سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1433
Sunan Ibn Majah 1433
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
1: بَابُ : مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ
باب: مریض کی عیادت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتَّةٌ بِالْمَعْرُوفِ: يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَتْبَعُ جِنَازَتَهُ إِذَا مَاتَ، وَيُحِبُّ لَهُ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کی مسلمان پر حسن سلوک کے چھ حقوق ہیں : ۱ ۔ جب اس سے ملاقات ہو تو اسے سلام کرے ، ۲ ۔ جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے ، ۳ ۔ جب وہ چھینکے اور «الحمد لله» کہے تو جواب میں «يرحمك الله» کہے ، ۴ ۔ جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت ( بیمار پرسی ) کرے ، ۵ ۔ جب اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جائے ، ۶ ۔ اور اس کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1433]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف هو صحيح دون زيادة وحب وهي ثابتة في حديث آخر
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2736) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأدب 1 (2736)، (تحفة الأشراف: 10044)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/88، 89، 2/372، 412)، سنن الدارمی/الاستئذان 5 (2675) (صحیح)