سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 970
Sunan Ibn Majah 970
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
43: بَابُ : مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ
باب: لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ امام کا کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ: الرَّجُلُ يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَالرَّجُلُ لَا يَأْتِي الصَّلَاةَ إِلَّا دِبَارًا يَعْنِي: بَعْدَ مَا يَفُوتُهُ الْوَقْتُ، وَمَنِ اعْتَبَدَ مُحَرَّرًا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی : ایک تو وہ جو لوگوں کی امامت کرے جب کہ لوگ اس کو ناپسند کرتے ہوں ، دوسرا وہ جو نماز میں ہمیشہ پیچھے ( یعنی نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد ) آتا ہو ، اور تیسرا وہ جو کسی آزاد کو غلام بنا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 970]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف إلا الجملة الأولى منه فصحيحة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (593) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 63 (593)، (تحفة الأشراف: 8903) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 92، صحیح أبی دواود: 607)