📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل (كتاب إقامة الصلاة والسنة) 🏷️ باب: باب: نماز میں شک کی صورت میں یقینی بات پر عمل کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
132: . بَابُ : مَا جَاءَ فِيمَنْ شَكَّ فِي صَلاَتِهِ فَرَجَعَ إِلَى الْيَقِينِ
باب: نماز میں شک کی صورت میں یقینی بات پر عمل کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالْوَاحِدَةِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ، وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلَاثِ وَالْأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ لِيُتِمَّ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ".
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب کوئی شخص شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا ایک ، تو ایک کو اختیار کرے ، ( کیونکہ وہ یقینی ہے ) اور جب دو اور تین رکعت میں شک کرے تو دو کو اختیار کرے ، اور جب تین یا چار میں شک کرے تو تین کو اختیار کرے ، پھر باقی نماز پوری کرے ، تاکہ وہم زیادتی میں ہو کمی میں نہ ہو ، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1209]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کی رائے کسی طرف قرار نہ پکڑے، اور دونوں جانب برابر ہوں یعنی غلبہ ظن کسی طرف نہ ہو تو کم عدد اختیار کرے کیونکہ اس میں احتیاط ہے، اگر غلطی ہو گی تو یہی ہو گی کہ نماز زیادہ ہو جائے گی، اور وہ بہتر ہے کم ہو جانے سے، اور اس حالت میں یہ حدیث اگلی حدیثوں کے خلاف نہ ہو گی، جن میں سوچنے کا ذکر ہے، اور بعضوں نے کہا سوچنا چاہئے، بلکہ ہر حال میں یقین کی طرف رجوع کرنا چاہئے، اور کم عدد اختیار کرنا چاہئے، اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا کہ اگر پہلی مرتبہ ایسا اتفاق ہو تو نماز سرے سے دوبارہ پڑھے، اگر دوسری یا تیسری بار ہو تو سوچے اور جس رائے پر اطمینان ہو اس پر عمل کرے، اگر کسی پر رائے اطمینان نہ ہو تو کم کو اختیار کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الصلاة 175 (398)، (تحفة الأشراف: 9722)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/190، 193، 195) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1209
1207 1208 1209 1210 1211

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1210 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْد...
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص اپنی ن...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ