سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1020
Sunan Ibn Majah 1020
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
60: بَابُ : مَنْ يُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ
باب: لاعلمی میں قبلہ سے ہٹ کر کے نماز پڑھنے والے کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَأَشْكَلَتْ عَلَيْنَا الْقِبْلَةُ، فَصَلَّيْنَا وَأَعْلَمْنَا، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِذَا نَحْنُ قَدْ صَلَّيْنَا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّه: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلہ کی سمت ہم پر مشتبہ ہو گئی ، آخر ہم نے ( اپنے ظن غالب کی بنیاد پر ) نماز پڑھ لی ، اور اس سمت ایک نشان رکھ دیا ، جب سورج نکلا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت نماز نہیں پڑھی ہے ، ہم نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے «فأينما تولوا فثم وجه الله» ” جدھر تم رخ کر لو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے “ ( سورۃ البقرہ : ۱۱۵ ) نازل فرمائی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1020]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (345،2957) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 414
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الصلاة 141 (345)، (تحفة الأشراف: 5035) (حسن) (اس کی سند میں اشعث بن سعید متروک ہے، لیکن شواہد کی وجہ ہے یہ حسن ہے)