سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1269
Sunan Ibn Majah 1269
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
154: بَابُ : مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ
باب: استسقا کی دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ ، أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبٍ : يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْذَرْ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَسْقِ اللَّهَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مَرِيئًا مَرِيعًا، طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ"، قَالَ: فَمَا جَمَّعُوا حَتَّى أُجِيبُوا، قَالَ: فَأَتَوْهُ، فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْمَطَرَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا"، قَالَ: فَجَعَلَ السَّحَابُ يَنْقَطِعُ يَمِينًا وَشِمَالًا.
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے کہا : کعب بن مرہ ! آپ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کیجئیے اور احتیاط برتئے ، تو انہوں نے کہا : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ سے بارش مانگئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا : «اللهم اسقنا غيثا مريئا مريعا طبقا عاجلا غير رائث نافعا غير ضار» ” اے اللہ ! ہم پر اچھے انجام والی ، سبزہ اگانے والی ، زمین کو بھر دینے والی ، جلد برسنے والی ، تھم کر نہ برسنے والی ، فائدہ دینے والی اور نقصان نہ پہنچانے والی بارش برسا “ کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ابھی نماز جمعہ سے ہم فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ بارش ہونے لگی اور مسلسل ہوتی رہی ، بالآخر پھر لوگ آپ کے پاس آئے ، اور بارش کی کثرت کی شکایت کی اور کہا اللہ کے رسول ! مکانات گر گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا فرمائی «اللهم حوالينا ولا علينا» ” اے اللہ ! بارش ہمارے اردگرد میں ہو ہم پر نہ ہو “ ، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تھا کہ بادل دائیں اور بائیں پھٹنے لگا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1269]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال أبو داود (3967): ”سالم لم يسمع من شرحبيل،مات شرحبيل بصفين“ فالسند منقطع و لبعض الحديث شواھد صحيحة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 421
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11165، ومصباح الزجاجة: 441، 443)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/235، 236) (صحیح) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/145)