سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 986
Sunan Ibn Majah 986
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
48: بَابُ : مَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ
باب: جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْأَنْصَارِيُّ بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ، فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا، فَصَلَّى، فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ لَهُ مُعَاذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ، إِذَا صَلَّيْتَ بِالنَّاسِ فَاقْرَأْ ب: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی ، ہم میں سے ایک آدمی چلا گیا اور اکیلے نماز پڑھ لی ، معاذ رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا : یہ منافق ہے ، جب اس شخص کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات پہنچی ، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات بتائی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معاذ ! کیا تم فتنہ پرداز ہونا چاہتے ہو ؟ جب لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو «والشمس وضحاها» ، «سبح اسم ربك الأعلى» «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ باسم ربك» پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 986]
💡 وضاحت:
۱؎: دوسری روایت میں ہے «بروج» یا «وانشقت» پڑھو، یہ سب سورتیں قریب قریب برابر کی ہیں، عشاء کی نماز میں جب جماعت سے ہو تو یہی سورتیں پڑھنا مسنون ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں «والتين» بھی پڑھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن النسائی/الإمامة 39 (832)، 41 (836)، الافتتاح 63 (985)، 70 (998)، (تحفة الأشراف: 2912)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 60 (701)، 63 (705)، الأدب 74 (6106)، سنن ابی داود/الصلاة 127 (790)، مسند احمد (3/299، 308، 379)، سنن الدارمی/الصلاہ 65 (1333) (صحیح) (تراجع الا ٔلبانی: رقم: 122)