سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 987
Sunan Ibn Majah 987
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
48: بَابُ : مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ
باب: جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ ، يَقُولُ: كَانَ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَنِي عَلَى الطَّائِفِ قَالَ لِي: " يَا عُثْمَانُ" تَجَاوَزْ فِي الصَّلَاةِ، وَاقْدِرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ، وَالصَّغِيرَ، وَالسَّقِيمَ، وَالْبَعِيدَ، وَذَا الْحَاجَةِ".
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو طائف کا امیر بنایا ، تو آپ نے میرے لیے آخری نصیحت یہ فرمائی : ” عثمان ! نماز ہلکی پڑھنا ، اور لوگوں ( عام نمازیوں ) کو اس شخص کے برابر سمجھنا جو ان میں سب سے زیادہ کمزور ہو ، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے ، بچے ، بیمار ، دور سے آئے ہوئے اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 987]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 40 (531)، سنن النسائی/الأذان 32 (673)، (تحفة الأشراف: 9770)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/218) (حسن صحیح)