سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 911
Sunan Ibn Majah 911
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
27: بَابُ : الإِشَارَةِ فِي التَّشَهُّدِ
باب: تشہد کے دوران انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِصَامِ بْنِ قُدَامَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلَاةِ وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ".
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر نماز میں رکھے ہوئے تھے ، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 911]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اور اس باب میں وارد دوسری احادیث سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ شروع ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح انگلی کے اشارہ کی شکل پر بیٹھتے تھے، نہ یہ کہ جب «أشهد أن لا إله» کہتے تھے تو اٹھال یتے، اور «إلا الله» کہتے تو گرا دیتے، جو لوگ ایسا کہتے ہیں ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما بعدہ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 186 (991)، سنن النسائی/السہو36 (1272)، (تحفة الأشراف: 11710)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/471) (صحیح) (آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)