سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1438
Sunan Ibn Majah 1438
کتاب #7: کتاب: صلاۃ جنازہ کے احکام و مسائل
1: بَابُ : مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ
باب: مریض کی عیادت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَى الْمَرِيضِ، فَنَفِّسُوا لَهُ فِي الْأَجَلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا، وَهُوَ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْمَرِيضِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم مریض کے پاس جاؤ ، تو اسے لمبی عمر کی امید دلاؤ ، اس لیے کہ ایسا کہنے سے تقدیر نہیں پلٹتی ، لیکن بیمار کا دل خوش ہوتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1438]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2087) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 428
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الطب 35 (087)، (تحفة الأشراف: 4292) (ضعیف) (موسیٰ بن محمد اس سند میں ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 182)