📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل (كتاب إقامة الصلاة والسنة) 🏷️ باب: باب: لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت۔
عربی:
اردو:
58: بَابُ : مَنْ أَكَلَ الثُّومَ فَلاَ يَقْرَبَنَّ الْمَسْجِدَ
باب: لہسن کھا کر مسجد میں آنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا، فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسْجِدَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اس پودے ( پیاز و لہسن ) سے کچھ کھائے تو مسجد میں ہرگز نہ آئے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1016]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ دوسرے نمازیوں کو اس کی بدبو سے ایذا پہنچے گی، اور تکلیف ہو گی، یا فرشتوں کو تکلیف ہو گی، تمباکو، سگریٹ، بیڑی اور حقہ وغیرہ لہسن یا پیاز سے بھی زیادہ سخت بدبو والی چیزیں ہیں، اس لئے اس کے کھانے اور پینے سے پیدا ہونے والی بدبو کا حکم بھی پیاز اور لہسن ہی کا ہونا چاہئے، بلکہ اس سے بھی سخت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7928)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان160 (853)، صحیح مسلم/المساجد 17 (561)، سنن ابی داود/الأطعمة 41 (3825)، سنن الدارمی/الأطعمة 21 (2097) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1016
1014 1015 1016 1017 1018

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1014 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ ...
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطیب کی حیثیت سے کھڑے ہوئ...
#1015 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَاب...
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اس پودے یعنی لہسن کو...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ