سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 851
Sunan Ibn Majah 851
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
14: بَابُ : الْجَهْرِ بِآمِينَ
باب: آمین زور سے کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ، فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو ، اس لیے کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے ، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 851]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے امام نسائی نے امام کے بلند آواز سے آمین کہنے پر استدلال کیا ہے کیونکہ اگر امام آہستہ آمین کہے گا تو مقتدیوں کو امام کے آمین کہنے کا علم نہیں ہو سکے گا تو ان سے امام کے آمین کہنے کے وقت آمین کہنے کا مطالبہ درست نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 111 (780)، 113 (782)، التفسیر 2 (4475)، الدعوات 63 (6402)، سنن النسائی/الافتتاح 33 (927، 928)، (تحفة الأشراف: 13136)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 18 (410)، سنن ابی داود/الصلاة 172 (936)، سنن الترمذی/الصلاة 71 (250)، موطا امام مالک/الصلاة 11 (قبیل45)، مسند احمد (2/238، 469)، سنن الدارمی/الصلاة 38 (1282) (صحیح)