📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل (كتاب إقامة الصلاة والسنة) 🏷️ باب: باب: جن اوقات میں نماز مکروہ ہے ان کا بیان۔
عربی:
اردو:
148: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي السَّاعَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلاَةُ
باب: جن اوقات میں نماز مکروہ ہے ان کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ، وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ، قَالَ: وَمَا هُوَ؟، قَالَ: هَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ؟، قَالَ: " نَعَمْ، إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، ثُمَّ صَلِّ فَالصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَسْتَوِيَ الشَّمْسُ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ، فَإِذَا كَانَتْ عَلَى رَأْسِكَ كَالرُّمْحِ فَدَعِ الصَّلَاةَ، فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ، وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزِيغَ الشَّمْسُ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ، فَإِذَا زَالَتْ فَالصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھ رہا ہوں جسے آپ جانتے ہیں میں نہیں جانتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” وہ کیا ہے ؟ “ صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا : رات اور دن میں کوئی وقت ایسا بھی ہے جس میں نماز مکروہ ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، جب تم نماز فجر پڑھ لو تو نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے ، اس لیے کہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ، پھر نماز پڑھو اس میں فرشتے حاضر ہوں گے اور وہ قبول ہو گی ، یہاں تک کہ سورج سیدھے سر پہ نیزے کی طرح آ جائے تو نماز چھوڑ دو کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے ، اور اس کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ سورج تمہارے دائیں ابرو سے ڈھل جائے ، لہٰذا جب سورج ڈھل جائے ( تو نماز پڑھو ) اس میں فرشتے حاضر ہوں گے اور وہ قبول ہو گی ، یہاں تک کہ عصر پڑھ لو ، پھر ( عصر کے بعد ) نماز چھوڑ دو یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1252]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12963، ومصباح الزجاجة: 438)، ومسند احمد (5/312) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1252
1250 1251 1252 1253 1254

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1251 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْن...
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : کیا...
#1253 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَ...
ابوعبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک سورج شیطان کے دو سی...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ