سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 985
Sunan Ibn Majah 985
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
48: بَابُ : مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ
باب: جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُوجِزُ وَيُتِمُّ الصَّلَاةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 985]
💡 وضاحت:
۱؎: مختصر تو اس طور سے ہوتی کہ سورتیں بہت لمبی نہ پڑھتے، اور پوری اس طرح سے ہوتی کہ سجدہ اور قیام اور قعدہ اچھے طور سے ادا کرتے، کم سے کم سجدہ اور رکوع میں پانچ یا تین تسبیحوں کے برابر ٹھہرتے، اسی طرح رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑے ہوتے، اور «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 37 (469)، (تحفة الأشراف: 1016)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاذان 64 (706، 708)، سنن ابی داود/الصلاة 147 (853)، مسند احمد (3/101)، سنن الدارمی/الصلاة 46 (1295) (صحیح)