📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل (كتاب إقامة الصلاة والسنة) 🏷️ باب: باب: نماز استسقا کا بیان۔
عربی:
اردو:
153: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الاِسْتِسْقَاءِ
باب: نماز استسقا کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا، مُتَبَذِّلًا، مُتَخَشِّعًا، مُتَرَسِّلًا، مُتَضَرِّعًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ".
اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے کسی امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کے متعلق پوچھنے کے لیے بھیجا ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : امیر نے مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھ لیا ؟ پھر بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی کے ساتھ سادہ لباس میں ، خشوع خضوع کے ساتھ ، آہستہ رفتار سے ، گڑگڑاتے ہوئے ( عید گاہ کی طرف ) روانہ ہوئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کی طرح دو رکعت نماز پڑھائی ، اور اس طرح خطبہ نہیں دیا جیسے تم دیتے ہو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1266]
💡 وضاحت:
۱؎: حجۃ اللہ البالغۃ میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے استسقاء کئی بار مختلف طریقوں سے کیا لیکن جو طریقہ سنت کا اپنی امت کے لئے اختیار کیا وہ یہ ہے کہ لوگوں سمیت نہایت عاجزی کے ساتھ عید گاہ تشریف لے گئے، اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں زور سے قراءت کی، پھر خطبہ پڑھا، اور قبلے کی طرف منہ کیا، خطبہ میں دعا مانگی، اور دونوں ہاتھ اٹھائے، اور اپنی چادر پلٹی، استسقاء کی نماز دو رکعت مسنون ہے، ان کے بعد خطبہ ہے، اس کے وجوب کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک استسقاء میں صرف دعا اور استغفار کافی ہے، جب کہ متعدد احادیث میں نماز وارد ہے، اور جن حدیثوں میں نماز کا ذکر نہیں ان سے نماز کی نفی لازم نہیں آتی، اور ابن ابی شیبہ نے جو عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ استسقاء کو نکلے پھر نہ زیادہ کیا استغفار پر، یہ ایک صحابی کا موقوف اثر ہے، قطع نظر اس کے سنت کے ترک سے اس کی سنیت باطل نہیں ہوتی، اور اسی پر وہ مرفوع حدیث بھی محمول ہو گی جس میں نماز کا ذکر نہیں ہے، اور صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کا وسیلہ لیتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا وسیلہ لیا، اس معنی میں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود استسقاء کی نماز ادا فرمائی، اور بارش کی دعا کی، آپ سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے یہاں اور کون تھا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کو نماز استسقاء کے لیے آگے بڑھایا کیونکہ آپ کی بزرگی، صالحیت اور اللہ کے رسول سے تعلق کی وجہ سے اس بات کی توقع کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں آپ کی دعا قبول ہو گی، اور بعض روایتوں میں نماز سے پہلے خطبہ وارد ہے، اور دونوں طرح صحیح ہے، (ملاحظہ ہو: الروضہ الندیہ)۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة 258 (1165)، سنن الترمذی/الصلاة 278 (الجمعة43) (558، 559)، سنن النسائی/الاستسقاء 3 (1507)، 4 (1509)، 13 (1522)، (تحفة الأشراف: 5359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/230، 260، 355) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 534)
سنن ابن ماجه • حدیث #1266
1264 1265 1266 1267 1267

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1267 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَب...
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ کی...
#1267 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَب...
اس سند سے بھی عباد بن تمیم نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی ...
#1268 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا، وَهْب...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز استسقاء پڑھنے کے لیے نکلے...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ