سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 982
Sunan Ibn Majah 982
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
47: بَابُ : مَا يَجِبُ عَلَى الإِمَامِ
باب: امام کی ذمہ داری کیا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُمِّ غُرَابٍ ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: عَقِيلَةُ ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُومُونَ سَاعَةً لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ".
خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے ، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 982]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (581) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 413
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 60 (581)، (تحفة الأشراف: 15898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/381) (ضعیف) (اس کی سند میں عقیلہ مجہول ہیں)