس نے رات میں پڑھا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1343]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 18 (747)، سنن ابی داود/الصلاة 309 (1313)، سنن الترمذی/الصلاة 291 (الجمعة56) (851)، سنن النسائی/قیام اللیل56 (1791، 1792، 1793)، (تحفة الأشراف: 10592)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 3 (3)، مسند احمد (1/32، 53)، سنن الدارمی/الصلاة 167 (1518) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ، كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے بستر پہ آئے ، اور ارادہ رکھتا ہو کہ رات میں اٹھ کر نماز پڑھے گا ، پھر اسے ایسی نیند آئی کہ صبح ہو گئی ، تو اس کا ثواب اس کی نیت کے مطابق لکھا جائے گا ، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1344]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/قیام اللیل 54 (1788)، (تحفة الأشراف: 10937) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 454)
178: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي كَمْ يُسْتَحَبُّ يُخْتَمُ الْقُرْآنُ
باب: قرآن مجید کو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، فَنَزَّلُوا الْأَحْلَافَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَكَانَ يَأْتِينَا كُلَّ لَيْلَةٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ، فَيُحَدِّثُنَا قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ، وَيَقُولُ: " وَلَا سَوَاءَ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ، نُدَالُ عَلَيْهِمْ وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا"، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَلَيْنَا اللَّيْلَةَ، قَالَ: " إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبِي مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَخْرُجَ حَتَّى أُتِمَّهُ"، قَالَ أَوْسٌ: فَسَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟، قَالُوا: ثَلَاثٌ، وَخَمْسٌ، وَسَبْعٌ، وَتِسْعٌ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ، وَثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ".
اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کے ایک وفد میں آئے ، تو لوگوں نے قریش کے حلیفوں کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس اتارا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مالک کو اپنے ایک خیمہ میں اتارا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے ، اور کھڑے کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر بدل بدل کر کھڑے رہتے ، اور اکثر وہ حالات بیان کرتے جو اپنے خاندان قریش سے آپ کو پیش آئے تھے ، اور فرماتے : ” ہم اور وہ برابر نہ تھے ، ہم کمزور اور بے حیثیت تھے ، لیکن جب ہم مدینہ آئے تو لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا ، ہم ان کے اوپر ڈول نکالتے اور وہ ہمارے اوپر ڈول نکالتے “ ۱؎ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وقت مقررہ پر آنے میں تاخیر کی ؟ تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے آج رات تاخیر کی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا قرآن کا وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا تھا ، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو پورا کئے بغیر نکلوں “ ۔ اوس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے پوچھا : آپ لوگ قرآن کے وظیفے کیسے مقرر کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : پہلا حزب تین سورتوں کا ( بقرہ ، آل عمران اور نساء ) دوسرا حزب پانچ سورتوں کا ( مائدہ ، انعام ، اعراف ، انفال اور براءۃ ) ، تیسرا حزب سات سورتوں کا ( یونس ، ہود ، یوسف ، رعد ، ابراہیم ، حجر اور نمل ) ، چوتھا حزب نو سورتوں کا ( بنی اسرائیل ، کہف ، مریم ، طہٰ ، انبیاء ، حج ، مومنون ، نور اور فرقان ) ، پانچواں حزب گیارہ سورتوں کا ( شعراء ، نحل ، قصص ، عنکبوت ، روم ، لقمان ، سجدہ ، احزاب ، سبا ، فاطر اور یٰسین ) ، اور چھٹا حزب تیرہ سورتوں کا ( صافات ، ص ، زمر ، ساتوں حوامیم ، محمد ، فتح اور حجرات ) ، اور ساتواں حزب مفصل کا ( سورۃ ق سے آخر قرآن تک ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1345]
💡 وضاحت:
۱؎: لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا یعنی کبھی ہمیں فتح حاصل ہوتی اور کبھی انہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1393) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 326 (1393)، (تحفة الأشراف: 1737) (ضعیف) (اس سند میں ابوخالد متکلم فیہ نیز عثمان لین الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 246)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: جَمَعْتُ الْقُرْآنَ، فَقَرَأْتُهُ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ الزَّمَانُ وَأَنْ تَمَلَّ، فَاقْرَأْهُ فِي شَهْرٍ"، فَقُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي عَشْرَةٍ"، قُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ"، قُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، " فَأَبَى".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے قرآن حفظ کیا ، اور پورا قرآن ایک ہی رات میں پڑھنے کی عادت بنا لی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ڈر ہے کہ کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد تم اکتا جاؤ گے ، لہٰذا تم اسے ایک مہینے میں پڑھا کرو “ میں نے کہا : مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو دس دن میں پڑھا کرو “ میں نے کہا : مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھیک ہے تو سات دن میں پڑھا کرو “ میں نے کہا : مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1346]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سات دن سے کم میں ختم قرآن کی اجازت نہ دی، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سات دن سے کم میں ختم قرآن نہ کرو، قسطلانی نے کہا کہ یہ نہی حرمت کے لئے نہیں ہے، اور بعض اہل ظاہر کے نزدیک تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا حرام ہے، نووی کہتے ہیں کہ اس کی کوئی حد نہیں، جب تک جی لگے اور جتنی طاقت ہو، اس کے لحاظ سے قرآن پڑھے، اور بہتر یہی ہے کہ سات دن سے کم میں ختم نہ کرے، انتہاء تین دن میں، اور قرآن کے معانی اور مطالب میں غور و فکر کر کے پڑھے، اور ہمارے زمانہ میں تو قرآن کے معانی کا ترجمہ ہر زبان میں ہو گیا ہے، پس ترجمہ کے ساتھ تلاوت کرنا زیادہ ثواب ہے، فقیہ ابواللیث کہتے ہیں کہ اقل درجہ یہ ہے کہ آدمی سال بھر میں قرآن دو بار ختم کرے، اور حسن بن زیاد نے ابوحنیفہ رحمۃ اللہ سے نقل کیا ہے کہ جس نے سال بھر میں دو بار پورے قرآن کی قراءت مکمل کی اس نے قرآن کا حق ادا کیا، کیونکہ جبرئیل علیہ السلام نے جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، دوبار قرآن کا دور کیا، اور بعض نے کہا چالیس دن سے زیادہ ختم قرآن میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن جريج صرح بالسماع عند أحمد (199/2) ويحيي بن حكيم لم يوثقه غير ابن حبان فيما أعلم فھو مستور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8945)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 54 (1978)، فضائل القرآن 34 (5053، 5054)، صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، سنن ابی داود/الصلاة 325 (1388)، سنن الترمذی/القراء ات 13 (2946)، سنن النسائی/الصیام 45 (2391، 2392)، مسند احمد (2/163، 199)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 32 (3513) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا ، اس نے سمجھ کر نہیں پڑھا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1347]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 326 (1394)، سنن الترمذی/القراء ا ت 13 (2949)، (تحفة الأشراف: 8950)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/163، 199)، سنن الدارمی/الصلاة 173 (1534)، فضائل القرآن 32 (3514) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ حَتَّى الصَّبَاحِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی رات میں پورا قرآن پڑھا ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1348]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1642)، (تحفة الأشراف: 16108)، و صحیح مسلم/المسافرین 18 (746) (صحیح)
179: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي".
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اپنے گھر کی چھت پہ لیٹی ہوئی سنتی رہتی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1349]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18016، ومصباح الزجاجة: 474)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 81 (1014)، مسند احمد (6/342، 343، 344)، سنن الترمذی/الشمائل 43 (318) (حسن صحیح) (اس حدیث کی تخریج میں بوصیری نے شمائل ترمذی اور سنن کبریٰ کا ذکر کیا ہے، جب کہ یہ صغریٰ میں بھی ہے اس لئے یہ زوائد میں سے نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا، وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118.
جسرۃ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے ، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے ، اور وہ آیت یہ تھی : «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» ” اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر تو ان کو بخش دے ، تو تو عزیز ( غالب ) ، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے “ ( سورة المائدة : 118 ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1350]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سورۃ المائدۃ کی اخیر آیت ہے، اور عیسی علیہ السلام کی زبان پر وارد ہوئی، وہ قیامت کے دن یہ کہیں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12012، ومصباح الزجاجة: 475)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 79 (1011)، مسند احمد (5/149) (حسن) (اس کی تخریج میں بوصیری نے سنن کبریٰ کا حوالہ دیا ہے، جب کہ یہ صغریٰ میں موجود ہے، اس لئے یہ زوائد میں سے نہیں ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى، فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ اسْتَجَارَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ سَبَّحَ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے ، اور عذاب کی آیت آتی تو اس سے پناہ مانگتے ، اور جب کوئی ایسی آیت آتی جس میں اللہ تعالیٰ کی پاکی ہوتی تو تسبیح کہتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1351]
💡 وضاحت:
۱؎: تلاوت قرآن کے آداب میں سے یہ ہے کہ قرآن شریف سمجھ کر پڑھے، اور رحمت اور وعدوں کی آیتوں پر دعا کرے، اور عذاب و وعید کی آیتوں پر استغفار کرے، اور اللہ کی پناہ مانگے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 27 (772)، سنن ابی داود/الصلاة 151 (871)، سنن الترمذی/الصلاة 79 (262)، سنن النسائی/الافتتاح 77 (1009)، التطبیق 74 (1134)، (تحفة الأشراف: 3358)، وحم (5/382، 384، 394)، سنن الدارمی/الصلاة69 (1345) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا، فَمَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ، فَقَالَ: " أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ وَوَيْلٌ لِأَهْلِ النَّارِ".
ابولیلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں نماز پڑھی ، آپ رات میں نفل نماز پڑھ رہے تھے ، جب عذاب کی آیت سے گزرے تو فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے ، اور تباہی ہے جہنمیوں کے لیے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1352]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (881) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 153 (881)، (تحفة الأشراف: 12153) وقد أخرجہ: مسند احمد (4/347) (ضعیف) (اس سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا".
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آواز کو کھینچتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1353]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 29 (5045)، سنن ابی داود/الصلاة 355 (1465)، سنن النسائی/الافتتاح 82 (1015)، (تحفة الأشراف: 1145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 127، 198، 289)، سنن الترمذی/الشمائل 43 (315) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ، أَوْ يُخَافِتُ بِهِ؟، قَالَتْ: " رُبَّمَا جَهَرَ، وَرُبَّمَا خَافَتَ"، قُلْتُ: " اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي هَذَا الْأَمْرِ سَعَةً".
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور ان سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ ؟ انہوں نے کہا : کبھی بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1354]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الطہارة 90 (226)، فضائل القرآن 23 (2294)، سنن النسائی/الطہارة 141 (223)، الغسل 6 (405)، (تحفة الأشراف: 17429)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 138، 149) (حسن صحیح)
180: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنَ اللَّيْلِ
باب: رات میں آدمی جاگے تو کیا دعا پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلُ خَالُ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، سَمِعَ طَاوُسًا ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِلتَّهَجُّدِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم لك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت قيام السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت مالك السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد أنت الحق ووعدك حق ولقاؤك حق وقولك حق والجنة حق والنار حق والساعة حق والنبيون حق ومحمد حق اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت وإليك حاكمت فاغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت ولا إله غيرك ولا حول ولا قوة إلا بك» ” اے اللہ ! تیری حمد و ثناء ہے ، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا نور ہے ، تیری حمد و ثناء ہے ، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کی تدبیر کرنے والا ہے ، تیری حمد و ثناء ہے ، تو آسمان و زمین اور ان میں کی تمام چیزوں کا مالک ہے ، تیری حمد و ثناء ہے ، تو برحق ہے ، تیرا وعدہ سچا ہے ، تیری ملاقات برحق ہے ، تیری بات سچی ہے ، جنت و جہنم برحق ہیں ، قیامت برحق ہے ، انبیاء برحق ہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں ، اے اللہ ! میں نے تیرے آگے گردن جھکائی ، اور تجھ پر ایمان لایا ، اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا ، اور تیری ہی طرف رجوع کیا ، اور تیری ہی دلیلوں سے لڑا ، اور تیری ہی طرف انصاف کے لیے آیا ، تو میرے اگلے اور پچھلے ظاہر اور پوشیدہ گناہوں کو بخش دے ، تو ہی آگے کرنے والا ہے ، تو ہی پیچھے کرنے والا ہے ، تو ہی معبود ہے ، تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، اور تیرے سوا کسی کا زور اور طاقت نہیں ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1355]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلُ خَالُ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، سَمِعَ طَاوُسًا ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ لِلتَّهَجُّدِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوئے ... پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1355M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : مَاذَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ بِهِ قِيَامَ اللَّيْلِ؟، قَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ، " كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا، وَيُسَبِّحُ عَشْرًا، وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي، وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمُقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد کی ابتداء کس چیز سے کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق سوال کیا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق یہ سوال نہیں کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس مرتبہ «الله أكبر» ، دس مرتبہ «الحمد لله» ، دس مرتبہ «سبحان الله» ، دس مرتبہ «استغفرالله» کہتے ، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے : «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» ” اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھے ہدایت دے ، مجھے رزق دے ، اور مجھے عافیت دے “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1356]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 121 (766)، سنن النسائی/قیام اللیل 9 (1618)، (تحفة الأشراف: 16166)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/143) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : بِمَ كَانَ يَسْتَفْتِحُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟، قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَئِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ: احْفَظُوهُ جِبْرَئِيلَ مَهْمُوزَةً فَإِنَّهُ كَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں قیام کرتے تو کس دعا سے اپنی نماز شروع کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : آپ یہ دعا پڑھتے تھے : «اللهم رب جبرئيل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك لتهدي إلى صراط مستقيم» ” اے اللہ ! جبرائیل ، ۱؎ میکائیل ، اور اسرافیل کے رب ، آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے ، غائب اور حاضر کے جاننے والے ، تو اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافی امور میں فیصلہ کرتا ہے ، تو اپنے حکم سے اختلافی امور میں مجھے حق کی راہنمائی فرما ، بیشک تو ہی راہ راست کی راہنمائی فرماتا ہے ۔ عبدالرحمٰن بن عمر کہتے ہیں : یاد رکھو جبرائیل ہمزہ کے ساتھ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی منقول ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1357]
💡 وضاحت:
۱؎: اور قرآن میں جو جبریل کا لفظ آیا ہے، اس میں بھی قراءت کا اختلاف ہے، بعض جبریل پڑھتے ہیں، اور بعض جبرائیل، اور بعض جبرئیل، یہ عبرانی لفظ ہے، اس کے معنی اللہ کا بندہ، اور جبرئیل وحی کے فرشتہ ہیں، میکائیل روزی کے، اسرافیل صور پھونکنے کے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (770)، سنن ابی داود/الصلاة 121 (767)، سنن الترمذی/الدعوات 31 (3420)، سنن النسائی/قیام اللیل 11 (1626)، (تحفة الأشراف: 17779)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/156) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ سند میں یحییٰ بن ابی کثیر مدلس ہیں، اور یہاں عنعنہ سے روایت کی ہے)
181: بَابُ : مَا جَاءَ فِي كَمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ
باب: تہجد میں کتنی رکعتیں پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، وَيَسْجُدُ فِيهِنَّ سَجْدَةً بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے ، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے ، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے ، اور ان رکعتوں میں سجدہ اتنا طویل کرتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے ، اور جب مؤذن صبح کی پہلی اذان سے فارغ ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے ، اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1358]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 316 (1336، 1337)، سنن النسائی/الأذان 41 (686)، (تحفة الأشراف: 15615، 16618، ومصباح الزجاجة: 477)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (619)، االتہجد 3 (1123)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (736)، سنن الترمذی/الصلاہ 209 (441)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (8)، مسند احمد (6/34، 35)، سنن الدارمی/الصلاہ 148 (1487) (صحیح) (بوصیری نے اس حدیث کی تخریج میں سنن کبریٰ کا ذکر کیا ہے، جب کہ یہ سنن صغری میں ہے، اس لئے یہ زدائد میں سے نہیں ہے، کما سیأتی: 361 أیضاً)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1359]
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ احدى عشرة ركعة
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 17 (737)، (تحفة الأشراف: 17052)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 10 (1140)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1334)، سنن الترمذی/الصلاة210 (444)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (8) (صحیح) (دوسری روایت میں ہے کہ تیرہ رکعتوں میں ایک رکعت وتر کی، اور دو رکعت فجر کی سنت تھی، نیز دوسری احادیث میں 11 رکعت کا ذکر ہے اس لئے بعض اہل علم نے 13 والی رکعت کو شاذ کہا ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری و تمام المنة)۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1360]
💡 وضاحت:
۱؎: اس باب میں مختلف روایات وارد ہوئی ہیں، کسی میں سات رکعت ہے، کسی میں نو رکعت، کسی میں گیارہ رکعت، اور کسی میں تیرہ رکعت کا ذکر ہے، واضح رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی ہمیشہ آٹھ رکعت پڑھتے، اور یہ اختلاف وتر میں ہے کیونکہ آپ کبھی وتر کی ایک رکعت پڑھتے، تو کل نو رکعت ہوتیں، اور کبھی تین رکعت پڑھتے تو گیارہ رکعت ہوتیں، اور کبھی پانچ رکعت وتر پڑھتے تو سب مل کر تیرہ رکعت ہو جاتیں، اور بعض نے تیرہ رکعت کی اس طرح توجیہ کی ہے کہ آپ آٹھ رکعت تہجد، اور تین رکعت وتر، اور دو رکعت فجر کی سنتیں سب مل کر تیرہ رکعت ہوتیں ہیں پڑھتے تھے جیسا کہ آنے والی حدیث میں مذکور ہے واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 211 (443، 444)، سنن النسائی/قیام اللیل 33 (1697)، (تحفة الأشراف: 15951)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 12 (619)، الوتر 3 (1123)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (738)، سنن ابی داود/الصلاہ 293 (1334)، مسند احمد (6/100، 253)، سنن الدارمی/الصلاة 148، (1487) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَا: " ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، مِنْهَا ثَمَانٍ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ".
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو ان دونوں نے کہا : تیرہ رکعت ، ان میں آٹھ رکعت ( تہجد کی ہوتی ) اور تین رکعت وتر ہوتی ، اور دو رکعت فجر کے بعد کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1361]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5770، ومصباح الزجاجة: 476) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابواسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعِ بْنِ ثَابِتٍ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: " فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَتِلْكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے جی میں کہا کہ میں آج رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ضرور دیکھوں گا ، میں نے آپ کی چوکھٹ یا خیمہ پر ٹیک لگا لیا ، آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں ، پھر اس کے بعد دو رکعتیں کافی لمبی پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے کچھ ہلکی پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پچھلی دو رکعتوں سے ہلکی پڑھیں ، پھر دو رکعتیں پڑھیں ، پھر وتر ادا کی تو یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1362]
💡 وضاحت:
۱؎: اس روایت سے تہجد کی بارہ رکعت نکلتی ہیں، اور ایک رکعت وتر کی، اور احتمال ہے کہ تہجد کی آٹھ ہی رکعت ہوں، اور پانچ وتر کی ہوں، لیکن دو، دو رکعت الگ الگ پڑھنے سے راوی کو گمان ہوا ہو کہ یہ بھی تہجد ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (765)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1366)، (تحفة الأشراف: 3753)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (13)، سنن الترمذی/الشمائل (269)، مسند احمد (5/192) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ نَامَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: " فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: " فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ أُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس سوئے ، وہ کہتے ہیں : میں تکیہ کی چوڑان میں لیٹا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی اس کی لمبائی میں لیٹے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ، جب آدھی رات سے کچھ کم یا کچھ زیادہ وقت گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے ، اور نیند کو زائل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اپنے چہرہ مبارک پر پھیرنے لگے ، پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتیں پڑھیں ، اس کے بعد ایک لٹکی ہوئی مشک کے پاس گئے ، اور اس سے اچھی طرح وضو کیا ، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، میں بھی اٹھا ، اور میں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ، پھر میں گیا ، اور آپ کی بغل میں کھڑا ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا ، اور میرے دائیں کان کو ملتے رہے ، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر دو رکعتیں ، پھر دو رکعتیں ، پھر دو رکعتیں ، پھر دو رکعتیں ، پھر دو رکعتیں پھر وتر ادا کی ، پھر لیٹ گئے ، جب مؤذن آیا تو دو ہلکی رکعتیں پڑھیں پھر نماز ( فجر ) کے لیے نکل گئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1363]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء 5 37 (183)، الأذان 58 (698)، 77 (726)، 161 (859)، الوتر 1 (992)، العمل في الصلاة 1 (1198)، الدعوات 10 (6316)، التوحید 27 (7452)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1367)، سنن الترمذی/الشمائل 38 (265)، سنن النسائی/الأذان 41 (687)، التطبیق 63 (1122)، قیام اللیل 9 (1621)، (تحفة الأشراف: 6362)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (11)، مسند احمد (1/245، 343، 358) (صحیح)
182: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي أَيِّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ
باب: رات کا کون سا وقت (عبادت کے لیے) سب سے اچھا ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ طَلْقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَسْلَمَ مَعَكَ؟، قَالَ: " حُرٌّ وَعَبْدٌ"، قُلْتُ: هَلْ مِنْ سَاعَةٍ أَقْرَبُ إِلَى اللَّهِ مِنْ أُخْرَى؟، قَالَ: " نَعَمْ، جَوْفُ اللَّيْلِ الْأَوْسَطُ".
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کے ساتھ کون کون سے لوگ اسلام لائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک آزاد اور ایک غلام “ ۱؎ میں نے پوچھا : کیا کوئی گھڑی دوسری گھڑی کے مقابلے میں ایسی ہے جس میں اللہ کا قرب زیادہ ہوتا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں رات کی درمیانی ساعت ( گھڑی ) “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1364]
💡 وضاحت:
۱؎: آزاد سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور غلام سے مراد بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ ۲؎: یعنی درمیانی رات کے وقت، ایک دوسری حدیث میں ہے کہ اخیر تہائی رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر اترتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اخیر کی تہائی رات زیادہ افضل ہے، اور ممکن ہے کہ درمیانی رات کے وقت سے یہی مراد ہو، کیونکہ شروع اور آخر کے اندر سب درمیان ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا الجملة الأخيرة منه
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (1251) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10762، ومصباح الزجاجة: 478)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 111، 113، 114، 385) (صحیح) (سند میں عبد الرحمن بن البیلمانی کا سماع عمرو بن عبسہ سے ثابت نہیں ہے، نیز یزید بن طلق مجہول ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، لیکن جوف الليل الأوسط کا لفظ منکر ہے، صحیح الآخر کے لفظ سے ہے، یہ حدیث (1251) نمر پر گذری ملاحظہ ہو، صحیح ابی داود: 1158)۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ، وَيُحْيِي آخِرَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع رات میں سو جاتے تھے ، اور اخیر رات میں عبادت کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1365]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16017، ومصباح الزجاجة: 479)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 15 (1146)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (739)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1641)، مسند احمد (6/102، 253) (صحیح) (اسرائیل نے اس حدیث کو ابو اسحاق سے اختلاط سے پہلے روایت کیا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ كُلَّ لَيْلَةٍ، فَيَقُولُ: " مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ"، فَلِذَلِكَ كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ عَلَى أَوَّلِهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس وقت اخیر کی تہائی رات رہ جاتی ہے تو ہمارا رب جو کہ برکت والا اور بلند ہے ، ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے ، اور فرماتا ہے : کوئی ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو دوں ؟ کوئی ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کوئی ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اسے بخش دوں ؟ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے “ ، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اخیر رات میں عبادت کرنا بہ نسبت اول رات کے پسند کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1366]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث بڑی عظیم الشان ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کی شرح میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے، جس کا نام کتاب شرح احادیث النزول ہے، نزول: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے جیسے سمع، بصر، کلام، ضحک، تعجب، اور صعود وغیرہ، اس کے ظاہری معنی یعنی اترنے پر ہمارا ایمان ہے، اور اس کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، اور متاخرین اہل کلام نے اس کی واہی اور کمزور تاویلیں کی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نزول سے مراد اس کی رحمت کا نزول ہے، یا اس کے فرشتے کا اترنا ہے، جہمیہ اور منکرین صفات نے بھی یہی کہا ہے، اور علمائے حق ہمیشہ سے ان کے مخالف اور رد کرنے والے رہے ہیں، امام الائمۃ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ایک جہمی سے کہا: اچھا اللہ کی رحمت یا اس کا امر کہاں سے اترتا ہے، جب تو اسی بات کا قائل نہیں ہے کہ اللہ اوپر ہے، تو رحمت اور امر کس کے پاس سے اترتا ہے، اور یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے علو کے اثبات میں ایک قوی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التہجد 14 (1145)، صحیح مسلم/المسافرین 24 (758)، سنن ابی داود/السنة 21 (4733)، سنن الترمذی/الصلاة 212 (446)، (تحفة الأشراف: 15129)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 1 (30)، مسند احمد (2/264، 267، 282، 419، 487، 504)، سنن الدارمی/الصلاة 168 (1520) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ نِصْفُهُ أَوْ ثُلُثَاهُ، قَالَ: " لَا يَسْأَلَنَّ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ يَدْعُنِي أَسْتَجِبْ لَهُ، مَنْ يَسْأَلْنِي أُعْطِهِ، مَنْ يَسْتَغْفِرْنِي أَغْفِرْ لَهُ"، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ.
رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ مہلت دیتا ہے ( اپنے بندوں کو کہ وہ سوئیں اور آرام کریں ) یہاں تک کہ جب رات کا آدھا یا اس کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے ، تو فرماتا ہے : میرے بندے ! میرے سوا کسی سے ہرگز نہ مانگیں ، جو کوئی مجھے پکارے گا میں اس کی دعا قبول کروں گا ، جو مجھ سے سوال کرے گا میں اسے دوں گا ، جو مجھ سے مغفرت چاہے گا ، میں اسے بخش دوں گا ، طلوع فجر تک یہی حال رہتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1367]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو کر عبادت کرنا چاہئے، اور اللہ تعالی سے دعائیں کرنا اور گناہوں سے مغفرت طلب کرنا چاہئے کیونکہ یہ دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے، اور خود اللہ رب العزت بندوں سے فرماتا ہے: جو کوئی مجھے پکارے گا، میں اس کی پکار کو سنوں گا، جو کوئی مانگے گا اسے دوں گا، اور جو کوئی گناہوں سے معافی طلب کرے گا، میں اسے معاف کر دوں گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3611، ومصباح الزجاجة: 480)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/16)، سنن الدارمی/الصلاة 168 (1522) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن مصعب ضعیف ہیں، جن کی عام احادیث او زاعی سے مقلوب (الٹی پلٹی) ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/198)
183: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَا يُرْجَى أَنْ يَكْفِيَ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ
باب: تہجد (قیام اللیل) کے بدلے کس عمل کے کافی ہونے کی امید کی جاتی ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ"، قَالَ حَفْصٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ فَحَدَّثَنِي بِهِ.
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورۃ البقرہ کی آخر کی دو آیتیں جو رات میں پڑھے گا ، تو وہ دونوں آیتیں اس کو کافی ہوں گی “ ۱؎ ۔ حفص نے اپنی حدیث میں کہا کہ عبدالرحمٰن کہتے ہیں : میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی وہ طواف کر رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1368]
💡 وضاحت:
۱؎: کافی ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ دونوں آیتیں رات کے قیام اور عبادت کے بدلہ میں کافی ہو جائیں گی، جیسا کہ ترجمہ باب سے پتہ چلتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 12 (4008)، صحیح مسلم/المسافرین 43 (808)، سنن ابی داود/الصلاة 326 (1397)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 4 (2881)، (تحفةالأشراف: 9999، 10000)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/118، 121، 122)، سنن الدارمی/الصلاة 170 (1528) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ".
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں ایک رات میں پڑھیں ، تو وہ دونوں اسے کافی ہوں گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1369]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح
184: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْمُصَلِّي إِذَا نَعَسَ
باب: نمازی اونگھنے لگے تو کیا کرے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ، فَيَسُبُّ نَفْسَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی شخص کو اونگھ آئے تو سو جائے یہاں تک کہ نیند جاتی رہے ، اس لیے کہ اگر وہ اونگھنے کی حالت میں نماز پڑھے گا تو اسے یہ خبر نہ ہو گی کہ وہ استغفار کر رہا ہے ، یا اپنے آپ کو بد دعا دے رہا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1370]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: حدیث أبي بکر بن أبي شیبة أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 31 (786)، (تحفة الأشراف: 16983)، وحدیث محمد بن عثمان العثمانی، تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 17029)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 53 (212)، سنن ابی داود/الصلا 308 (1310)، سنن الترمذی/الصلاة 146 (355)، سنن النسائی/الطہارة 117 (162)، موطا امام مالک/صلاة اللیل 1 (3)، مسند احمد (6/56، 205)، دی/الصلاة 107 (1423) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: " مَا هَذَا الْحَبْلُ؟"، قَالُوا لِزَيْنَبَ: تُصَلِّي فِيهِ، فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ، فَقَالَ: " حُلُّوهُ حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے ، تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی تنی ہوئی دیکھی ، پوچھا ” یہ رسی کیسی ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : زینب کی ہے ، وہ یہاں نماز پڑھتی ہیں ، جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے کھول دو ، اسے کھول دو ، تم میں سے نماز پڑھنے والے کو نماز اپنی نشاط اور چستی میں پڑھنی چاہیئے ، اور جب تھک جائے تو بیٹھ رہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1371]
💡 وضاحت:
۱؎: جب تھک جائے تو نماز سے رک جائے اور آرام کرے، مقصد یہ ہے کہ طاقت سے زیادہ نفلی عبادت ضروری نہیں ہے، جب تک دل لگے اس وقت تک کرے، بے دلی اور نفرت کے ساتھ عبادت کرنے سے بچتا رہے، اور اگر نفلی عبادت سے تھک کر کوئی آرام کرے، تاکہ دوبارہ عبادت کی قوت حاصل ہو جائے، تو اس کا یہ آرام بھی مثل عبادت کے ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التہجد 18 (1150)، صحیح مسلم/المسافرین 32 (784)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1644)، (تحفة الأشراف: 1033)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 308 (1311)، مسند احمد (3/101، 184، 204، 256) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَى لِسَانِهِ، فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ اضْطَجَعَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو پھر ( نیند کے غلبے کی وجہ سے ) قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے ، اور اسے معلوم نہ رہے کہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے ، تو اسے سو جانا چاہیئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1372]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14815)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 31 (787)، سنن ابی داود/الصلاة 308 (1311)، مسند احمد (2/218) (صحیح)
185: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ
باب: مغرب اور عشاء کے درمیان کی نماز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ عِشْرِينَ رَكْعَةً، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعت پڑھی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1373]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ يعقوب بن الوليد:كذاب،كذبه أحمد وغيره ¤ وللحديث شاهد موضوع عند ابن عدي (1798/5) فيه عمرو بن جرير كذبه أبو حاتم ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 17336، ومصباح الزجاجة: 481)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 204 (435) (موضوع) (اس کی سند میں یعقوب بن ولید ہے جو حدیثیں وضع کیا کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 467)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ الْيَمَامِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْمَغْرِبِ لَمْ يَتَكَلَّمْ بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ، عُدِلَتْ لَهُ عِبَادَةَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں ، اور بیچ میں زبان سے کوئی غلط بات نہیں نکالی ، تو اس کی یہ نماز بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1374]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف جدًا ¤ انظر الحديث السابق (1167) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (1167)، (تحفة الأشراف: 15412) (ضعیف جدا) (اس کی سند میں عمر بن ابی خثعم الیمانی منکر الحدیث اور ابو عمر حفص بن عمر ضعیف ہے)
186: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ
باب: گھر میں نفل پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عاصم بن عمرو کہتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ عمر رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے چلے ، جب آپ ان کے پاس پہنچے تو آپ نے ان سے پوچھا : تم لوگ کس جگہ سے تعلق رکھتے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : عراق سے ، پوچھا : کیا اپنے امیر کی اجازت سے آئے ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہاں ، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے گھر میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا : تو آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا نور ہے ، لہٰذا تم اپنے گھروں کو روشن کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1375]
💡 وضاحت:
۱؎: مصباح الزجاجۃ کے دونوں نسخوں میں یحییٰ بن أبی الحسین ہے، صحیح: محمد بن أبی الحسین ہے، ملاحظہ ہو: التقریب: ۵۸۲۶ و ۵۸۵۹)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عاصم عن عمر: مرسل (تهذيب الكمال 323/9) ¤ وھو مجهول (التحرير: 5193) ¤ وأبو إسحاق عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10621، ومصباح الزجاجة: 482) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی عاصم بن عمرو ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1375M]
💡 وضاحت:
۱؎: مصباح الزجاجۃ کے دونوں نسخوں میں یحییٰ بن أبی الحسین ہے، صحیح: محمد بن أبی الحسین ہے، ملاحظہ ہو: التقریب: ۵۸۲۶ و ۵۸۵۹)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10621، ومصباح الزجاجة: 482) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی عاصم بن عمرو ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ مِنْهَا نَصِيبًا، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص اپنی نماز ادا کر لے تو اس میں سے اپنے گھر کے لیے بھی کچھ حصہ رکھے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر پیدا کرنے والا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1376]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3985، ومصباح الزجاجة: 483)، ومسند احمد (3/15، 59) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1377]
💡 وضاحت:
۱؎: گھر کو قبرستان بنانے کا مطلب یہ ہے کہ قبرستان کی طرح گھر میں بھی عدم عبادت والی ویرانی ماحول پیدا نہ کرو، بلکہ نفلی نماز گھر ہی میں پڑھا کرو تاکہ گھر میں بھی اللہ کی عبادت والا ایک پر رونق ماحول دیکھائی دے کہ جس سے بچوں کی تربیت میں بھی پاکیزگی کا اثر نمایاں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 52 (432)، التہجد 37 (1187)، صحیح مسلم/المسافرین 29 (777)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1043)، 346 (1448)، (تحفة الأشراف: 8142)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 214 (451)، سنن النسائی/قیام اللیل 1 (1599)، مسند احمد (2/6، 16) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا أَفْضَلُ الصَّلَاةُ فِي بَيْتِي، أَوِ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ؟، قَالَ: " أَلَا تَرَى إِلَى بَيْتِي مَا أَقْرَبَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً".
عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : دونوں میں کون افضل ہے گھر میں نماز پڑھنا یا مسجد میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے گھر کو نہیں دیکھتے کس قدر مسجد سے قریب ہے ، اس کے باوجود بھی مجھے فرض کے علاوہ نفلی نمازیں گھر میں پڑھنی زیادہ محبوب ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1378]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوافل کا گھر میں پڑھنا زیادہ افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5327، ومصباح الزجاجة: 484)، وحم (4/342) (صحیح)
187: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الضُّحَى
باب: صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَأَلْتُ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَالنَّاسُ مُتَوَافِرُونَ أَوْ مُتَوَافُونَ عَنْ صَلَاةِ الضُّحَى، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي أَنَّهُ صَلَّاهَا يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أُمِّ هَانِئٍ ، فَأَخْبَرَتْنِي: " أَنَّهُ صَلَّاهَا ثَمَانَ رَكَعَاتٍ".
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نماز الضحی ( چاشت کی نماز ) کے متعلق پوچھا اور اس وقت لوگ ( صحابہ ) بہت تھے ، لیکن ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے یہ نہیں بتایا کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھی ، ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا نے یہ مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعت پڑھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1379]
💡 وضاحت:
۱؎: بہت سی احادیث سے یہ ثابت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی، اور اس کے پڑھنے کی فضیلت بیان کی، اتنی بات ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مواظبت نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پابندی سے چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ نوافل کی طرح اس کو گھر میں ادا کرتے رہے ہوں، جس سے اکثر لوگوں کو پتا نہ چلا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (614)، (تحفة الأشراف: 18003) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى الضُّحَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے نماز الضحی ( چاشت کی نماز ) بارہ رکعت پڑھی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں سونے کا محل بنائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1380]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (473) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 229 (473)، (تحفة الأشراف: 505) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس اور موسیٰ بن انس ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟، قَالَتْ: " نَعَمْ، أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ".
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز الضحی ( چاشت کی نماز ) پڑھتے تھے ؟ کہا : ہاں ، چار رکعت ، اور جتنا اللہ چاہتا زیادہ پڑھتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1381]
💡 وضاحت:
۱؎: صلاۃ الضحی (چاشت کی نماز) کم سے کم دو رکعت، اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 13 (719)، سنن الترمذی/الشمائل (288) سنن النسائی/الکبري الصلاة 67 (479)، (تحفة الأشراف: 17967)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/74، 95، 120، 123، 145، 156، 168، 172، 265) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص نماز الضحی ( چاشت ) کی دو رکعتوں پر محافظت کرے گا ، اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1382]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (476) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 229 (476)، (تحفة الأشراف: 13491)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/443، 497، 499) (ضعیف) (سند میں نہاس بن قہم ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الارواء: 562)
188: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الاِسْتِخَارَةِ
باب: نماز استخارہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: " إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ فَيُسَمِّيهِ مَا كَانَ مِنْ شَيْءٍ خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى وَإِنْ كَانَ شَرًّا لِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُمَا كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز استخارہ سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورۃ سکھایا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” جب کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرے ، تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے ، پھر یہ دعا پڑھے : «اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم هذا الأمر ( پھر متعلق کام یا چیز کا نام لے ) خيرا لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو خيرا لي في عاجل أمري وآجله- فاقدره لي ويسره لي وبارك لي فيه وإن كنت تعلم ( پھر ویسا ہی کہے جیسے پہلی بار کہا ) ، وإن كان شرا لي فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيثما كان ثم رضني به» ” اے اللہ ! میں تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتا ہوں ، اور تیری قدرت کی مدد سے قوت کا طالب ہوں ، اور میں تجھ سے تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں ، اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا ، تو جانتا ہے میں نہیں جانتا ، تو غیب کی باتوں کا خوب جاننے والا ہے ، اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام ( جس کا میں قصد رکھتا ہوں ) میرے لیے میرے دین ، میری دنیا اور میرے انجام کار میں ۱؎ بہتر ہے ، تو اس کو میرے لیے مقدر کر دے ، میرے لیے آسان کر دے ، اور میرے لیے اس میں برکت دے ، اور اگر یہ کام میرے لیے برا ہے ( ویسے ہی کہے جیسا کہ پہلی بار کہا تھا ) تو اس کو مجھ سے پھیر دے ، اور مجھ کو اس سے پھیر دے ، اور میرے لیے خیر مقدر کر دے ، جہاں بھی ہو ، پھر مجھ کو اس پر راضی کر دے “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1383]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس دارفانی اور اخروی زندگی میں۔ ۲؎: استخارہ کے لغوی معنی خیر طلب کرنے کے ہیں، چونکہ اس دعا کے ذریعہ انسان اللہ سے خیر طلب کرتا ہے، اس لیے اسے دعائے استخارہ کہتے ہیں، اس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد دعا پڑھی جائے، استخارہ کا تعلق مناجات سے ہے، اور استخارہ خود کرنا چاہئے کسی اور سے کروانے ثابت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التہجد 25 (1162)، الدعوات 48 (6382)، التوحید 10 (7390)، سنن ابی داود/الصلاة 366 (1538)، سنن الترمذی/الصلاة 232 (480)، سنن النسائی/النکاح 27 (3255)، (تحفة الأشراف: 3055)، ومسند احمد (3/8 4/344) (صحیح)
189: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْحَاجَةِ
باب: نماز حاجت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، عَنْ فَائِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ أَوْ إِلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، أَسْأَلُكَ أَلَّا تَدَعَ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا لِي، ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ مَا شَاءَ، فَإِنَّهُ يُقَدَّرُ".
عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اور فرمایا : ” جسے اللہ سے یا اس کی مخلوق میں سے کسی سے کوئی ضرورت ہو تو وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے ، اس کے بعد یہ دعا پڑھے : «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين اللهم إني أسألك موجبات رحمتك وعزائم مغفرتك والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم أسألك ألا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لك رضا إلا قضيتها» ” کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے جو حلیم ہے ، کریم ( کرم والا ) ہے ، پاکی ہے اس اللہ کی جو عظیم عرش کا مالک ہے ، تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے ، جو سارے جہان کا رب ہے ، اے اللہ ! میں تجھ سے ان چیزوں کا سوال کرتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہوں ، اور تیری مغفرت کو لازم کریں ، اور میں تجھ سے ہر نیکی کے پانے اور ہر گناہ سے بچنے کا سوال کرتا ہوں ، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے ، اور تمام غموں کو دور کر دے ، اور کوئی بھی حاجت جس میں تیری رضا ہو اس کو میرے لیے پوری کر دے “ ۔ پھر اس کے بعد دنیا و آخرت کا جو بھی مقصد ہو اس کا سوال کرے ، تو وہ اس کے نصیب میں کر دیا جائے گا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1384]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (479) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5178، ومصباح الزجاجة: 485)، قد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 231 (479) (ضعیف جدا) (سوید بن سعید متکلم فیہ اور فائد بن عبد الرحمن منکر الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ يُعَافِيَنِي، فَقَالَ: " إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ لَكَ وَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ"، فَقَالَ: ادْعُهْ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ، وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ"، قَالَ أَبُو إِسْحَاق: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.
عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے صحت و عافیت کی دعا فرما دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے آخرت کی بھلائی چاہوں جو بہتر ہے ، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے دعا کروں ، اس شخص نے کہا : آپ دعا کر دیجئیے ، تب آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے ، اور دو رکعت نماز پڑھے ، اس کے بعد یہ دعا کرے :  «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى اللهم فشفعه في» ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو نبی رحمت ہیں ، اے محمد ! میں نے آپ کے ذریعہ سے اپنے رب کی جانب اس کام میں توجہ کی تاکہ پورا ہو جائے ، اے اللہ ! تو میرے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما “ ۔ ابواسحاق نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1385]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الدعوات 119 (3578)، (تحفة الأشراف: 9760)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/138) (صحیح)
190: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ التَّسْبِيحِ
باب: صلاۃ التسبیح کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عِيسَى الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ محمد بن عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: " يَا عَمِّ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَنْفَعُكَ، أَلَا أَصِلُكَ"، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " تُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَإِذَا انْقَضَتِ الْقِرَاءَةُ، فَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَبْلَ أَنْ تَرْكَعَ، ثُمَّ ارْكَعْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَك فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا قَبْلَ أَنْ تَقُومَ، فَتِلْكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَهِيَ ثَلَاثُ مِائَةٍ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكَ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ غَفَرَهَا اللَّهُ لَكَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ يَقُولُهَا فِي يَوْمٍ، قَالَ: " قُلْهَا فِي جُمُعَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقُلْهَا فِي شَهْرٍ، حَتَّى قَالَ: فَقُلْهَا فِي سَنَةٍ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” میرے چچا ! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں ؟ کیا میں آپ کو فائدہ نہ پہنچاؤں ؟ کیا میں آپ سے صلہ رحمی نہ کروں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آپ چار رکعت پڑھیے ، اور ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ ملا کر پڑھیے ، جب قراءت ختم ہو جائے تو «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» پندرہ مرتبہ رکوع سے پہلے پڑھیے ، پھر رکوع کیجئیے اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے ، پھر اپنا سر اٹھائیے اور انہیں کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے ، پھر سجدہ کیجئیے ، اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے ، پھر اپنا سر اٹھائیے ، اور کھڑے ہونے سے پہلے انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے ، تو ہر رکعت میں پچھتر ( ۷۵ ) مرتبہ ہوئے ، اور چار رکعتوں میں تین سو ( ۳۰۰ ) مرتبہ ہوئے ، تو اگر آپ کے گناہ ریت کے ٹیلوں کے برابر ہوں تو بھی اللہ انہیں بخش دے گا ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو شخص اس نماز کو روزانہ نہ پڑھ سکے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہفتہ میں ایک بار پڑھ لے ، اگر یہ بھی نہ ہو سکے ، تو مہینے میں ایک بار پڑھ لے “ یہاں تک کہ فرمایا : ” سال میں ایک بار پڑھ لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1386]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12015)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 303 (1297)، سنن الترمذی/الصلاة 233 (482) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، علماء نے اختلاف کیا ہے کہ یہ حدیث کیسی ہے، ابن خزیمہ اور حاکم نے اس کو صحیح کہا، اور ایک جماعت نے اس کو حسن کہا، اور ابن الجوزی نے اس کو موضوعات میں ذکر کیا، حافظ ابن حجر نے کہا یہ حدیث حسن ہے، اور ابن الجوزی نے برا کیا جو اس کو موضوع قرار دیا)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: يَا عَبَّاسُ، يَا عَمَّاهُ، " أَلَا أُعْطِيكَ، أَلَا أَمْنَحُكَ، أَلَا أَحْبُوكَ، أَلَا أَفْعَلُ لَكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَقَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، وَخَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، وَصَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، وَسِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، عَشْرُ خِصَالٍ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ، قُلْتَ وَأَنْتَ قَائِمٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسَةٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، تَفْعَلُ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے عباس ! اے چچا جان ! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں ؟ کیا میں آپ سے اچھا سلوک نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو دس خصلتیں نہ بتاؤں کہ اگر آپ اس کو اپنائیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے اور پچھلے ، نئے اور پرانے ، جانے اور انجانے ، چھوٹے اور بڑے ، پوشیدہ اور ظاہر سبھی گناہ بخش دے ، وہ دس خصلتیں یہ ہیں : آپ چار رکعت پڑھیں ، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھیں ، جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں تو کھڑے کھڑے پندرہ مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہیں ، پھر رکوع کریں ، اور بحالت رکوع اس تسبیح کو دس مرتبہ کہیں ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں ، پھر سجدہ میں جائیں اور بحالت سجدہ ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں ، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں ، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں ، پھر سجدہ کریں ، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں ، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں ، تو یہ ہر رکعت میں پچھتر ( ۷۵ ) مرتبہ ہوا ، چاروں رکعتوں میں اسی طرح کریں ، اگر آپ سے یہ ہو سکے تو روزانہ یہ نماز ایک مرتبہ پڑھیں ، اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ہفتہ میں ایک بار پڑھیں ، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینے میں ایک بار پڑھیں ، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اپنی عمر میں ایک بار پڑھیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1387]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الدارمی/الصلاة 303 (1297)، (تحفة الأشراف: 6038) (صحیح)
191: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ
باب: نصف شعبان کی رات کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا، وَصُومُوا يَوْمَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: " أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ، أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ، أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ"، أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو ۔ اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے اور صبح صادق طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے : کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے معاف کر دوں ؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں ؟ کیا کوئی ( کسی بیماری یا مصیبت میں ) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت عطا فرما دوں ؟ ۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1388]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا أو موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ أبو بكر ابن أبي سبرة: كان ’’يضع الحديث“ كما قال أحمد و ابن معين وغيرهما وقال ابن حجر: ’’رموه بالوضع وقال مصعب الزبيري: كان عالمًا“(تقريب: 7974): قلت:لم ينفعه علمه لأنه كان يكذب مع كونه عالمًا (!) وشيخه لا يعرف،ولعله إبراهيم بن محمد بن أبي يحيي: متروك (انظر التقريب: 241 وضعيف سنن أبي داود: 2131) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
تخریج دارالدعوہ: موضوع، ابن ماجہ (1388) العلل المتناہیۃ (2/ 71 ح 923)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو بَكْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ، فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ، أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ"، قَالَتْ: قَدْ قُلْتُ وَمَا بِي ذَلِكَ، وَلَكِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( گھر میں ) نہ پایا ۔ میں آپ کی تلاش میں نکلی تو دیکھا کہ آپ بقیع میں ہیں اور آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا ہوا ہے ۔ ( جب مجھے دیکھا تو ) فرمایا : ” عائشہ ! کیا تجھے یہ ڈر تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے “ ؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ : میں نے عرض کیا : مجھے یہ خوف تو نہیں تھا لیکن میں نے سوچا ( شاید ) آپ اپنی کسی ( اور ) زوجہ محترمہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ ( لوگوں ) کو معاف فرما دیتا ہے ۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1389]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن الترمذی (1/ 106 ح 739) ابن ماجہ (1389) احمد (6/ 238 ح 26546) ابن ابی شیبہ (المصنف: 10/ 438 ح 29849) عبد بن حمید (1507) البیہقی فی شعب الایمان (3824) والعلل المتناہیہ (2/ 66 ح 915) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
تخریج دارالدعوہ: ضعیف
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ أَيْمَنَ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات ( اپنے بندوں پر ) نظر فرماتا ہے ، پھر مشرک اور ( مسلمان بھائی سے ) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے ۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1390]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن لهيعة عنعن ¤ والزبير بن سليم و ضحاك بن أيمن و عبد الرحمٰن بن عرزب: مجهولون كلهم (تقريب: 1996،2965،3950) ¤ فالسند ظلمات ¤ وللحديث طرق ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
تخریج دارالدعوہ: ضعیف
192: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ وَالسَّجْدَةِ عِنْدَ الشُّكْرِ
باب: شکرانہ کی نماز اور سجدہ شکر کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَتْنِي شَعْثَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى يَوْمَ بُشِّرَ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ رَكْعَتَيْنِ".
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اپنے استاد محمد بن اسحاق کی سند سے یہ روایت بیان کی تو انہوں نے ضحاک بن عبدالرحمٰن اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے درمیان ضحاک کے باپ کا واسطہ بیان کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1391M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شعثاء: لا تعرف (تقريب: 8616) ¤ وللحديث شاهد ضعيف مرسل عند البيهقي،انظر السيرة النبوية لابن كثير (444/2) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 5186، ومصباح الزجاجة: 489)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 158 (1503) (ضعیف) (شعثاء بنت عبد اللہ الاسدیہ مجہول اور سلمہ بن رجاء میں کلام ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَتْنِي شَعْثَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى يَوْمَ بُشِّرَ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوجہل کا سر لائے جانے کی بشارت سنائی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1391]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شعثاء: لا تعرف (تقريب: 8616) ¤ وللحديث شاهد ضعيف مرسل عند البيهقي،انظر السيرة النبوية لابن كثير (444/2) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 5186، ومصباح الزجاجة: 489)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة 158 (1503) (ضعیف) (شعثاء بنت عبد اللہ الاسدیہ مجہول اور سلمہ بن رجاء میں کلام ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا أَبِي ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بُشِّرَ بِحَاجَةٍ، فَخَرَّ سَاجِدًا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کام کے پورے ہو جانے کی بشارت سنائی گئی تو آپ سجدے میں گر پڑے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1392]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کو جب کوئی خوشی پہنچے تو وہ سجدہ شکر کرے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی پہنچی تو آپ نے سجدہ شکر کیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1120، ومصباح الزجاجة: 490) (حسن) (اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، خَرَّ سَاجِدًا".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی تو وہ سجدے میں گر پڑے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1393]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر یا کسی مصیبت کے ٹلنے پر سجدہ شکر ادا کرنا جائز اور صحیح ہے، واضح رہے کہ کعب بن مالک، ہلال بن أمیہ، مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم یہ تینوں غزوہ تبوک میں حاضر نہ ہو سکے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے لوٹے تو یہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے، اپنے قصور کا اعتراف کیا، ان کا قصہ بہت طویل ہے جو دوسری روایات میں موجود ہے، آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اور کعب رضی اللہ عنہ نے یہ خبر سنتے ہی سجدہ شکر ادا کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11155، ومصباح الزجاجة: 491) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا أَتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ أَوْ بُشِّرَ بِهِ، خَرَّ سَاجِدًا شُكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا معاملہ آتا جس سے آپ خوش ہوتے ، یا وہ خوش کن معاملہ ہوتا ، تو آپ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1394]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 174 (2774)، سنن الترمذی/السیر 25 (1578)، (تحفة الأشراف: 11698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/2، 8، 9، 10) (حسن)
193: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي أَنَّ الصَّلاَةَ كَفَّارَةٌ
باب: نماز گناہوں کا کفارہ ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ، وَإِذَا حَدَّثَنِي عَنْهُ غَيْرُهُ اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَنِي، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، فَيَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ مِسْعَرٌ: ثُمَّ يُصَلِّي، وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جتنا اللہ چاہتا اس سے مجھے نفع دیتا ، اور جب کوئی اور مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا تو میں اسے قسم کھلاتا ، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حدیث بیان کی ، وہ سچے تھے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ، پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے ، اور دو رکعتیں پڑھتا ہے “ ، مسعر کی روایت میں ہے : ” پھر نماز پڑھتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1395]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 367 (1521)، سنن الترمذی/الصلاة 182 (406)، (تحفة الأشراف: 6610)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/2، 8، 9، 10) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَظُنُّهُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السُّلَاسِلِ، فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ، فَرَابَطُوا، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ، وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ ، فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ، وَقَدْ أُخْبِرْنَا: أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَةِ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ، غُفِرَ لَهُ مَا قَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ"، أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ ؟، قَالَ: نَعَمْ.
عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل میں گئے ۱؎ ، لڑائی نہیں ہوئی ، ان لوگوں نے صرف مورچہ باندھا ، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس لوٹ آئے ، اس وقت ابوایوب انصاری اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، عاصم نے کہا : ابوایوب ! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا ، اور ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ جو کوئی چاروں مسجدوں میں ۲؎ نماز پڑھے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے ، ابوایوب نے کہا : میرے بھتیجے ! کیا میں تمہیں اس سے آسان بات نہ بتاؤں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو کوئی وضو کرے جیسا حکم دیا گیا ہے ، اور نماز پڑھے جس طرح حکم دیا گیا ہے ، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ پوچھا : ایسے ہی ہے نا عقبہ ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1396]
💡 وضاحت:
۱؎: غزوہ سلاسل: یہ وہ غزوہ نہیں ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ۸ ھ میں ہوا تھا یہ کوئی ایسا غزوہ تھا، جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوا تھا۔ ۲؎: چاروں مسجدوں سے مراد: مسجدحرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ، اور مسجد قبا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الطہارة 108 (144)، (تحفة الأشراف: 3462)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/423) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ ، يَقُولَ: قَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ بِفِنَاءِ أَحَدِكُمْ نَهْرٌ يَجْرِي يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، مَا كَانَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ؟"، قَالَ: لَا شَيْءَ، قَالَ: " فَإِنَّ الصَّلَاةَ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ كَمَا يُذْهِبُ الْمَاءُ الدَّرَنَ".
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اگر تم میں سے کسی کے آنگن میں نہر بہہ رہی ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے ، تو کیا اس کے بدن پہ کچھ میل کچیل باقی رہ جائے گا ؟ “ لوگوں نے کہا : کچھ نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز گناہوں کو ایسے ہی ختم کر دیتی ہے جس طرح پانی میل کچیل کو ختم کر دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1397]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9779، ومصباح الزجاجة: 492)، ومسند احمد (1/72، 177) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ يَعْنِي: مَا دُونَ الْفَاحِشَةِ، فَلَا أَدْرِي مَا بَلَغَ غَيْرَ أَنَّهُ دُونَ الزِّنَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِي هَذِهِ؟، قَالَ: لِمَنْ أَخَذَ بِهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا سے کم کچھ بدتہذیبی کر لی ، میں نہیں جانتا کہ وہ اس معاملہ میں کہاں تک پہنچا ، بہرحال معاملہ زناکاری تک نہیں پہنچا تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے اس کا ذکر کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «أقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ” دن کے دونوں حصوں ( صبح و شام ) میں اور رات کے کچھ حصہ میں نماز قائم کرو ، بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ، اور یہ یاد کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے “ ( سورة هود : ۱۱۴ ) ، پھر اس شخص نے عرض کیا : کیا یہ حکم میرے لیے خاص ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر اس شخص کے لیے جو اس پر عمل کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1398]
💡 وضاحت:
۱؎: دن کے دونوں کناروں سے مراد فجر اور مغرب کی نماز ہے، اور بعض کے نزدیک صرف عشاء اور بعض کے نزدیک مغرب اور عشاء دونوں مراد ہیں، اور رات کے کچھ حصہ میں سے مراد نماز تہجد ہے، امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، کیونکہ اس سے قبل دو نمازیں ہی تھیں، ایک سورج ڈوبنے سے پہلے اور ایک سورج ڈوبنے کے بعد، اور رات کے پچھلے پہر نماز تہجد تھی، اور معراج میں پانچ وقت کی نماز فرض ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 5 (526)، التفسیر ھود 6 (4687)، صحیح مسلم/التوبة 7 (2763)، سنن الترمذی/التفسیر 12 (3114)، (تحفة الأشراف: 9376)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحدود 32 (4468)، مسند احمد (1/385، 430) (صحیح)
194: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا
باب: پنچ وقتہ نماز کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً، فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى آتِيَ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: مَاذَا افْتَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟، قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلَاةً، قَالَ: فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَوَضَعَ عَنِّي شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ: فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ: " هِيَ خَمْسٌ، وَهِيَ خَمْسُونَ، لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ"، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ( معراج کی رات ) میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں ، تو میں انہیں لے کر لوٹا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا ، تو انہوں نے پوچھا : آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے ؟ میں نے کہا : پچاس نمازیں میرے اوپر فرض کی ہیں ، انہوں نے کہا : اپنے رب کے پاس پھر جائیں آپ کی امت انہیں ادا نہ کر سکے گی ، میں اپنے رب کے پاس لوٹا ، تو اس نے آدھی معاف کریں ، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا ، اور ان سے بیان کیا ، انہوں نے کہا : اپنے رب کے پاس واپس جائیں آپ کی امت اس کو انجام نہ دے سکے گی ، چنانچہ میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا ، تو اس نے فرمایا : یہ ( ادا کرنے میں ) پانچ وقت کی نمازیں ( شمار میں ) ہیں ، جو ( ثواب میں ) پچاس نماز کے برابر ہیں ، میرا فرمان تبدیل نہیں ہوتا ، اٹل ہوتا ہے ، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا ، تو انہوں نے کہا : اپنے رب کے پاس جائیں ، تو میں نے کہا : اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1399]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ روایت مختصر ہے، مفصل واقعہ صحیحین اور دوسری کتابوں میں مذکور ہے، اس میں یہ ہے کہ پہلی بار اللہ تعالیٰ نے پچاس میں سے پانچ نمازیں معاف کیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ علیہ السلام کے کہنے پر بار بار اللہ تعالیٰ کے پاس جاتے رہے، اور پانچ پانچ نماز کم ہوتی رہیں یہاں تک کہ پانچ رہ گئیں، یہی عدد اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر تھا، اس سے کم نہیں ہو سکتا تھا، سبحان اللہ مالک کی کیا عنایت ہے، ہم ناتواں بندوں سے پانچ نمازیں تو ادا ہو نہیں سکتیں، پچاس کیونکر پڑھتے، حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رب العالمین عرش کے اوپر ہے، ورنہ بار بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس کے پاس جاتے تھے، اور اس سے جہمیہ، معتزلہ اور منکرین صفات کا رد ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو جہت اور مکان سے منزہ و پاک جانتے ہیں، اور لطف یہ ہے کہ باوجود اس کے پھر اس کو ہر جہت اور ہر مکان میں سمجھتے ہیں، یہ حماقت نہیں تو کیا ہے، اگر اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) ہر جہت اور ہر مکان میں ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتوں آسمانوں کے اوپر جانے کی کیا ضرورت تھی؟۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 1 (349)، الأنبیاء 5 (3342)، صحیح مسلم/الإیمان 74 (163)، سنن النسائی/الصلاة 1 (45)، (تحفة الأشراف: 1556) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عُلْوَانَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِينَ صَلَاةً، فَنَازَلَ رَبَّكُمْ أَنْ يَجْعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تمہارے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پچاس نمازوں کا حکم ہوا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے رب سے تخفیف چاہی کہ پچاس کو پانچ کر دے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1400]
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد یہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5808، ومصباح الزجاجة: 493)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/315) (صحیح) (سند میں شریک ضعیف ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، نیز شواہد کے لئے دیکھئے: مصباح الزجاجة 498 ابن ماجہ میں ''ابن عباس'' ہے، اور صحیح ''ابن عمر'' ہے جیسا کہ سنن ابی داود (1؍171) میں ہے، اور اس کی سند میں ''ایوب بن جابر'' ضعیف ہے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ الْمُخْدِجِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَهْدًا أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ قَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” پانچ وقت کی نمازیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں ، لہٰذا جو کوئی ان کو بجا لائے اور ان کے حق کو معمولی حقیر سمجھ کر ان میں کچھ کمی نہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ پورا کرے گا ، اور جس کسی نے ان کو اس طرح ادا کیا کہ انہیں معمولی اور حقیر جان کر ان کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی وعدہ نہیں ، چاہے تو اسے عذاب دے ، اور چاہے تو بخش دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1401]
💡 وضاحت:
۱؎: نماز کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کاموں کی طرح اس کا بھی پورا خیال نہ رکھے، کبھی پڑھے اور کبھی چھوڑ دے، یا جلدی جلدی پڑھے، شرائط اور آداب اور سنن کو اچھی طرح سے نہ بجا لائے، ایسا شخص گنہگار ہے، اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے سزا دے، اور چاہے تو معاف کر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 9 337 (1420)، سنن النسائی/الصلاة 6 (462)، (تحفة الأشراف: 5122)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 3 (14) مسند احمد (5/315، 319، 322)، سنن الدارمی/الصلاة 208 (1618) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: " بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ، فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، قَالَ: فَقَالُوا: هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَبْتُكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي سَائِلُكَ وَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلَا تَجِدَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ، فَقَالَ: سَلْ مَا بَدَا لَكَ، قَالَ لَهُ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا، فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي"، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں اونٹ پر سوار ایک شخص آیا ، اور اسے مسجد میں بٹھایا ، پھر اسے باندھ دیا ، پھر پوچھنے لگا : تم میں محمد کون ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے ، لوگوں نے کہا : یہ ہیں جو سفید رنگ والے ، اور تکیہ لگائے بیٹھے ہیں ، اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : اے عبدالمطلب کے بیٹے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ” ہاں ، میں نے تمہاری بات سن لی “ ، تو اس شخص نے کہا : اے محمد ! میں آپ سے ایک سوال کرنے والا ہوں ، اور سوال میں سختی برتنے والا ہوں ، تو آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم جو چاہو پوچھو “ ، اس شخص نے کہا : میں آپ کو آپ کے رب کی قسم دیتا ہوں ، اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب لوگوں کی جانب نبی بنا کر بھیجا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا اللہ ! ہاں “ ، پھر اس شخص نے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا اللہ ! ہاں “ ، پھر اس شخص نے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا اللہ ! ہاں “ ، اس شخص نے کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں : کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہمارے مالداروں سے زکاۃ و صدقات لیں ، اور اس کو ہمارے غریبوں میں تقسیم کریں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا اللہ ! ہاں “ ، تو اس شخص نے کہا : میں آپ کی لائی ہوئی شریعت پہ ایمان لایا ، اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے لیے پیغام رساں کی حیثیت سے ہوں جو پیچھے رہ گئے ہیں ، اور میں قبیلہ بنو سعد بن بکر کا ایک فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1402]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 6 (63)، سنن ابی داود/الصلاة 23 (486)، سنن النسائی/الصیام 1 (2094)، (تحفة الأشراف: 907)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 3 (12)، مسند احمد (3/167)، سنن الدارمی/الصلاة 140 (1470) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّلِيلِ ، أَخْبَرَنِي دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، إِنَّ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " افْتَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَعَهِدْتُ عِنْدِي عَهْدًا، أَنَّهُ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ فَلَا عَهْدَ لَهُ عِنْدِي".
ابوقتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تمہاری امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، اور میں نے اپنے پاس سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو انہیں ان کے اوقات پر پڑھنے کی پابندی کرے گا ، میں اسے جنت میں داخل کروں گا ، اور جو ان کی پابندی نہیں کرے گا ، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1403]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف/ د ¤ سنن أبي داود (430) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12082، ومصباح الزجاجة: 494)، وقد آخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 9 (430) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ضبارہ مجہول اور دوید متکلم فیہ ہیں، (تراجع الألبانی: رقم: 58)، نیز بوصیری نے اس حدیث کو زدا ئد ابن ماجہ میں داخل کیا ہے، فرماتے ہیں کہ مزی نے تحفة الأشراف میں اس حدیث کو ابن الاعرابی کی روایت سے ابوداود کی طرف منسوب کیا ہے، جس کو میں نے لئولُوی کی روایت میں نہیں دیکھا ہے)
195: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلاَةِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے ۱؎ ، سوائے مسجد الحرام کے “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1404]
💡 وضاحت:
۱؎: میری مسجد سے مراد مدینہ کی مسجد نبوی ہے، یہ فضیلت توسیع شدہ حصہ کو بھی شامل ہے، جیسا کہ شیخ الإسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک یہ مسجد نبوی بڑھتی جائے، وہ تمام حصے بھی اس فضیلت میں شامل ہوں گے۔ ۲؎: مسجد حرام میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون کی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1404M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے ، سوائے مسجد الحرام کے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1405]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 94 (1395)، (تحفة الأشراف: 7948)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 124 (2900)، مسند احمد (2/16، 29، 53، 68، 102) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری مسجد میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار نماز پڑھنے سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے ، اور مسجد الحرام میں ایک نماز پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1406]
💡 وضاحت:
۱؎: یہاں مسجد الحرام کا ذکر کرتے وقت مدینہ منورہ کی مسجد کا استثناء نہیں کیا، اور بظاہر یہی ہے کہ سوائے مسجد نبوی کے اور مسجدوں کی لاکھ نماز سے افضل ہے، کیونکہ اگر مسجد نبوی کے ایک لاکھ نماز سے افضل ہو تو دوسری مسجدوں کے ایک ارب نماز سے افضل ہو گی، اور کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسی قدر ثواب عطا فرمائے، اور اس صورت میں یہ کہنا کہ دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے، صحیح ہو گا کہ جب ایک ارب نماز افضل ہوئی تو ایک لاکھ سے بطریق اولیٰ افضل ہوگی، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2432، ومصباح الزجاجة: 495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/334، 343، 397) (صحیح)
196: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
باب: بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، قَالَ: " أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ"، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ، قَالَ: " فَتُهْدِي لَهُ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ كَمَنْ أَتَاهُ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : ” اللہ کے رسول ! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے ، وہاں جاؤ اور نماز پڑھو ، اس لیے کہ اس میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ہزار نماز کی طرح ہے “ میں نے عرض کیا : اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے ، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1407]
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ سنن أبي داود (457) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 14 (457)، (تحفة الأشراف: 18087، ومصباح الزجاجة: 497)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/463) (منکر) (بوصیری نے کہا کہ بعض حدیث کو ابوداود نے روایت کیا ہے، شیخ البانی نے اس حدیث کو پہلے (صحیح ابو داود 68) میں رکھا تھا، بعد میں اسے ضعیف ابی داود میں رکھ دیا، ابوداود کی روایت میں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا ذکر نہیں ہے، وجہ نکارت یہ ہے کہ زیتون کا تیل فلسطین میں ہوتا ہے، حجاز سے اسے بیت المقدس بھیجنے کا کیا مطلب ہے؟ نیز صحیح احادیث میں مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ہزار نمازوں ہے، جب کہ بیت المقدس کے بارے میں یہ ثواب صحاح میں نہیں وارد ہوا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الْأَنْمَاطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا فَرَغَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ مِنْ بِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا: حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ، وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لَأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ، وَأَلَّا يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ أَحَدٌ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِيهِ إِلَّا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا اثْنَتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا، وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سلیمان بن داود علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے ، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں ، ایک تو یہ کہ میں مقدمات میں جو فیصلہ کروں ، وہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو ، دوسرے مجھ کو ایسی حکومت دے کہ میرے بعد پھر ویسی حکومت کسی کو نہ ملے ، تیسرے یہ کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف نماز ہی کے ارادے سے آئے وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو باتیں تو اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں ، مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1408]
💡 وضاحت:
۱؎: سلیمان علیہ السلام کا حکم ہونا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: «ففهمناها سليمان وكلا آتينا حكما وعلما» (سورة الأنبياء: 79)، «فسخرنا له الريح تجري بأمره رخاء حيث أصاب» (سورة ص: 36) نیز ہوا پر اور جن و انس پر اور چرند و پرند سب پر ان کی حکومت تھی، جیسا کہ اس آیت میں موجود ہے: «والشياطين كل بناء وغواص» (سورة ص: 37) اور تیسری بات کی صراحت چونکہ قرآن میں نہیں ہے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں فرمایا مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/المساجد 6 (694)، (تحفة الأشراف: 8844، ومصباح الزجاجة: 497)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/176) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبید اللہ بن الجہم مجہول الحال ہیں، اور ایوب بن سوید بالاتفاق ضعیف، بوصیری نے ذکر کیا ہے کہ بعض حدیث کو ابوداود نے ابن عمرو کی حدیث سے روایت کیا ہے، ایسے ہی نسائی نے سنن صغری میں روایت کی ہے)، یہ حدیث ابوداود میں ہمیں نہیں ملی، اور ایسے ہی مصباح الزجاجة کے محقق د.شہری کو بھی نہیں ملی (502) نیز نسائی نے کتاب المساجد باب فضل المسجد الأقصی (1؍8) میں اور احمد نے مسند میں (2؍176) تخریج کیا ہے ابن خزیمہ (2؍176) اور ابن حبان (1042 مواردہ) اور حاکم (1؍20؍21) نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تین مساجد : مسجد الحرام ، میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد الاقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب ( ثواب کی نیت سے ) سفر نہ کیا جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1409]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 95 (1397)، (تحفة الأشراف: 13283)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصلاة 1 (1189)، سنن ابی داود/الحج 98 (2033)، سنن النسائی/المساجد 10 (701)، موطا امام مالک/الجمعة 7 (16)، مسند احمد (2/234، 238، 278، 501)، سنن الدارمی/الصلاة 132 (1461) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَإِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى، وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا".
ابو سعید خدری اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین مساجد : مسجد الحرام ، مسجد الاقصیٰ اور میری اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی ) کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف ( ثواب کی نیت سے ) سفر نہ کیا جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1410]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: حدیث أبي سعید الخدري أخرجہ: صحیح البخاری/فضل الصلاة في مکة والمدینة 6 (1188، 1189)، صحیح مسلم/المناسک 74 (827)، سنن الترمذی/الصلاة 127 (326)، (تحفة الأشراف: 4279)، وحدیث عبد اللہ بن عمر و بن العاص قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8913)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/7، 34، 45، 51، 59، 62، 71، 77) (صحیح)
197: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَبْرَدِ مَوْلَى بَنِي خَطْمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ كَعُمْرَةٍ".
اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ ( جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسجد قباء میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1411]
💡 وضاحت:
: ۱؎ مسجد قباء: ایک مشہور مسجد ہے، جو مسجد نبوی سے تھوڑے سے فاصلہ پر واقع ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، تو سب سے پہلے اس مسجد کی بنیاد رکھی، اور مسلسل چار دن تک اسی مسجد میں نماز پڑھتے رہے، اور مسجد نبوی کے بننے کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء تشریف لے جاتے، اور وہاں نماز پڑھتے، نیز قرآن کریم میں اس کے متعلق یوں مذکور ہے: «لمسجد أسس على التقوى من أول يوم أحق أن تقوم فيه» جو مسجد (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آمد کے وقت) اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت کے لیے کھڑے ہوں (سورة التوبة: 108)، اور متعدد احادیث میں اس کی فضیلت آئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 126 (324)، (تحفة الأشراف: 155) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، يَقُولَ: قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ أَتَى مَسْجِدَ قُبَاءَ، فَصَلَّى فِيهِ صَلَاةً كَانَ لَهُ كَأَجْرِ عُمْرَةٍ".
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے ، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے ، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1412]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/المساجد 9 (700)، (تحفة الأشراف: 4657)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/487) (صحیح)
198: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ
باب: جامع مسجد میں نماز کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا رُزَيْقٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَلْهَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً، وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُجَمَّعُ فِيهِ بِخَمْسِ مِائَةِ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ، وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ، وَصَلَاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلَاةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز کے برابر ہے ، محلہ کی مسجد میں پچیس نماز کے برابر ہے ، اور جامع مسجد میں پانچ سو نماز کے برابر ہے ، مسجد الاقصیٰ میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے ، مسجد نبوی میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے ، اور خانہ کعبہ میں ایک لاکھ نماز کے برابر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1413]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو الخطاب: مجهول (تقريب: 8079) وقال الذهبي في حديثه: ”ھذا منكر جدًا“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 834، ومصباح الزجاجة: 498) (ضعیف) (اس سند میں ''ابوالخطاب'' مجہول الحال ہیں، اور رزیق کے بارے میں کلام ہے، ابن الجوزی نے اسے علل متناھیہ میں داخل کیا ہے (2؍86) ذھبی نے میزان الاعتدال (4؍520) میں اسے، منکر جداً یہ بہت منکر ہے کہا ہے)
199: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ
باب: منبر رسول پہلے کیسے بنا؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَى ذَلِكَ الْجِذْعِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ شَيْئًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَرَاكَ النَّاسُ وَتُسْمِعَهُمْ خُطْبَتَكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَصَنَعَ لَهُ ثَلَاثَ دَرَجَاتٍ، فَهِيَ الَّتِي أَعْلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا وُضِعَ الْمِنْبَرُ وَضَعُوهُ فِي مَوْضِعِهِ الَّذِي هُوَ فِيهِ، " فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُومَ إِلَى الْمِنْبَرِ، مَرَّ إِلَى الْجِذْعِ الَّذِي كَانَ يَخْطُبُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا جَاوَزَ الْجِذْعَ خَارَ حَتَّى تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَمِعَ صَوْتَ الْجِذْعِ، فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ حَتَّى سَكَنَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَّى إِلَيْهِ"، فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ وَغُيِّرَ، أَخَذَ ذَلِكَ الْجِذْعَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَكَانَ عِنْدَهُ فِي بَيْتِهِ حَتَّى بَلِيَ، فَأَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مسجد چھپر کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کی طرف نماز پڑھتے تھے ، اور اسی تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے ، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے کہا : کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے کوئی ایسی چیز بنائیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں ، اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ پھر اس شخص نے تین سیڑھیاں بنائیں ، یہی منبر کی اونچائی ہے ، جب منبر تیار ہو گیا ، تو لوگوں نے اسے اس مقام پہ رکھا جہاں اب ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا ، تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے سہارے آپ خطبہ دیا کرتے تھے ، جب آپ تنے سے آگے بڑھ گئے تو وہ رونے لگا ، یہاں تک کہ پھوٹ پھوٹ کر رویا ، اس وقت آپ منبر سے اترے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا ، تب وہ خاموش ہوا ، ۱؎ پھر آپ منبر پہ لوٹے ، جب آپ نماز پڑھتے تھے تو اسی تنے کی جانب پڑھتے تھے ، پھر جب ( عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تعمیر نو کے لیے ) مسجد ڈھائی گئی ، اور اس کی لکڑیاں بدل دی گئیں ، تو اس تنے کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا ، اور وہ ان کے گھر ہی میں رہا یہاں تک کہ پرانا ہو گیا ، پھر اسے دیمک کھا گئی ، اور وہ گل کر ریزہ ریزہ ہو گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1414]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مشہور معجزہ مذکور ہے، یعنی لکڑی کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے غم میں رونا، نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز میں نفس اور جان ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ جس کو چاہے قوت گویائی عطا کر دے، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو کہ منبر نبوی کی تین سیڑھیاں تھیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن عقيل: ضعيف ¤ ولأصل الحديث شواهد ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 34، ومصباح الزجاجة: 499)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/137)، سنن الدارمی/المقدمة 6 (36) (حسن) (کھجور کے تنے کی گریہ وزاری سے متعلق کئی احادیث ہیں، جب کہ بعض اس بارے میں ہیں، نیز تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری 6؍603)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَحَنَّ الْجِذْعُ، فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ، فَسَكَنَ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے ، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے ، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا ، تو وہ خاموش ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1415]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 389، 6297، ومصباح الزجاجة: 500)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 6 (3631)، مسند احمد (1/ 249، 267، 266، 363)، سنن الدارمی/المقدمة 6 (40) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ؟ فَأَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ: فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، " هُوَ مِنْ أَثْلِ الغَابَةِ، عَمِلَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ نَجَّارٌ، فَجَاءَ بِهِ، فَقَامَ عَلَيْهِ حِينَمَا وُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَرَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَقَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ فَقَامَ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالْأَرْضِ".
ابوحازم کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا ، تو لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور ان سے پوچھا ؟ انہوں نے کہا : اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو ، وہ غابہ ۱؎ کے جھاؤ کا تھا ، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا ، جو فلاں عورت کا غلام تھا ، بہرحال وہ غلام منبر لے کر آیا ، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے ، اور قبلہ کی طرف رخ کیا ، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے ، آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا ، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے ، اور زمین پہ سجدہ کیا ، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے ، اور قراءت کی ، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے ، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے ، ( اور منبر سے اتر کر ) زمین پر سجدہ کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1416]
💡 وضاحت:
۱؎: غابہ: ایک مقام کا نام ہے، جو مدینہ سے نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 18 (377)، الجمعة 26 (917)، صحیح مسلم/المساجد 10 (544)، (تحفة الأشراف: 4690)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 221 (1080)، سنن النسائی/المساجد 45 (740)، مسند احمد (5/330)، سنن الدارمی/الصلاة 45 (1293) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُومُ إِلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ، أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ، ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا، قَالَ: فَحَنَّ الْجِذْعُ، قَالَ جَابِرٌ: حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَسَحَهُ، فَسَكَنَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ لَمْ يَأْتِهِ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کی جڑ ، یا یوں کہا : ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منبر بنوا لیا ، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا ، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے ، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا ، تو وہ خاموش ہو گیا ، بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1417]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3115)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 26 (918)، المناقب 25 (3584)، سنن النسائی/الجمعة 17 (1397)، مسند احمد (3/306)، سنن الدارمی/الصلاة 202 (1603) (صحیح)
200: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي طُولِ الْقِيَامِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں قیام لمبا کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا، حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ، قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ الْأَمْرُ؟، قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَتْرُكَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا ، ( راوی ابووائل کہتے ہیں : ) میں نے پوچھا : وہ کیا ؟ کہا : میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں بیٹھ جاؤں ، اور آپ کو ( کھڑا ) چھوڑ دوں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1418]
💡 وضاحت:
نماز تہجد باجماعت جائز ہے۔ نماز تہجد میں طویل قرات افضل ہے۔ شاگردوں کو تربیت دینے کے لیے ان سے مشکل کام کروانا جائز ہے اگرچہ اس میں مشقت ہو۔ استاد کا خود نیک عمل کرنا شاگردوں کو اس کا شوق دلاتا اور ہمت پیدا کرتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نیک کا اس قدر شوق رکھتے تھے کہ افضل کام کو چھوڑ کر جائز کام اختیار کرنے کو انہوں نے برا کام قرار دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التھجد 9 (1135)، صحیح مسلم/المسافرین 27 (773)، سنن الترمذی/في الشمائل (278)، (تحفة الأشراف: 9249) وقد أخرجہ: مسند احمد (1/385، 396، 415، 440) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ ، يَقُولُ: " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا".
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ، یہاں تک کہ آپ کے پیروں میں ورم آ گیا ، تو عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں ( اللہ کا ) شکر گزار بندہ نہ بنوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1419]
💡 وضاحت:
۱؎: اس مغفرت پر شکر نہ ادا کروں؟ سبحان اللہ! جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باوصف ایسے علو مرتبہ اور جلالت شان کے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ کا درجہ ہے، عبادت کو ترک نہ کیا، اور دوسرے لوگوں سے زیادہ آپ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت و عبادت اور ذکر الٰہی میں مصروف رہتے تھے، تو کسی دوسرے کا یہ خیال کب صحیح ہو گا کہ آدمی جب ولایت کے اعلی درجہ کو پہنچ جاتا ہے تو اس کے ذمہ سے عبادت ساقط ہو جاتی ہے، یہ صاف ملحدانہ خیال ہے، بلکہ جتنا بندہ اللہ سے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے اتنا ہی اس کا شوق عبادت بڑھتا جاتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات نماز میں کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ما أنزلنا عليك القرآن لتشقى» یعنی ہم نے آپ پر اس لئے قرآن نہیں اتارا کہ آپ اتنی مشقت اٹھائیں (سورة طه: 2)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التہجد 6 (1130)، تفسیرالفتح 2 (4836)، الرقاق 20 (6471)، صحیح مسلم/المنافقین 18 (2819)، سنن الترمذی/الصلاة 188 (412)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1645)، (تحفة الأشراف: 11498)، مسند احمد (4/251، 255) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُصَلِّي حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے ، آپ سے عرض کیا گیا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1420]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12481، ومصباح الزجاجة: 502) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: " طُولُ الْقُنُوتِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس میں قیام لمبا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1421]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المسافرین 22 (65)، (تحفة الأشراف: 2827)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 168 (387)، مسند احمد (3/302، 391، 412، 4/385) (صحیح)
201: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ السُّجُودِ
باب: کثرت سے سجدہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّ أَبَا فَاطِمَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَسْتَقِيمُ عَلَيْهِ وَأَعْمَلُهُ، قَالَ: " عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ بِهَا عَنْكَ خَطِيئَةً".
ابوفاطمہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر میں جما رہوں اور اس کو کرتا رہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے اوپر سجدے کو لازم کر لو ، اس لیے کہ جب بھی تم کوئی سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا ، اور ایک گناہ مٹا دے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1422]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12078)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/276، 280) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَهُ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ ، فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنِي حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، قَالَ: فَسَكَتَ، ثُمَّ عُدْتُ فَقُلْتُ مِثْلَهَا: فَسَكَتَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لِي: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً"، قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَسَأَلْتُهُ: فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ.
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا ، اور ان سے کہا : آپ مجھ سے کوئی حدیث بیان کریں ، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ دے گا ، یہ سن کر وہ خاموش رہے ، پھر میں نے دوبارہ وہی بات کہی ، تو بھی وہ خاموش رہے ، تین بار ایسا ہی ہوا ، پھر انہوں نے کہا : تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ لازم کر لو ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے ، اور ایک گناہ مٹا دیتا ہے “ ۔ معدان کہتے ہیں کہ پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا ، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی بیان کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1423]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الصلاة 43 (488)، سنن الترمذی/الصلاة 170 (388، 389)، (تحفة الأشراف: 2112، 10965)، مسند احمد (5/276، 280، 283) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْمُرِّيِّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً، وَمَحَا عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، فَاسْتَكْثِرُوا مِنَ السُّجُودِ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک سجدہ کرے گا ، اللہ اس کے بدلے ایک نیکی لکھے گا ، اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا ، اور اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا ، لہٰذا تم کثرت سے سجدے کرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1424]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5102، ومصباح الزجاجة: 503) (صحیح) (صحیح مسلم وغیرہ میں ثوبان کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ ا س کی سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، الإرواء: 457)
202: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي أَوَّلِ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلاَةُ
باب: (قیامت کے دن) بندے سے سب سے پہلے نماز کا محاسبہ ہو گا۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَ مِصْرِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الصَّلَاةُ الْمَكْتُوبَةُ، فَإِنْ أَتَمَّهَا وَإِلَّا قِيلَ انْظُرُوا هَلْ لَهُ مِنْ تَطَوُّعٍ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ أُكْمِلَتِ الْفَرِيضَةُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ يُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوضَةِ مِثْلُ ذَلِكَ".
انس بن حکیم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ جب تم اپنے شہر والوں کے پاس پہنچو تو ان کو بتاؤ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” مسلمان بندے سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہو گی ، اگر اس نے اسے کامل طریقے سے ادا کی ہے تو ٹھیک ہے ، ورنہ کہا جائے گا کہ دیکھو کیا اس کے پاس کچھ نفل ہے ؟ اگر اس کے پاس نفل نمازیں ہوں گی تو اس سے فرض میں کمی پوری کی جائے گی ، پھر باقی دوسرے فرائض اعمال کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1425]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (864) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 149 (864، 865)، (تحفة الأشراف: 12200)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 189 (413)، سنن النسائی/الصلاة 9 (466)، مسند احمد (2/ 290، 425) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ، فَإِنْ أَكْمَلَهَا كُتِبَتْ لَهُ نَافِلَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَكْمَلَهَا قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ لِمَلَائِكَتِهِ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ، فَأَكْمِلُوا بِهَا مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَتِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ".
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن بندے سے جس چیز کا سب سے پہلے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہو گی ، اگر اس نے نماز مکمل طریقے سے ادا کی ہو گی تو نفل نماز علیحدہ لکھی جائے گی ، اور اگر مکمل طریقے سے ادا نہ کی ہو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا : دیکھو ، کیا میرے بندے کے پاس نفل نمازیں ہیں ، تو ان سے فرض کی کمی کو پورا کرو ، پھر باقی اعمال کا بھی اسی طرح حساب ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1426]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: حدیث تمیم الداری أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 149 (866)، (تحفة الأشراف: 2054)، وحدیث أبی ہریرة تقدم تخریجہ حدیث رقم: 1425، (تحفة الأشراف: 1425) (صحیح)
203: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ النَّافِلَةِ حَيْثُ تُصَلَّى الْمَكْتُوبَةُ
باب: فرض نماز پڑھنے کی جگہ پر نفل پڑھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ؟" يَعْنِي: السُّبْحَةَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں کا کوئی اتنا عاجز و مجبور ہے کہ جب ( فرض ) نماز پڑھ چکے تو نفل کے لیے آگے بڑھ جائے ، یا پیچھے ہٹ جائے ، یا دائیں ، بائیں ہو جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1427]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1006) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأاذان 57 (848) تعلیقاً، سنن ابی داود/الصلاة 194 (1006)، (تحفة الأشراف: 12179)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/425) (صحیح) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف، اور ابراہیم بن اسماعیل مجہول الحال ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 629، 922، 1034)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” امام اس جگہ سنت ( نفل نماز ) نہ پڑھے جہاں پر اس نے فرض پڑھائی ہے ، جب تک کہ وہاں سے دور نہ جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1428]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (616) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ: (اس کی سند میں بقیہ ضعیف ہیں، ابو عبد الرحمن مجہول ہیں، اور عثمان ضعیف ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی مغیرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1428M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ: (اس کی سند میں بقیہ ضعیف ہیں، ابو عبد الرحمن مجہول ہیں، اور عثمان ضعیف ہیں)
204: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي تَوْطِينِ الْمَكَانِ فِي الْمَسْجِدِ يُصَلِّي فِيهِ
باب: مسجد میں نماز کے لیے جگہ مخصوص کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَعَنْ فِرْشَةِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ".
عبدالرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز میں ) تین چیزوں سے منع فرمایا : ” ایک تو کوے کی طرح ٹھونگ مارنے سے ، دوسرے درندے کی طرح بازو بچھانے سے ، اور تیسرے نماز کے لیے ایک جگہ متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ مقرر کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1429]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (862) نسائي (1113) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 148 (862)، سنن النسائی/التطبیق 55 (1113)، (تحفة الأشراف: 9701)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/428، 444)، سنن الدارمی/الصلاة 75 (1362) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ : " أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي إِلَى سُبْحَةِ الضُّحَى، فَيَعْمِدُ إِلَى الْأُسْطُوَانَةِ دُونَ الْمُصْحَفِ، فَيُصَلِّ قَرِيبًا مِنْهَا، فَأَقُولُ لَهُ: أَلَا تُصَلِّي هَا هُنَا وَأُشِيرُ إِلَى بَعْضِ نَوَاحِي الْمَسْجِدِ، فَيَقُولُ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى هَذَا الْمُقَامَ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نماز الضحیٰ ( چاشت کی نفل نماز ) کے لیے آتے اور صف سے پہلے ستون کے پاس جاتے اور اس کے نزدیک نماز پڑھتے ، میں مسجد کے ایک گوشے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان سے کہتا : آپ اس جگہ نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ تو وہ کہتے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی جگہ کا قصد کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1430]
💡 وضاحت:
۱؎: بظاہر یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف ہے جس میں مسجد کے اندر ایک جگہ متعین کرنے کی ممانعت ہے، تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ یہ ممانعت فرائض کے لئے ہے، سنن اور نوافل کے لئے نہیں، اور بعض نے کہا ہے کہ قصد کرنا اور خاص کرنا دونوں الگ الگ چیز ہے، کیوں کہ خاص کرنے میں ملکیت ثابت ہوتی ہے، اور مسجد کسی کی ملک نہیں ہے، اور قصد کرنے کا یہ مطلب ہو گا کہ اگر جگہ خالی ہو تو وہاں پڑھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس ستون کا قصد کرتے تو اس کی کوئی علت حدیث میں مذکور نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلاة 95 (502)، صحیح مسلم/الصلاة 49 (509)، (تحفة الأشراف: 4541)، مسند احمد (4/48) (صحیح)
205: بَابُ : مَا جَاءَ فِي أَيْنَ تُوضَعُ النَّعْلُ إِذَا خُلِعَتْ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز کے وقت جوتا نکال کر کہاں رکھا جائے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَّى يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، تو آپ نے اپنے جوتے بائیں طرف رکھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1431]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 89 (648)، سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، (تحفة الأشراف: 5314)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 106 (774 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، مسند احمد (3/411) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلْزِمْ نَعْلَيْكَ قَدَمَيْكَ، فَإِنْ خَلَعْتَهُمَا فَاجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْكَ، وَلَا تَجْعَلْهُمَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَا عَنْ يَمِينِ صَاحِبِكَ، وَلَا وَرَاءَكَ، فَتُؤْذِيَ مَنْ خَلْفَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جوتے اپنے پاؤں میں پہنے رکھو ، اور اگر انہیں اتارو تو اپنے پیروں کے درمیان رکھو ، اور اپنے دائیں طرف نہ رکھو ، نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھو ، اور نہ پیچھے رکھو کیونکہ پیچھے والوں کو تکلیف ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1432]
💡 وضاحت:
۱ ؎: حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر جوتے پاک و صاف ہوں تو اس کو پہن کر نماز پڑھنا صحیح ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جوتے پہن کر نماز پڑھی ہے، نیز اس حدیث میں جوتے رکھنے کے آداب بھی سکھائے گئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا وما بين طرفيه قوي
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12969، ومصباح الزجاجة: 504) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 90 (655) (ضعیف جدا) (یہ حدیث سخت ضعیف ہے کیونکہ سند میں عبد اللہ بن سعید متروک اور منکر الحدیث ہے، لیکن ابو داود کی صحیح روایت میں سیاق اس سے مختلف ہے، ألزم نعليك قدميك اور ولا ورائك فتؤذي من خلفك صرف ابن ماجہ میں ہے، اس لئے یہ الفاظ منکر ہیں)
← پچھلی کتاب #8 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #10 →