سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 955
Sunan Ibn Majah 955
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
39: بَابُ : ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ
باب: نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرنے لگے اس کو ممکن حد تک روکنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ"، وقَالَ الْمُنْكَدِرِيُّ: " فَإِنَّ مَعَهُ الْعُزَّى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے کسی کو گزرنے نہ دے ، اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے ، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی ( شیطان ) ہے “ ۔ حسن بن داود منکدری نے کہا کہ اس کے ساتھ عزّی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 955]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 48 (506)، (تحفة الأشراف: 7095)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/86، 89) (صحیح)