سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 849
Sunan Ibn Majah 849
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
13: بَابُ : إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوا
باب: جہری نماز میں امام قرات کرے تو اس پر خاموش رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: فَسَكَتُوا بَعْدُ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الْإِمَامُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، اس کے بعد پہلی جیسی روایت ذکر کی ، البتہ اس میں اتنا زیادہ ہے : پھر لوگوں نے جہری نماز میں خاموشی اختیار کر لی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 849]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جہری نماز میں لوگوں نے آواز سے پڑھنا چھوڑ دیا، یا سورت کا پڑھنا ہی چھوڑ دیا، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ سورت فاتحہ کا پڑھنا بھی چھوڑ دیا جیسا حنفیہ نے سمجھا ہے کیونکہ اس کے بغیر تو نماز ہی نہیں ہوتی، واضح رہے کہ حدیث کا آخری ٹکڑا «فسكتوا» مدرج ہے، زہری کا کلام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14264) (صحیح)