سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 848
Sunan Ibn Majah 848
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
13: بَابُ : إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَأَنْصِتُوا
باب: جہری نماز میں امام قرات کرے تو اس پر خاموش رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أُكَيْمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ فَقَالَ: " هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ؟" قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کوئی نماز پڑھائی ، ( ہمارا خیال ہے کہ وہ صبح کی نماز تھی ) نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کسی نے قراءت کی ہے ؟ “ ، ایک آدمی نے کہا : جی ہاں ، میں نے کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں سوچ رہا تھا کہ کیا بات ہے قرآن پڑھنے میں کوئی مجھ سے منازعت ( کھینچا تانی ) کر رہا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 848]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 137 (826، 827)، سنن الترمذی/الصلاة 117 (312)، سنن النسائی/الافتتاح 28 (920)، (تحفة الأشراف: 14264)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 10 (44)، مسند احمد (2/240، 284، 285، 302، 487) (صحیح)