سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1328
Sunan Ibn Majah 1328
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
173: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي قِيامِ شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيّ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيّ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ يَذْكُرُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: نَعَمْ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: " شَهْرٌ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور کہا : آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ، جو آپ نے رمضان سے متعلق اپنے والد سے سنی ہو ، ابوسلمہ نے کہا : ہاں ، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا : ” وہ ایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر اس کے روزے کو فرض قرار دیا ہے ، اور میں نے اس کے قیام اللیل کو تمہارے لیے مسنون قرار دیا ہے ، لہٰذا جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس مہینے میں روزے رکھے ، اور راتوں میں نفل پڑھے ، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1328]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف والشطر الثاني منه صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نسائي (2210۔2212) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 424
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الصیام 22 (2210)، (تحفة الأشراف: 9729)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/191، 195) (ضعیف) (نضر بن شیبان لین الحدیث ہے، جس کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، لیکن دوسراٹکڑا فمن صامه وقامه إيمانا واحتسابا شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: التعلیق الرغیب 2 /73)