سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 954
Sunan Ibn Majah 954
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
39: بَابُ : ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ
باب: نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرنے لگے اس کو ممکن حد تک روکنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا، وَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يَمُرُّ، فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی نماز پڑھے تو سترہ کی جانب پڑھے ، اور اس سے قریب کھڑا ہو ، اور کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے ، اگر کوئی گزرنا چاہے تو اس سے لڑے ۱؎ کیونکہ وہ شیطان ہے “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 954]
💡 وضاحت:
۱؎: «مقاتلہ» سے مراد دفع کرنا اور روکنا ہے، لیکن اسلحے کا استعمال کسی سے بھی منقول نہیں ہے۔ ۲؎: یعنی عزی نامی شیطان ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 48 (505)، سنن ابی داود/الصلاة 108 (697، 698)، سنن النسائی/القبلة 8 (758)، (تحفة الأشراف: 4117)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة 10 (33)، مسند احمد (3/34، 43، 44)، سنن الدارمی/الصلاة 125 (1451) (حسن صحیح)