سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 992
Sunan Ibn Majah 992
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
50: بَابُ : إِقَامَةِ الصُّفُوفِ
باب: صفیں برابر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا"، قَالَ: قُلْنَا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: " يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ".
جابر بن سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں ؟ “ ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف باندھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں ، اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 992]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 27 (430)، سنن ابی داود/الصلاة 94 (661)، سنن النسائی/الإمامة 28 (817)، (تحفة الأشراف: 2127)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/101) (صحیح)