سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1221
Sunan Ibn Majah 1221
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
137: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الصَّلاَةِ
باب: نماز پر بنا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصَابَهُ قَيْءٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلَسٌ أَوْ مَذْيٌ، فَلْيَنْصَرِفْ، فَلْيَتَوَضَّأْ، ثُمَّ لِيَبْنِ عَلَى صَلَاتِهِ وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے نماز میں قے ، نکسیر ، منہ بھر کر پانی یا مذی آ جائے تو وہ لوٹ جائے ، وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے ، لیکن اس دوران کسی سے کلام نہ کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1221]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،لأنه من رواية إسماعيل عن الحجازين وھي ضعيفة‘‘ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 420
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16252، ومصباح الزجاجة: 428) (ضعیف) (اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہیں، اور ان کی روایت حجاز سے ضعیف ہوتی ہے، اور یہ اسی قبیل سے ہے)