سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1015
Sunan Ibn Majah 1015
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
58: بَابُ : مَنْ أَكَلَ الثُّومَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ الْمَسْجِدَ
باب: لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ: الثُّومِ، فَلَا يُؤْذِينَا بِهَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا"، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ أَبِي يَزِيدُ فِيهِ الْكُرَّاثَ وَالْبَصَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي: أَنَّهُ يَزِيدُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الثُّومِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اس پودے یعنی لہسن کو کھائے ، وہ ہماری مسجد میں آ کر ہمیں تکلیف نہ پہنچائے “ ۔ ابراہیم کہتے ہیں : میرے والد سعد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں گندنا ( «کراث» ) ۱؎ اور پیاز کا اضافہ کرتے تھے اور اسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1015]
💡 وضاحت:
۱؎: گندنا (کراث): ایک تیز بو والی سبزی جس کی بعض قسمیں پیاز اور لہسن کے مشابہ ہوتی ہیں، اسی قسم کی ایک سبزی کراث مصری و کراث شامی کہلاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13111)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 17 (563)، مسند احمد (2/264، 266) (صحیح)