سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1244
Sunan Ibn Majah 1244
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
145: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ فِي صَلاَةِ الْفَجْرِ
باب: نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے : «اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين بمكة اللهم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف» ” اے اللہ ! ولید بن ولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور حال مسلمانوں کو نجات دیدے ، اے اللہ ! تو اپنی پکڑ قبیلہ مضر پر سخت کر دے ، اور یوسف علیہ السلام کے عہد کے قحط کے سالوں کی طرح ان پر بھی قحط مسلط کر دے ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1244]
💡 وضاحت:
۱؎: جیسے سالہا سال یوسف علیہ السلام کے عہد میں مصر میں گزرے تھے کہ پانی بالکل نہیں برسا اور قحط ہو گیا، ویسا ہی کفار مضر پر قحط بھیج تاکہ یہ بھوک سے تباہ و برباد ہو جائیں۔ دوسری روایت میں دعاء قنوت یوں وارد ہے: «اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات و المسلمين و المسلمات، و ألف بين قلوبهم، و أصلح ذات بينهم، وانصرهم على عدوك وعدوهم، اللهم العن الكفرة الذين يصدون عن سبيلك، ويكذبون رسلك، ويقاتلون أوليائك، اللهم خالف بين كلمتهم، و زلزل أقدامهم، و أنزل بهم بأسك الذي لاترده عن القوم المجرمين» ۔ جب کافر مسلمانوں کو ستائیں یا مسلمانوں پر کوئی آفت کافروں کی طرف سے آئے تو اس دعاء قنوت کو پڑھے، اور اس کے بعد یوں کہے: «اللهم أنج فلانا وفلانا» اور فلاں کی جگہ ان مسلمانوں کا نام لے جن کا چھڑانا کافروں سے مطلوب ہو۔ «والمستضعفين بمكة» میں مکہ کی جگہ پر اس کا نام لے جہاں یہ مسلمان کافروں کے ہاتھ سے تکلیف اٹھا رہے ہوں۔ «اللهم اشدد وطأتك على مضر» کی جگہ بھی ان کافروں کا نام لے جو مسلمانوں کو تکلیف دیتے ہیں۔ حدیث میں ولید، سلمہ اور عیاش رضی اللہ عنہم کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، یہ سب مسلمان ہو گئے تھے لیکن مکہ میں ابوجہل اور دوسرے کافروں نے ان کو سخت قید اور تکلیف میں رکھا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 128 (804)، الاستسقاء 2 (1006)، الجہاد 98 (2932)، الأنبیاء 19 (3386)، تفسیرآلعمران 9 (4560)، تفسیرالنساء 21 (4598)، الدعوات 58 (6393)، الإکرا ہ 1 (6940)، الأدب 110 (6200)، صحیح مسلم/المساجد 54 (675)، سنن النسائی/التطبیق 27 (1074)، (تحفة الأشراف: 13132)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 345 (1442)، مسند احمد (2/239، 255، 271، 418، 470، 507، 521)، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1636) (صحیح)