سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 976
Sunan Ibn Majah 976
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
45: بَابُ : مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الإِمَامَ
باب: امام کے قریب کن لوگوں کا رہنا مستحب ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَر ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ".
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہمارے کندھوں پہ ہاتھ پھیرتے اور فرماتے : ” الگ الگ نہ رہو ، ورنہ تمہارے دل الگ الگ ہو جائیں گے ، اور تم میں جو عقل اور شعور والے ہیں وہ میرے نزدیک کھڑے ہوں ، پھر وہ لوگ جو عقل و شعور میں ان سے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 976]
💡 وضاحت:
۱؎: ”اختلاف نہ کرو“ کا مطلب یہ ہے کہ صف میں برابر کھڑے ہو کسی کا کندھا آگے پیچھے نہ رہے، کیونکہ روحانی طور پر اس کا اثر دلوں پر پڑے گا، اور صفوں میں آگے پیچھے ہونے سے لوگوں کے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، جس سے مسلمانوں کی قوت و شوکت کمزور ہو جائے گی، اور دشمن کا تسلط و غلبہ بڑھے گا، اس سے معلوم ہوا کہ امام کو صفوں کی درستگی کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام کے ساتھ پہلی صف میں وہ لوگ کھڑے ہوں جو علم و فضل اور عقل و دانش میں ممتاز ہوں، پھر وہ جو ان سے کم ہوں، پھر وہ جو ان سے کم ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 28 (432)، سنن ابی داود/الصلاة 96 (674)، سنن النسائی/الإمامة 23 (808)، 26 (813)، (تحفة الأشراف: 9994) مسند احمد (4/122)، سنن الدارمی/الصلاة 51 (1302) (صحیح)