سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 959
Sunan Ibn Majah 959
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
40: بَابُ : مَنْ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ
باب: نمازی اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو تو نماز جائز ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُتَحَدِّثِ وَالنَّائِمِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات چیت کرنے والے ، اور سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 959]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت تنزیہی ہے یعنی بہتر ہے کہ اس طرح نماز نہ ادا کی جائے، یا اس حدیث کا مفہوم یہ کہ مسجد وسیع اور جگہ بہت ہو لیکن خواہ مخواہ قصداً ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھے جو باتیں کر رہا ہو، تو ایسا کرنا درست نہیں ہے، ورنہ اوپر حدیث میں گزرا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سوئی ہوتیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ وله شاھد عند الطبراني في المعجم الاوسط (6/ 118 ح 5242، وسنده حسن / معاذ علي زئي)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 106 (694)، (تحفة الأشراف: 6448) (حسن) (تراجع الا ٔلبانی: رقم: 251)