سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 973
Sunan Ibn Majah 973
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
44: بَابُ : الاِثْنَانِ جَمَاعَةٌ
باب: دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، " فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز ( تہجد ) کے لیے اٹھے ، میں بھی اٹھا اور جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 973]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ نفلی نماز میں جماعت صحیح ہے، اور دوسرے یہ کہ ایک لڑکے کے ساتھ ہونے سے جماعت ہو جاتی ہے، تیسرے یہ کہ اگر مقتدی اکیلا ہو تو امام کے دائیں طرف کھڑے ہو، چوتھی یہ کہ جس نے امامت کی نیت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 42 (117)، الأذان 57 (697)، 59 (699)، 79 (728)، اللباس 71 (5919)، (تحفة الأشراف: 5769)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن ابی داود/الصلاة 70 (610)، سنن النسائی/الإمامة 22 (807)، مسند احمد (1/215، 252، 285، 287، 341، 347، 354، 357، 360، 365)، سنن الدارمی/الصلاة 43 (1290) (صحیح)