سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 974
Sunan Ibn Majah 974
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
44: بَابُ : الاِثْنَانِ جَمَاعَةٌ
باب: دو آدمی کے جماعت ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھ رہے تھے میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 974]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح دائیں طرف کر لیا، ایک ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کی طرف سے گھما کر، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز اس قدر عمل کرنے سے فاسد نہیں ہوتی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ شرحبيل بن سعد: ضعيف ¤ ولبعض الحديث شواھد عند ابن خزيمة (1532۔1674) و مسلم (3008) وغيرهما ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2279، ومصباح الزجاجة: 352/أ)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (766)، سنن ابی داود/الصلاة 82 (634)، مسند احمد (1/268، 360، 3/326) (صحیح) (دوسرے شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں شرحبیل ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 529، و مصباح الزجاحة: 355، بتحقیق الشہری)