سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1243
Sunan Ibn Majah 1243
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
145: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ
باب: نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ شَهْرًا، ثُمَّ تَرَكَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے رہے ، اور عرب کے ایک قبیلہ ( قبیلہ مضر پر ) ایک مہینہ تک بد دعا کرتے رہے ، پھر اسے آپ نے ترک کر دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1243]
💡 وضاحت:
۱؎: قبیلہ مضر: جنہوں نے چند قراء کرام رضی اللہ عنہم کو دھوکے سے مار ڈالا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 29 (4089)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، سنن النسائی/التطبیق 27 (1072)، (تحفة الأشراف: 1354)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 345 (1444)، مسند احمد (3/115، 180، 217، 261) (صحیح)