سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1189
Sunan Ibn Majah 1189
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
122: . بَابُ : مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرٍ أَوْ نَسِيَهُ
باب: سو جانے یا بھولنے کی وجہ سے وتر فوت ہو جائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: فِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَوَاهٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح صادق سے پہلے وتر پڑھ لو “ ۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن زید کی حدیث ضعیف ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1189]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین20 (754)، سنن الترمذی/الصلاة 226 (468)، سنن النسائی/قیام اللیل 29 (1684)، (تحفة الأشراف: 4384)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 343 (1422)، مسند احمد (3/13، 35، 37، 71)، سنن الدارمی/الصلاة 211 (1629) (صحیح)