سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 910
Sunan Ibn Majah 910
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
26: بَابُ : مَا يُقَالُ فِي التَّشَهُّدِ وَالصَّلاَةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: تشہد اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (نماز) کے بعد کیا دعا پڑھے؟
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: " مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟"، قَالَ: أَتَشَهَّدُ، ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ: " حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا : ” تم نماز میں کیا کہتے ہو ؟ “ ، اس نے کہا : میں تشہد پڑھتا ہوں ، پھر اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں ، لیکن اللہ کی قسم ! میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح نہیں سمجھتا ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم بھی اسی کے گرد گنگناتے ہیں “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 910]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور معاذ دھیمی آواز میں دعاء مانگا کرتے تھے۔ ۲؎: یعنی جنت کے سوال اور جہنم سے پناہ مانگنے جیسی دعائیں ہماری بھی ہوتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (792) وانظر الحديث الآتي (3847) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 410
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12363، ومصباح الزجاجة: 332)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 127 (792)، مسند احمد (3/474، 5/74) (صحیح) (حدیث مکرر ہے، ملاحظہ کریں: 3847)