سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 968
Sunan Ibn Majah 968
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
42: بَابُ : مَا يُكْرَهُ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کون سی چیز مکروہ ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ، وَلَا يَعْوِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص جمائی لے تو اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے اور آواز نہ کرے ، اس لیے کہ شیطان اس سے ہنستا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 968]
قال الشيخ الألباني:
موضوع بهذا اللفظ وصحيح بدون ولا يعو
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ عبد اللّٰه بن سعيد المقبري: متروك ¤ وحديث البخاري (6223) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 412
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12968، ومصباح الزجاجة: 349)، قد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3289)، سنن ابی داود/الأدب 97 (5028)، سنن الترمذی/الأدب 7 (2748)، مسند احمد (2/397، 3/31)، ومن غير ذكر: ''ولا يعوي'' (موضوع) ( ولا يعوي کے لفظ کے ساتھ یہ حدیث موضوع ہے، اس کے بغیر صحیح ہے کما فی التخریج، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2420، ومصباح الز جاجہ بتحقیق الشہری: 351)