سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 870
Sunan Ibn Majah 870
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
16: بَابُ : الرُّكُوعِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں رکوع کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ فِيهَا صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".
ابومسعود ( عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ انصاری ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ نماز درست نہیں ہوتی ہے جس کے رکوع و سجود میں آدمی اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 870]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ بھی نکلتا ہے کہ تعدیل ارکان نماز میں فرض ہے، اور یہی قول ہے اہل حدیث کا اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نفی کمال پر محمول ہے، اور ان کا یہی قاعدہ ہے، وہ اکثر حدیثوں کو جو اس مضمون کی آئی ہیں نفی کمال پر ہی محمول کرتے ہیں، جیسے «لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب» وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 148 (855)، سنن الترمذی/الصلاة 81 (265)، سنن النسائی/الافتتاح 88 (1028)، التطبیق 54 (1112)، (تحفة الأشراف: 9995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/119، 122)، سنن الدارمی/الصلاة 78 (1366) (صحیح)