📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل (كتاب إقامة الصلاة والسنة) 🏷️ باب: باب: وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
123: . بَابُ : مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِثَلاَثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ
باب: وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَفْتِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَدْعُو رَبَّهُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخَذَ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ".
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : ام المؤمنین ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بتائیے ، تو انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے ، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا رات میں آپ کو بیدار کر دیتا ، آپ مسواک اور وضو کرتے ، پھر نو رکعتیں پڑھتے ، بیچ میں کسی بھی رکعت پر نہ بیٹھتے ، ہاں آٹھویں رکعت پر بیٹھتے ، اپنے رب سے دعا کرتے ، اس کا ذکر کرتے اور حمد کرتے ہوئے اسے پکارتے ، پھر اٹھ جاتے ، سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے ، پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کرتے ، اور اپنے رب سے دعا کرتے ، اور اس کے نبی پر درود ( صلاۃ ) پڑھتے ، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم سن لیتے ، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے ، یہ سب گیارہ رکعتیں ہوئیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہو گئی ، اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہو گیا ، تو آپ سات رکعتیں وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1191]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/السہو 67 (1316)، (تحفة الأشراف: 16107)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 18 (746)، الصلاة 316 (1342)، مسند احمد (6/44، 54) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #1191
1189 1190 1191 1192 1193

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1190 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ ا...
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وتر حق ( ثابت ...
#1192 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زُه...
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعتیں وتر پڑ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ