سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1023
Sunan Ibn Majah 1023
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
61: بَابُ : الْمُصَلِّي يَتَنَخَّمُ
باب: نمازی کے تھوکنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنَّهُ رَأَى شَبَثَ بْنَ رِبْعِيٍّ بَزَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا شَبَثُ، لَا تَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَان يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي، أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، حَتَّى يَنْقَلِبَ أَوْ يُحْدِثَ حَدَثَ سُوءٍ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے شبث بن ربعی کو اپنے آگے تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہا : شبث ! اپنے آگے نہ تھوکو ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے ، اور کہتے تھے : ” آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو جب تک وہ نماز پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ، یہاں تک کہ نماز پڑھ کر لوٹ جائے ، یا اسے برا حدث ہو جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1023]
💡 وضاحت:
۱؎: برے حدث سے مراد کوئی نیا امر اور نئی بات، جو خشوع کے خلاف ہو جیسے سامنے تھوکنا، یا اس سے مراد ہوا خارج ہونا ہے جس سے انسان کی پاکی ختم ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3349، ومصباح الزجاجة: 366) (حسن)