سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 926
Sunan Ibn Majah 926
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
32: بَابُ : مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَأَبُو يَحْيَى التَّيْمِي ، وَابْنُ الْأَجْلَحِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَصْلَتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَهُمَا يَسِيرٌ، وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا"، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، فَذَلِكَ خَمْسُونَ، وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ سَبَّحَ وَحَمِدَ وَكَبَّرَ مِائَةً، فَتِلْكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَ مِائَةِ سَيِّئَةٍ، قَالُوا: وَكَيْفَ لَا يُحْصِيهِمَا؟ قَالَ: يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا حَتَّى يَنْفَكَّ الْعَبْدُ لَا يَعْقِلُ، وَيَأْتِيهِ وَهُوَ فِي مَضْجَعِهِ فَلَا يَزَالُ يُنَوِّمُهُ حَتَّى يَنَامَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو خصلتوں پر اگر مسلمان بندہ مداومت کرے تو جنت میں داخل ہو گا ، وہ دونوں سہل آداب ہیں ، لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں ، ( ایک یہ کہ ) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله» ، دس بار «الله أكبر» اور دس بار «الحمد لله» کہے “ ، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنی انگلیوں پر شمار کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ پڑھنے میں ایک سو پچاس ہیں اور میزان میں ایک ہزار پانچ سو “ ۔ ( دوسرے یہ کہ ) جب وہ اپنی خواب گاہ پر جائے تو سو مرتبہ «سبحان الله ، الحمد لله ، الله أكبر» کہے ، یہ پڑھنے میں سو ہیں اور میزان میں ایک ہزار ہیں ، تم میں سے کون ایسا ہے جو ایک دن میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہو “ ، لوگوں نے عرض کیا : ایک مسلمان کیسے ان اعمال کی محافظت نہیں کرتا ؟ ( جبکہ وہ بہت ہی آسان ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “ جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے : فلاں فلاں بات یاد کرو یہاں تک کہ وہ نہیں سمجھ پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں ، اور جب وہ اپنی خواب گاہ پہ ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے ، اور اسے برابر تھپکیاں دیتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ سو جاتا ہے “ ( اور تسبیحات نہیں پڑھ پاتا ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 926]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 109 (5065)، سنن الترمذی/الدعوات 25 (3410)، سنن النسائی/السہو 91 (1349)، (تحفة الأشراف: 8638)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/160، 205) (صحیح)