سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 872
Sunan Ibn Majah 872
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
16: بَابُ : الرُّكُوعِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں رکوع کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ رَاشِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَابِصَةَ بْنَ مَعْبَدٍ ، يَقُولُ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَكَانَ إِذَا رَكَعَ سَوَّى ظَهْرَهُ حَتَّى لَوْ صُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءُ لَاسْتَقَرَّ".
وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، جب آپ رکوع کرتے تو اپنی کمر برابر رکھتے یہاں تک کہ اگر آپ کی کمر پر پانی ڈال دیا جاتا تو وہ تھم جاتا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 872]
💡 وضاحت:
۱ ؎: سبحان اللہ، مکمل نماز اس کو کہتے ہیں، یہ تو ظاہری آداب ہیں اور دل کے خشوع و خضوع اور اطمینان اس کے علاوہ ہیں، بڑا ادب یہ ہے کہ نماز میں ادھر ادھر کے دنیاوی خیالات نہ آئیں، اور نمازی یہ سمجھے کہ میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، اگر یہ کیفیت نہ طاری ہو سکے تو یہی سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کی ہر ایک حرکت کو دیکھ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ طلحة بن زيد: متروك،قال أحمد وعلي وأبو داود: كان يضع (تقريب: 3020) ¤ راشد: مجھول ¤ وعبد اللّٰه بن عثمان بن عطاء لين الحديث (تقريب: 1858،3469) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 409
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11739، ومصباح الزجاجة: 322) (صحیح) (سند میں طلحہ بن زید، عثمان بن عطاء، اور ابراہیم بن محمد ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق اور شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجہ بتحقیق، د؍ عوض الشہری، و مجمع الزوائد: 2/ 123)