سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 961
Sunan Ibn Majah 961
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
41: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُسْبَقَ الإِمَامُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے ، کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر سے بدل دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 961]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی گدھے کی طرح اس کو بے وقوف بنا دے، اور آخرت میں وہ گدھے کی طرح اٹھے، بعضوں نے کہا کہ دنیا میں بھی گدھے کی طرح مسخ ہو سکتا ہے، اس لئے کہ یہ مسخ خاص ہے اور اس امت میں وہ ہو سکتا ہے، البتہ مسخ عام نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 25 (427)، سنن ابی داود/الصلاة 76 (623)، سنن الترمذی/الصلاة 292 (582)، سنن النسائی/الإمامة 38 (829)، (تحفة الأشراف: 14362)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 53 (691)، مسند احمد (2/260، 271، 425، 456، 469، 472، 504)، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1355) (صحیح)