سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 983
Sunan Ibn Majah 983
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
47: بَابُ : مَا يَجِبُ عَلَى الإِمَامِ
باب: امام کی ذمہ داری کیا ہے؟
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، أَنَّهُ خَرَجَ فِي سَفِينَةٍ فِيهَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ ، فَحَانَتْ صَلَاةٌ مِنَ الصَّلَوَاتِ، فَأَمَرْنَاهُ أَنْ يَؤُمَّنَا، وَقُلْنَا لَهُ: إِنَّكَ أَحَقُّنَا بِذَلِكَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبَى، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ، فَالصَّلَاةُ لَهُ وَلَهُمْ، وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ".
ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں نکلے ، اس میں عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بھی تھے ، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا ، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں ، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں ، انہوں نے امامت سے انکار کیا ، اور بولے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے ، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہو گا ، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 983]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 59 (580)، (تحفة الأشراف: 9912)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/145، 154، 156، 201) (صحیح)