سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1022
Sunan Ibn Majah 1022
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
61: بَابُ : الْمُصَلِّي يَتَنَخَّمُ
باب: نمازی کے تھوکنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: " مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَهُ يَعْنِي: رَبَّهُ، فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ؟ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقَنَّ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ لِيَقُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ"، ثُمَّ أَرَانِي إِسْمَاعِيل يَبْزُقُ فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ يَدْلُكُهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی سمت بلغم دیکھا ، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، اور فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آگے بلغم تھوکتے ہیں ؟ کیا تم میں کا کوئی یہ پسند کرے گا کہ دوسرا شخص اس کی طرف منہ کر کے اس کے منہ پر تھوکے ؟ جب کوئی شخص نماز کی حالت میں تھوکے تو اپنے بائیں جانب تھوکے ، یا اپنے کپڑے میں اس طرح تھوک لے “ ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ پھر اسماعیل بن علیہ نے مجھے اپنے کپڑے میں تھوک کر پھر مل کر دکھایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1022]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ المساجد 13 (550)، سنن النسائی/الطہارة 193 (310)، (تحفة الأشراف: 14669)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 35 (408، 409)، سنن ابی داود/الصلاة 22 (477)، مسند احمد (2/250، 251، 260)، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1438) (صحیح)