سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1350
Sunan Ibn Majah 1350
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
179: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد (قیام اللیل) میں قرات قرآن کا بیان۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يُرَدِّدُهَا، وَالْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118.
جسرۃ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے ، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے ، اور وہ آیت یہ تھی : «إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم» ” اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر تو ان کو بخش دے ، تو تو عزیز ( غالب ) ، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے “ ( سورة المائدة : 118 ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1350]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ سورۃ المائدۃ کی اخیر آیت ہے، اور عیسی علیہ السلام کی زبان پر وارد ہوئی، وہ قیامت کے دن یہ کہیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12012، ومصباح الزجاجة: 475)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح 79 (1011)، مسند احمد (5/149) (حسن) (اس کی تخریج میں بوصیری نے سنن کبریٰ کا حوالہ دیا ہے، جب کہ یہ صغریٰ میں موجود ہے، اس لئے یہ زوائد میں سے نہیں ہے)