سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 991
Sunan Ibn Majah 991
کتاب #6: کتاب: اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
49: بَابُ : الإِمَامِ يُخَفِّفُ الصَّلاَةَ إِذَا حَدَثَ أَمْرٌ
باب: دوران نماز حادثہ پیش آ جانے پر نماز ہلکی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ كَرَاهِيَةَ أَنْ أشُقَّ عَلَى أُمِّهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس کو لمبی کروں ، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اس ڈر سے نماز ہلکی کر دیتا ہوں کہ اس کی ماں پریشان نہ ہو جائے ۔“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 991]
💡 وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رحم و کرم بے انتہا تھا، نماز ایسی عبادت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادنیٰ ادنیٰ عورتوں تک کا خیال رکھتے، اور یہ منظور نہ ہوتا کہ کسی امتی پر سختی گزرے، ایسا مہربان نبی جو ہم کو ماں باپ سے بھی زیادہ چاہتا ہے، اور کس امت کو ملا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 65 (707)، 163 (868)، سنن ابی داود/الصلاة 126 (789)، سنن النسائی/الإمامة 35 (826)، (تحفة الأشراف: 12110)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/305) (صحیح)