سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1432
Sunan Ibn Majah 1432
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
205: بَابُ : مَا جَاءَ فِي أَيْنَ تُوضَعُ النَّعْلُ إِذَا خُلِعَتْ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز کے وقت جوتا نکال کر کہاں رکھا جائے؟
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلْزِمْ نَعْلَيْكَ قَدَمَيْكَ، فَإِنْ خَلَعْتَهُمَا فَاجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْكَ، وَلَا تَجْعَلْهُمَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَا عَنْ يَمِينِ صَاحِبِكَ، وَلَا وَرَاءَكَ، فَتُؤْذِيَ مَنْ خَلْفَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جوتے اپنے پاؤں میں پہنے رکھو ، اور اگر انہیں اتارو تو اپنے پیروں کے درمیان رکھو ، اور اپنے دائیں طرف نہ رکھو ، نہ اپنے ساتھی کے دائیں طرف رکھو ، اور نہ پیچھے رکھو کیونکہ پیچھے والوں کو تکلیف ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1432]
💡 وضاحت:
۱ ؎: حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر جوتے پاک و صاف ہوں تو اس کو پہن کر نماز پڑھنا صحیح ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جوتے پہن کر نماز پڑھی ہے، نیز اس حدیث میں جوتے رکھنے کے آداب بھی سکھائے گئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا وما بين طرفيه قوي
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 427
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12969، ومصباح الزجاجة: 504) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 90 (655) (ضعیف جدا) (یہ حدیث سخت ضعیف ہے کیونکہ سند میں عبد اللہ بن سعید متروک اور منکر الحدیث ہے، لیکن ابو داود کی صحیح روایت میں سیاق اس سے مختلف ہے، ألزم نعليك قدميك اور ولا ورائك فتؤذي من خلفك صرف ابن ماجہ میں ہے، اس لئے یہ الفاظ منکر ہیں)