سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1072
Sunan Ibn Majah 1072
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
75: بَابُ : التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں نوافل پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ أَنَّه سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ، وَصَلَاةَ السَّفَرِ، فَكُنَّا نُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا، وَكُنَّا نُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا".
اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سفر میں نفل پڑھنے کے بارے سوال کیا ، اور اس وقت ان کے پاس حسن بن مسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے ، تو حسن نے کہا : طاؤس نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر اور سفر دونوں کی نماز فرض کی ، تو ہم حضر میں فرض سے پہلے اور اس کے بعد سنتیں پڑھتے ، اور سفر میں بھی پہلے اور بعد نماز پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1072]
قال الشيخ الألباني:
منكر مخالف للحديث
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5696، ومصباح الزجاجة: 380)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232) (منکر) (اسامہ بن زید میں کچھ ضعف ہے، اور یہ حدیث سابقہ حدیث اور خود ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک حدیث سے معارض ہے، نیز سنن نسائی میں ابن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں دو رکعت سے زیادہ (فرض) نہیں پڑھتے تھے، اور نہ اس فریضہ سے پہلے اور نہ اس کے بعد (نوافل) پڑھتے تھے، (1459)، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/605)