📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل (كتاب إقامة الصلاة والسنة) 🏷️ باب: باب: قرآن مجید کو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟
عربی:
اردو:
178: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي كَمْ يُسْتَحَبُّ يُخْتَمُ الْقُرْآنُ
باب: قرآن مجید کو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: جَمَعْتُ الْقُرْآنَ، فَقَرَأْتُهُ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ الزَّمَانُ وَأَنْ تَمَلَّ، فَاقْرَأْهُ فِي شَهْرٍ"، فَقُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي عَشْرَةٍ"، قُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ: " فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ"، قُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، " فَأَبَى".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے قرآن حفظ کیا ، اور پورا قرآن ایک ہی رات میں پڑھنے کی عادت بنا لی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے ڈر ہے کہ کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد تم اکتا جاؤ گے ، لہٰذا تم اسے ایک مہینے میں پڑھا کرو “ میں نے کہا : مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو دس دن میں پڑھا کرو “ میں نے کہا : مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھیک ہے تو سات دن میں پڑھا کرو “ میں نے کہا : مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجئیے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1346]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سات دن سے کم میں ختم قرآن کی اجازت نہ دی، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سات دن سے کم میں ختم قرآن نہ کرو، قسطلانی نے کہا کہ یہ نہی حرمت کے لئے نہیں ہے، اور بعض اہل ظاہر کے نزدیک تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا حرام ہے، نووی کہتے ہیں کہ اس کی کوئی حد نہیں، جب تک جی لگے اور جتنی طاقت ہو، اس کے لحاظ سے قرآن پڑھے، اور بہتر یہی ہے کہ سات دن سے کم میں ختم نہ کرے، انتہاء تین دن میں، اور قرآن کے معانی اور مطالب میں غور و فکر کر کے پڑھے، اور ہمارے زمانہ میں تو قرآن کے معانی کا ترجمہ ہر زبان میں ہو گیا ہے، پس ترجمہ کے ساتھ تلاوت کرنا زیادہ ثواب ہے، فقیہ ابواللیث کہتے ہیں کہ اقل درجہ یہ ہے کہ آدمی سال بھر میں قرآن دو بار ختم کرے، اور حسن بن زیاد نے ابوحنیفہ رحمۃ اللہ سے نقل کیا ہے کہ جس نے سال بھر میں دو بار پورے قرآن کی قراءت مکمل کی اس نے قرآن کا حق ادا کیا، کیونکہ جبرئیل علیہ السلام نے جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، دوبار قرآن کا دور کیا، اور بعض نے کہا چالیس دن سے زیادہ ختم قرآن میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف ¤ ابن جريج صرح بالسماع عند أحمد (199/2) ويحيي بن حكيم لم يوثقه غير ابن حبان فيما أعلم فھو مستور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 425
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8945)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 54 (1978)، فضائل القرآن 34 (5053، 5054)، صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، سنن ابی داود/الصلاة 325 (1388)، سنن الترمذی/القراء ات 13 (2946)، سنن النسائی/الصیام 45 (2391، 2392)، مسند احمد (2/163، 199)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 32 (3513) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1346
1344 1345 1346 1347 1348

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1345 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ عَبْدِ الل...
اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کے ایک وفد میں آئ...
#1347 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وح...
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قرآن تی...
#1348 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ ...
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ