سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 842
Sunan Ibn Majah 842
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
11: بَابُ : الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ
باب: امام کے پیچھے قرات کا حکم۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَقْرَأُ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ، فَقَالَ: " سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَ هَذَا".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ان سے پوچھا اور کہا : جس وقت امام قراءت کر رہا ہو کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں ؟ تو انہوں نے کہا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا ہر نماز میں قراءت ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، یہ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص بولا : اب تو قراءت واجب ہو گئی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 842]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ معاوية بن يحيي الصدفي أبو روح: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 408
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10944، ومصباح الزجاجة: 308)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 31 (924)، مسند احمد (1/448) (ضعیف الإسناد) (اس حدیث کی سند میں معاویہ بن یحییٰ الصدفی ضعیف ہیں)