سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1354
Sunan Ibn Majah 1354
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
179: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ، أَوْ يُخَافِتُ بِهِ؟، قَالَتْ: " رُبَّمَا جَهَرَ، وَرُبَّمَا خَافَتَ"، قُلْتُ: " اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي هَذَا الْأَمْرِ سَعَةً".
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اور ان سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن بلند آواز سے پڑھتے تھے یا آہستہ ؟ انہوں نے کہا : کبھی بلند آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی آہستہ ، میں نے کہا : اللہ اکبر ، شکر ہے اس اللہ کا جس نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1354]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 90 (226)، فضائل القرآن 23 (2294)، سنن النسائی/الطہارة 141 (223)، الغسل 6 (405)، (تحفة الأشراف: 17429)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 138، 149) (حسن صحیح)