سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 971
Sunan Ibn Majah 971
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
43: بَابُ : مَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ
باب: لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ امام کا کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تَرْتَفِعُ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُءُوسِهِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین اشخاص ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی : ایک وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کی اور لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں ، دوسرے وہ عورت جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو ، اور تیسرے وہ دو بھائی جنہوں نے باہم قطع تعلق کر لیا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 971]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف بهذا اللفظ وحسن بلفظ العبد الآبق مكان أخوان متصارمان
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبيدة بن الأسود: ”صدوق ربما دلس“ (انظر ضعيف سنن الترمذي: 2213) وعنعن ¤ وحديث الترمذي (360 وسنده حسن) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5635، ومصباح الزجاجة: 351) (منکر) (اس سیاق سے یہ حدیث منکر ہے، اخوان متصارمان کے بجائے العبدالآبق کے لفظ سے حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: غایة المرام: 248، ومصباح الزجاجة: 353، بتحقیق الشہری)