📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل (كتاب إقامة الصلاة والسنة) 🏷️ باب: باب: مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان۔
عربی:
اردو:
142: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ
باب: مرض الموت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ مِنْ كِتَابِهِ فِي بَيْتِهِ، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ : أَنْبَأَنَا، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: " أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: " أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: " أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَإِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمَقَامَ يَبْكِي لَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: " مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ أَوْ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ"، قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، وَأُمِرَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً، فَقَالَ: " انْظُرُوا لِي مَنْ أَتَّكِئُ عَلَيْهِ"، فَجَاءَتْ بَرِيرَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَنْكِصَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ، " ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلَاتَهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ غَيْرُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض الموت میں بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر ہوش میں آئے ، تو آپ نے پوچھا : ” کیا نماز کا وقت ہو گیا ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں ، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ ، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر ہوش آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا نماز کا وقت ہو گیا ؟ “ لوگوں نے کہا : جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں ، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر ہوش آیا ، تو فرمایا : ” کیا نماز کا وقت ہو گیا ؟ “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا : جی ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں ، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میرے والد نرم دل آدمی ہیں ، جب اس جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے ، نماز نہ پڑھا سکیں گے ، اگر آپ ان کے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے ( تو بہتر ہوتا ) ! پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، پھر ہوش آیا ، تو فرمایا : ” بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں ، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، تم تو یوسف ( علیہ السلام ) کے ساتھ والیوں جیسی ہو “ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا ، تو انہوں نے اذان دی ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا : ” دیکھو کسی کو لاؤ جس پر میں ٹیک دے کر ( مسجد جا سکوں ) بریرہ رضی اللہ عنہا اور ایک شخص آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر ٹیک لگایا ، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ ” اپنی جگہ پر رہو “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز پوری کی ، پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے ، نصر بن علی کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت نہیں کیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1234]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3787، ومصباح الزجاجة: 433) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1234
1232 1233 1234 1235 1236

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1232 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَع...
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مبتلا ہوئے...
#1233 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ...
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں ابوبکر رضی...
#1235 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، ع...
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہوئے ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ